چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور شہباز گل کے خلاف مزید دو مقدمات درج

سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے خلاف مزید دو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے پی ڈی ایم قیادت کے خلاف مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج کے بارے میں ’دھمکی آمیز‘ بیان دینے پر عمران خان کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو طلب کر لیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔بدھ 24 اگست سے ملکی سیاسی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. سندھ: تیز بارشوں کے پیش نظر 24 اور 25 اگست کو تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان

    سندھ کے محکمہ تعلیم نے صوبے کے تمام سکول اور کالجز میں بدھ اور جمعرات کو تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

    وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ کے مطابق حالیہ تیز بارشوں کے پیش نظر دو دن 24 اور 25 اگست چھٹی کا اعلان کر رہے ہیں۔

    MinisterEduGoS

    ،تصویر کا ذریعہMinisterEduGoS

  3. بریکنگ, چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور شہباز گل کے خلاف مزید دو مقدمات درج

    چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے خلاف مزید دو مقدمات تھانہ آبپارہ میں درج کیے گئے ہیں۔

    یہ مقدمہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر درج کیا گیا ہے اور اس مقدمے میں تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو نامزد کیا گیا ہے۔

    مقدمے میں مراد سعید، فواد چوہدری، فیصل جاوید، شیخ رشید، اسد عمر، راجہ خرم نواز، علی نواز اعوان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

    Reuters/PTI

    ،تصویر کا ذریعہReuters/PTI

    شہباز گل کے خلاف ایک اور مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔

    یہ مقدمہ پارلیمنٹ لاجز میں شہباز گل کے کمرے سے برآمد ہونے والے پستول پر درج کیا گیا ہے۔

    شہباز گل کا کہنا ہے کہ پستول میرا نہیں بلکہ ملازم کا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ شہباز گل اور ان کے ملازم پستول کا لائسنس پیش نہیں کر سکے۔

  4. بریکنگ, وزیراعظم نے ایک کروڑ 71 لاکھ صارفین کے لیے بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے چھوٹ دے دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں بجلی کے تین کروڑ صارفین میں سے ایک کروڑ 71 لاکھ کو بجلی کے بلوں پر فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز نہیں دینا پڑیں گے۔

    منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں وزیراعظم نے کہا کہ ان صارفین کے علاوہ بقیہ ایک کروڑ 30 لاکھ صارفین کو بھی ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ باقی ایک کروڑ 30 لاکھ صارفین میں سے زیادہ صاحبِ حیثیت لوگ ہیں تاہم ان کے لیے بھی اس فیول ایڈجسٹمنٹ چارج کے حوالے سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ یہ فیصلہ حکومتی اتحاد میں شامل ان کی حلیف جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

  5. غیر ملکی فنڈنگ کیس: پی ٹی آئی وکیل نے دو ہفتے کی مہلت مانگ لی

    غیر ملکی فنڈنگ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو دیے گئے نوٹس کی الیکشن کمیشن میں سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل نے دو ہفتے کی مہلت مانگ لی ہے۔

    الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے سماعت کی جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے معاون وکیل نوید انجم پیش ہوئے۔

    نوید انجم نے دلائل دیے کہ اس کیس میں بہت زیادہ دستاویزات ہیں، انھیں اکھٹا کرنا ہے لہذا ہمیں نوٹس کا جواب دینے کے لیے کچھ مہلت چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دو ہفتے کی مہلت چاہیے تاکہ جامع جواب دے سکیں۔

    چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ آپ پوری کاروائی کا حصہ رہے ہیں، دستاویزات آپ کے پاس پہلے سے ہی اکھٹے ہیں، پھر کہاں سے اکھٹے کرنے ہیں؟

    جس پر معاون وکیل پی ٹی آئی نوید انجم کا کہنا تھا کہ ہم غیر ملکی چیپٹر سے دستاویزات اکھٹے کر رہے ہیں۔الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 6 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

