نیوٹرلز نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان کی گارنٹی دی تھی: عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں جب چیف الیکشن کمشنر کے نام پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک ہوا تو نیوٹرلز نے سکندر سلطان کی گارنٹی دی تھی۔ ’اسے تسلیم کرنا ہماری بڑی حماقت تھی۔‘

لائیو کوریج

  1. لاپتہ ہیلی کاپٹر کی تلاش ابھی جاری ہے: مقامی پولیس

    لسبیلہ کے ایس ایس پی دوستین دشتی نے کہا ہے کہ اس ہیلی کاپٹر کی تلاش ابھی بھی جاری ہے جس میں کوئٹہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی خان سمیت چھ فوجی اہلکار سوار تھے۔

    انھوں نے کہا کہ زمینی سرچ کے علاوہ اس علاقے میں اس سرچ آپریشن کے لیے ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔

    اپنے ایک ٹویٹ میں بلوچستان حکومت کی ترجمان فرح عظیم نے کہا کہ وہ اس ہیلی کاپٹر کی بحفاظت بازیابی سے متعلق اچھی خبر کے لیے دعاگو ہیں۔

  2. لسبیلہ کے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ لاپتہ ہیلی کاپٹر کو تلاش کریں: سابق وزیراعلیٰ بلوچستان

    بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے کہا ہے کہ لسبیلہ کے مقامی لوگوں سے یہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس ہیلی کاپٹر کی تلاش کریں جس میں کورکمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی خان سمیت چھ فوجی اہلکار سوار تھے۔

    ضلع لسبیلہ جام کمال خان کا آبائی ضلع ہے اور وہ اسی ضلع سے رکن بلوچستان اسمبلی بھی ہیں۔

    ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی خان کی ایک بچے کو گود اٹھانے والی تصویر پر مشتمل ایک ٹویٹ کو ٹیگ کرتے ہوئے جام کمال نے کہا کہ ’تمام مقامی افراد کو کہا گیا ہے کہ وہ لسبیلہ میں ساکران، سسی پنوں اور پبنی کے علاقے میں ہیلی کاپٹر کو تلاش کریں‘۔

    دریں اثنا لسبیلہ میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ساکران سمیت دیگر علاقوں میں لاپتہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کو تلاش کیا جارہاہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امداد فراہم کرنے والا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہو گیا ہے۔

    لاپتہ ہونے والے ہیلی کاپٹر نے کہاں سے اڑان بھری تھی؟ لاپتہ ہونے والا ہیلی کاپٹر جس میں کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی خان اور دیگر فوجی حکام سوار تھے، ضلع لسبیلہ کے ہیڈکوارٹر اوتھل سے اڑان بھری تھی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    خیال رہے کہ ضلع لسبیلہ حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے بُری طرح سے متائثر ہوا ہے۔

    ضلع کے مخلتف علاقوں میں سیلابی پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں جہاں انتظامیہ، پاکستان فوج، ایف سی اور نیوی کے اہلکار ریلیف کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

    لسبیلہ میں انتظامیہ کے سینیئر اہلکار نے بتایا کہ پیر کولیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی خود وہاں ریلیف کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے پہنچے تھے تاکہ ان سرگرمیوں میں تیزی لائی جاسکے۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ کورکمانڈر اوردیگر فوجی اہلکار شام پانچ بجے کے قریب اوتھل سے ہیلی کاپٹر میں روانہ ہوئے تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ اوتھل سے کراچی جاتے ہوئے یہ ہیلی کاپٹر لاپتہ ہوا۔

    انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کی گمشدگی کی اطلاع ملنے کے ساتھ ہی جہاں دیگر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے تلاش کا سلسلہ شروع کی وہیں پولیس کو بھی موبلائز کیا گیا لیکن رات گئے تک ہیلی کاپٹر کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔

    ان کا کہنا تھا کہ دیگر مشکلات کے علاوہ موبائل فون نیٹ ورک کے مسائل کی وجہ سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

