چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور شہباز گل کے خلاف مزید دو مقدمات درج
سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے خلاف مزید دو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے پی ڈی ایم قیادت کے خلاف مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج کے بارے میں ’دھمکی آمیز‘ بیان دینے پر عمران خان کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو طلب کر لیا ہے۔
لائیو کوریج
اسلام آباد پولیس کا عمران خان کی تقریر پر ردِعمل: جھوٹے الزامات کے خلاف قانون کے مطابق عمل کیا جائے گا
اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے چئیرمن پی ٹی آئی کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل پولیس بحیثیت ادارہ تمام جھوٹے الزامات کے خلاف قانون کے مطابق عمل کرے گی۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل پولیس اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے جاری رکھے گی اور جو بھی شخص دھمکیاں یا الزامات لگائے گا اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔
’اسلام آباد کیپیٹل پولیس عوام اور اپنے وطن کے لیے اپنے کام کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔
ہم ہر حال میں قوم کی خدمت کا حلف اٹھائے ہوئے ہیں۔
تمام آفیسرز اور جوان پوری ذمہ داری سے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے۔‘
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس ایک منظم ادارہ ہے ، ہم ہر حال میں اپنے فرائض سرانجام دینے کے پابند ہیں۔ اور کسی قسم کی بدنظمی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
کراچی کے حلقہ این اے 245 میں ضمنی الیکشن: پولنگ کا آغاز ہو گیا
کراچی کے حلقہ این اے 245 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اس حلقے میں پولنگ کا وقت صبح 8 سے شام 5 بجے تک ہے۔
یاد رہے پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر عامر لیاقت کی وفات کے بعد خالی ہونے والی اس سیٹ پر 15 امیدوار مدمقابل ہیں۔
اس حلقے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے معید انور اور پی ٹی آئی کے امیدوار محمود مولوی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے، پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کے امیدوار ایم کیو ایم پاکستان کے امیدوار کے حق میں دست بردار ہو چکے ہیں۔
ایم کیو ایم کے سابق رہنما ڈاکٹر فاروق بھی آزاد امیدوار کے طور پر اس حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان کے محمد احمد رضا، پاک سر زمین پارٹی کے سید حفیظ الدین اور مہاجر قومی موومنٹ کے محمد شاہد بھی امیدواروں میں شامل ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, پیمرا نے عمران خان کی تقریر لائیو دکھانے پر پابندی عائد کر دی
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے ملکی میڈیا پر سابق وزیراعظم عمران خان کی تقاریر کو لائیو نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
پیمرا کی جانب سے سنیچر کی شب رات گئے ایک تفصیلی نوٹیفکیشن جاری کیا۔
پیمرا کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ عمران خان امن و عامہ خراب کر رہے ہیں۔
پیمرا نے 2002 کے آرڈیننس کے سیکشن 27 کے تحت عمران خان کی تقاریر کو براہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کی ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان نے سنیچر کی رات کو اسلام آباد میں ایک جلسے کے دوران اپنی جماعت کے رہنما شہباز گل پر مبینہ طور پر ہونے والے تشدد کے معاملے پر بات کرتے ہوئے دارالحکومت کی پولیس اور مجسٹریٹ کو دھمکی دی تھی کہ وہ ان کے خلاف کیس کریں گے۔
پیمرا کے نوٹیفکیشن میں کہا ہے کہ عمران خان اپنی اشتعال انگیز تقاریر میں ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کر کے نفرت پھیلا رہے ہیں۔
کہا گیا ہے کہ اس قسم کی تقاریر آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہیں۔
پیمرا نے عمران خان کی سنیچر کی رات کی جانے والی تقریر کی چند لائنیں بھی بطور مثال لکھیں جہاں وہ پولیس حکام اور مجسٹریٹ کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ ان کے خلاف کیس کریں گے۔