  6. بریکنگ, خیبر پختونخوا حکومت کا پی ڈی ایم قیادت کے خلاف مقدمات درج کرنے کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا حکومت نے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانات پر پی ڈی ایم قیادت کے خلاف مقدمات درج کرنے کا فیصلہ ہے۔

    معاون خصوصی اطلاعات بیرسٹر سیف کے مطابق یہ مقدمات کریمینل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 196 کے تحت درج کیے جارہے ہیںگ

    بیرسٹر سیف کے مطابق مقدمات درج کرنے کے لیے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ڈی آئی خان منیر احمد کو سیکشن 196 کے تحت اختیارات تفویض کیے گئے ہیں اور مقدمات پاکستان پینل کوڈ کے سیکشنز 108A 153A اور 505 کے تحت درج کیے جائیں گے۔

    بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر سابقہ وفاقی وزیر و رہنما پی ٹی ائی علی امین گنڈاپور کی شکایت پر مقدمات درج کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مقدمات ماضی میں فوج، عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز بیانات کی بنا پر درج کئے جارہے ہیں۔

  7. روپے کی قیمت میں کمی، سٹاک مارکیٹ میں 500 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ہونے والا اضافہ منگل کے روز بھی برقرار رہا اور انٹر بنک میں ڈالر ایک روپے اضافے کے ساتھ 217.65 پر بند ہوا جو گذشتہ روز 216.66 پر بند ہوا تھا۔

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 223 روپے پر بند ہوئی جس میں گذ شتہ روز کے مقابلے میں تین روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیاگ

    کرنسی ڈیلرز ڈالر کی طلب میں اضافے کو اس کی قیمت میں اضافے کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں منگل کے روز 500 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مارکیٹ میں حصص کی خریداری کا رجحان غالب نظر آیا۔

    سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں تبدیلی نہ ہونے سے سٹاک مارکیٹ میں کاروبار پر مثبت اثر مرتب ہوا ہے۔

  8. وزیر اعظم رہنے والے رہنما سے اس طرح کے بیان کی توقع نہیں: اسلام آباد ہائیکورٹ

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو خاتون جج کو دھمکی دینے کے معاملے پر توہین عدالت کی کارروائی کے مقدمے میں جسٹس محسن اختر کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم رہنے والے لیڈر سے اس طرح کے بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

    منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے مقدمے کی سماعت کی۔

    عدالت نے رجسٹرار کے نوٹ پر توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا جس سلسلے میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون عدالت میں پیش ہوئے۔

    دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے اپنے دلائل میں عمران خان کا خاتون ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری سے متعلق بیان پڑھتے ہوئے عدالت سے کہا کہ ان کے متعلق یہ قابل اعتراض اور سخت الفاظ استعمال کیے۔

    اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ عمران خان نے یہ ریمارکس کب دیے تھے اور وہ خاتون جج کون سا کیس سن رہی تھیں؟

    ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ عمران خان کے قابل اعتراض ریمارکس 20 اگست کے ہیں اور خاتون جج پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل کے ریمانڈ سے متعلق کیس کی سماعت کر رہی تھیں۔

    سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے خلاف مسلسل ایسے بیانات دے رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ عمران خان انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

    سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ تفتیش کے دوران تو عدالتیں بھی مداخلت نہیں کرتیں۔

    سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’ایک خاتون اور صف اول کی جج کو دھمکی دی گئی۔ اگر یہ ماحول بنانا ہے تو کام تو نہیں ہو گا۔

    عدالت نے کہا کہ وزیر اعظم رہنے والے لیڈر سے اس طرح کے بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے حل ہونا چاہیے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف اسلام آباد کی خاتون جج کا معاملہ نہیں، پورے پاکستان میں ججز کام کررہے ہیں، اگر کوئی عدالت آپ کے خلاف فیصلہ دے گی تو اس کےخلاف تقریریں شروع کردیں گے؟

    ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی آخری امید عدالتیں ہوتی ہے، عام آدمی کو کس طرف لے جا رہے ہیں کہ وہ اٹھے اور اپنا انصاف خود شروع کردے؟