    لسبیلہ کہاں واقع ہے؟

    لسبیلہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب میں اندازاً سات سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ جنوب میں لسبیلہ کی سرحد حب سے لگتی ہے جو کہ بلوچستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے جبکہ حب پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی سے متصل ہے۔

    کراچی کے علاوہ اس ضلع کی سرحدیں خضداراور آواران سے بھی لگتی ہیں اور خضدار اور آواران کے ساتھ اس کے سرحدی علاقوں میں سنگلاخ پہاڑی سلسلے بھی موجود ہیں۔

    آواران کا شمار ان اضلاع میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متائثر ہیں۔ خضدار کے پہاڑی علاقوں سے بارش کا پانی لسبیلہ میں داخل ہوتا ہے اور بعض اوقات وہاں سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔

    کراچی اور بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں کے درمیان آمدورفت اسی ضلع سے ہو تی ہے۔ قیام پاکستان سے قبل اس ضلع کو ریاست کی حیثیت حاصل تھی اور جام کمال خان کے آباﺅ اجداد اس کے سربراہ رہے۔

  3. ہیلی کاپٹر کی گمشدگی کی اطلاع پریشان کن: عمران خان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. ’ پولیس اور ایف سی کا مشترکہ ریسکیو آپریشن پانچ گھنٹے سے جاری‘

    بلوچستان کے ضلع خضدار کی پولیس کے ڈی آئی جی پرویز عمرانی کا کہنا ہے کہ پولیس کی ٹیمیں بھی ہیلی کاپٹر تلاش کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ علاقہ پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے اور تلاش کے عمل میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق پرویز عمرانی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی ٹیمیں موٹرسائیکلوں پر بھی دشوار گزار علاقوں میں تلاش میں مصروف ہیں اور پولیس اور ایف سی کا مشترکہ ریسکیو آپریشن پانچ گھنٹوں سے جاری ہے

  5. وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہیلی کاپٹر کی تلاش میں مکمل تعاون کی ہدایت

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے اوتھل سے کراچی جاتے ہوئے لاپتہ ہونے والے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کی تلاش کے لیے لسبیلہ کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو تمام ذرائع اور وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ انتظامیہ اور پولیس ریسکیو ٹیموں کو بھرپور معاونت فراہم کریں۔

  6. ہیلی کاپٹر کی گمشدگی تشویشناک ہے، قوم وطن کے بیٹوں کی بخیریت واپسی کے لیے دعاگو ہے: شہباز شریف

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے بلوچستان سے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’پوری قوم اللہ تعالیٰ کے حضور سیلاب متاثرین کی مدد پر نکلنے والے وطن کے ان بیٹوں کی سلامتی، حفاظت اور بخیریت واپسی کے لیے دعا گو ہے۔‘

  7. بریکنگ, بلوچستان میں فوجی ہیلی کاپٹر لاپتہ، کور کمانڈر کوئٹہ سمیت اہم شخصیات سوار

    helo

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امداد فراہم کرنے والا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہو گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس ہیلی کاپٹر میں چھ افراد سوار تھے جن میں کمانڈر 12 کور بھی شامل تھے اور اس ہیلی کاپٹر کی تلاش کا آپریشن فی الحال جاری ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرول سے اس ہیلی کاپٹر کا رابطہ منقطع ہوا ہے، اور کور کمانڈر کوئٹہ اس دوارن بلوچستان میں سیلابی صورتحال کے بعد شروع کیے گئے ریلیف آپریشن کا معائنہ کر رہے تھے۔

    تفصیلات کے مطابق آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر پانچ بج کر 10 منٹ پر اتھل کے علاقے سے اڑا اور اس نے چھ بج کر پانچ منٹ پر کراچی پہنچنا تھا تاہم راستے میں اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہو گیا۔

  8. بریکنگ, پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ کل صبح 10 بجے سنایا جائے گا: الیکشن کمیشن

    ecp

    ،تصویر کا ذریعہECP

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریکِ انصاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ کل صبح 10 بجے سنانے کا اعلان کیا ہے۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس کیس پر فیصلہ 21 جون کو محفوظ کیا گیا تھا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل کرنے کا معاملہ الیکشن کمیشن میں کوئی سیاسی مخالف جماعت نہیں بلکہ تحریک انصاف کے اپنے بانی اراکین میں سے ایک اکبر ایس بابڑ سنہ 2014 میں لے کر آئے تھے۔ ان کی دائر کردہ درخواست پر اب تک 80 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں۔