’اہم شخصیات کی ای میلز ہیک کر کے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے‘
ترجمان الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے خلاف ’جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔‘
ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے نام پر سوشل میڈیا میں مختلف جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں جو غلط بیانی کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بعض اہم شخصیات اور آرگنائزیشن کی ای میلز کو ہیک کر دیا گیا اور ان ای میل اکاؤنٹس سے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ ان ہیک شدہ ای میلز میں جنرل حامد اور راضیہ سلطانہ شامل ہیں۔
’چیف الیکشن کمشنر کا کوئی بھی اکاؤنٹ سوشل میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم پر نہیں ہے۔ کوئی ٹوئٹر یا کوئی فیس بک اکاؤنٹ وہ استعمال نہیں کرتے۔ عوام سے گزارش ہے کہ ان جعلی اکاؤنٹس اور ہیک شدہ ای میلز کے ذریعے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈہ پر یقین نہ کریں۔ ایف آئی اے اور سائبر کرائمز سے رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔‘
انٹرویو میں سیاق و سباق سے نہیں ہٹے، وہی لکھا جو عمران نے کہا: صحافی جولیئن بورجر
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اخبار دی گارڈین نے سلمان رشدی پر حملے کے حوالے سے ان کی گفتگو سیاق س سباق سے ہٹ کر پیش کی ہے اور اس میں جو تاثر دیا جا رہا ہے ان کا یہ مطلب نہیں تھا۔
انھوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹوئٹر ہینڈل سے ٹویٹ کیا کہ اخبار دی گارڈین نے ’میری گفتگو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی۔ میں نے انڈیا میں ملعون سلمان رشدی کو مدعو کرنے پر سیمینار میں شرکت سے انکار کیا۔ انٹرویو میں، میں نے گستاخ رسول کو سزا دینے کے اسلامی طریقہ کار کی وضاحت کی۔ سانحہ سیالکوٹ کا حوالہ دیا، اسی تناظر میں رشدی کی بات کی۔‘
اس کے جواب میں دی گارڈین اخبار کے ان دو رپورٹروں میں سے ایک جولیئن بورجر نے، جن کی انٹرویو اور سٹوری پر بائی لائن لگی ہے، کہا ہے کہ انھوں نے وہی لکھا جو عمران خان نے کہا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
بورجر نے، جو دی گارڈین کے عالمی امور کے ایڈیٹر بھی ہیں، اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’ہم نے عمران خان کا غلط حوالہ نہیں دیا۔ ہم اپنی رپورٹنگ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ خان خود یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ان کا غلط حوالہ دیا، صرف یہ کہ ہم نے ان کے ریمارکس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا۔
’لیکن ہم نے سیاق و سباق فراہم کیا، جیسا کہ آپ تحریر میں دیکھ سکتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کے مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر عمران خان کے بیان کے متعلق کافی کچھ لکھا جا رہا ہے۔
برطانوی مصنف سلمان رشوی پر نیو یارک میں قاتلانہ حملے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جس کا کہنا تھا کہ انھوں نے متنازع کتاب ’شیطانی آیات‘ کے ’صرف دو صفحات پڑھے تھے۔‘
شہباز گل پر تشدد کر کے بتایا گیا کہ ہم قانون سے اوپر ہیں: عمران خان
،تصویر کا ذریعہEPA
سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت شہباز گل کے ساتھ مبینہ تشدد پر اسلام آباد کے آئی جی، ڈی آئی جی اور مجسٹریٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس کرے گی۔
انھوں نے اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کے دوران کہا کہ شہباز گل پر اس لیے تشدد کیا گیا تاکہ وہ بتا سکیں ’ہم قانون سے اوپر ہیں۔ لوگوں کو غلام بنانے کے لیے دہشت پھیلائی جا رہی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’شہباز گل پر ظلم اس لیے نہیں ہوا کہ اس نے کیا کہا۔ اس سے زیادہ نواز شریف، مریم نواز، خواجہ آصف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کہہ چکے ہیں جس سے فوج کے ادارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔‘
’شہباز گل پر اس لیے پکڑ کر تشدد کیا گیا کہ بتایا جاسکے ہم قانون سے اوپر ہیں، ہم جو چاہے کر سکتے ہیں۔ یہ ڈرانے کی کوشش تھی کہ سب دیکھ کر ڈریں۔ اے آر وائے کو اس لیے بند کیا گیا کہ وہ سچ بتا رہا تھا، عوام کا موقف سامنے لا رہا تھا۔ باقی چینلز کو وارننگ دی گئی۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’چیلنج دیتا ہوں کہ آپ جو مرضی کریں، آپ عوام کے سمندر کو، جو آزادی چاہتا ہے، نہیں روک سکتے۔ شہباز گل کو جس طرح اٹھایا، دو دن تک تشدد کیا گیا۔ ایسے پکڑا جیسے کوئی بہت بڑا غدار پکڑا ہے۔‘
’نیوٹرلز، کیا آپ واقعی نیوٹرل ہیں؟‘
انھوں نے اسلام آباد پولیس کے آئی جی اور ڈی آئی جی کے علاوہ مجسٹریٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اسلام آباد کے آئی جی، ڈی آئی جی اور مجسٹریٹ کو ہم نے نہیں چھوڑنا، ان پر کیس کرنا ہے۔ آپ سب کو شرم آنی چاہیے۔ ہم ان پر کیس کرنے لگے ہیں۔ اگر گل پر کیس ہوسکتا ہے تو ان سب پر ہم کیس کرنے لگے ہیں۔
’قوم قانون کی حکمرانی سے آزاد ہوتی ہے۔ انھوں نے قانون کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔‘
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ’ہم سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔ بڑے ادب سے سپریم کورٹ کو کہتا ہوں کہ ساری قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ آئین و قانون کی حکمرانی آپ کا کام ہے۔ طاقتور نے دکھایا کہ وہ قانون سے اوپر ہے۔‘
’جب اسلام آباد پولیس سے پوچھا تو انھوں نے کہا ہم نے کچھ نہیں کیا، ہمیں پیچھے سے بوٹ لگا تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’آج اپنے نیوٹرلز سے سوال کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یہ بتائیں، کیا واقعی آپ نیوٹرل ہیں؟ آپ نے ہمیں کہا کہ ہم تو نیوٹرل ہیں، باہر کی سازش ہوئی تو ہم پیچھے ہٹ گئے تھے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’پنجاب میں بھی کہتے ہیں کہ ہمیں تو پیچھے سے حکم آیا تھا۔ اپنے نیوٹرلز کو کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ملک کا مسئلہ ہے، پاکستان کا مسئلہ ہے۔ آپ کے لیے بڑا ضروری ہے کہ عوام و انصاف کے کھڑے ہوں، ان چوروں کے ساتھ نہ کھڑے ہوں۔‘
ان کی قیادت میں تحریک انصاف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں زیرو پوائنٹ سے ایف نائن پارک تک ریلی نکالی۔
اداروں کو بغاوت پر اکسانے کے مقدمے کے ملزم شہباز گل پر مبینہ تشدد کے خلاف اور ان سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک کے دیگر شہروں میں بھی پی ٹی آئی کی جانب سے ریلیاں نکالی گئی ہیں۔
بریکنگ, جعلی ویڈیوز چلا کر شہباز گل پر جنسی تشدد کا دعویٰ کیا گیا: مریم اورنگزیب
،تصویر کا ذریعہAPP
وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ جعلی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کر کے رہنما تحریک انصاف شہباز گل پر جنسی تشدد کا جھوٹا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’چکوال میں ریپسٹ کی ویڈیو چلا کر کہا جا رہا ہے کہ یہ شہباز گل کی ویڈیو ہے جس میں ان پر جنسی تشدد کیا گیا۔ اس کے پیچھے عمران خان ہیں۔ غلط ویڈیوز چلانا سائبر کرائم کے ذمرے میں آتا ہے۔ یہ بیانیہ عمران خان نے شروع کیا ہے۔ اصل مقصد کہانی کو بدلنا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’شہباز گل پر اداروں کے اندر بغاوت کی کوشش کا مقدمہ ہے۔ انھوں نے عمران خان کے کہنے پر اے آر وائے بیپر دیا۔ قانون کے تحت ایف آئی آر بنی اور حراست میں لیا گیا اور تفتیش شروع ہوگئی۔‘
’اس مقدمے سے نظر ہٹانے کے لیے پروپیگنڈ جاری ہے کہ تشدد ہوگیا، جنسی تشدد ہوگیا۔ کسی پر بھی تشدد ہو، وہ نہیں ہونا چاہیے۔ (مگر) اس کیس میں تشدد نہیں ہوا۔ مگر یہاں تشدد نہیں ہوا صرف پروپیگنڈا ہو رہا ہے۔۔۔ جب کیمرا آتا ہے تو وہ اداکاری شروع کر دیتے ہیں اور سانس کی تکلیف کا کہتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بہت جلد تمام ثبوت وزیر داخلہ پیش کریں گے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کے لواحقین کے خلاف مہم چلائی گئی۔ اے آر وائے کا پلیٹ فارم استعمال کیا گیا۔ جعلی ویڈیوز کے ذریعے بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔ بغیر تحقیقات کے سوشل میڈیا پر اسے شیئر کیا جا رہا ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہPTV
انھوں نے پریس کانفرنس کے دوران ایک ویڈیو بھی چلوائی جس میں شہباز گل کو پولیس اہلکاروں سے گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ آج کی ویڈیو میں وہ بالکل ٹھیک نظر آ رہے ہیں۔ ’کیا یہ وہی شخص ہے جس پر تشدد کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔‘
’کیا یہ وہی شخص ہے جس پر جنسی تشدد کیا گیا؟ میڈیا سے درخواست ہے کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔‘
وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ گذشتہ روز عمران خان نے بغیر عدالتی حکم شہباز گل سے ملنے کی کوشش کی۔ ’ملاقات کا قانونی طریقہ ہوتا ہے۔‘
شہباز گل کیس: ’پولیس کو بطور ادارہ بدنام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی‘، اسلام آباد پولیس
اسلام آباد پولیس کی جانب سے شہباز گل پر مبینہ تشدد کے بارے میں جاری بیان میں میں کہا گیا ہے کہ ’بعض افراد کی طرف سے من گھڑت مہم چلائی جا رہی ہے۔
’عدالت کے حکم پر تشدد سے متعلق ابتدائی رپورٹ پر کام شروع ہو چکا ہے اور بیانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘
اعلامیے کے مطابق ’پولیس امن و امان کی بحالی کے لیے کام کرتی ہے۔
پولیس کو بطور ادارہ بدنام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
’اگر کسی بھی شخص کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ اسلام آباد پولیس کو فراہم کر سکتا ہے۔
عوام سے گزارش ہے کہ بلا تصدیق کسی بھی جھوٹی مہم کا حصہ نہ بنیں۔‘
عمران خان بتائیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے بارے میں کن ایجنسیوں نے رپورٹ دی تھی: مریم اورنگزیب
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, شہباز گل پر تشدد کا الزام: فواد چوہدری کی سعد رفیق، مصطفی نواز کھوکھر اور شیریں مزاری پر مشتمل کمیٹی بنانے کی تجویز
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے ایک مرتبہ پھر شہباز گل پر مبینہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی آزادانہ انکوائری ہونی چاہیے جس میں تینوں جماعتوں کے رہنما شامل ہوں۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’تشدد ہوا ہے یا نہیں اس حوالے سے انکوائری کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے مصطفیٰ نواز کھوکھر، ن لیگ سے خواجہ سعد رفیق اور پی ٹی آئی سے شیریں مزاری پر مشتمل کمیٹی اس بارے میں تحقیقات کریں کہ آیا تشدد ہوا ہے یا نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جنھوں نے تشدد کیا اور جس نے احکامات دیے ان کی شکلیں سامنے آنی چاہییں۔ آپ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں تو مقدمات بھی بن جاتے ہیں لیکن تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اپنے مجسٹریٹ کو دیکھیں جنھوں نے تشدد کے حوالے سے ایک مؤقف پر کھڑے ہوئے۔
’ہر نوکری کا تقاضہ ہوتا ہے اور اگر اعلٰی عدلیہ اور جج تشدد کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے تو کون کھڑا ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آپ ریمانڈ دے رہے ہیں باوجود اس کے کہ الزام لگایا گیا ہے کہ تشدد کیا گیا۔ اعلٰی عدلیہ کو اپنی نچلی عدلیہ سے سیکھنا چاہیے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, پنجاب حکومت کی جانب سے مقدمات درج کرنے کے بعد ن لیگ رہنماؤں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں حفاظتی ضمانت دائر کر دی
،تصویر کا ذریعہPID
پاکستان مسلم لیگ ن کے 12 رہنماؤں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں حفاظتی ضمانت کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔
وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی عطا تارڑ اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود سمیت 12 رہنماؤں نے حفاظتی ضمانت کی درخواست دی ہے۔
یہ درخواست پنجاب اسمبلی میں تشدد، توڑ پھوڑ اور ماورائے قانون سرگرمیوں کے الزام میں پنجاب حکومت کی مدعیت میں مسلم لیگ ن کے 11 ایم پی ایز کے خلاف مقدمات درج ہونے کے بعد کی گئی ہے۔
صوبائی وزیرِ داخلہ پنجاب کرنل (ر) ہاشم ڈوگر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پولیس قواعد و ضوابط کے مطابق سرچ وارنٹ کے ساتھ ان کی گرفتاریوں کے لیے کارروائی کر رہی ہے۔