    عدالت نے استفسار کیا کہ جس خاتون جج کو دھمکی دی گئی اسے اضافی سکیورٹی دینے کو تیار ہیں؟

    جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ جی، خاتون جج کو اضافی سکیورٹی دینے کو تیار ہیں۔

  9. بریکنگ, عمران خان توہین عدالت کے مقدمے 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب

    ISB Court

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو خاتون جج کو دھمکی دینے کے معاملے پر توہین عدالت کی کارروائی کے مقدمے میں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

    منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے مقدمے کی سماعت کی۔

    جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں بننے والے بینچ میںجسٹس میاں گل حسن اور جسٹس بابر ستار بھی شامل ہیں۔

    عدالت نے رجسٹرار کے نوٹ پر توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا جس سلسلے میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون عدالت میں پیش ہوئے۔

    عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے انھیں 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں تین سے زائد ججز پر مشتمل لارجر بنچ تشکیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    عدالت نے اس ضمن میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔

  10. بریکنگ, عمران خان کو توہین عدالت کے مقدمے میں شوکاز نوٹس جاری

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب خاتون جج کو دھمکی دینے کے معاملے پر توہین عدالت کی کارروائی کے مقدمے میں شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

    منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بنچ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے مقدمے کی سماعت کی۔

    جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں بننے والے بینچ میںجسٹس میاں گل حسن اور جسٹس بابر ستار بھی شامل ہیں۔

    عدالت نے رجسٹرار کے نوٹ پر توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا جس سلسلے میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون عدالت میں پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’ایک خاتون اور صف اول کی جج کو دھمکی دی گئی۔ لوگوں کا آخری سہارا عدالتیں ہیں تو جب ایک لیڈر اٹھ کر ایسی باتیں کریں گے تو پھر عام آدمی تو اٹھ اٹھ کر ماریں گے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ بات اسلام آبادکی خاتون جج کی حد تک نہیں۔ پورے پاکستان میں ججز کام کر رہے ہیں۔ جو کورٹ بھی فیصلہ کرے گی یا لیگل پروسیڈنگز میں جائے گی کیا اس کے خلاف تقریریں شروع کر دیں گے۔‘

    عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل کو حکم دیا کہ دھمکائے جانے والی خاتون جج زیبا چوہدری کو اضافی سکیورٹی فراہم کی جائے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روزاسلام آباد ہائی کورٹ کے تمام ججز نے مشاورت کے بعد عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    اس سے قبل ایڈووکیٹ جنرل نے کیس میں متعلقہ ریکارڈ جمع کرانے کے لیے عدالت میں ایک متفرق درخواست دائر کی۔

    ایڈووکیٹ جنرل جہانگیرجدون نے درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ ماضی میں عمران خان کی عدلیہ مخالف تقاریر اور بیانات کا ریکارڈ بھی جمع کرانا چاہتا ہوں، ان کے ویڈیو کلپس ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں لہٰذا عدالت عمران خان کے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا پربیانات کی ویڈیوز ریکارڈ پر لانے اور کمرۂ عدالت میں چلانے کی اجازت دے۔

  11. توہین عدالت کب لگتی ہے؟, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    Gavel

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کے توہین عدالت کے نوٹس کے بارے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ توہین عدالت کا قانون عدالتی حکم کی عدم تکمیل اورعدلیہ کی تکریم نہ کرنے اور ججز کو دھمکیاں دینے پر ہی لاگو ہوتا ہے۔

    توہین عدالت کب لگتی ہے؟

    پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین امجد شاہ کا کہنا ہے کہ عدالت، توہین عدالت کے معاملے میں جتنی نرمی کا مظاہرہ کرتی ہے اتنا کسی دوسرے معاملے میں نہیں کرتی۔

    انھوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پرسپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواستیں دائر ہوتی ہیں لیکن اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ عدالت اسے درگزر کرتی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ ججز کے اختیار میں ہے کہ وہ کس حد تک اس معاملے میں نرمی دکھاتے ہیں۔

