نیوٹرلز نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان کی گارنٹی دی تھی: عمران خان
سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں جب چیف الیکشن کمشنر کے نام پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک ہوا تو نیوٹرلز نے سکندر سلطان کی گارنٹی دی تھی۔ ’اسے تسلیم کرنا ہماری بڑی حماقت تھی۔‘
لائیو کوریج
وزیرِ اعظم شہباز شریف بلوچستان کے ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے
،تصویر کا ذریعہBalochistan Government
پاکستان
کے وزیر اعظم شہباز شریف بلوچستان کے ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔
وزیراعظم
کے کوئٹہ پہچنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو صوبائی وزراء اور اراکین
صوبائی اسمبلی نے استقبال کیا۔
وزیر
اعظم شہباز شریف کو بلوچستان میں مون سون کی حالیہ بارشوں کے بعد سیلاب زدہ علاقوں
میں جاری امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی طور پر بریفنگ دی گئی۔
جبکہ
وزیرِ اعظم خشنوب، چمن اور قلع سیف اللہ میں سیلاب متاثرین کے لیے قائم خیمہ بستی
کا دورہ بھی کریں گے۔
وزیر
اعظم کے ہمراہ وفاقی وزرا سردار اسرار ترین، مریم اورنگزیب، مولانا عبدالواسع،
نوابزادہ شاہزین بگٹی، وزیرِ مملکت محمد ہاشم نوتیزئی، رکنِ قومی اسمبلی صلاح الدین
ایوبی اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز بھی اس دورے میں ہمراہ
ہیں۔
،تصویر کا ذریعہBalochistan Government
بریکنگ, پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے پانچ پیسے کی کمی، ڈیزل مزید مہنگا ہو گیا
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک ٹویٹ میں اعلان کیا ہے کہ حکومت پیٹرول کی قیمت میں تین روپے پانچ پیسے کمی کر رہی ہے لیکن ساتھ ہی ڈیزل کی قیمت میں آٹھ روپے 95 پیسے کا اضافہ بھی کیا جا رہا ہے۔
یہ قیمتوں آج رات 12 بجے کے بعد لاگو ہو جائیں گی۔ اس پیٹرول کی قیمت 227 روپے 19 پیسے، جبکہ ڈیزل کی قیمت 244 روپے 95 پیسے ہو جائے گی۔
اوورسیز ووٹنگ کا نظام مشکوک اور متنازع، ای وی ایم صرف دو ممالک کا نظام ہے: الیکشن کمیشن کا وضاحتی بیان
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا نام لیے بغیرترجمان الیکشن کمیشن ہارون شنواری نے ٹوئٹر پرکمیشن پر کی جانے والی تنقید کا جواب دیاہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے چند فیصلوں اور واقعات کے حوالے سے گمراہ کن پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے جبکہ حقائق کچھ یوں ہیں۔
اوورسیز ووٹنگ
ترجمان کے مطابق اوورسیز ووٹنگ سے متعلق جو سسٹم نادرا نے بنایا تھا اس کی رپورٹ سپریم کورٹ کے آرڈر کے تحت الیکشن کمیشن پارلیمان میں جمع کرا چکا ہے مگر ابھی تک اس رپورٹ پر بحث کا آغاز ہی نہیں ہو سکا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اس رپورٹ پر تحریک انصاف کی حکومت نے ایک عالمی ہسپانوی فرم سے آڈٹ بھی کرایا، جس کے بعد اس فرم کے نمائندوں اور اس وقت کے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکریٹری نے یہ کہا کہ یہ بات واضح ہوگئی کہ نادرا نے جو سسٹم متعارف کرایا ہے اس کے تحت ووٹنگ مشکوک اور متنازع ہو گی۔
ترجمان نے وضاحت میں پوچھا کہ کیا الیکشن کمیشن کو ایسا سسٹم اختیار کرنا چاہیے جس کے بارے میں بین الاقوامی ماہرین اور خود حکومتی نمائندے کی یہ رائے ہوکہ وہ الیکشن متنازع کر دے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ای وی ایم مشین
ترجمان کے مطابق دنیا کے دو ہی ممالک ایسے ہیں جہاں ای وی ایم کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک انڈیا اور دوسرا برازیل۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نے اس سسٹم کو اختیار کرنے میں 22 سے 25 سال صرف کیے ہیں جبکہ انڈین ریاستوں میں مختلف مراحل میں انتخابات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
ترجمان کے مطابق ای وی ایم سے متعلق جب الیکشن کمیشن نے برازیلین سفیر سے ملاقات کی توانھوں نے ایک قابل غور جملہ کہا کہ اگر ای وی ایم کا سسٹم اکتوبر 2023 کے الیکشن تک پاکستان میں استعمال ہونا ایک معجزہ ہوگا۔
