آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

شہباز شریف کا خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان

وزیر اعظم شہباز شریف نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے 15 ارب روپے گرانٹ، بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے اور اب کے پی کے لیے بھی 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان می سیلاب سے 1162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

لائیو کوریج

  1. شدید بارشوں اور سیلاب سے چترال، دیر، سوات اور ڈی آئی خان میں رابطہ سروسز متاثر

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے آپٹیکل فائبر کیبل کو پہنچنے والے نقصان اور بجلی کی بندش سے چترال، اپر دیر، دونبالا، سوات، مدین، لال قلعہ ثمربغدیر، ٹانک اور ڈی آئی خان میں رابطہ سروسز متاثر ہوئی ہیں۔

    پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کی مکمل نگرانی کر رہا ہےاور سروسز کی مکمل بحالی کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں۔

  2. بریکنگ, سیلاب سے 110 اضلاع متاثر: متاثرین کی کل تعداد 57 لاکھ سے تجاوز کر گئی

    پاکستان میں سیلاب سے 110 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق اس وقت پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد 5768063 ہے۔

    ملک بھر میں 48 ہزار 931 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ ریلیف کیمپوں میں 498833 افراد موجود ہیں۔

  3. ضلع نوشہرہ میں دریائے کابل پر بنے دو بند ٹوٹ گئے، سیلابی پانی دیہاتوں میں داخل

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نوشہرہ قرۃ العین وزیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع نوشہرہ کے چند مقامات میں پانی دیہاتوں میں داخل ہونا شروع ہو گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ماناکلے کے مقام پر دریائے کابل پر بنائے گئے دو بند ٹوٹ گئے ہیں اور سیلابی پانی دیہاتی آبادی میں داخل ہو گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ضلعی انتطامیہ اور پاکستانی فوج کے دستے موقع پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

  4. بریکنگ, سیلاب اور بارشوں کے باعث مزید 45 افراد ہلاک، مجموعی تعداد 982 تک پہنچ گئی

    پاکستان میں حالیہ سیلاب اور بارشوں کے باعث گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 45 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 982 تک پہنچ گئی ہے جبکہ مزید 113 افراد زخمی ہوئے جس کے بعد زخمیوں کی تعداد 1456 ہو گئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کے پی میں 10، سندھ میں 33 جبکہ پنجاب میں 2 افراد ہلاک ہوئے۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ اموات سندھ میں 339 ہوئیں جبکہ پنجاب میں 167، بلوچستان میں 234، کے پی میں 195 افراد ہلاک ہوئے۔

    پاکستان کے زیِر انتظام کشمیر میں 37، گلگت بلتستان میں نو جبکہ اسلام آباد میں ایک شخص ہلاک ہوا۔

  5. واپڈا حکام نے تربیلا اور ورسک ڈیم سے پانی کے اخراج میں کمی کر دی، ڈی سی نوشہرہ

    ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کے مطابق چیف سیکرٹری, کمشنرپشاور اور خود ان کی واپڈا حکام سے کامیاب بات چیت کے نتیجے میں واپڈا حکام نے تربیلا اور ورسک ڈیم سے پانی کے اخراج میں کمی کر دی ہے۔

    اس سے دریاٸے کابل سے گزرنے والے سیلابی ریلے کی شدت میں کمی آٸے گی۔

    امید کی جا رہی کہ کہ سیلابی ریلہ بحفاظت خیرآباد کےمقام پر دریاٸے سندھ میں ڈسچارج ہوسکے گا۔

  6. سیلاب سے ہونے والے ابتدائی نقصان کا تحمینہ 900 ارب روپے، ملکی ریسرچ ہاؤس کا تخمینہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں سیلاب کے اب تک نقصانات کا تخمینہ نو سو ارب روپے لگایا گیا ہے۔

    سیلاب سے گندم کی بوائی میں تاخیر ہو گی اور کپاس اور چاول کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    پاکستان میں معاشی امور پر ریسرچ کا کام کرنے والے مقامی ادارے جے ایس بروکریج کے تخمینے کے مطابق موجودہ سیلاب کے نقصانات 2010 کے سیلاب سے زیادہ ہوں گے۔

    رپورٹ کے مطابق مویشیوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے گوشت کی قیمتیں اور فصلوں کی تباہی کی وجہ سے اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گندم کی فصل کی بوائی متاثر گی اور پاکستان کو مزید گندم درآمد کرنا پڑے گی جب کہ چاول کی فصل کی تباہی سے اس کی برآمد میں کمی ہو گی۔

  7. وزیر اعظم آج سندھ میں ضلع سجاول کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف آج صوبہ سندھ میں ضلع سجاول کے سیلاب زدہ علاقوں, فقیرانی جاٹ، اوپلانو اور دیگر کا دورہ کریں گے۔

    چیف سیکرٹری سندھ، ڈائریکٹر جنرل پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، چیف انجینئر آب پاشی حیدرآباد ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر ضلع سجاول وزیر اعظم کو سیلاب متاثرین کی مدد اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی پر بریفنگ دیں گے۔

    وزیر اعظم امدادی کاموں کا جائزہ لیں گے اور سیلاب متاثرین سے ملاقات کریں گے۔

  8. بلوچستان: ’اب تک جھل مگسی میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنے کی کوئی کوششیں نہیں کی گئی‘, سحر بلوچ، بی بی سی اردو

