یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ جمعہ 19 اگست سے ملکی سیاسی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔
وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی عطا تارڑ اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود سمیت 12 رہنماؤں نے حفاظتی ضمانت کی درخواست دی ہے۔ یہ درخواست پنجاب اسمبلی میں تشدد، توڑ پھوڑ اور ماورائے قانون سرگرمیوں کے الزام میں پنجاب حکومت کی مدعیت میں مسلم لیگ ن کے 11 ایم پی ایز کے خلاف مقدمات درج ہونے کے بعد کی گئی ہے۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ جمعہ 19 اگست سے ملکی سیاسی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔
اسلام آباد کی جوڈیشل مجسڑیٹ کی عدالت نے تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے انھیں پیر تک پمز ہسپتال میں رکھنے اور دوبارہ میڈیکل کرانے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے فیصلے سناتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کو دمہ کا مرض ہے، ان کے ٹیسٹ کرائیں۔ جج راجہ فرخ علی خان نے فیصلے سناتے ہوئے کہا کہ شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ ابھی شروع ہی نہیں ہوا۔
عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کی سانس کی تکلیف کا ایک بار پھر چیک اپ کروایا جائے، ان کی طبعیت ٹھیک نہیں انھیں ہسپتال داخل کروایا جائے۔
اس سے قبل جمعے کی صبح اسلام آباد پولیس نے شہباز گل کو ڈیوٹی جج جوڈیشل مجسٹریٹ راجہ فرخ علی خان کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
کسی بھی قسم کی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کچہری میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ کمرۂ عدالت کے باہر ایف سی کی نفری بھی تعینات ہے۔
عدالت میں سماعت کے آغاز میں پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ عدالت کے باہر پولیس نفری ایسی کھڑی ہے جیسے کوئی بڑا دہشتگر عدالت لایا جا رہا ہے۔
انھوں نے عدالت میں کہا کہ ابھی شہباز گل سے ملاقات کر کے آیا ہوں، ان کے پھیپھڑے متاثر ہیں، پولیس ضد کر رہی ہیں کہ وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئیں وہ اوپر نہیں آ سکتے۔
جس پر عدالت نے کہا کہ ملزم کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا جس کے بعد عدالت نے پولیس کو شہباز گل کو اٹھا کر عدالت میں لانے کا حکم دیا۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر شہباز گل کھانس رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ میرا ماسک بھی چھین لیا گیا ہے۔
اس موقع پر پولیس کے تفتیشی افسر کی جانب سے شہباز گل کے مزید آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، جس پر عدالت نے پوچھا کہ پہلے دو روزہ جسمانی ریمانڈ ہوا تھا، آپ آٹھ دن کی درخواست کیوں لے آئے ؟ آپ شہباز گل کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کیوں مانگ رہے ہیں؟
شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ شہباز گل کی بیماری آپ نے دیکھ لی، میڈیکل رپورٹ سے بھی لگ رہا ہے کہ تشدد کیا گیا، میں نے کل ڈاکٹر سے پوچھا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ جب درد کی کوئی شکایت کرے تو انگلیاں دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں۔
وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا تو ان کی جان کو خطرہ ہے۔
سپیشل پبلک پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالت جسمانی ریمانڈ دیتی ہے تو تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملزم کی صحت کا خیال کرے، شہباز گل کو جب داخل کیا گیا تو اس کا طبی معائنہ کیا گیا تھا، عدالتی آرڈر کے بغیر بھی تفتیشی افسر ایمرجنسی طبی معائنہ کرا سکتا ہے، کہیں نہیں لکھا ہوا کہ کوئی بیمار ہو تو جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا جس پر عدالت نے کہا کہ جو ایڈیشنل سیشن جج کا آرڈر تھا میں نے اس کو دیکھنا ہے۔
