وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب: ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم، سپریم کورٹ کا پرویز الٰہی سے آج رات ہی حلف لینے کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز کے وزارت اعلیٰ کے نوٹیفیکیشن کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے اور گورنر پنجاب کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں۔

لائیو کوریج

  1. ڈالر کی قیمت 217.50 کی سطح تک پہنچ گئی، شہباز حکومت میں اب تک ڈالر کی قیمت میں 34 روپے سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک ، صحافی

    Dollar

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    منگل کے روز پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ کاروبار کے آغاز میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا اور اب تک 2.31 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو بڑھ کر 217.50 تک ہوگئی۔

    گذشتہ روز ایک ڈالر کہ قیمت 215.19 پر بند ہوئی تھی۔ کرنسی ڈیلروں کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں ایک ڈالر کی قیمت میں 34 روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    ڈیلروں کے مطابق ملک میں سیاسی صورتحال غیر یقینی رخ اختیار کررہی ہے، جس کا منفی اثر روپے کی قدر پر ہورہا ہے۔

  2. میرے بیڈروم سے ایک وائس ریکارڈ ملا ہے، ایک ایجنسی پر شبہ ہے: شیریں مزاری

    شیریں مزاری

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ 'کل دوپہر کو میرے بیڈروم کے نیچے سے ایک ڈیوائس برآمد ہوئی ہے'۔ شیریں مزاری نے کہا کہ 'یہ آئین اور میرے حقوق کی خلاف ورزی ہے'۔

    سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'میرے ایک ملازم کا فون آیا کہ یہ ایک چیز مجھے ملی ہے، پہلے ہم نے سوچا کہ یہ ایک یو ایس بی ہے، جب ہم نے تحقیق کی تو پتا چلا کہ یہ ایک امریکن ماڈل کا وائس ریکارڈر ہے۔‘

    شیریں مزاری کے مطابق یہ اسی طرح کی ڈیوائس ہے جو سابق وزیراعظم عمران خان کے بیڈروم سے ملی تھی۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ میرے بیڈ روم میں کس ایجنسی نے یہ وائس ریکارڈر لگایا ہے۔ اپنے سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ 'ہمیں شک و شبہ ہے کہ کس نے لگایا مگر (اس کا) مقصد کیا تھا'۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    شیریں مزاری نے کہا اس ڈیوائس کا اس وقت پتا چلا جب میرے ایک ملازم کی غلطی سے ٹیبل کے ساتھ زور سے ٹکر لگی، جس کے بعد یہ ڈیوائس نیچے گر گئی۔ ان کے مطابق میں اس وقت بنی گالا میں تھی جب مجھے فون آیا کہ گھر سے یہ ڈیوائس ملی ہے۔

    شیریں مزاری نے کہا کہ انھوں نے انٹرنیٹ سے اس ڈیوائس کی مکمل تفصیلات بھی نکالی ہیں۔

  3. بریکنگ, شہباز شریف کی الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد سنانے کی اپیل

    وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے طویل عرصے سے التوا کا شکار پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ ​​کیس کا جلد فیصلہ سنانے کی اپیل کی ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں پر بار بار اور شرمناک حملوں کے باوجود عمران خان کو طویل عرصے سے فری پاس دیا جاتا رہا ہے۔

    وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ عمران خان کو دیے گئے استثنیٰ نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. سپریم کورٹ آج نیب قوانین میں ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کرے گی

    bbc

    سپریم کورٹ آج نیب قوانین میں ترامیم کے خلاف سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر سماعت کرے گی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کرے گا۔ اس بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصورعلی شاہ بھی شامل ہوں گے۔

    عمران خان کی طرف سے ایڈووکیٹ خواجہ حارث دلائل دیں گے۔ یاد رہے خواجہ حارث پانامہ کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بھی وکیل تھے۔

    گذشتہ روز اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد اپنے خطاب میں سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 'کل میں نیب ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ جا رہا ہوں۔‘

    یاد رہے عمران خان نے سپریم کورٹ میں نیب قوانین میں تبدیلی کو چیلنج کیا ہوا ہے جس کی سماعت کے لیے 19 جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔

    اس کیس کی سماعت آج دوپہر 12:30 پر شروع ہو گی۔

  5. وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پی ڈی ایم کے قائدین کا اہم اجلاس آج لاہور میں

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اتوار کو پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کا اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے۔

    گدشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کو لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر دعوت دی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’96 ایچ ماڈل ٹاؤن میں منعقدہ اجلاس میں حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین مجموعی ملکی صورتحال کا جائزہ لیں گے اور اہم امور پر مشاورت ہو گی۔‘

  6. ’ایسا نہیں ہوسکتا کہ صرف قومی اسمبلی تحلیل کر کے الیکشن کروائے جائیں‘

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اتحادیوں نے الیکشن میں جانے کے بجائے حکومت میں رہنے کا فیصلہ ملک، قوم اور ریاست کے حق میں کیا اور یہ صحیح فیصلہ تھا۔

    انھوں نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت نے تحریک انصاف کے منحرف ارکان سے ٹکٹوں کا وعدہ کیا تھا لیکن آئندہ الیکشن میں اس پر نظرثانی کی جائے گی۔

    ’ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم قومی اسمبلی تحلیل کر کے (صرف) اس کے الیکشن کروا دیں۔ ایسا غیر سیاسی قدم ہم نہیں اٹھا سکتے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کو ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنی پڑے گی۔ پنجاب میں ان کے پاس 188 ارکان ہیں، ہمارے پاس 180 ہیں۔ صرف پانچ لوگوں کا فرق ہے۔ پانچ رکن غیر حاضر ہوگئے تو پرویز الہی وزارت اعلیٰ ڈھونڈتے پھریں گے۔ 22 جولائی کو وزارت اعلیٰ ملنا اتنا آسان نہ ہوگا۔‘

    انھوں نے ضمنی الیکشن میں شکست پر تبصرہ کیا کہ ’مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک متحرک نہ ہوسکا اور اس کی وجہ وہ امیدوار تھے جن پر عمران خان کی حکومت کا بوجھ تھا۔‘

  7. نئے انتخابات کا فیصلہ حکومت کی اتحادی جماعتوں کے سربراہان کریں گے: رانا ثنا اللہ

    رانا ثنا اللہ

    رانا ثنا اللہ نے مزید کہا ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلا الیکشن ہوا جس میں پورے صوبے میں امن و امان رہا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور صرف معمولی جھگڑے ہوئے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر سے چور دروازے سے ملنے کی کوشش کی جب ایسا نہیں ہوا تو ان کے خلاف اس قسم کی گفتگو شروع کی گئی۔‘

    ضمنی الیکشن میں شکست پر ان کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن کی قیادت نے سیاسی جماعت کے طور پر خود احتسابی کی ہے۔ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسلم لیگ ن نے 20 حلقوں نے جن لوگوں کو امیدوار نامزد کیا تھا، ان کے ذمے عمران خان کی ساڑھے تین سال کی حکومت کا بوجھ تھا۔ لوگوں کے کام نہیں ہوئے تھے۔

    ’مسلم لیگ ن اپنے امیدواروں کے لیے ووٹروں کو قائل نہ کرسکی۔ جماعت کی مکمل حمایت انھیں نہ مل سکی۔ آئندہ الیکشن میں ان چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر امیدواروں کا انتخاب کریں گے۔ پنجاب میاں نواز شریف کا تھا، ہے اور رہے گا۔‘

    وزیر داخلہ نے نئے عام انتخابات کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حکومت کی اتحادی جماعتوں کے سربراہان کریں گے۔

    ’اگر عمران خان الیکشن کے (مطالبے سے) مخلص ہوتے تو پہلے اسمبلیاں توڑتے۔ وہ خود اس بات سے مخلص نہیں۔ اگر الیکشن کا اعلان ہوا تو وہ کہیں گے چیف الیکشن کمشنر کو تبدیل کرو۔۔۔ وہ نوجوانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں، قوم میں تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کا ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ ’غیر سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ فری اینڈ فیئر الیکشن ہونا چاہیے۔ کل کے الیکشن میں ایسا ہی ہوا۔‘