    اکبر ایس بابر نے الزام عائد کیا گیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے علاوہ غیر ملکیوں سے بھی فنڈز حاصل کیے، جس کی پاکستانی قانون اجازت نہیں دیتا۔

    اس درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ میں جماعت کے لیے وہاں پر رہنے والے پاکستانیوں سے چندہ اکھٹے کرنے کی غرض سے لمیٹڈ لائبیلیٹیز کمپنیاں بنائی گئی تھیں جن میں آنے والا فنڈ ممنوعہ ذرائع سے حاصل کیا گیا۔

    یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے بھی ممنوعہ ذرائع سے پارٹی کو فنڈز ملے اور یہ رقم پاکستان تحریک انصاف میں کام کرنے والے کارکنوں کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی جبکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک سے بھی ہُنڈی کے ذریعے پارٹی کے فنڈ میں رقم بھجوائی گئی۔

  9. پرویز الٰہی کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اپنے گھر واپس آ جائیں: چوہدری شجاعت حسین

    pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم (ق) کے سربراہ و سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی سے کہا ہے کہ وہ اپنی رہائش گاہ واپس آجائیں جہاں ایک طرف ان کا کمرہ ہے اور دوسری جانب پرویز الٰہی کا۔

    اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ’سچ بولنا گناہ بنتا جا رہا ہے، غلیظ گالیاں دی جاتی ہیں، سچی زبان کو استعمال کرنا چاہیے، میرے بیٹوں کے متعلق بات کی گئی اور انھیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بیٹوں نے ہر موقع پر مجھ سے پوچھ کر کام کیا اور مجھے اپنے بیٹوں پر فخر ہے۔‘

    چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کو کیوں مداخلت کرنی پڑی؟ سیاستدانوں کا قصور ہے جس کی وجہ سے آرمی چیف کو مداخلت کرنی پڑی۔

    سابق صدر آصف زرداری سے ملاقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’سابق صدر خود میرے گھر تشریف لائے، ہم اللہ کے کرم سے سرخرو ہو گئے ہیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ق لیگ کہاں سے ٹوٹی ہے، کوئی نہیں ٹوٹی، ہوش کے ناخن لیں، اپنے خاندان اور گھر کا مذاق نہ بنائیں، انھوں نے پارٹی اور خاندان کو تقسیم کرنے کی سازش کی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ڈائیلاگ میں چند سیڑھیاں اترنی اور چڑھنی پڑیں گی، ڈائیلاگ کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ سب کو ہمارے خاندان کی فکر ہے۔

  10. بریکنگ, عمران خان کی جمعرات کو الیکشن کمیشن کے باہر پرامن احتجاج کی کال

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن کے عہدیداروں سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے ساتھ جمعرات کو الیکشن کمیشن کے باہر پرامن احتجاج کی کال دی ہے۔

    عمران خان نے پی ٹی آئی کے نیشنل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمشنر نے ای وی ایم کے نظام کو سبوتاژ کرنے کی پوری کوشش کی، کیونکہ دو مزید پارٹیوں نے اس سے اختلاف کیا۔

    انھوں نے سیاسی جماعتوں میں انتخابات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’جو دو پارٹیاں ہمارے سامنے ختم ہوئی ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان میں کوئی میرٹ نہیں ہے۔ پارٹی میں اگر الیکشن نہ ہوتا تو پارٹی کمزور ہو جاتی ہے۔‘

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان کی کوئی تیاری نہیں تھی معیشت کو مستحکم کرنے کی ان کا مقصد صرف این آر او لینا تھا۔