اسلام آباد پولیس شہباز گل کو انتہائی سخت سکیورٹی میں پمزہسپتال کے پچھلے دروازے سے لے کر روانہ ہوئی، پمز ہسپتال سے عدالت جاتے وقت شہباز گل نے منھ پر آکسیجن ماسک لگایا ہوا تھا اور انھیں ویل چیئر پر اسلام آباد کچہری منتقل کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے شہباز گل کو ڈیوٹی جج جوڈیشل مجسٹریٹ راجہ فرخ علی خان کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
کسی بھی قسم کی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کچہری میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ کمرۂ عدالت کے باہر ایف سی کی نفری بھی تعینات ہے۔
عدالت میں سماعت کے آغاز میں پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ عدالت کے باہر پولیس نفری ایسی کھڑی ہے جیسے کوئی بڑا دہشتگر عدالت لایا جا رہا ہے۔
انھوں نے عدالت میں کہا کہ ابھی شہباز گل سے ملاقات کر کے آیا ہوں، ان کے پھیپھڑے متاثر ہیں، پولیس ضد کر رہی ہیں کہ وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئیں وہ اوپر نہیں آ سکتے۔
جس پر عدالت نے کہا کہ ملزم کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا جس کے بعد عدالت نے پولیس کو شہباز گل کو اٹھا کر عدالت میں لانے کا حکم دیا۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر شہباز گل کھانس رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ میرا ماسک بھی چھین لیا گیا ہے۔
اس موقع پر پولیس کے تفتیشی افسر کی جانب سے شہباز گل کے مزید آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، جس پر عدالت نے پوچھا کہ پہلے دو روزہ جسمانی ریمانڈ ہوا تھا، آپ آٹھ دن کی درخواست کیوں لے آئے ؟ آپ شہباز گل کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کیوں مانگ رہے ہیں؟
شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ شہباز گل کی بیماری آپ نے دیکھ لی، میڈیکل رپورٹ سے بھی لگ رہا ہے کہ تشدد کیا گیا، میں نے کل ڈاکٹر سے پوچھا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ جب درد کی کوئی شکایت کرے تو انگلیاں دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں۔
وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا تو ان کی جان کو خطرہ ہے۔
سپیشل پبلک پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالت جسمانی ریمانڈ دیتی ہے تو تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملزم کی صحت کا خیال کرے، شہباز گل کو جب داخل کیا گیا تو اس کا طبی معائنہ کیا گیا تھا، عدالتی آرڈر کے بغیر بھی تفتیشی افسر ایمرجنسی طبی معائنہ کرا سکتا ہے، کہیں نہیں لکھا ہوا کہ کوئی بیمار ہو تو جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا جس پر عدالت نے کہا کہ جو ایڈیشنل سیشن جج کا آرڈر تھا میں نے اس کو دیکھنا ہے۔
اسلام آباد پولیس شہباز گل کو انتہائی سخت سکیورٹی میں پمزہسپتال کے پچھلے دروازے سے لے کر روانہ ہوئی، پمز ہسپتال سے عدالت جاتے وقت شہباز گل نے منھ پر آکسیجن ماسک لگایا ہوا تھا اور انھیں ویل چیئر پر اسلام آباد کچہری منتقل کیا گیا۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس شدید متاثر ہے۔ اس میں سب سے زیادہ پی ٹی سی ایل کی انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی ہے۔
پی ٹی سی ایل انتظامیہ نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئےکہا ہے کہ ملک میں جاری شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث پی ٹی سی ایل کی آپٹیکل فائبر کو تکنیکنی مسائل کا سامنا ہے۔ جس کے باعث ملک کے شمالی و وسطی خطے میں صارفین کو انٹرنیٹ میں خلل کا سامنا ہے۔ ہماری ٹیمیں اس ضمن میں فوری بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