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کا کہنا تھا کہاعلٰی عدلیہ اگر یہ سمجھے کہ کسی نے عدلیہ کا مذاق اڑایا ہے یا کسی کی باتوں سے عدالت کی تضحیک کا پہلو نکلتا ہے تو پھر اس پر عدالت، توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کرتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے عدالت توہین عدالت کے مرتکب شخص کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے اس سے جواب طلب کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرعدالت توہین عدالت کے مرتکب شخص کے جواب سے مطمئن ہو یا وہ معافی مانگ لے تو پھر توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا جاتا ہے لیکن اگر ایسا نہ ہوتو پھر توہین عدالت کے مرتکب شخص کے خلاف آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

    Tilal CH

    ماضی میں توہین عدالت کی سزا پانے والے سیاست دان

    ماضی میں توہین عدالت میں سزا پانے والے سیاست دانوں کے بارے میں امجد شاہ کا کہنا تھا کہ ’سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالتی احکامات نہ ماننے پر توہین عدالت میں سزا سنائی گئی جبکہحکمراں اتحاد کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے تین رہنماؤں جن میں دانیال عزیز ، طلال چوہدری اور نہال ہاشمی شامل ہیں کو معافی مانگنے کے باوجودعدالت نے انھیں توہین عدالت میں سزا سنائی جس کی وجہ سے وہ پانچ سال کے لیے نااہل ہو گئے۔

    Firdos

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں اس وقت کی مشیر اطلاعات فردوس عاشق ایوان کو بھی توہین عدالت میں اسلامآباد ہائی کورٹ نے طلب کیا تھا تاہم انھوں نے عدالت سے معافی مانگ لی تھی جس پر عدالت نے ان کی معافی کو قبول کر لیا تھا تاہم عدالت نے انھیں اسلام آباد کی ضلع کچہری کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے وہاں کا چکر لگانے کا حکم دیا تھا۔

    احسن بھون کا کہنا تھا کہ ماضی میں جن سیاست دانوں کو توہین عدالت کے مقدمے میں سزائیں سنائی گئیں انھوں نے تو کسی جج کا نام بھی نہیں لیا تھا لیکن عمران خان نے تو ایڈشنل سیشن جج کا نام لے کر انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں۔

  12. عمران خان کے خلاف ’توہینِ عدالت کی کارروائی‘

  13. خاتون جج کو دھمکی کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے نوٹس پر قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے خاتون جج کو دھمکی دینے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے نوٹس کو خوش آئیند قرار دینے کی قرار داد جمع کروائی گئی ہے۔

    قرار داد میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے تحت سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔

    یہ قرار داد مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ اور سعدیہ تیمور کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔

    قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ’یہ ایوان اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے پر نوٹس لینے کا خیر مقدم کرتا ہے‘

    قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ’عمران خان نے خاتون جج کو دھمکی دے کر پوری عدلیہ کی تضحیک کی ہے، ایک جج کو دھمکی پوری عدالتی نظام کو دھمکی کے مترادف ہے۔‘

    مسلم لیگ کی خواتین ارکان کی جانب سے جمع کروائی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ’یہ ایوان معزز جج زیبا چوہدری کو خراج تحسین پیش کرتا ہے، جو کھلی دھمکی کے باوجود اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔

  14. لوگوں نے ووٹ صرف وزیر بننے کے لیے نہیں دیے: فواد چوہدری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. بریکنگ, ماضی میں عمران خان کی ’عدلیہ مخالف تقاریر‘ کا ریکارڈ جمع کروانے کی درخواست

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ کا تین رکنی لارجر بینچ ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کے خلاف عمران خان کے دھمکی آمیز بیان کے معاملے کی سماعت منگل کو کر رہا ہے۔ توہینِ عدالت کی اس کارروائی کا فیصلہ عدالت کے تمام ججوں کی مشاورت سے پیر کی شام کیا گیا تھا۔