  8. ’پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے باوجود الیکشن کمیشن پر اعتماد ظاہر کرتے ہیں‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ ان کی جماعت پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے باوجود الیکشن کمیشن پر مکمل اعتماد ظاہر کرتی ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’اداروں کے سربراہان پر تنقید کی اجازت نہیں دی جائے گی، بھرپور طریقے سے اس کا جواب دیں گے۔‘

    ’الیکشن کمیشن کے تمام اہلکاروں کے ساتھ کھڑے ہیں، ان پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن پر الزام وہ لگاتا ہے جو ہار جاتا ہے مگر یہ جیت کر بھی کہہ رہا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو کنٹرول کرنے کے لیے ایسی باتیں کی جا رہی ہیں۔

  9. شہباز شریف کی دعوت پر پی ڈی ایم کے قائدین کا اہم اجلاس منگل کو ہو گا: مریم اورنگزیب

    مریم اورنگزیب

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کا اہم اجلاس منگل کو ہو گا۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق پیر کو اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نے حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کو لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر دعوت دی ہے۔ ’96 ایچ ماڈل ٹائون میں منعقدہ اجلاس میں حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین مجموعی ملکی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کے اجلاس میں اہم امور پر مشاورت ہوگی۔‘

  10. عمران خان کے لگائے گئے الزامات مسترد کرتے ہیں: الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے آج لگائے گئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔

    ترجمان کے جاری کردہ بیان کے مطابق ’ان تمام الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیتا رہے گا۔‘

  11. ’بہتر ہوگا اگر پورے ملک میں انتخابات ایک ساتھ ہوں‘

    اسد عمر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت فوری انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے مگر یہ ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن پر تمام جماعتوں کو اعتماد ہو۔

    انھوں نے اے آر وائے نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بہتر ہے کہ پورے ملک میں الیکشن ایک ساتھ ہو۔‘

    ’اسمبلی تحلیل کرنا آخری پتہ ہوگا۔۔۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک آزاد الیکشن کمیشن انتخابات کروائے جس پر تمام جماعتوں کو اعتماد ہو۔ یہ نظام چند ہفتوں سے زیادہ چلنے والا نہیں ہے۔‘

  12. ’پی ڈی ایم اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کا اجلاس کل لاہور میں طلب‘

    بی بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کا اجلاس کل لاہور میں طلب کر لیا گیا ہے۔

  13. عمران خان کو فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کا خوف ہے: مریم نواز

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کا خوف ہے۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتی ہیں کہ اپنی ہی 20 سیٹوں پر پانچ ہار جانے پر زیادہ زعم میں آنے کی ضرورت نہیں۔ الیکشن کمیشن پر آپ کا اٹیک وہ دھاندلی نہیں جو ہوئی ہی نہیں۔

    ’بلکہ فارن فنڈنگ فیصلے کا خوف ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ اس میں آپ کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں جن کا منظرِ عام ہر لایا جانا ناگزیر ہے۔ الیکشن کمیشن جلد فیصلہ سنائے۔‘

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

  14. پیپلز پارٹی اتحادیوں کے ساتھ کھڑی ہے، پارلیمنٹ اپنا وقت پورا کرے گی: شرجیل میمن

    شرجیل میمن

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کا یہی مطالبہ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہے۔ ’جو بھی غلط بیانیہ عمران خان نے بنایا وہ وقت کے ساتھ جھوٹ ثابت ہوتا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’کل اگر امپائر نیوٹرل نہ ہوتا تو یہ کیسے جیتتے۔ ملک کا وزیراعظم شہبازشریف ہے، اگرعمران خان کے پاس اکثریت ہے تو سامنے آئے۔

    ’ہم اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل رہنے کے حامی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی ’اتحادی جماعتوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

    ’آئینی ترامیم اور انتخابی اصلاحات ہونی ہیں، ان کے لیے پارلیمنٹ اپنا وقت پورا کرے گی۔‘