سینیٹ کے الیکشن میں سیکرٹ بیلٹنگ کا معاملہ
الیکشن کمیشن نے سینیٹ کے الیکشن میں سیکرٹ بیلٹنگ، یوسف رضا گیلانی کے کامیابی کے نوٹیفکیشن کو روکنے سے انکار اور علی موسی گیلانی کے خلاف کارروائی سے متعلق بھی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ سب قانون کے تحت کیا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
الیکشن کمشین کی ضمنی انتخابات سے متعلق وضاحت
الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق پنجاب میں 20 نشستوں پرانتخابات شفاف کرائے اور حکومت وقت کو کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کرنے دی۔ ترجمان کے مطابق جتنے بھی ضمنی الیکشن ہوئے ہیں ان میں 80 فیصد کامیاب امیدوار حکومتی جماعت سے نہ تھے۔
ترجمان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ الیکشن کمیشن نے کسی بھی حکومت کو الیکشن کے عمل میں مداخلت کی اجازت نہیں دی۔
ڈسکہ میں ری پول کا آرڈر کیوں دیا؟
الیکشن کمیشن کے مطابق ری پول کا آرڈ اس لیے دیا کہ وہاں جو کھلی دھاندلی کی گئی اس کی مثال نہیں ملتی۔ ترجمان کے مطابق اعلی سطح پر کی جانے والی انکوائریاں یہ بات ثابت کر چکی ہیں۔
اغوا ہونے والے پریزائیڈنگ افسران، پولیس اور انتظامیہ جو الیکشن کے عمل میں شامل تھے انھوں نے اپنے بیان میں دھاندلی کے حوالے سے حیران کن حقائق کا انکشاف کیا۔
ترجمان نے سوال اٹھایا کہ 'کیا اب بھی ری پول کا آرڈر نہ دیا جاتا'؟
پنجاب میں احساس پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ڈاکٹر ثاینہ نشتر اور سابق صوبائی وزیر ہاشم جوان بخت کی ملاقات ہوئی، جس میں عمران خان نے پنجاب میں احساس پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔
عمران خان نے احساس پروگرام پر عملدرآمد کے لیے ڈاکٹر ثاینہ نشتر کو ذمہ داری دے دی۔ اس سے قبل ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس پروگرام پر عملدرآمد کے حوالے سے عمران خان کو بریفنگ دی۔
عمران خان نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ سابق پنجاب حکومت نے غریب خاندانوں کی مدد کے لیے ہمارے اس شاندار پروگرام کو روکا۔ ان کے مطابق سابق پنجاب حکومت نے غریب اورنادار افراد کی فلاح وبہبود کے اس اہم پروگرام کو نظر انداز کیا۔
عمران خان نے کہا کہ احساس پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے کیونکہ اس پروگرام کو نا صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی ملی ہے۔
تحریک انصاف کی خالی کردہ نشستوں پر ضمنی انتخابات میں مشترکہ امیدوار لانے کا فیصلہ ہو چکا ہے: سربراہ پی ڈی ایم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم جو اس وقت وفاق میں حکومت میں ہے کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے گیارہ ارکان کے استعفوں کے بعد خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات میں مشترکہ امیدوار سامنے لانے کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ضمنی انتخاب سے متعلق حکمران اتحاد نے یہ اصولی طور پر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ جو امیدوار سنہ 2018 کے انتخاب میں رنر اپ تھا وہی ہمارا مشترکہ امیدوار ہو گا۔
خیال رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کے جن 11 ارکان کے استعفے منظور کیے تھے، الیکشن کمیشن نے انھیں پہلے ہی ڈی نویٹفائی کر دیا ہے، جس کے بعد اب ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔
تاجروں کی تنظیم کا معاشی بحران پر آل پارٹیز معیشت کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہCourtesy NPC
پاکستان کے معاشی بحران کے خاتمے کے لیے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے چھ اگست کو آل پارٹیز استحکام معیشت کانفرنس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔
کانفرنس میں ڈالر کی اڑان کو روکنے اور معاشی استحکام کے لیے دس سالہ میثاق معیشت پیش کیا جائے گا۔ کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری شکیل منیر نے چیمبر کے سابق صدور خالد اقبال ملک، زبیر احمد ملک، محمد اعجاز عباسی، شیخ عامر وحید، شعبان خالد اور احمد وحید کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر انھوں نے کہا کہ موجودہ معاشی بحران کی وجہ سے اسٹیٹ بینک نے لیٹر آف کریڈٹ پر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس لیے تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر موجودہ بدترین معاشی بحران کو درست نہ کیا تو ملک کا استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ استحکام معیشت کانفرنس کے ذریعے تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت میں ایک پیج پر لانے کی کوشش کریں گے۔
عمران خان سے حکومت نہ لی جاتی تو ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا: مولانا فضل الرحمان
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اتوار کو کہا ہے کہ جس دلدل میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے ہمیں پھنسایا ہے اس سے نکلنا آسان نہیں ہے۔
ان کے مطابق خود تحریک انصاف والے کہہ چکے ہیں کہ ہم نے ملک کو گروی رکھ لیا ہے۔ ان کے مطابق اگر عمران خان کی حکومت نہ جاتی تو پھر آج ملک معاشی لحاظ سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق منگل اور بُدھ کو حکمران اتحاد میں شامل تمام جماعتیں بریفنگ دیں گی۔ انھوں نے کہا کہ سب کو مل کر ملک کو آگے بڑھانے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔
ان کے مطابق ابھی بھی امریکہ اور آئی ایم ایف ہماری معیشت کے ستون ہیں مگر مستقبل کے لیے ہمارا منصوبہ چین کے ساتھ معاشی تعلقات کو استوار کرنا ہے۔ ان کے مطابق سی پیک اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کے مطابق سی پیک محض صرف ایک سڑک کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل معاشی پلان ہے، جس میں توانائی کے منصوبے اور صنعتیں شامل ہیں۔ ان کے مطابق جوہم نئے معاشی ستون بنا رہے تھے اب وہ خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
انھوں نے گوادر اور چابہار بندرگاہوں کا نام لیا جن پرکام آگے نہیں بڑھ سکا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان کو ابراج سے اس وجہ سے ہی پیسے دلائے گئے تاکہ سی پیک کو ناکام بنایا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو ووٹ دینا ملک کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
بارشوں میں گورننس بھی بہہ جاتی ہے: وسعت اللہ خان کا کالم
عمران خان کی وزیراعلیٰ پنجاب کے آفس آمد، سیلاب متاثرین کی ہر ممکنہ مدد کی ہدایت
،تصویر کا ذریعہCourtesy PTI
سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب آفس کا دورہ کیا اور وہاں نئے منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے وزیر اعلی چودھری پرویز الٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی کی ملاقات
باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی صورتحال اور پنجاب کے انتظامی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔
جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس ملاقات میں صوبے کے عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا اور عمران خان نے وزیراعلیٰ کو پنجاب کے عوام کو ریلیف دینے کے لیے تمام تر کاوشیں بروئے کار لانے کی ہدایت بھی کی۔
عمران خان نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کی جائے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے عمران خان کو بریفنگ دی کہ متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے انتظامیہ اور متعلقہ ادارے متحرک ہیں اور مرنے والے افراد کے لواحقین کو آٹھ آٹھ لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عمران خان نے پنجاب سے غیر آئینی و غیر قانونی حکومت کے مکمل خاتمے پر چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کو مبارکباد دی۔
چودھری پرویزالٰہی نے سیاسی وفاداریاں بدلنے والوں کے خلاف بھرپور مؤقف پر کھڑا رہنے پر عمران خان کی سیاسی بصیرت کو سراہا۔
بریکنگ, پیٹرولیم مصنوعات کی ادائیگیوں کے باعث روپے کی قدر پر دباؤ پڑا: مفتاح اسماعیل