جبکہ پی ٹی اے کی جانب سے بھی کہنا ہے کہ پی ٹی سی ایل ڈیٹا نیٹ ورکس میں مسائل کی اطلاع دی گئی ہے۔ ڈیٹا نیٹ ورکس میں خرابی کی وجہ سے انٹرنیٹ رابطے کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ شمال اور جنوب کے ڈیٹا نیٹ ورک میں خرابی پیدا ہوئی ہے، اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ساری صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
آپ نے کئی مرتبہ آپٹیکل فائبر کے کٹنے یا اس میں خرابی پیدا ہونے کے بارے میں سنا ہو گا لیکن یہ آپٹیکل فائبر ہوتی کیا ہے اور آپ کا انٹرنیٹ اس کے سہارے کیسےچلتا ہے؟ یہ جاننے کے لیے پڑھیے ہمارے ساتھی بلال کریم مغل کی تحریر۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر ایک ہفتے میں پانچ کروڑ 20لاکھ ڈالر کے اضافے کے بعد 13.6 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر ایک ہفتے میں پانچ کروڑ ستر لاکھ کے اضافے سے 7.9 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے۔
تجارتی بینکوں کے پاس زرمبادلہ ذخائر میں ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا اور یہ 5.7 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے
تجزیہ کاروں کے مطابق ملک کے زرمبادلہ ذخائر میں آئی ایم ایف سے قسط کی وصولی کے بعد نمایاں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے جب دوسرے عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے بھی فنانسنگ شروع ہو جائے گی۔
شہباز گل کی صحت کی جانچ کرنے والے چھ رکنی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اُن کی حالت طبی طور پر مستحکم ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ حالانکہ اُنھیں دمے کا مرض ہے لیکن فی الوقت ان میں اس مرض کے بگڑنے کے آثار موجود نہیں ہیں۔ اُن کے چھ ایکسریز سمیت دل اور خون کے کئی ٹیسٹ کیے گئے۔
یہ میڈیکل بورڈ پہلے میڈیکل بورڈ کی تجویز پر بنایا گیا تھا جس نے کہا تھا کہ ماہرِ امراض قلب و سینہ شہباز گل کا جائزہ لیں۔

،تصویر کا ذریعہPIMS

،تصویر کا ذریعہPIMS

،تصویر کا ذریعہTwitter
جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں شہباز گل پر دورانِ حراست مبینہ تشدد کا معاملہ زیرِ بحث آیا تھا جس کے بعد ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد پولیس کو حکم دیا تھا کہ وہ اس پورے معاملے کی ابتدائی رپورٹ پیر کو پیش کریں۔
اب اسلام آباد پولیس نے ایک اشتہار جاری کیا ہے کہ اگر کسی بھی شخص کے پاس شہباز گل کے خلاف مقدمے سے متعلق یا ان پر تشدد سے متعلق کوئی گواہی موجود ہے تو وہ سنیچر کی صبح اسلام آباد پولیس کے ہیڈکوارٹرز میں اپنا بیان ریکارڈ کروا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPID
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ’میں سمجھتا رہا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو زیادہ ملک کی فکر ہو گی اور وہ ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ وہ چوری دیکھ کر اس پر کارروائی کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جب ہم اقتدار میں آئے تو بدقسمتی سے نیب ہمارے کنٹرول میں نہیں تھی اور مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ جب کیسز میچور ہو چکے ہیں تو یہ افراد پکڑے کیوں نہیں جا رہے، بعد میں پتا چلا کہ کسی کا شفقت کا ہاتھ تھا، کبھی ایکسیلریٹر دبا دیتے تھے، کبھی واپس آ جاتا تھا۔