  15. اب جو بھی عوامی مینڈیٹ چوری کرنے کی کوشش کرے گا اسے شکست ہوگی: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    عمران خان نے کہا ہے کہ اب جو بھی عوامی مینڈیٹ چوری کرنے کی کوشش کرے گا اسے شکست ہوگی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’25 مئی کو قوم ان کے خلاف نکلی۔ انھوں نے ان لوگوں پر جیسا تشدد کیا، انھیں شرم نہیں آئی فیملیز پر ٹیئر گیس پھینکی گئی۔ یہ آپ کو انسان کو بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ اب ’عوامی مینڈیٹ کو چوری کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، فیصلے بند کمروں میں نہیں ہوں گے۔ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں، اب لوگ حقیقی آزادی کے لیے نکلے ہیں۔‘

    ’جو بھی عوامی مینڈیٹ چوری کرنے کی کوشش کرے گا اسے شکست ہوگی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے الیکشن کا اعلان کر دیا تھا۔ اب بھی سمجھتا ہوں وہ بہترین فیصلہ تھا۔ صاف و شفاف الیکشن واحد راستہ ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے استعفے کا مطالبہ

    عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ’موجودہ الیکشن کمشنر کے ذریعے شفاف الیکشن نہیں ہوسکتے۔ ہمیں پتا ہے کہ لاہور جا کر کدھر بیٹھتا ہے۔ الیکشن کمشنر سے کہتا ہوں مستعفی ہوں۔ آپ ایک جانبدار شخص ہیں جو ایک پارٹی کے ساتھ جڑے ہیں۔‘

  16. ’سیاسی بحران سے نکلنے کا واحد حل شفاف الیکشن، ہمیں موجودہ الیکشن کمشنر پر اعتماد نہیں‘

    عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو موجودہ الیکشن کشمنر پر اعتماد نہیں ہے مگر سیاسی بحران سے نکلنے کا واحد حل صاف و شفاف عام انتخابات ہیں۔

    انھوں نے قوم سے خطاب کے دوران کہا کہ ’معاشی بحرین کی وجہ سیاسی بحران تھی۔ آئی ایم ایف معاہدے کے باوجود روپے کی قدر گِر رہی ہے۔‘

    ’جب تک سیاسی بحران ختم نہیں ہوگا، معیشت مزید نیچے جائے گی۔ ایک ہی راستہ رہ گیا ہے، وہ ہے صاف و شفاف الیکشن کا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’جس طرح پنجاب میں الیکشن کرایا گیا، اس سے بحران بڑھے گا، کم نہیں ہوگا۔ ہمیں ہرانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا۔

    ’ضمنی الیکشن میں ریاستی مشینری تحریک انصاف کے خلاف استعمال کی گئی۔ سب سے زیادہ افسوس چیف الیکشن کمشنر پر ہے۔ ان میں کوئی اہلیت نہیں ہے۔ چالیس لاکھ ووٹر کو مردہ فہرست میں شامل کیا گیا۔ انھوں نے مسلم لیگ ن کو جتانے کی کوشش کی۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پیسے دے کر ووٹ خریدنے کی کوشش کی گئی جو کہ الیکشن قوانین کی خلاف ورزی ہے مگر الیکشن کشمنر نے کسی کو نہیں روکا۔ ’اس کے سارے فیصلے تحریک انصاف کے خلاف تھے۔‘

  17. بریکنگ, ’مصنوعی سیاسی بحران پیدا کیا گیا، سازش کے ذریعے حکومت گرائی گئی‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کے خلاف ایک مصنوعی سیاسی بحران پیدا کیا گیا۔

    ’ہماری حکومت کے دوران ایک مصنوعی سیاسی بحران پیدا کیا گیا۔ ایک حکومت چل رہی تھی، معاشی جائزوں کے مطابق 17 سال کے بعد ہمارے آخری دو برسوں میں مجموعی پیداوار سب سے زیادہ بڑھی۔ اس وقت تمام انڈیکیٹر صحیح جا رہے تھے۔ ہم نے کورونا کے باوجود ساری (گذشتہ) حکومتوں سے زیادہ روزگار فراہم کیا اور دولت میں اضافہ کیا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’زراعت میں چار فصلوں میں ریکارڈ پیداوار تھی۔۔۔ ہماری برآمدات، ٹیکس کولیکشن سب سے زیادہ تھے۔۔