’جن پولیس افسران نے 25 مئی اور ضمنی انتخابات کے دوران اختیارات سے تجاوز کیا انھیں ان کے عہدوں سے ہٹا کر کلوز کر دیا گیا ہے۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’پنجاب میں پرویز الٰہی کا راج ہے جہاں پولیس بھی ڈکیتیاں کر رہی ہے۔
’شہباز گل کے مقدمے کا بدلہ ہم سے لینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پرویز الٰہی اس میں پیش پیش ہیں۔‘
بجلی کے بلوں نے سفید پوش طبقے کی کمر توڑ دی ہے، گھر پر نہ بیٹھیں حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بنیں: فواد چوہدری
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے ایک مرتبہ پھر الیکشن کمیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے کرتوت ٹھیک کر لیتا تو کوئی تنقید نہ کرتا لیکن موجودہ چیف الیکشن کمشنر نے ادارے کو تباہ کر دیا ہے۔
انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’الیکشن کمیشن جیسے اہم ادارے کو امپورٹڈ حکومت کی سب کمیٹی کے لیول پر لے آئے ہیں جب تک ان کو نہیں نکالیں گے ادارے کی حیثیت بحال نہیں ہو سکتی۔‘
اسی کے ساتھ فواد چوہدری نے ایک اور ٹویٹ میں وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’بجلی کے بلوں نے سفید پوش طبقے کی کمر توڑ دی ہے دالوں اور کچن آئٹم کی قیمتوں میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔
’ان چار مہینوں میں امپورٹڈ حکومت کی پالیسیوں نے معیشت کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ گھر پر نہ بیٹھیں حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بنیں اس حکومت سے نجات سے ہی پاکستان بچ سکتا ہے۔
اسلام آباد میں کسی بھی جگہ ریلی یا لوگوں کے اجتماع کی اجازت نہیں: ڈپٹی کمشنر
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں 23 جولائی 2022 سے ’کسی بھی جگہ پر جلسے جلوس، ریلی اور لوگوں کے اجتماع کی اجازت نہیں ہے۔‘
ایک بیان میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن کا کہنا ہے کہ ’پانچ سے زیادہ افراد کسی بھی جگہ پر اکٹھا ہونے پر پابندی ہے۔۔۔ اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے یہ پابندی 23 جولائی 2022 سے عائد ہے۔ ہر قسم کے اجتماع، جلسے اور جلوس اور ریلی وغیرہ پر پابندی عائد ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لیا جائے گا۔‘
ِخیال رہے کہ تحریک انصاف نے سنیچر کو اسلام آباد میں شہباز گل کے حق میں ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد پولیس کی اسد عمر کے گھر چھاپے کی تردید
رہنما تحریک انصاف اسد عمر کا کہنا ہے کہ ان کی رہائش گاہ پر پولیس آئی ہے تاہم ترجمان اسلام آباد پولیس نے اسد عمر کے گھر پر چھاپے کے دعوے کی تردید کی ہے۔
اسلام آباد پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا واقف ہے کہ کونسا رہنما کہاں رہتا ہے۔
’حکومتی ادارے کے خلاف غلط پراپیگنڈہ افسوسناک اور چند لوگوں کی طرف سے جھوٹی مہم کا حصہ ہے۔‘
’عمران خان بتائیں کون سی ایجنسیوں نے انھیں ن لیگ، پیپلز پارٹی کے بارے میں بریفنگ دی‘
،تصویر کا ذریعہAPP
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’عمران خان میں ہمت، جرات اور حوصلہ ہے تو بتائیں کون سی ایجنسیوں اور لوگوں نے انھیں مسلم لیگ ن اور پی پی پی کے بارے میں بریفنگز اور رپورٹس دیں؟‘
انھوں نے جمعے کو پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’چیف الیکشن کمشنر کی گارنٹی کس نے دی؟ اداروں کے بیرونی سازش کے جھوٹے بیانیہ میں ساتھ دینے سے انکار پر عمران خان ان کے خلاف ہوگئے۔
’عمران خان ہر ادارے میں ایک جاوید اقبال چاہتے ہیں، عمران خان ملک میں تماشہ لگانا بند کریں۔ انھوں نے 22 سال غلط بیانی کر کے سیاست کی۔ عمران خان سے جب بھی سوال پوچھا جائے وہ جواب نہیں دیتے، وہ کہتے ہیں کہ میں کسی قانون کے آگے جواب دہ نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کبھی ایکس وائے زیڈ کا نام لیتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ مجھے ایجنسیوں نے کہا تھا۔ وہ نام بتائیں انھیں کس ادارے، کس ایجنسی نے کہا تھا۔ کس نے رپورٹ دی تھی اور کس نے گارنٹی دی تھی اور کیا گارنٹی دی تھی۔ ان سب چیزوں کا جواب آنا چاہیے۔‘