’گالیاں ہمیں پڑ رہی ہوتی تھیں، اگر میرے ہاتھ میں نیب ہوتی تو 15، 20 لوگوں سے اربوں نکلوا لیتے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ سے سوال پوچھتا ہوں کہ آپ نے کیسے ان لوگوں کو اس قوم پر مسلط ہونے دیے۔ اگر ملک کی فکر ہے تو آپ کیسے ان لوگوں کو اجازت دے دیتے ہیں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ کے پاس سب سے زیادہ طاقت ہے، آپ جو مرضی کہیں کہ آپ نیوٹرل ہیں، لیکن تاریخ لکھی جا رہی ہے پاکستان کی اور لوگ آپ کو موردِ الزام ٹھہرائیں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب اس ملک میں لوگوں کو مختلف طریقوں سے نفسیاتی طور پر دباؤ کے ذریعے بھیڑ بکریوں کی طرح اس حکومت کو تسلیم کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
’سوشل میڈیا کے لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے، پھر اس سے یہ نہیں کہتے کہ معافی مانگو بلکہ کہتے ہیں کہ یہ کہو کے عمران خان نے ہمیں کہا کہ ان کے خلاف ٹویٹ کرو۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’ایاز امیر نے خاصا محتاط انداز اپنایا، مجھے یقین ہے کہ اس بار کپڑے نہیں پھٹیں گے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اے آر وائے کا کیا قصور تھا اگر شہباز گل سے ایک جملہ نکل ہی گیا ہے جو اسے نہیں کہنا چاہیے تھا، جسے غلط انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔‘
وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ ’شہباز گل وہ طوطا ہے جس میں عمران خان سمیت کئی دوسرے لوگوں کی جان ہے۔‘
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’شہباز گل نے تفتیش میں پہلے دن جو بتایا وہی ان کے لیے خطرناک ہے۔ عمران خان کو اصل ڈر یہ ہے کہ کہیں وہ ڈوریں ہلانے والوں کا نام نہ بتا دے۔‘
’اس طوطے سے ساری باتیں معلوم کر کے عوام کے سامنے لائی جائیں۔ ملک اب حقیقی قیادت کے بغیر نہیں چل سکتا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہباز گل کی جسمانی ریمانڈ کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت جمعرات کو ہوئی ہے۔
اس موقع پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ’آئی جی صاحب کیا شہباز گل پر تشدد کیا گیا ہے؟‘ اس کے جواب میں آئی جی اسلام آباد نے کہا ’بالکل بھی کسی طرح کا کوئی تشدد نہیں کیا گیا۔‘
جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ ’کیا شہباز گل کی کوئی تازہ میڈیکل رپورٹ سامنے آئی؟ کیا اُس رپورٹ میں کوئی تشدد کی علامات آئی ہیں؟‘
ایڈوکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ ’تشدد کی کوئی رپورٹ نہیں صرف سانس کے مسئلے کا ذکر ہے۔‘
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ تین چار دن سے ہر جگہ ذکر ہے شہباز گل پر تشدد ہوا۔ ’میں اور آپ ایکسپرٹ نہیں، بہتر ہو گا اس پر ایکسپرٹ رائے دیں۔‘
وکیل فیصل چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ ’ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر گواہ ہیں۔‘ اس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ’کیا ان کے سامنے شہباز گل کو مارا گیا ہے؟‘
تو فیصل چوہدری نے جواب دیا کہ ’ان کے سامنے تشدد کے نشان شہباز گل نے عدالت میں دکھائے۔‘
جسٹس عامر فاروق نے استسفار کیا کہ ’اس وقت شہباز گل کہاں ہیں؟‘ تو فیصل چوہدری نے جواب دیا کہ وہ پمز میں بے ہوشی کی حالت میں پڑے ہیں، جب وارڈ میں لے جا رہے تھے اس وقت کی تصویر دیکھی تھی۔ ’میرے لیے شہباز گل کی پرائیویسی اہم ہے ورنہ کچھ اور تصویریں بھی دکھاؤں۔‘
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’روز کسی نہ کسی اللہ دین کا ریمانڈ ہوتا ہے کوئی نہیں دیکھتا۔ یہ اہم کیس ہے اس لیے ساڑھے چار بجے کورٹ فُل ہے۔ یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔‘
حوالگی میں تاخیر
جب اڈیالہ جیل کے میڈیکل آفیسر پیش ہوئے تو عدالت نے پوچھا ’جس دن شہباز گل کو آپ نے ریسیو کیا تب کی میڈیکل رپورٹ دکھائیں۔‘ میڈیکل آفیسر نے جواب میں کہا کہ ’وہ رپورٹ میرے پاس نہیں ہے۔‘ اس پر جسٹس عامر فاروق نے برہمی ظاہر کی اور ریمارکس دیے کہ ’تو پھر آپ کیوں آئے؟ آپ کو کیا میں نے اپنے علاج کے لیے بلایا؟‘
