چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور شہباز گل کے خلاف مزید دو مقدمات درج
سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے خلاف مزید دو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے پی ڈی ایم قیادت کے خلاف مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج کے بارے میں ’دھمکی آمیز‘ بیان دینے پر عمران خان کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو طلب کر لیا ہے۔
لائیو کوریج
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا شہباز گل پر مبینہ تشدد کی غیر جانبدار انکوائری کا مطالبہ
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسے شہباز گل پر تشدد کے وکلا کے الزامات پر تشویش ہے۔
’ان دعوے کی فوری، مؤثر اور غیر جانبدار انکوائری ہونی چاہیے۔‘
شہباز گل پر اگر اسلام آباد پولیس نے تشدد نہیں کیا تو پھر کس نے کیا، عمران خان کا سوال
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو ’توڑنے کے لیے ان کی تذلیل کی گئی۔‘
ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’تمام تصاویر اور ویڈیوز میں واضح ہے کہ شہباز گل کو ذہنی اور جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں جنسی تشدد بھی شامل ہے۔ یہ انتہائی ظالمانہ ہے۔
’شہباز گل کو توڑنے کے لیے ان کی تذلیل کی گئی۔ اب میرے پاس مکمل تفصیلی معلومات ہیں۔ اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے کوئی تشدد نہیں کیا۔ تو میرا سوال ہے: گل پر تشدد کس نے کیا؟‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’عوام اور ہمارے ذہنوں میں عام تصور ہے کہ کس نے ایسا ظالمانہ تشدد کیا ہوگا۔ یاد رکھیں کہ عوام ردعمل دے گی۔ ہم ذمہ داروں کو ڈھونڈنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور انھیں انصاف کے کٹھہرے میں لائیں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ڈالر کی قیمت میں کمی مگر سٹاک مارکیٹ میں مندی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان میں انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں تیس پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور دو کاروباری دنوں کے بعد ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھر کمی ریکارڈ کی گئی۔ کاروباری ہفتے کے آخری دن ایک ڈالر کی قیمت 214.65 پر بند ہوئی جو گذشتہ روز 214.95 پر بند ہوئی تھی۔
ادھر سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان غالب رہا جب انڈیکس میں 200 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ سٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق مندی کی وجہ حکومت کی جانب سے سٹاک مارکیٹ کے لیے ٹیکسوں میں کچھ رعایت کے فیصلے کو فی الحال موخر کرنا ہے جو وزیر خزانہ کی گذشتہ روز کی پریس کانفرنس میں موخر کیا گیا۔
شہباز گل کی رہائی کے لیے عمران خان ریلی کی قیادت کریں گے: بابر اعوان
سابق وزیر اعظم عمران خان کے قانونی مشیر بابر اعوان کا دعویٰ ہے کہ شہباز گل کی میڈیکل رپورٹ راتوں رات تبدیل کی گئی تھی اور تحریک انصاف ان پر تشدد کے معاملے میں کسی تحقیقات کو نہیں مانے گی۔
بابر اعوان نے اسلام آباد میں میڈیا ٹاک کے دوران کہا کہ ’تشدد پر کسی تحقیقات کو نہیں مانیں گے۔ بورڈ نے رپورٹ جاری کی جسے رات و رات بدلنے کے لیے پمز کا میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا۔ نئی رپورٹ ایسی بنائی گئی جو جرائم کو چھپانے میں مددگار ثابت ہوئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میڈیکل رپورٹ راتوں رات بدل دی گئی۔‘
بابر اعوان نے کہا ہے کہ ’عمران خان نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تشدد کا مقصد شہباز گل کو عمران خان کے خلاف بیان دینے پر مجبور کرنا تھا مگر وہ ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں۔ عمران خان شہباز گل کو ملنے ہسپتال جا رہے ہیں۔‘
’کل عمران خان شہباز گل کی رہائی کے لیے ایک ریلی کی خود قیادت کریں گے۔ پولیس کی حراست میں شہباز گل پر تشدد کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’تحریک انصاف ظالموں کو کٹھہرے میں لائے گی۔ آئین کے مطابق کسی پر اس لیے تشدد نہیں کیا جاسکتا کہ کسی کے خلاف بیان دلوایا جائے۔‘
پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس: جوڈیشل مجسٹریٹ نے 12 لیگی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے
پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی سے متعلق مقدمے میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے مسلم لیگ ن کے 12 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے پولیس کی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست منظور کی ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ مدثر حیات نے تھانہ قلعہ گجر سنگھ پولیس کی درخواست پر حکم جاری کیا۔
عطا اللہ تارڑ، رانا مشہود، اویس لغاری، مرزا جاوید اور سیف الملوک کھوکھر سمیت دیگر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
ادھر اطلاعات یہ ہیں کہ پولیس نے رانا مشہود کے گھر چھاپہ مارا ہے۔
سابق وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے لیگی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری اور چھاپوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ’پنجاب حکومت پولیس کو ذاتی سیاسی انتقام کے لیے استعمال کر رہی ہے۔‘
پی ٹی سی ایل کی آپٹیکل فائبر میں خرابی دور، انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی نیم سرکاری کمپنی پی ٹی سی ایل کی آپٹیکل
فائبر میں پیدا ہونے والی خرابی دور کر دی گئی ہے اور ملک کے متاثرہ علاقوں میں
انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔
پی ٹی سی ایل کی جانب سے صارفین کو جمعے کو مطلع کیا تھا کہ سندھ کے علاقے
سکھر، رتوڈیرو، گھوٹکی اور شکار پور کے قریب حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث
آپٹیکل فائبر میں خرابی کے باعث ملک کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی
تھی۔
آپٹیکل فائبر کی خرابی دور کیے جانے کے بعد پی ٹی سی ایل کی جانب سے کہا گیا
ہے کہ خرابی کو دو کرنے کے بعد انٹرنیٹ اور یوفون کے لیے تھری جی اور فور جی سروس
بحال کر دی گئی ہے۔
سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی وزارت سے مستعفی
صوبہ
سندھ کے وزیر محنت و افرادی قوت سعید غنی نے اپنی وزارت سے استعفی دے دیا ہے۔
سعید
غنی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے ضمنی الیکشن مہم میں حصہ لینے کے لیے صوبائی
کابینہ سے استعفی دیا ہے اور اپنا استعفیٰ وزیر اعلٰی سندھ کو بھجوا دیا ہے۔‘
ان کا
کہنا تھا کہ ’استعفی تاحال منظور نہیں ہوا، استعفی کی منظوری کا فیصلہ پارٹی قیادت
اور وزیر اعلٰی سندھ نے کرنا ہے۔‘
انھوں
نے کہا کہ بحیثیت صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن میری خواہش ہے کہ میں اپنے کارکنوں
کے ساتھ الیکشن مہم میں حصہ لوں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ ابھی شروع ہی نہیں ہوا، دوبارہ میڈیکل کروائیں: عدالت
،تصویر کا ذریعہSocial Media
اسلام آباد کی جوڈیشل مجسڑیٹ کی عدالت نے تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے انھیں پیر تک پمز ہسپتال میں رکھنے اور دوبارہ میڈیکل کرانے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے فیصلے سناتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کو دمہ کا مرض ہے، ان کے ٹیسٹ کرائیں۔ جج راجہ فرخ علی خان نے فیصلے سناتے ہوئے کہا کہ شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ ابھی شروع ہی نہیں ہوا۔
عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کی سانس کی تکلیف کا ایک بار پھر چیک اپ کروایا جائے، ان کی طبعیت ٹھیک نہیں انھیں ہسپتال داخل کروایا جائے۔
اس سے قبل جمعے کی صبح اسلام آباد پولیس نے شہباز گل کو ڈیوٹی جج جوڈیشل مجسٹریٹ راجہ فرخ علی خان کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
کسی بھی قسم کی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کچہری میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ کمرۂ عدالت کے باہر ایف سی کی نفری بھی تعینات ہے۔
عدالت میں سماعت کے آغاز میں پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ عدالت کے باہر پولیس نفری ایسی کھڑی ہے جیسے کوئی بڑا دہشتگر عدالت لایا جا رہا ہے۔
