وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے سیلاب سے متاثرہ سوات پریس کلب کی عمارت کا دورہ کیا ہے اور کہا ہے کہ دریا کے کنارے تعمیرات کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انھوں نے پریس کلب سے متصل ہاکی گراونڈ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک مہینہ قبل آئے سیلاب نے ٹانک اور کرک کو متاثر کیا۔ ’ہم نے بر وقت اقدامات کیے اور ایمرجنسی فنڈز کی فوری منظوری دی۔ بدقسمتی سے ندی نالوں پر تجاوزات کی وجہ سے نقصان بہت زیادہ ہوا۔
’ڈی آئی خان اور ٹانک میں ضلعی انتظامیہ اور دیگر ریلیف اداروں نے اچھا کردار ادا کیا۔ بہت افسوس ہوا کہ این ڈی ایم اے سمیت کوئی وفاقی ادارہ ریسکیو سرگرمیوں کے لیے گراونڈ پر موجود نہیں۔ صوبے بھر میں ریلیف سرگرمیاں بلاتعطل جاری ہیں۔ صوبائی حکومت لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔‘
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر ریلیف اور ریسکیو آپریشن سمیت سیاحوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے میں مصروف عمل ہے۔ سیلابی ریلا پچھلے تمام ریلوں سے کئی گُنا زیادہ اور خطرناک تھا۔ صوبائی حکومت کی تمام مشینری سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہمہ وقت موجود ہے۔ متاثرہ لوگوں کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے اگر پورا ترقیاتی فنڈ بھی استعمال کرنا پڑے تو دریغ نہیں کریں گے۔‘
محمود خان نے کہا کہ ’سوات تا کالام روڈ این ایچ اے کے زیر انتظام ہے لیکن تاحال بحالی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ اگر وفاقی حکومت مذکورہ سڑک ایک دو دن تک ٹھیک نہیں کرتی تو میں خود صوبے کے فنڈ سے مرمت کراؤں گا۔ امتحان کی اس گھڑی میں ہر وقت اپنے عوام کے درمیان موجود ہوں۔ اپنی عوام کی مدد کے لیے ہر حد تک جاوں گا۔‘
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’ریسکیو اینڈ ریلیف کے بعد نقصانات کے تخمینے کے لیے سروے کیا جائے گا۔ جو بھی دریا کے قریب تعمیرات کرے گا اس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کوئی بھی ہوٹل یا گھر دریا کے کنارے تعمیر نہیں ہوگا۔ پورے خیبرپختونخوا میں ندی نالوں کے کناروں پر تعمیرات کے سدباب کے لیے پہلے سے ہی قانون سازی کی گئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’فیڈرل گورنمنٹ خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک سے باز رہے۔ ایک ارب روپے پہلے ہی ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں کے لیے مزید دو ارب روپے جلد جاری کریں گے۔ سیلاب سے متاثرہ دیگر اضلاع کے بھی دورے کروں گا۔ سوات کے عوام نے اپنے بھائیوں کی مدد کرکے بھائی چارے کی مثال قائم کردی۔‘