،تصویر کا ذریعہ@RadioPakistan
پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے
کہا ہے کہ 3.8 ارب ڈالر کی پیٹرولیم مصنوعات خریدی گئی تھیں جس کی ادائیگیاں جولائی
میں کی گئیں جس کے باعث روپے کے اوپر بہت دباؤ آیا کیوں کہ ادائیگیاں زیادہ ہوتی
تھیں جبکہ ڈالر کی آمد کم تھی۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں ماہ ہمیں 80 کروڑ ڈالر اسٹیٹ بینک کو زیادہ
دینے پڑے کیوں کہ درآمدات، ادائیگیاں، ترسیلات زر ملا کر ہمیں 800 ملین ڈالر کا
خسارہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ جولائی میں درآمدات کی
رسائی کم ہے لہٰذا اس کی ادائیگیاں بھی کم ہوں گی چنانچہ ہم دیکھیں گے کہ اگست سے یہ
دباؤ ختم ہوجائے گا اور جو پانچ ارب ڈالر کی درآمد ہوئی ہے وہ جون کے 7.7 ارب ڈالر
کے مقابلے 2.7 ارب ڈالر کم ہے جس سے ہمیں فائدہ ہو گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ
کمیٹی گاڑیوں، موبائل فونز اور گھریلو برقی آلات کی درآمد سے پابندی ہٹانے کی
منظوری دے چکی ہے جس کے بعد اسے وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری کے لیے بھیجا جائے
گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے نہ
صرف معاشی طور پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا بلکہ ایک اچھی معیشت دینے کا بھی
سوچا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ سال ساڑھے 17 ارب ڈالر
کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا جس کی وجہ سے ہم یہاں پہنچے، ہم نے عزم کیا ہے کہ ہم ایک
آدھ سال میں اسے سرپلس میں بدلنے کی کوشش کریں گے جس کے لیے فی الفور درآمد کم
کرنے کی کوشش کی جس میں ہم کامیاب رہے اور اب ایکسپورٹ بڑھانے کی کوششیں کریں گے لیکن
دیوالیہ ہونے کا بڑا خطرہ دور ہو گیا ہے۔‘
انھوں
نے پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اقتدار سنبھالنے کے تین ماہ میں
ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ جس سے روپے کی قدر کم ہو یا ملک دیوالیہ ہونے کی نہج
پر جائے، جو شخص اس نہج پر لے کر آیا تھا وہ تو عمران خان اور پی ٹی آئی ہے۔
اعلیٰ عدالتی عہدوں پر تقرریاں میرٹ کی بنیاد پر اور آئین کے آرٹیکل 175 اور 177 کی روشنی میں ہونی چاہئیں: اٹارنی جنرل کا خط میں موقف
،تصویر کا ذریعہwww.agfp.gov.pk
پاکستان
کے اٹارنی جنرل آف پاکستان (اے جی پی) اشتر اوصاف نے ایک خط کے ذریعے کہا ہے کہ
ملک میں اعلیٰ عدالتی عہدوں پر تقرریاں میرٹ کی بنیاد پر اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 175 اور 177 کی روشنی
میں ہونی چاہئیں۔
جوڈیشل
کمیشن کے گذشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں رات گئے جاری کیے گئے خط میں
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جوڈیشل کمیشن) کی حالیہ کارروائی
سے پیدا ہونے والے تنازعے سے تشویش ہوئی۔ میرا مستقل مؤقف یہ رہا ہے کہ اعلیٰ
عدالتی عہدوں پر تقرریاں میرٹ کی بنیاد پر اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 175 اور 177 کی روشنی
میں ہونی چاہئیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسی تقرریوں کے لیے مطلوبہ معیار ترتیب دیا
جائے۔ یہ نہ صرف اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تقرریاں اور ترقیاں عوامی مفاد میں کی
جائیں، بلکہ یہ بھی کہ جوڈیشل کمیشن کے اراکین تعاون اور باہمی خیر سگالی کے ماحول
میں تقرریوں کی تصدیق کر سکیں۔‘
ان انھوں
نے جسٹس طارق مسعود کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں نے یہی سفارش جوڈیشل کمیشن کی 28 جولائی 2022 کی
کارروائی کے دوران ممبران کو دی تھی۔ میں جسٹس سردار طارق مسعود کی محنت کو سراہتے
اور ان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے میں واضح طور پر ان سے متفق ہوں۔
جوڈیشل
کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کے دیگر اراکین اور میڈیا کو بھیجے گئے خط میں اٹارنی
جنرل نے لکھا کہ انھوں نے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی جانب سے ترقی کے