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’کل شہباز گل کے ریمانڈ کی روبکار کس وقت ملی؟ حوالے کب کیا؟‘
اڈیالہ جیل حکام نے جواب دیا کہ ’ہمیں چار بجے روبکار وصول ہوئی، نو بجے حوالے کیا۔‘
جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ ’پانچ گھنٹے تک وہاں کیا چائے پلا رہے تھے؟ اڈیالہ جیل حکام کو کنڈکٹ پر نوٹس جاری کر رہا ہوں۔ آئی سی ٹی (اسلام آباد پولیس) کو بھی نوٹس کروں گا کہ کیوں یہ سب ہو رہا ہے۔ کل اگر جان بوجھ کر عدالتی احکامات میں رکاوٹ نکلی تو توہین عدالت کا نوٹس کریں گے۔‘
عدالت نے آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ ’سارے معاملے کی ایک ابتدائی رپورٹ بنا کر پیر کو پیش کریں۔‘
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ’جب ریمانڈ کا فیصلہ آگیا پھر تکلیف ہوئی پہلے ٹھیک تھا وہ؟‘
پی ٹی آئی کے وکلا نے عدالت سے تشدد کی جوڈیشل انکوائری کی استدعا کی اور کہا ’ہمیں آئی جی پر اعتبار نہیں ہے۔‘
بعد ازاں عدالت نے پی ٹی آئی کے وکلا کو ہسپتال میں شہباز گل کو ملنے کی اجازت دی ہے۔
عدالت نے ہدایت دی کہ ’ریمانڈ پر ابھی تکنیکی طور پر وہ ہیں ہی نہیں، اس لیے معطلی کی ضرورت نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہYOUTUBE
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل پر مبینہ تشدد کے معاملے میں آئی جی اسلام آباد پولیس سے پیر تک انکوائری کر کے رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے وکلا کو شہباز گل سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔
عدالت نے اڈیالہ جیل حکام اور اسلام آباد انتظامیہ سے گذشتہ روز شہباز گل کی حوالگی میں تاخیر پر بھی وضاحت طلب کی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس فیصلے کے خلاف درخواست قابلِ سماعت ہونے پر سماعت 24 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو بھی 24 اگست کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بنچ نےمنوعہ فنڈنگ کیس فیصلے کے خلاف درخواست قابل سماعت ہونے پر پی ٹی آئی وکیل کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے کسی شکایت پر کارروائی شروع کی؟ اس پر پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے کہا کہ ’عدالت کا سوال پارٹی کا عہدیدار ہونے کا دعویٰ کرنے والے نے ممنوعہ فنڈنگ کی شکایت کی۔
’سنہ 2018 میں سب جماعتوں کے اکاؤنٹس کی سکروٹنی شروع ہوئی اور الیکشن کمیشن نے صرف پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی کی اور الیکشن کمیشن نے اپنے اختیار سے بہت باہر جا کر فیصلہ کیا ہے‘
انھوں نے کہا کہ ’ویب سائٹس سے چیزیں نکال کر بغیر دستاویزات کی تصدیق کے کیسے کر سکتے ہیں؟‘
عدالت نے استفسار کیا کہ ’آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے فنڈز لئے ہیں لیکن وہ ملٹی نیشنل کمپنیز نہیں ہیں، کیا آپ نے یہ الیکشن کمیشن کو بتایا تھا؟
اس پر پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ ’ہم نے بتایا تھا مختلف کیسز کے فیصلوں کے حوالے بھی دیے تھے۔‘
جمعرات کے روز کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا۔
انٹر بنک میں ڈالر کی قیمت میں تاہم صرف سات پیسے کا اضافہ ہوا۔
اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں دو روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ایک ڈالر کی قیمت گزشتہ روز 216 روپے کے مقابلے میں 218 روپے تک پہنچ گئی اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کے روز کاروبار میں مندی کا رجحان رہا۔