    ’کیا ضرورت تھی ان لوگوں کو جو دیکھ رہے تھے کہ سازش ہو رہی ہے اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ ہم کچھ نہیں کریں گے، آج وہ بھی ذمہ دار ہیں یہ جو ہو رہا ہے ملک کے ساتھ۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج اگر آرمی چیف امریکیوں کو فون کر کے آئی ایم ایف سے امداد لینے کے لیے کہہ رہا ہے تو سوچیں اس ملک کا کیا حال ہے۔

    ’اس ملک کی قیادت ان کو کرنی چاہیے جن کا سب کچھ پاکستان میں ہو۔‘

  11. کیا عمران خان نے وزیر اعلی پنجاب کی کرسی پر بیٹھ کر کسی اصول کی خلاف ورزی کی؟

  12. ڈالر انٹر بنک میں 53 پیسے، اوپن مارکیٹ میں چار روپے گر گیا, تنویر ملک، صحافی

    dollar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں گذشتہ ہفتے ڈالر کی قیمت میں ہونے والے بے تحاشہ اضافے کے بعد نئے کاروباری ہفتے میں روپے پر دباؤ کم نظر آیا جب کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹر بنک میں ڈالر کی قیمت 53 پیسے کمی کے بعد 238.84 پر بند ہوئی۔

    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں چار روپے کمی کے بعد ایک ڈالر کی قیمت 241 روپے تک گر گئی۔

    کرنسی ڈیلروں کے مطابق جون میں ہونے والی درآمدات کی جولائی میں سیٹل ہونے والی ایل سیز کا دباؤ کم ہو گیا ہے اور پاکستان کی جانب سے جولائی میں کم درآمدات کی گئیں جس کا اثر روپے کی قیمت میں کچھ اضافے کی صورت میں دیکھا جا رہا ہے۔

  13. جولائی میں مہنگائی کی شرح 14 سال کی بلند ترین سطح 24.9 فیصد تک پہنچ گئی, تنویر ملک، صحافی

    food

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں موجودہ مالی سال کے پہلے مہینے جولائی میں مہنگائی کی شرح 24.9 فیصد تک پہنچ گئی جو ملک میں مہنگائی کی 14 سال میں بلند ترین سطح ہے۔

    ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال جولائی کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 8.4 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی اور اس سال جون کے مہینے میں اس کی شرح 21.3 فیصد تھی ملک میں جولائی کے مہینے میں فوڈ انفلیشن 28.8 فیصد رہی، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کرایوں میں 64.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں 14.6 فیصد اضافہ ہوا۔

    ہاؤسنگ کے شعبے میں اخراجات اور کرایوں میں 21.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ جولائی کے مہینے میں سبزیوں کی قیمت میں 25.14 فیصد، پیاز کی قیمت میں 13.65 فیصد، آلو کی قیمت میں 10.87 فیصد، گندم کی قیمت میں 9.76 فیصد، چائے کی قیمت میں 9 فیصد، انڈوں کی قیمت میں 8 فیصد، خوردنی تیل کی قیمت میں 7.6 فیصد، چاول کی قیمت میں 5.16 فیصد، دودھ کی قیمت میں 3.84، چنے کی قیمت میں 1.87 فیصد، دال مسور کی قیمت میں نو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

  14. نئے مالی سال کے پہلے مہینے میں ہدف سے 15 ارب روپے زیادہ 458 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا گیا, تنویر ملک، صحافی

    fbr

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ملک میں ٹیکس جمع کرنے والے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) موجودہ مالی سال کے پہلے مہینے جولائی میں 458 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا ہوا جو اس مہینے کے ہدف یعنی 443 ارب روپے سے 15 ارب روپے زیادہ رہا۔

    ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس سال جولائی میں جمع ہونے والا 458 ارب کا ٹیکس گذشتہ مالی سال کے اسی مہینے سے دس فیصد زیادہ ہے جب 417 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا تھا۔

    ایف بی آر کے مطابق مجموعی طور پر 486 ارب کا ٹیکس جولائی میں جمع کیا گیا تاہم اس مہینے میں 28 ارب روپے کا ٹیکس ریفنڈ واپس کرنے سے جمع ہونے والا نیٹ ٹیکس 458 ارب روپے رہا۔