لیے تجویز کردہ ناموں کے میرٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم انھوں نے واضح کیا
کہ سپریم کورٹ میں ترقی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا
نام قابل غور ہے۔
انھوں
نے واضح کیا کہ اجلاس میں ان کا مؤقف یہ تھا کہ امیدواروں کا نام مسترد کرنے یا
تصدیق کرنے کا عمل پہلے سے طے شدہ اصولوں کے تحت وضع کیا جانا چاہیے اور کسی بھی
نئے امیدوار کے ڈیٹا کا اچھی طرح سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انھوں
نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے اجلاس کی کارروائی کے حوالے سے پیش کردہ نقطہ
نظر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’کاش یہ اجلاس خوش اسلوبی اور غیر مبہم نتائج کے
ساتھ اختتام پذیر ہوتا جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اپنے ریمارکس مکمل کرنے کا
موقع ملتا۔‘
اٹارنی
جنرل نے لکھا کہ ’یہ وہ اہم وجہ تھی جس کے سبب میں نے مشورہ دیا کہ اس طرح کے معیار
کی منظوری تک اجلاس کو مؤخر کردیا جائے۔‘
انھوں
نے لکھا کہ ’سپریم کورٹ آف پاکستان میں کوئی بھی تعیناتی ایک مقدس امانت ہے جو جوڈیشل
کمیشن کے ارکان کے پاس ہے، اس اعتماد کو پورا کرنے کے لیے اراکین کو ایک دوسرے کو
اپنے خیالات کا مکمل اور بلا روک ٹوک اظہار کا متحمل ہونا چاہیے‘۔
خط کے
اختتام میں انھوں نے لکھا کہ ’میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ جوڈیشل کمیشن کی
کارروائی اب اس طرح سخت انداز میں نہیں ہوسکتی، ہم ان عارضی عہدوں کے پابند ہیں
جہاں ذاتی تلخ تجربات سے بڑھ کر ہمارا فرض اس ملک کی خدمت کرنا ہے‘۔
ان کا
مزید کہنا تھا کہ ’انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ممتاز
ترین ججز کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس انداز سے ترقی دی جائے جو میرٹ اور طے
شدہ طریقہ کار پر مبنی ہو۔‘
اجلاس
میں چیف جسٹس کی جانب سے سپریم کورٹ میں ترقی کے لیے پیش کیے گئے نامزد افراد کے
بارے میں رائے کو مؤخر کر دیا گیا تھا، اس حوالے سے سپریم کورٹ کی ایک پریس ریلیز
میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کے اراکین نے کہا کہ نامزد افراد کو 5 میں
سے 4 کی اکثریت نے مسترد کر دیا تھا۔
پاکستان میں مہنگائی سے پریشان عوام: ’اب ہم ایک وقت کا کھانا ہی کھا سکتے ہیں‘
بریکنگ, پی ٹی آئی امیدوار واثق قیوم بلا مقابلہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہو گئے
،تصویر کا ذریعہfacebook/wasiqayyumabbasi
ن لیگ اور اتحادیوں کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار واثق قیوم بلامقابلہ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر منتخب ہو گئے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز سابقہ ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تھی جس کے بعد ڈپٹی سپیکر کی نشست خالی ہوئی تھی۔
پی ٹی آئی کے رہنما راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے کاغذات نامزدگی وصول کیے لیکن 5 بجے تک کاغذات جمع کرانے کوئی نہیں آیا جس کے بعد واثق قیوم کی کامیابی کا اعلان اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے علی حیدر گیلانی کو امیدوار نامزد کیا تھا تاہم ن لیگ اور ان کے اتحادیوں نے ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔
عدلیہ کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ایک فریق کو فوری ریلیف تو دیا لیکن اسی سے ریاستیں ٹوٹ جاتی ہیں: فضل الرحمان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک کی اشرافیہ کے گھروں سے پی ٹی آئی کو حمایت ملی ہے۔
فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’ان کو اقتدار سے نکالنا کافی نہیں ہے ابھی ان کے نام و نشان اور ان کے قدموں کے نشان کو بھی مٹانا ہے۔
’لہٰذا ہتھیار نہیں ڈالنے، میدان جنگ میں رہنا ہے سیاسی جنگ لڑنی ہے آئین کی جنگ لڑنی ہے، لیکن پبلک کو بتانا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ عدلیہ کسی بھی ریاست کے لیے ایک ناگزیر ادارہ ہوا کرتا ہے، اور ان کی عزت و توقیر ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