انڈیکس میں 150 سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی تجزیہ کاروں کے مطابق کرنسی اور اسٹاک مارکیٹ اس وقت آئی ایم ایف اجلاس کی طرف دیکھ رہی ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کیونکہ بین الاقوامی کمیونٹی کی شرط ہے کہ درآمدات سے پابندی ہٹائیں اس لیے میں یہ پابندی ہٹا رہا ہوں لیکن جتنی ڈیوٹی اور آر ڈیز لگانے جا رہا ہوں، اس سے کم از کم یہ فنشڈ گڈز کی حیثیت سے نہیں آ سکیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’بجلی کے نرخوں پر بھی ہم نے تمام شرائط پوری کر دی ہیں، اور ہم اس ضمن میں نان فنڈڈ سبسڈی نہیں دیں گے۔‘
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ’ایف بی آر نے سگریٹوں اور تمباکو پر 18 ارب کا ٹیکس لگانے کی تجویز دی تھی لیکن وزیراعظم نے اسے دوگنا کرنے کا کہا جس کے بعد اب ہم اس مد میں 36 ارب ٹیکس اکٹھا کر لیں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم بجٹ میں اور کرنٹ اکاؤنٹ میں اپنے وسائل میں موجود رہیں گے۔‘
پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ حکومت تمام چیزوں کی درآمد پر پابندی ہٹا رہے ہیں تاہم لگژری آئٹمز پر پر ڈیوٹی لگے گی۔
مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا حکومت آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کر چکی ہے اور 29 اگست کو آئی ایم ایف بورڈ کی میٹنگ کے بعد رقم ہمیں موصول ہو جائے گی۔
رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے مطالبہ کیا ہے کہ شہباز گل پر مبینہ تشدد کے الزامات کا تعین کرنے کے لیے آزادانہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔
رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کراچی میں پریس کانفرنس کر رہے تھے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ شہباز گل پر تشدد کیا گیا جس پر عالمی ردعمل آ رہا ہے۔
’امید ہے ہائی کورٹ وہ رپورٹ دیکھے گی جو جیل کے ڈاکٹرز نے بنائی۔ آزادانہ میڈیکل بورڈ بنے جس پر سب کو، دونوں فریقین کو، اعتماد ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عدالت کو چاہیے کہ تشدد میں ملوث افراد، آئی جی اسلام آباد، کو بلائے اور ان کو تفتیش میں شامل کیا جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پمز کی رپورٹ میں ثابت ہوتا ہے کہ شہباز گل کو سانس لینے میں تکلیف کا سامنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’شہباز گل نے کوئی ایسی بات نہیں کی جو فضل الرحمان، خواجہ آصف، نواز شریف یا مریم نواز نے نہ کہی ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان کی وفاقی نوعیت کر ترجمانی صرف تحریک انصاف اور فوج کرتے ہیں اور ان دونوں میں کسی قسم کا تفرقہ پیدا کرنا صرف ن لیگ کے لیے فائدہ مند ہو گا جس کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں تحریک انصاف کے لوگوں کو شہباز گل سے ملاقات سے روکا گیا۔ ’ان کی فیملی اور وکلا کو بھی نہیں ملنے دیا گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/SHAHBAZ GILL
تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل پر بغاوت کے مقدمے میں پولیس کی جانب سے عدالت میں ایک میڈیکل رپورٹ جمع کرائی گئی ہے۔
ڈیوٹی جج راجہ فرخ علی کی عدالت میں جمع کرائی جانے والی اس رپورٹ پر چار سینیئر ڈاکٹرز کے دستخط ہیں اور اس میں کہا گیا ہے کہ ان ڈاکٹرز نے شہباز گل کا معائنہ کیا ہے اور انھیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے شہباز گل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کے فیصلے کے بعد اسلام آباد پولیس نے بدھ کی شب انھیں اڈیالہ جیل سے تحویل میں لیا تھا جہاں سے انھیں پمز ہسپتال لایا گیا۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق شہباز گل کو بچپن سے سانس کا مسئلہ ہے اور وہ ضرورت پڑنے پر برونکوڈائلیٹر استعمال کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب شہباز گل کو ہسپتال لایا گیا تو ان کو سانس لینے میں دشواری اور جسم میں درد کی شکایت تھی۔