    اس سماعت سے قبل منگل کی صبح ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک متفرق درخواست جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ عمران خان کی ماضی میں عدلیہ مخالف تقاریر اور بیانات کا ریکارڈ بھی جمع کرانا چاہتے ہیں۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا پر دیے بیانات کی ویڈیوز بھی ریکارڈ پر لانے کی اجازت دی جائے جبکہ ان کے عدلیہ اور ریاستی اداروں سے متعلق بیانات کو یو ایس بی یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے کمرہ عدالت میں دکھانے کی اجازت دی جائے۔

    notice
  16. بریکنگ, مبینہ نفرت انگیز تقاریر: پشاور میں پی ڈی ایم کے رہنماؤں کے خلاف مقدمے کی درخواست

    PDM

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    پشاور میں وزیر اعظم شہباز شریف، سابق وزیراعظم نوازشریف کے علاوہ مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم صفدر سمیت پی ڈی ایم کے رہنماؤں کے خلاف مقدمے کی ایک درخواست تھانہ شرقی میں جمع کروائی گئی ہے۔

    نور شیر ایڈووکیٹ کی جانب سے دی گئی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم کی قیادت نے ماضی میں نفرت انگیز تقاریر کیں اور دشمن ملک کی ایماء پر نفرت انگیز بیانات دیے۔

    درخواست گزارکا کہنا ہے کہ ان رہنماؤں نے ماضی میں اداروں کے خلاف تقاریر کر کے ملکی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور ایسی تقاریر اور بیانات پر ان رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس بارے میں پشاور پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس کو اس حوالے سے درخواست موصول ہوئی ہے جس کے متعلق قانونی رائے حاصل کی جا رہی ہے جس کے بعد ہی اس پر قانون کے مطابق عملدرآمد کیا جائے گا۔

  17. یوٹیوبر جمیل فاروقی دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس کے حوالے

    Jameel farooqi

    ،تصویر کا ذریعہ@jameelfarooqui

    اسلام آباد کی عدالت نے پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے تشدد کے الزامات لگانے والے یو ٹیوبر اور اینکر جمیل فاروقی کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

    کراچی سے گرفتار کیے جانے والے یو ٹیوبر جمیل فاروقی کو پیر کو اسلام آباد پہنچایا گیا تھا جہاں منگل کی صبح انھیں عدالت میں پیش کیا گیا۔

    جمیل فاروق کو جوڈیشل مجسٹریٹ میاں اظہر ندیم کی عدالت میں پیش کیا گیا تو پولیس نے ان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ اس موقع پر ملزم کے وکیل نے اپنے موکل کا نام اس مقدمے سے خارج کرتے ہوئے کہا کہ انھیں جمیل فاروقی نے بتایا کہ انھیں گرفتار کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس صرف جسمانی ریمانڈ تشدد کے لیے لینا چاہتی ہے۔

    انھوں نے سوال اٹھایا کہ پولیس جمیل فاروقی سے کیا برآمدگی کرنا چاہتی ہے جو جسمانی ریمانڈ مانگا جا رہا ہے؟

    وکیلِ صفائی کا کہنا تھا کہ جمیل فاروقی نے جو کچھ کہا اس سے متعلق تحریکِ انصاف کے رہنما شہباز گل پہلے ہی بات کر چکے تھے اور جمیل فاروقی نے شہباز گل کی باتیں اپنی زبانی بول کر یوٹیوب پر پروگرام کیا۔

    جمیل فاروقی نے عدالت کے سامنے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ’جب مجھے گرفتار کیا گیا تو میری گاڑی، پرس سب کچھ چھین لیا گیا اور سندھ پولیس اور اسلام آباد پولیس نے بھی مجھے تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

    فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ پولیس یوٹیوبر جمیل فاروقی کا موبائل اور دیگر ڈیوائسز برآمد کرنا چاہتی ہے۔