’لیکن اگر ایک فرد اپنی ذات میں جج کے عہدے پر فائض ہو کر اپنے رویہ سے متنازع ہو جاتا ہے، اور اپنے اوپر فرض کر لیتا ہے کہ میں نے ایک فریق کو تحفظ دینا ہے اور اس کے لیے میں نے عدلیہ کو استعمال کرنا ہے تو میں انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ اس کے بڑے دور رس نتائج ہوتے ہیں۔
’آپ نے فوری طور پر ایک فریق کو فوری ریلیف تو فراہم کر دیا لیکن اسی سے ریاستیں ٹوٹ جاتی ہیں۔‘
حکومت نہ صرف مجرموں پر مشتمل ہے بلکہ نااہل بھی ہے۔۔۔ اس بحران کا ذمہ دار کون ہے؟: عمران خان
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ایک بار پھر اتحادی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بحران کا ذمہ دار کون ہے؟
عمران خان کی جانب سے کی گئی ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’آٹھ مارچ کو جب تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تو اس وقت ڈالر 178 کا تھا اور آج 250 کا ہو گیا ہے۔‘
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’8 مارچ کو ملک میں مہنگائی کی شرح 16.5 فیصد تھی جو آج 38 فیصد ہو گئی ہے۔‘
عمران خان نے لکھا کہ ’یہ امپورٹڈ حکومت نہ صرف مجرموں پر مشتمل ہے بلکہ مکمل نااہل بھی ہے، سوال یہ ہے کہ اس بحران کا ذمہ دار کون ہے۔‘
بریکنگ, پی ٹی آئی الیکشن کمشنر، ممبران کے خلاف جوڈیشل کمیشن میں ریفرنس بھیجنے پر غور کر رہی ہے: فواد چوہدری
،تصویر کا ذریعہMOB
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اور حکومتی اتحاد کے درمیان ملاقات اعلٰی عدلیہ کے ضابطہ اخلاق کے خلاف اور اس حوالے سے تحریکِ انصاف اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کر رہی ہے تاکہ الیکشن کمشنر اور ممبران کے خلاف ریفرنس جوڈیشل کمیشن کے سامنے لے جائی جا سکے۔
فواد چوہدری نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایک ملاقات ہوئی ہے کل حکمران اتحاد کے لوگوں کی الیکشن کمیشن کے ساتھ، اور اس میں پی ٹی آئی کے فنڈنگ کیس کے بارے میں بات ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کے ممبران ہائی کورٹ کے جج کے برابر تنخواہ لیتے ہیں، جبکہ الیکشن کمشنر سپریم کورٹ کے جج کے برابر تنخواہ لیتے ہیں۔
’یہ انھوں نے مانا ہے کہ انھوں نے پی ٹی آئی کا فنڈنگ کیس کے بارے میں بات کی ہے۔
ان کا ضابطہ اخلاق وہی ہوتا ہے جو اعلٰی عدلیہ کا ہوتا ہے۔
’کبھی بھی کوئی جج کسی زیرِ التوا کیس میں فریق سے ملاقات نہیں کرتا، یہ ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔‘
فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ’کبھی بھی کوئی اعلٰی عدالت کا جج اپنے زیرِ التوا کیس کے اوپر ایک فریق سے ملاقات نہیں کرتا، اس سے بات نہیں کرتا۔
اس حوالے سے قانونی ٹیم سے مشاورت کر رہے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کے خلاف ریفرنس بھیجا جائے اور انھیں اپنے عہدوں سے برخواست کیا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس سے پہلے بھی الیکشن کمشنر نے ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس میں کہا تھا کہ ہم تین ماہ میں الیکشن نہیں کروا سکتے، موجودہ بحران ان کے اس بیان کی وجہ سے ہے۔‘
وزیرِ اعظم شہباز شریف سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے لیے جھل مگسی روانہ
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے لیے جھل مگسی روانہ ہو گئے ہیں۔
وزیرِ اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے بتایا کہ اس سے قبل وہ جیکب آباد پہنچے تھے جہاں انھوں نے این ڈی ایم اے کے حکام اور چیف سیکرٹری بلوچستان اور لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز سے بریفنگ لی تھی۔
اس سے قبل وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ انھوں نے سندھ، بلوچستان، پنجاب سمیت بارش اور سیلاب سے متاثرہ دیگر علاقوں کا دورہ کرنا تھا وزیراعظم نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کے علاوہ ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات کا جائزہ لینا تھا تاہم موسم کی شدید خرابی کے سبب وہ بلوچستان روانہ نہیں ہو سکے۔