انھوں نے عدالت میں کہا کہ ابھی شہباز گل سے ملاقات کر کے آیا ہوں، ان کے پھیپھڑے متاثر ہیں، پولیس ضد کر رہی ہیں کہ وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئیں وہ اوپر نہیں آ سکتے۔
جس پر عدالت نے کہا کہ ملزم کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا جس کے بعد عدالت نے پولیس کو شہباز گل کو اٹھا کر عدالت میں لانے کا حکم دیا۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر شہباز گل کھانس رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ میرا ماسک بھی چھین لیا گیا ہے۔
اس موقع پر پولیس کے تفتیشی افسر کی جانب سے شہباز گل کے مزید آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، جس پر عدالت نے پوچھا کہ پہلے دو روزہ جسمانی ریمانڈ ہوا تھا، آپ آٹھ دن کی درخواست کیوں لے آئے ؟ آپ شہباز گل کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کیوں مانگ رہے ہیں؟
شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ شہباز گل کی بیماری آپ نے دیکھ لی، میڈیکل رپورٹ سے بھی لگ رہا ہے کہ تشدد کیا گیا، میں نے کل ڈاکٹر سے پوچھا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ جب درد کی کوئی شکایت کرے تو انگلیاں دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں۔
وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا تو ان کی جان کو خطرہ ہے۔
سپیشل پبلک پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالت جسمانی ریمانڈ دیتی ہے تو تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملزم کی صحت کا خیال کرے، شہباز گل کو جب داخل کیا گیا تو اس کا طبی معائنہ کیا گیا تھا، عدالتی آرڈر کے بغیر بھی تفتیشی افسر ایمرجنسی طبی معائنہ کرا سکتا ہے، کہیں نہیں لکھا ہوا کہ کوئی بیمار ہو تو جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا جس پر عدالت نے کہا کہ جو ایڈیشنل سیشن جج کا آرڈر تھا میں نے اس کو دیکھنا ہے۔
اسلام آباد پولیس شہباز گل کو انتہائی سخت سکیورٹی میں پمزہسپتال کے پچھلے دروازے سے لے کر روانہ ہوئی، پمز ہسپتال سے عدالت جاتے وقت شہباز گل نے منھ پر آکسیجن ماسک لگایا ہوا تھا اور انھیں ویل چیئر پر اسلام آباد کچہری منتقل کیا گیا۔
پنجاب کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی مینجمنٹ ماڈل اپنانے کی منظوری
،تصویر کا ذریعہTWITTER/@CHPARVEZELAHI
وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے صوبے کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی مینجمنٹ
ماڈل اپنانے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت اجلاس میں پنجاب کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کو
مکمل طور پر الگ شعبہ قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
اجلاس میں ایمرجنسی منیمجنٹ ماڈل کے تحت ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں ڈسپوزیبل
بیڈ شیٹ کے استعمال کی اصولی منظوری دی گئی۔
جبکہ وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی نے ایمرجنسی ڈیوٹی ڈاکٹرز کوخصوصی الاؤنس دینے کے
فیصلے کی توثیق بھی کی۔
وزیر اعلی پنجاب نے کہا ہےکہ ایمرجنسی ڈیوٹی سرانجام دینے والے ڈاکٹرز اور
عملے کو خصوصی مراعات بھی دی جائیں گی۔
اس کے ساتھ ساتھ صوبے بھر میں انتھیسیالوجسٹ کی خالی آسامیوں پر بھرتیوں کی
منظوری بھی دی گئی ہے۔
جبکہ وزیر آباد
انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے نئے بورڈ آف گورنرز کی منظوری اور وہاں کام کرنے والے
ڈاکٹرز کو آمدورفت اور رہائش کی سہولتیں دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ وزیر آباد کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ
کے لیے پی آئی سی کے ڈاکٹرز کی خدمات مستعار لی جائیں گی۔ اور شہر میں400 بستروں پر مشتمل نیا ہسپتال بھی بنایا جائے
گا۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
یہاں آپ پاکستان کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ معلومات
جان سکیں گے۔ 18 اگست تک کی صورتحال جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