رپورٹ کے مطابق شہباز گل کندھے، گردن اور چھاتی کے بائیں حصے میں درد محسوس کر رہے تھے جس کے بعد ان کا فوری ای سی جی کیا گیا۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق شہباز گل کا ایکسرے اور کچھ مزيد ٹیسٹ کرنے ضروری ہيں اور دل اور چھاتی کے امراض کے ماہر ڈاکٹروں سے ان کا طبی معائنہ بھی کروانا چاہیے۔
اسی رپورٹ سے متعلق بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق ای ڈی پمز ہسپتال ڈاکٹر منہاج راجہ نے کہا ہے کہ رپورٹ کے مطابق شہباز گل بچپن سے استھما کے مریض ہیں اور اب ان کی حالت خراب ہوئی ہے۔
ان کے مطابق ’کرانک بیماری میں ایسی حالت تب ہونے کا امکان ہوتا ہے جب مریض کسی بھی وجہ سے باقاعدگی سے دوا نہ لے سکے۔ ایسا وہ خود کرتا ہے یا زبردستی کروایا جاتا ہے، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘
’تاہم اس وقت بطور ایک ڈاکٹر یہی بہترین ہو گا انہیں انڈر آبزرویشن رکھا جائے۔‘
ڈاکٹر منہاج نے کہا کہ 'بطور ڈاکٹر میں انہیں شک کا فائدہ دیتے ہوئے انہیں مکمل طور پر صحتیاب قرار نہیں دونگا۔ تاہم ان کی زندگی کو خطرہ نہیں ہے، کم از کم اس رپورٹ سے ایسا کچھ ظاہر نہیں ہوتا۔‘

،تصویر کا ذریعہSESSION COURT

،تصویر کا ذریعہ@Imrankhan/Facebook
عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ ریفرنس میں درخواست گزار اور مسلم لیگ ن کے رہنما محسن نواز رانجھا کا کہنا ہے کہ اب عمران خان دیکھیں گے کہ تکنیکی بنیادوں پر نااہل کیسے ہوتے ہیں۔
جمعرات کو الیکشن کمیشن میں عمران خان کے خلاف توشہ ریفرنس کی ابتدائی سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب عمران خان کا رسیدیں نکالنے کا وقت آ گیا ہے، وہ جو مخالفین کو رسیدیں نکالنے کا کہتے تھے آج ان کی باری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے دوست ممالک سے ملنے والے بیش قیمت تحائف کی مالیت کم ظاہر کر کے سستے میں خریدے اور مہنگے داموں فروخت کر کے نہ صرف ایک گری ہوئی حرکت کی بلکہ اپنے گوشواروں میں بھی اسے ظاہر نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنے دورے حکومت کے دوران توشہ خانہ ریفرنس میں ملکی سلامتی کو خطرے کے بیانیے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ وہ مجھے ذرا بتائیں کہ ملکی سلامتی کو کیا خطرہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان عوام کو ریاست مدینہ، خلفائے راشدین کی مثالیں دیتے ہیں اور خود چوری کرتے اور جھوٹا حلف اٹھاتے ہیں۔‘
محسن شاہنوازرانجھا کا کہنا تھا اگر نوازشریف جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو سکتے ہیں تو عمران خان کو بھی پیش ہونا پڑے گا۔ عمران خان میں ہمت ہے تو اگلی سماعت پر الیکشن کمیشن آئیں۔
انھوں نے جھوٹا حلف نامہ دیا ہے اور اس پر تکنیکی بنیاد کی ضرورت ہی نہیں پڑنی یہ ویسے ہی فارغ ہو جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس پاکستان کے قرضہ پروگرام کے ساتویں اور آٹھویں نظر ثانی جائزے کے لیے 29 اگست کو منعقد ہو گا، جس میں پاکستان کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ کی منظوری کی توقع ہے۔
پاکستان نے اس پروگرام کی بحالی کے لیے اظہار آمادگی کی دستاویز پر دستخط کر کے آئی ایم ایف کو بھیج دی ہیں۔
پاکستان کو اس ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے منظوری کے بعد 1.7 ارب ڈالر قرض کی قسط ملے گی۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ وسط جولائی میں طے پا گیا تھا۔
پاکستان نے آئی ایم ایف شرائط کے تحت پہلے ہی تیل و بجلی پر سبسڈی کے خاتمے کے بعد تیل مصنوعات پر پٹرولیم لیوی لگا دی ہے جسے بتدریج بڑھا کر ایک لیٹر پر 50 روپے تک کیا جائے گا۔