    بلوچستان کے علاقے جھل مگسی سے سعدیہ بلوچ کے مطابق جھل مگسی میں چوبیس گھنٹے کے بعد بارش رک چکی ہے لیکن دریائے بولان اور باگ ناڑی کی طرف سے اب بھی پانی آرہا ہے جو نصیر آباد کی طرف جارہا ہے۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگ اب بھی پھنسے ہوئے ہیں اور اب تک انھیں ریسکیو کرنے کی کوئی کوششیں نہیں کی گئی ہیں۔

    سعدیہ کے مطابق اس وقت ریلیف ورکر کوشش کررہے ہیں کہ جھل مگسی اور اس سے جُڑے دو اور ضلعوں میں کسی طرح ٹینٹ پہنچا سکیں لیکن ہوا کے باعث اور مسلسل پانی آنے کی صورت میں یہ ممکن نہیں ہو پا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ریلیف ورکرز از خود لوگوں تک پکا ہوا کھانا پہنچانے کی کوششیں کررہے ہیں اب تک پانچ خاندانوں تک کھانا پہنچا ہے لیکن اب بھی بہت لوگ ہیں جن تک پہنچنا مشکل ہے۔

  9. مسلسل 26 گھنٹے ہونے والی بارش کے بعد کوئٹہ کے متعدد علاقوں میں سیلاب

    بلوچستان کے ضلع کوئٹہ میں گذشتہ 26 گھنٹوں کے دوران ہونے والی مسلسل موسلادھار بارش کی وجہ سے متعدد علاقوں میں شہری سیلاب کی اطلاعات ہیں۔

    شہر میں بجلی، گیس اور موبائل نیٹ ورکس متاثر ہیں اور چشمہ سمیت کئی پل بہہ گئے ہیں۔

    اور کوئٹہ کو چمن، پنجاب اور کے پی سے ملانے والے پل کے گرنے کا خطرہ ہے۔

  10. کالاباغ، چشمہ اور تونسہ میں سیلاب کا خطرہ

    پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب نے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران دریائے سندھ میں سیلاب کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا ہے کہ کالاباغ، چشمہ اور تونسہ میں سیلاب کا خطرہ ہے جس سے میانوالی، بھکر، ڈی جی خان، لیہ، مظفر گڑھ، راجن پور اور رحیم یار خان کے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ کوہ سلیمان سالٹ رینج سے منسلک نالوں میں پانی کی سطح بڑھ سکتی ہے۔

  11. آپ سیلاب زدگان کی مدد کیسے کر سکتے ہیں، کیا آپ کو خود جانا چاہیے؟

  12. بلوچستان: پشین کے مختلف دیہاتوں میں سیلابی ریلے میں بہہ کر چھ شہری ہلاک

    کوئٹہ سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ضلع پشین کے مختلف دیہاتوں میں سیلابی ریلے سے کلی منزکئی، کلی منزری، ملکیار، تورہ شاہ متاثر ہوئے ہیں۔

    اس علاقے کے سوشل ایکٹویسٹ جمال الدین کے مطابق سیلابی ریلے میں بہہ کر اب تک چھ شہری ہلاک ہوئے ہے جن میں ایک عورت اور پانچ مرد شامل تھے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہے۔

    ان علاقوں میں مال مویشی اور گھروں کا سامان سب کچھ پانی میں بہہ گیا ہے۔

  13. تحصیل بالاکوٹ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات

  14. دریاٸے کابل میں پانی کا بہاٶ 400000 کیوسک سے اوپر جانے کا خطرہ: ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کی شہریوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل

    ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کا کہنا ہے کہ اس وقت دریائے کابل میں پانی کا بہاٶ 263000 کیوسک سے تجاوز کررہا ہے اوراگلے چند گھنٹوں میں یہ 400000 کیوسک سے اوپر جائے گا۔

    انھوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ دیر نہ کریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہوجاٸیں۔

  15. مقامی لوگوں نے مدد کے لیے رسیاں پھینکیں ’لیکن وہ خوفزدہ تھے‘

  16. خیبر پختونخوا کے دریاؤں میں سیلاب کی بلند سطح

    ‏فلڈ سیل ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دریاؤں میں پانی کی صورتحال کے حوالے سے رات کے 2 بجے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اس وقت دریائے کابل میں نوشہرہ اور ورسک کے مقامات، دریائے پنجکوڑہ میں دیر، دریائے سوات میں چکدرہ، خوازہ خیلہ کے مقامات پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

  17. نوشہرہ میں 1122 نے نو افراد کو ریسکیو کر لیا

    نوشہرہ میں کی تحصیل پبی کیمپ کورونہ کے مقام پر سیلابی ریلے کا پانی مقامی آبادی میں داخل ہونے کی اطلاع پر ریسکیو 1122 ٹیموں نے کشتیوں میں موقع پر پہنچ کر 9 افراد کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق مزید افراد کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔

  18. فوج کی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں

  19. چارسدہ میں سیلاب کا خطرہ، لوگ مال مویشی سمیت موٹر وے کا رخ کرنے لگے

  20. سیلاب کا خطرہ : پشاور کے کچھ علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی

    پشاور شہر میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں میاں گجر، جالا بیلا میں محصور لوگوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔

    ریسکیو1122 پشاور کے مطابق سیلابی ریلے کا پانی گھروں میں داخل ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیںجس کے بعد ریسکیو1122 نے 300 سے زائد محصور افراد کو کشتیوں میں منتقل کیا، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

    جن علاقوں سے لوگوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے یہ چارسدہ اور نوشہرہ کے سرحدی علاقے ہیں

    ریسکیو1122 کا آپریشن تاحال جاری یے، ریسکیو ٹیمیں علاقے میں موجود ہیں۔

    ریسکیو آپریشن کی نگرانی انجنئیر نوید اختر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر پشاور خود کررہے ہے۔