  15. طیبہ گل کے الزامات: سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال نے پبلک اکاؤنٹس میں طلبی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دی

    طیبہ گل کے سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال پر ہراسانی کے سنگین الزامات کے معاملے پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 11 اگست کو سابق چئیرمین کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا ہے تاہم جاوید اقبال نے پبلک اکاؤنٹس میں طلبی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دی ہے۔

    جاوید اقبال کی درخواست میں پبلک اکاؤنٹس کی کارووائی کے میٹنگ منٹس کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے جبکہ درخواست پر فیصلہ ہونے تک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی کارروائی روکنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

  16. بریکنگ, پی ٹی آئی نے سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے ارکان اسمبلی کے استعفوں کی منظوری عدالت میں چیلنج کر دی

    Asad Umar

    ،تصویر کا ذریعہPTI Media

    پاکستان تحریک انصاف نے سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کے استعفوں کی ٹکڑوں میں منظور کے اقدام کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے اس حوالے سے باضابطہ درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی ہے۔

    پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ گیارہ بندوں کے جو استعفی منظور کرنے کا تماشا لگایا ہے ہم اس کے خلاف آئے ہیں۔ گیارہ اپریل کو اسمبلی کے فلور پر ہمارے 125 لوگوں نے کہا ہم نے استعفی دے دئیے۔ 13 اپریل کو ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے استعفی منظور کر لیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس کیا اختیار تھا کہ وہ تین ماہ قبل سارے استعفی منظور نہ کرے۔ اب الیکشن کمیشن نے گیارہ استعفی منظور کر لیے۔

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے متعلق تو ریفرنس بن رہا ہے، ایک طویل فہرست ہے الیکشن کمیشن کے غیر قانونی فیصلوں کی اور اب الیکشن کمیشن ایک غیر جانبدار نہیں بلکہ سیاسی فریق بن چکا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے متعلق یہ صرف تحریک انصاف کا موقف نہیں ہے بلکہ دو صوبائی اسمبلیاں اس بارے میں قرارداد پیش کر چکی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن سے کہا تھا اپنے لیے ایک انتخابی نشان بھی منتخب کریں۔ انھوں نے اپنے لیے انتخابی نشان نہیں رکھا لہذا اب میں سوشل میڈیا کے نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ سوچیں الیکشن کمیشن کے لیے کیا انتخابی نشان ہو سکتا ہے۔

  17. آئی ایم ایف کے ساتھ ایکسچینج ریٹ طے پانے کی افواہیں بے بنیاد ہیں: وزارت خزانہ و سٹیٹ بینک آف پاکستان, تنویر ملک، صحافی

    Dollar

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    وزارت خزانہ اور بینک دولتِ پاکستان کی جانب سے مالی سال 2023 کے لیے پاکستان کی حکمت عملی کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ افواہیں قطعی بے بنیاد ہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ایکسچینج ریٹ کی ایک خاص سطح طے پائی ہے۔ ایکسچینج ریٹ لچکدار اور مارکیٹ کے مطابق تعین پاتا ہے اور ایسا ہی رہے گا لیکن غیرمنظم اتار چڑھاؤ سے نمٹا جارہا ہے۔

    مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاں مارکیٹ غیر منظم ہوئی ہے سٹیٹ بینک نے امریکی ڈالر کی فروخت کے ذریعے کارروائی جاری رکھی ہے تاکہ مارکیٹوں میں سکون آئے، اور مستقبل میں جب ضرورت ہو گی وہ ایسا کرتا رہے گا۔ سٹے سے مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط اقدامات بھی کیے گئے ہیں جن میں بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کی بغور نگرانی اور معائنے شامل ہیں۔ صورت حال کے مطابق مزید اضافی اقدامات کیے جائیں گے۔

    آگے چل کر جب جاری کھاتے کا خسارہ کم ہو گا اور احساسات بہتر ہوں گے تو ہمیں پوری طرح توقع ہے کہ روپے کی قیمت بڑھے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ 2019ء میں آئی ایم ایف پروگرام کے آغاز میں یہی تجربہ ہوا تھا جب پروگرام سے پہلے کے کچھ عرصے میں روپیہ کمزور ہونے کے بعد کافی مضبوط ہوا تھا۔