    ’ہم ڈھائی سال آئی ایم ایف کے ساتھ تھے۔ عالمی مہنگائی گذشتہ گرمیوں سے شروع ہوچکی تھی۔ پاکستان کو فلاحی ریاست کی طرف لے جا رہے تھے۔۔۔ سازش کر کے ہماری حکومت گرائی گئی۔۔۔ میں نے اور شوکت ترین نے آگاہ کیا کہ حکومت گرائی گئی تو معاشی تباہی نہیں روک سکیں گے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ کرپشن کے کیسز معاف کرانے کے لیے نیب قوانین میں ترامیم کی گئیں جس کے خلاف ہم سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔

  18. بریکنگ, ’قوم میں شعور اور بیداری دیکھ رہا ہوں، یہ ایک نیا پاکستان ہے‘: عمران خان

    عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ قوم میں پہلی بار شعور اور بیداری دیکھ رہے ہیں اور ’یہ ایک نیا پاکستان ہے۔‘

    قوم سے خطاب کے دوران سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’پنجاب کے نوجوان اور خواتین ضمنی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکلیں، انھیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    ’ملک کے لیے یہ خوش آئند وقت ہے۔ تاریخ میں ایسا وقت آیا ہے جب قوم میں شعور ہے اور وہ بیدار ہوگئے ہیں، اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ ہمارے اوپر امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی، انگریز کی غلامی سے نکل کر پاکستان بنایا تھا اب کسی اور کی غلامی کے لیے تیار نہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’میں اس لیے خوش ہوں کہ اب ہم ایک قوم بننے جا رہے ہیں۔ قوم بننے سے قرضے اور پیسوں کی کمی جیسے مسئلے حل ہوجائیں گے۔‘

    ’اشرافیہ نے ملک سے باہر پیسہ رکھا ہوا ہے، وہ ملک پر یقین نہیں رکھتے۔۔۔ ایسے قوم نہیں بن سکتی۔‘

  19. تحریک انصاف آئندہ الیکشن کی تیاری کرے گی: شیخ رشید

    شیخ رشید

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سابق وزیر داخلہ اور تحریک انصاف کے اتحادی شیخ رشید کا کہنا ہے کہ عمران کی جماعت اب الیکشن کی تیاری کرے گی۔

    مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پنجاب میں 22 جولائی کو حکومت بنائیں گے۔

    ’عمران خان قوم سے خطاب میں پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ پنجاب نامزد کریں گے۔ پنجاب میں 22 تاریخ کو حکومت بنائیں گے۔‘

    ادھر تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’اصولاً شہباز شریف کو استعفیٰ دے کر نئے انتخابات کا اعلان کرنا چاہیے۔

    ’جب تک سیاست ٹھیک نہیں ہوگی، معیشت کیسے ٹھیک ہوگی۔‘

  20. ان 16 صوبائی نشستوں پر مسلم لیگ ن کو مزید مضبوط کریں گے: مریم اورنگزیب

    مریم اورنگزیب

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام نے ہمیشہ پاکستان مسلم لیگ ن پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے مگر اب ’ان 16 صوبائی نشستوں پر مسلم لیگ ن کو مزید مضبوط کریں گے۔‘

    ٹوئٹر پر پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’تاریخ میں یہ پہلے ضمنی انتخابات ہیں جن کی شفافیت پر بدترین سیاسی مخالف بھی انگلی نہیں اٹھا سکتے۔ امید ہے عمران خان الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے تضحیک آمیز رویے پہ معذرت کریں گے۔ پاکستان مسلم لیگ ن شفاف، غیرجانبدارانہ انتخابات اور جمہوری اقتدار کی پاسداری پر پختہ یقین رکھتی ہے اور گزشتہ روز کا انتخاب اسی کا عملی مظاہرہ ہے۔‘

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’عمران صاحب کے پاس وفاق اور پنجاب کی حکومت تھی تو دھاندلی کے ریکارڈ بنائے اور تین اپریل کو اقتدار بچانے کے لیے آئین توڑا، اس کے برعکس مسلم لیگ ن نے وفاق اور پنجاب میں اقتدار کا استعمال الیکشن کمیشن کا عملہ اغوا کرنے، آئین پر حملے اور آئین شکنی کے لیے استعمال نہیں کیا۔‘