بلوچستان کے نصیر آباد ڈویژن میں سیلابی پانی کے باعث صورتحال سنگین ہو گئی ہے اور اس کے ضلع صحبت پور کا 90 فیصد حصہ زیر آب آ گیا ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں اور نہروں میں شگاف کے باعث نصیر آباد سے متصل جعفرآ بادکا ضلع بھی سیلاب سے بری طرح سے متاثر ہے۔
سیلاب سے پورے ڈویژن میں نہ صرف مقامی لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں بلکہ اس علاقے سے سندھ اور بلوچستان کے درمیان شاہراہ زیرآب آنے سے سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں جبکہ ریلوے لائن کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو کا کہنا ہے کہ ویسے تو سیلاب سے پورا بلوچستان متاثر ہوا ہے لیکن اس وقت پانی کا رخ نصیرآباد کی طرف ہے اور اس کے متعدد علاقے زیر آب ہیں۔
جعفر آباد سے صحافی عزیز مری نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے مقامی لوگوں نے اونچے مقامات کے علاوہ سڑکوں کے کنارے پناہ لی ہے لیکن بارش کے باعث ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ اکثر کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ربی کے علاقے میں سندھ اور پنجاب کے درمیان شاہراہ بھی زیر آب آ گئی ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں جس کے باعث مسافروں بالخصوص خواتین کو کھانے پینے اور دیگر ضروریات کے حوالے سے سخت پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ریلوے کے ٹریک کو بھی نقصان پہنچنے کے باعث بلوچستان اور دوسرے صوبوں کے درمیان ریل سروس بھی معطل ہے۔
نصیر آباد کے علاقے جھل مگسی سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ سعدیہ بلوچ نے بتایا کہ پورے نصیرآباد ڈویژن میں لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے وہ خوراک اور دیگر امدادی اشیا نہ ملنے کی وجہ سے پریشان تھے لیکن اب وہ ڈوب رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر صحبت پور عظیم دمڑ نے بتایا کہ اس وقت ضلع صحبت پور میں پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے اور ریلیف کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع کی تین یونین کونسلوں تک رسائی میں مشکلات کے باعث لوگوں کو ریلیف پہنچانے میں بھی مشکل کا سامنا ہے اور موسم کی خرابی کے باعث تاحال اس علاقے میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریلیف کی فراہمی شروع نہیں کی جا سکی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے حکام کے مطابق صوبے کے جن اضلاع میں سیلابی پانی کھڑا ہے ان میں نصیر آباد ڈویژن کے چار اضلاع صحبت پور ، جعفرآباد ، نصیر آباد اور جھل مگسی کے علاوہ کراچی سے متصل ضلع لسبیلہ شامل ہیں۔
ضلع لسبیلہ میں جہاں سیلاب کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات برقرار ہے وہاں اس ضلع میں شاہراہوں اور پلوں کو نقصان پہنچنے کے باعث بلوچستان اور کراچی کے درمیان رابطہ ایک بار پھر منقطع ہو گیا ہے۔ یہاں متبادل راستوں کے ذریعے شاہراہ پر ٹریفک کو دو روز پہلے بحال کیا گیا تھا لیکن منگل کی شام متبادل راستے سیلابی ریلوں میں بہہ جانے سے راستے شاہراہ ایک بار پھر بند ہو گئی۔
ادھر بلوچستان اور خیبر پشتونخوا کے درمیان ژوب دانہ سر روڈ تاحال بند ہے اور ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس شاہراہ پر ٹریفک بحال نہیں ہو سکی تاہم فورٹ منرو سے بلوچستان اور پنجاب کے درمیان شاہراہ بحال کرنے کے علاوہ دو روز سے بند کوئٹہ اور ایران کے درمیان شاہراہ پر بھی ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