    یہ امر واضح ہے کہ روپیہ عارضی طور پر قدر میں کم ہوسکتا ہے جیسا کہ حال میں ہوا ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ دونوں طرف حرکت کرتا ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ آنے والے دور میں یہ سلسلہ پھر ہوگا۔ نتیجے کے طور پر جاری کھاتے کے کم خسارے نیز مضبوط احساسات کی شکل میں بہتر معاشی مبادیات سے ہم آہنگ ہوکر روپیہ مضبوط ہو گا۔

  18. حکومتی اقدامات موثر ثابت ہوئے اور درآمدی بل میں کمی آئی : وزارت خزانہ و سٹیٹ بینک آف پاکستان کا مشترکہ اعلامیہ, تنویر ملک، صحافی

    وزارت خزانہ اور بینک دولتِ پاکستان کی جانب سے مالی سال 2023 کے لیے پاکستان کی حکمت عملی کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ درآمدی بل کو قابو میں کرنے کے لیے عارضی انتظامی اقدامات کیے گئے ہیں جس میں گاڑیاں، موبائل فون اور مشینری درآمد کرنے سے پہلے پیشگی منظوری کی شرط شامل ہے۔ جب جاری کھاتے کا خسارہ آئندہ مہینوں میں کم ہو گا تو یہ اقدامات نرم کر دیے جائیں گے۔

    یہ اقدامات موثر ثابت ہو رہے ہیں اور جولائی میں درآمدی بل میں نمایاں کمی واقع ہوئی، کیونکہ توانائی کی درآمدات میں کمی آئی ہے اور غیر توانائی کی درآمدات میں کمی جاری ہے۔

    جولائی میں زرمبادلہ کی ادائیگیاں جون کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھیں۔ یہ آئل اور نان آئل دونوں کی ادائیگی کے مطابق ہے۔ مجموعی طور پر، جولائی میں ادائیگیاں 6.1 ارب ڈالر پر مستحکم تھیں جبکہ جون میں یہ 7.9 ارب ڈالر تھیں۔

    تازہ ترین تجارتی اعداد و شمار کے مطابق نان آئل مصنوعات کی درآمدات مسلسل کم ہو رہی ہیں۔

    بالخصوص مالی سال 22 کی چوتھی سہ ماہی کے دوران نان آئل کی درآمدات میں سہ ماہی بہ سہ ماہی کی بنیاد پر5.7 فیصد کمی ہوئی۔ آگے چل کر ان میں مزید کمی متوقع ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں، ایک بار پھر آئل کے ساتھ ساتھ نان آئل مصنوعات دونوں کے لیے حالیہ ہفتوں کے دوران ایل سی کھولنے میں کافی سست روی دیکھی گئی ہے ۔ مارکیٹ رپورٹس کی بنیاد پر، جون میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت کے حجم میں ماہ بہ ماہ 11 فیصد کمی واقع ہوئی۔

    جون میں توانائی کی درآمدات میں اضافے کے بعد، اب ملک میں ڈیزل اور فرنس آئل کا ذخیرہ دستیاب ہے جو بالترتیب 5 اور 8 ہفتوں کے لیے کافی ہے، جو کہ ماضی کے 2 تا 4 ہفتوں کی معمول کی حد سے بہت زیادہ ہے یعنی کہ مستقبل میں پیٹرولیم درآمدات کی کم ضرورت پڑے گی۔

  19. بریکنگ, آئی ایم ایف کے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کے اجرا کے لیے باضابطہ اجلاس آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے: وزارت خزانہ و سٹیٹ بینک آف پاکستان کا مشترکہ اعلامیہ, تنویر ملک ، صحافی

    State bank

    ،تصویر کا ذریعہState Bank of Pakistan

    وزارت خزانہ اور بینک دولتِ پاکستان کی جانب سے مالی سال 2023 کے لیے پاکستان کی حکمت عملی کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آج تک اس جائزے کی تکمیل کے لیے تمام پیشگی اقدامات کر لیے گئے ہیں، اور 1.2 ارب ڈالر کی آئندہ قسط کے اجرا کے لیے باضابطہ بورڈ اجلاس آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے۔