انھوں نے دو روز قبل سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، ریلیف اور بحالی سے متعلق اقدامات کے لیے تفصیلی اجلاس منعقد کیا تھا جس میں متاثرین میں تقسیم کی جانے والی مالی امداد کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔
وزیرِ اعظم کی ہدایت پر بارشوں اور سیلاب سے مارے جانے والے افراد کے اہلِ خانہ کے لیے 10 لاکھ کی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
وزیرِ اعظم نے زخمیوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں کچے اور پکے متاثرہ گھروں کی امداد کو یکساں کرنے اور بڑھانے کی ہدایات جاری کی تھیں۔
وزیراعظم نے متاثرہ اور زخمیوں کی امداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
اس کے ساتھ ساتھ جزوی طور پر متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ اور مکمل طور پر متاثرہ گھروں کے لیے امداد 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔
تحریک انصاف پہلے پنجاب، کے پی کی اسمبلیاں تحلیل کرے: رانا ثنا اللہ
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو خیبرپختونخوا اور پنجاب میں اسمبلیاں تحلیل کرنے کے حوالے سے پہل کرنی چاہیے۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ حکومت ملک میں عام انتخابات کرانے کے لئے پُرعزم ہے۔‘
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’یہ فیصلہ نواز شریف نے لندن میں کیا۔‘
وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’متعلقہ محکمے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے غیر ملکی فنڈنگ کیس کا بلا تاخیر فیصلہ کریں۔ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ گذشتہ آٹھ سال سے نہیں ہوا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کی قیادت کو مختلف ذرائع سے فنڈنگ ہوئی تھی اور اس حوالے سے تمام چیزیں بھی سامنے آ چکی ہیں لیکن اس کے باوجود ہم گذشتہ آٹھ سال سے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘
ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام
پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد منظور ہوگئی ہے۔
عدم اعتماد کی تحریک کے عمل کے دوران ووٹنگ میں دوست مزاری کے خلاف 186 ووٹ پڑے۔
پنجاب اسمبلی کے سیکریٹریٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ڈپٹی سپیکر کے لیے نامزد امیدوار اپنے کاغذات اسمبلی سیکرٹری آفس میں جمع کرائیں گے۔ نئے ڈپٹی سپیکر کے لیے خفیہ رائے شماری ہو گی۔‘
،تصویر کا ذریعہDGPR
وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی پر تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’سیاسی وفاداریاں بیچنے والوں کے لیے کھلا پیغام ہے۔
’سابق ڈپٹی سپیکر نے جمہوری اقدار اور ایوان کے اعتماد کو پامال کیا۔ جس نے ایوان کی بے توقیری کی آج ایوان نے اسے آئینہ دکھا دیا۔ آج ایک بار پھر ثابت ہوگیا اب صرف عمران خان کا بیانیہ ہی چلے گا، اپوزیشن کی ساکھ عوام میں ہے نہ اس ایوان میں۔‘
فارن فنڈنگ لینے والا ملک کی سکیورٹی کا ٹھیکیدار نہ بنے: مریم اورنگزیب
،تصویر کا ذریعہAPP
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک کا سب سے بڑا سکیورٹی تھریٹ عمران خان ہے‘ اور ’امریکہ سے فارن فنڈنگ لینے والا ملک کی سکیورٹی کا ٹھیکیدار نہ بنے۔‘
ایک بیان میں ان کا دعویٰ تھا کہ عمران خان نے ’فارن فنڈنگ لے کر کشمیر کا سودا کیا۔ اقتدار میں رہ کر ملک کو کمزور کیا اور فارن فنڈرز کو خوش کیا۔‘
’عمران خان اپنا منھ بند کریں۔ انھوں نے ملک کی معیشت اور سکیورٹی کو کمزور کیا۔ وہ خیرات کے پیسوں کو پارٹی سیاست کے لیے استعمال کرنے کا جواب دیں۔ ملک کی معیشت کے ٹھیکے دار نہ بنیں۔‘
’چار سال جس شخص کو دنیا میں کسی نے منھ نہیں لگایا، کال تک نہ کی اور نہ اس کی کال اٹھائی، اس کے منھ سے یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے ملک اور اس کی معیشت کو کمزور کر کے، عوام کو بھوکا مار کر، میڈیا کی آواز بند کر کے فارن فنڈنگ والوں کے مطالبے پورے کیے۔‘