    عدالت نے دو روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزم کو 25 اگست کو طبی معائنے کی رپورٹ کے ساتھ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    یو ٹیوبر کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں اسلام آباد پولیس پر شہباز گل پر جسمانی تشدد کرنے کے ’غلط الزامات‘ لگانے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ جمیل فاروقی نے کراچی ایئرپورٹ پر ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں بھی یہ الزام عائد کیا تھا کہ انھیں برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اس ویڈیو کے منظرِعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں جمیل فاروقی سے مبینہ طور پر بدسلوکی پر تنقید کی گئی تھی وہیں ماضی میں ان کے ایسے بیانات بھی گردش کرنے لگے تھے جن میں انھوں نے ایسے صحافیوں کا مذاق اڑایا تھا جو اس قسم کے سلوک کا نشانہ بنے تھے۔

  18. قطر پاکستان کو دو ارب ڈالر فراہم کرے گا, تنویر ملک، صحافی

    Currency

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا ہے کہ قطر مالی بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو دو ارب ڈالرز فراہم کرے گا۔

    ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضی کے مطابق سعودی عرب آئل فنانسنگ کی مد میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر دے گا جبکہ متحدہ عرب امارات سے بھی سرکایہ کاری فنڈ کے ایک ارب ڈالر ملیں گے۔

    پاکستان کو موجودہ مالی سال میں جاری کھاتوں کے خسارے کو پورا کرنے اور بیرونی قرضے کی ادائیگی کے لیے بیرونی فناننسگ کی ضرورت 30 ارب ڈالر ہے جب کہ پاکستان کی جانب سے اس سال کے دوران 37 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

  19. سگریٹ اور تمباکو پر 38 ارب روپے کے ٹیکس کے لیے آرڈیننس کا اجرا, تنویر ملک، صحافی

    Cigrettes

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی حکومت کی جانب سے اضافی ٹیکسوں کی وصولی کے لیے ایک آرڈیننس کا اجرا کیا گیا جس کے ذریعے سگریٹ اور تمباکو کے شعبے سے نئے ٹیکسوں کے مد میں 38 ارب روپے اکٹھے کئے جائیں گے۔

    36 ارب روپے کے نئے ٹیکس سگریٹ اور دو ارب روپے کے نئے ٹیکس تمباکو پراسسینگ پر لگائے جائیں گے۔

    اس آرڈیننس کے ذریعے ریٹیلرز پر لگنے والے ٹیکس کی شرح کو کم کر دیا گیا جس کے تحت اب 27 ارب روپے اکٹھے جائیں گے جس کا ہدف بجٹ میں 42 ارب روپے رکھا گیا تھا۔

    بیرون ملک پاکستانیوں کی خدمات پر لگایا گیا ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا، تاجروں پر عائد کیا گیا فکس ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے جبکہ ماہانہ بنیادوں پر بجلی کے بلوں پر سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

  20. وزیرِ اعظم شہباز شریف دو روزہ سرکاری دورے پر قطر روانہ

    Shehbaz

    ،تصویر کا ذریعہ@CMShehbaz/Twitter

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی کی دعوت پر قطر کے دو روزہ دورے پر چلے گئے ہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے روانگی سے قبل ٹوئٹر پر سلسلہ وار ٹوئٹس کرتے ہوئے لکھا کہ ’اپنے بھائی شیخ تمیم بن حمدالثانی کی دعوت پر آج (منگل) قطر روانہ ہو رہا ہوں، دورے سے پاک قطر دوستی اور بھائی چارے کے تعلق کی تجدید ہو گی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’اس دورے کے دوران کاروباری برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع سےآگاہ کروں گا، ہم دو طرفہ روابط کو زیادہ مؤثر سٹریٹیجک تعلقات میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، قابل تجدید توانائی، فوڈ سکیورٹی میں سرمایہ کاری کے مواقع ہیں، صنعت و انفرا اسٹرکچر کی ترقی اور سیاحت کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع ہیں۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’دورۂ قطر کے تناظر کو سمجھنا اہم ہے، کورونا کے بعد دنیا معاشیسست روی سے بحالی کی طرف جا رہی ہے، جیو پولیٹیکل کشیدگیوں نے طلب اور رسد کا عمل متاثر کیا ہے، توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے نے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