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ’جہاں قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے اس کا حساب لیا جائے گات چاہے وہ عمران خان ہو یا شہباز گل۔‘
مریم اورنگزیب کے مطابق ’شہباز گل کی میڈیکل رپورٹس خود ان کے اپنے ڈاکٹرز نے دیکھیں جو کہہ رہے ہیں کہ شہباز گل بالکل فٹ ہیں۔‘
عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کو ’توہین الیکشن کمیشن کے نوٹسز جاری‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو ’تقاریر میں غیر پارلیمانی زبان اور توہین آمیز بیانات پر‘ توہین الیکشن کمیشن کے نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
ترجمان کے جاری کردہ بیان کے مطابق تحریک انصاف کے رہنماؤں کو 30 اگست 2022 کو ذاتی حیثیت یا بذریعہ وکیل پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔
بریکنگ, پولیس کس سے آرڈر لے رہی ہے، مجھے شہباز گل کی عیادت کرنے نہیں دی گئی: عمران خان
پمز ہسپتال آمد پر سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پولیس کس سے آرڈر لے رہی ہے۔ کیا عدالتی حکم کی کوئی حیثیت نہیں؟‘
انھوں نے کہا کہ ’مجھے شہباز گل کی عیادت کرنے نہیں دی گئی۔‘
وہ پوچھتے ہیں کہ ’کیا یہاں قانون کی حکمرانی ہے؟ عدالت کے حکم کی کوئی فکر نہیں ہے؟‘
’کل اسلام آباد میں، میں ریلی نکال رہا ہوں شہباز گل کے لیے۔ میں اسلام آباد کے سارے لوگوں کو دعوت دیتا ہوں۔ اگر اس طرح کا تشدد ایک سیاسی کارکن پر ہو سکتا ہے تو کسی کے اوپر بھی ایسا ہوسکتا ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’میں کل مغرب کے وقت ریلی نکالوں گا۔ اس سے بہتر ہے کہ زندہ نہ رہو اگر ہمیں ان چوروں کی غلامی کرنی پڑی۔‘
شہباز گل سے ملاقات کے لیے عدالتی اجازت درکار ہے: اسلام آباد پولیس
ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شہباز گل کو پمز ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پولیس نے ہسپتال میں سکیورٹی کا مناسب بندوبست کیا ہے۔
ہسپتال میں اضافی نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔
ملزم جسمانی ریمانڈ پر نہیں ہے اور ملزم سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔
’عوام سے گزارش ہے کہ کسی قسم کی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا نہ کریں۔
کسی بھی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بننے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔‘
آئی جی اسلام آباد نے جیو نیوز کو بتایا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو شہباز گل سے ملاقات کے لیے عدالتی اجازت درکار ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز عدالت نے پی ٹی آئی کے چار وکلا کو شہباز گل سے ملاقات کی اجازت دی تھی۔
بریکنگ, عمران خان شہباز گل کی عیادت کے لیے پمز ہسپتال پہنچ گئے
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان شہباز گل کی عیادت کے لیے پمز ہسپتال پہنچ گئے ہیں۔
تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ بغاوت پر اکسانے کے مقدمے کے ملزم شہباز گل پر دوران جسمانی ریمانڈ تشدد کیا گیا تاہم اسلام آباد اس کی تردید کرتی ہے۔
اسلام آباد کی جوڈیشل مجسڑیٹ کی عدالت نے تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے انھیں پیر تک پمز ہسپتال میں رکھنے اور دوبارہ میڈیکل کرانے کا حکم دیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
عمران خان پمز میں شہباز گل سے ملاقات کریں گے: فواد چوہدری
رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اب سے کچھ دیر بعد پمز ہسپتال جائیں گے جہاں وہ ’بہیمانہ تشدد کا نشانہ بننے والے شہباز گل سے ملاقات کریں گے اور بتائیں گے پوری پارٹی شہباز گل کے پیچھے کھڑی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ اتوار کو ’تحریک انصاف راولپنڈی میں جلسہ کرے گی اور 10 ستمبر تک جلسوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ 10 ستمبر سے پہلے حکومت کا خاتمہ پاکستان کے لیے ضروری ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ان کا کہنا ہے کہ عمران خان اسلام آباد میں کل ایک ریلی کی قیادت کریں گے جس کا آغاز چائنہ چوک سے ہوگا۔