    اسی موقع پر طلبی دباؤ اور جاری کھاتے کا خسارہ کم کرنے کے لیے معاشی پالیسیاں، مالیاتی پالیسی اور زری پالیسی کو مناسب انداز سے سخت کر دیا گیا ہیں۔

    بالآخر حکومت نے یہ واضح طور پر اعلان کر دیا گیا ہے کہ وہ اکتوبر 2023ء تک آپنی باقی ماندہ مدت پوری کرنے کی خواہاں ہیں اور آئی ایم ایف پروگرام کے بقیہ آئندہ 12 مہینوں میں ادارے کے ساتھ طے شدہ تمام شرائط پر عمل پیرا ہونے کے لیے تیار ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ مالی سال 2023 میں آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو درکار خالص قرضوں کی ضرورت مکمل طور پر پوری ہو جائے گی۔

    قرضوں کی ضروریات جاری کھاتے کے خسارے تقریباً 10 ارب ڈالر ہونے اور تقریباً 24 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی اصل رقم کی ادائیگی کے سبب پیدا ہوئیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی حالت کو تقویت دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ پاکستان ان ضروریات کی نسبت تھوڑے سے زیادہ قرضے حاصل کرے۔ نتیجتاً، آئندہ 12 مہینوں کے لیے 4 ارب ڈالر کے اضافی قرضوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

    اِن رقوم کا انتظام مختلف ذرائع سے کیا جارہا ہے جس میں وہ دوست ممالک بھی شامل ہیں جنھوں نے جون 2019ء میں آئی ایم ایف پروگرام کے آغاز کے وقت پاکستان کی مدد کی تھی۔

  20. آئندہ چند ماہ میں روپے کی قدر بڑھنے کی توقع ہے: وزارت خزانہ و سٹیٹ بینک آف پاکستان کا مشترکہ اعلامیہ, تنویر ملک، صحافی

    Rupee

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزارت خزانہ اور بینک دولتِ پاکستان کی جانب سے مالی سال 2023 کے لیے پاکستان کی حکمت عملی کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے مسائل عارضی نوعیت کے ہیں جن کے حل کے لیے پوری قوت صرف کی جا رہی ہے۔

    فروری کے مہنیے سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کم ہونا شروع ہوئے، جس کی وجہ آمدِ زر کی نسبت انخلائے زر کا زیادہ ہونا ہے۔ آمدِ زر بنیادی طور پر آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک سے کثیر فریقی قرضوں، چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک سے ڈپازٹس اور قرضوں کی صورت میں دوطرفہ مالی اعانت، یورو بانڈز اور سکوک کے ذریعے غیر ملکی بینکوں سے کمرشل قرضوں پر مشتمل ہے۔

    مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آمدِ زر میں بیشتر کمی آئی ایم ایف کے آئندہ جائزے میں تاخیر کی سبب آئی، جو پالیسی میں سقم کے باعث ہوئی۔ دریں اثنا، انخلائے زر کے حوالے سے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رہا کیونکہ اس عرصے میں یہ رقوم واجب الادا ہو گئی تھیں۔

    وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسی موقع پر شرح مبادلہ شدید دباؤ میں آ گئی، بالخصوص وسط جون کے بعد سے۔ ایسا ڈالر کے عمومی کساؤ کے باعث ہوا، جو جاری کھاتے کے خسارے میں اضافے (جو جون میں توانائی کے بھاری بل کی سبب شدت اختیار کر گیا)، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور آئی ایم ایف پروگرام اور ملکی سیاست میں غیریقینی صورتحال کی وجہ سے احساسات مجروح ہونے کی بنا پر سامنے آیا۔

    تاہم حال ہی میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جس سے یہ عارضی مسائل حل ہو جائیں گے۔ 13 جولائی کو آئی ایم ایف کے آئندہ جائزے کی تکمیل ہونے پر سٹاف کی سطح کے معاہدے کا اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا۔