وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب: ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم، سپریم کورٹ کا پرویز الٰہی سے آج رات ہی حلف لینے کا حکم
پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز کے وزارت اعلیٰ کے نوٹیفیکیشن کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے اور گورنر پنجاب کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں۔
لائیو کوریج
پی ٹی آئی اور ق لیگ نے 10 کروڑ کی پیشکش کی: الیاس چنیوٹی
مسلم لیگ کے رکن پنجاب اسمبلی لیاس چنیوٹی نے الزام لگایا ہے کہ انھیں پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے انتخاب سے قبل 10 کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی جسے انھوں نے ٹھکرا دیا ہے۔
جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ نے 10 کروڑ کی آفر کی ہے مگر وہ اپنے ضمیر کی آواز پر حمزہ شہباز کو ووٹ ڈالیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’حج کے لیے سعودی عرب تھا، تب بھی کالز موصول ہوئیں۔‘
’ہمارے اوپر عوام نے اعتماد کیا ہے۔ ہارس ٹریڈنگ غیر قانونی ہے۔ ووٹ ضمیر کے مطابق حمزہ شہباز کے حق میں دوں گا۔‘
بریکنگ, ’رحیم یار خان سے ہمارے ایم پی اے مسعود مجید مبینہ طور پر 40 کروڑ روپے لے کر ترکی پہنچ گئے ہیں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے ایم پی ایز کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے انتخاب سے قبل 40، 40 کروڑ میں خریدا جا رہا ہے۔
بدھ کے روز پریس کانفرنس میں فواد چوہدری نے کہا کہ ’رحیم یار خان سے ہمارے ایم پی اے مسعود مجید مبینہ طور پر 40 کروڑ روپے لے کر ترکی پہنچ گئے ہیں۔ ایم پی ایز کو 40، 40 کروڑ روپے میں خریدا جا رہا ہے۔ اس کے پیچھے آصف زرداری ماسٹر مائنڈ ہیں۔‘
’سپریم کورٹ میں جماعت کے تین ارکان غضنفر علی چھینہ، سردار شہاب الدین اور بھکر سے عامر نے سپریم کورٹ میں حلف نامے جمع کرائے ہیں جن میں بتایا گیا کہ کس طرح انھیں پیسوں کی پیشکش کی گئی۔ ان سے عطا تارڑ نے بات کی اور کہا کہ ہم بھی آپ کے بہت کام آسکتے ہیں۔۔۔ عطا تارڑ نے کہا 25 سے 30 کروڑ روپے فی بندہ دے سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ آصف زرداری لوگوں کو خریدنے کا کام کر رہے ہیں اور یہ پیسے دے رہے ہیں۔
’ہمارا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے کی تحقیقات کرائے اور رانا ثنا اللہ، عطا اللہ تارڑ اور زرداری کو گرفتار کیا جائے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ایم پی ایز سے رابطے کر کے انھیں پیسوں کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ عوام غیر سیاسی سرگرمیاں اور ایم پی ایز کی خرید و وفروخت کو برداشت نہیں کرے گی۔ ان کا ارادہ ہر حالت میں حکومت سے چھمٹے رہنے کا ہے۔۔۔ سپریم کورٹ قانون کے تقاضے یقینی بنائے۔‘
’شجاعت صاحب نے وعدہ کیا ہے کہ ایم پی ایز پرویز الہی کے ساتھ ہیں۔ ایم پی ایز نے پارلیمانی لیڈر کو آگاہ کیا گیا کہ آفرز کی جا رہی ہیں۔ ہماری تعداد پوری ہے، امید ہے کہ منصوبہ ناکام ہوگا۔‘
فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس 188 ارکان کی تعداد ہے اور یہ 190 پر بھی جاسکتا ہے۔‘
ارکانِ اسمبلی کو خریدنے کی کوشش جمہوریت پر حملہ ہے: عمران خان
عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے ارکانِ اسمبلی کو خریدنے کی کوشش نہ صرف جمہوریت جبکہ معاشرے کی اخلاقی اقدار پر بھی حملہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے ان وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو تاحیات نااہل کر دیا ہوتا تو وہ ایک بند کا کام کرتا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, تحریکِ انصاف کے ایم پی ایز کو 50 کروڑ روپے تک کی پیشکش کی گئی ہے: عمران خان
پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ان کی جماعت کے ارکان کو خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے سندھ ہاؤس کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے اور ان کے ارکانِ صوبائی اسمبلی کو 50 کروڑ روپے تک کی پیشکش کی گئی ہے۔
عمران خان نے الزام عائد کیا کہ اس سارے عمل کے مرکزی کردار آصف زرداری ہیں جنھیں جیل بھیجنا چاہیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
شہباز شریف کا معاشی صورتحال پر ہنگامی اجلاس
وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی معاشی صورتحال پر ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کے مطابق اس اجلاس میں ڈالر کی قیمت میں حالیہ اضافے کی وجوہات اور اس کے سدباب کے لیے اقدامات پر غور ہوگا۔ ’معاشی ٹیم ملکی معاشی صورتحال اور روپے کی قدر کے حوالے سے حقائق پر بریفنگ دے گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’شہباز شریف اپنی مدت پوری کرنا چاہتے ہیں لیکن ان سے ملک چل نہیں رہا‘
،تصویر کا ذریعہReuters
تحریک انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے لیے تحریک انصاف کے امیدوار پرویز الہی کو 188 ارکان کی حمایت یعنی عددی اکثریت حاصل ہے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکمراں اتحاد ہماری اکثریت کو تسلیم نہیں کر رہا ہے۔ ’ہمارے ارکان کو کون غائب کرے گا؟ کیوں غائب ہوں گے۔ رانا ثنا اللہ کا بیان افسوسناک ہے۔ پنجاب کے عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’وہ (شہباز شریف) مدت پوری کرنا چاہتے ہیں لیکن ان سے ملک چل نہیں رہا، روپے کی قدر گرتی جا رہی ہے۔ اس سے مہنگائی کا طوفان آئے گا اس کی قیمت کون دے گا۔ ان کا ایجنڈا اپنے مفادات اور کرسی ہے، نیب کے قوانین میں ترامیم ان کا ایجنڈا تھا۔‘
سابق وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’کوئی افسر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا۔۔۔ اگر ہمارے نمبر کم ہیں تو حکومت پریشان کیوں ہے۔‘
انھوں نے متنبہ کیا کہ کوئی غیر قانونی اور غیر آئینی کام نہ کیا جائے اور جو ارکان نہیں آئیں گے اس کا الزام مسلم لیگ ن کی طرف جائے گا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نومنتخب ارکان پنجاب اسمبلی زین قریشی ’کبھی وزارت اعلی کی دوڑ کا حصہ نہیں تھے۔‘
’آصف زرداری پھر لاہور آکر منڈی لگا کر بیٹھے ہیں‘
،تصویر کا ذریعہFacebook
تحریک انصاف کی صوبائی رکن یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلی کے انتخاب سے قبل ان کی جماعت کے ایم پی ایز کو کروڑوں روپے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے ’اپم پی ایز کو 25 سے 50 کروڑ کی آفرز کی جا رہی ہیں۔‘
انھوں نے مسلم لیگ ن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’عوام کے پیسے تو لوٹ کر کھا گئے، اب مینڈیٹ بھی چوری کرنا چاہتے ہو۔ عوام نے تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا ہے۔‘
انھوں نے الزام لگایا کہ ’آصف زرداری پھر لاہور آکر منڈی لگا کر بیٹھے ہیں۔‘
یاسمین راشد نے الیکشن کمیشن سے ’غیرقانونی ہتھکنڈے‘ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ملکی معاشی صورتحال کی بہتری کا واحد حل الیکشن: شوکت ترین
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد ڈالر کو مستحکم ہونا چاہیے تھا مگر ایسا سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے نہ ہوسکا۔
بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ملکی معاشی صورتحال کی بہتری کا واحد حل الیکشن ہے۔ ’مارکیٹ کو ان پر اعتماد نہیں ہے، ابھی مزید مہنگائی کا طوفان آئے گا۔
’یہ سب کو بےوقوف بنا سکتے ہیں لیکن مارکیٹ کو نہیں۔ مفتاح اسماعیل نے آج تسلیم کیا کہ معاشی صورتحال کی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔‘
اس موقع پر معاشی تجزیہ کار مزمل اسلم نے کہا کہ ’روپے کی قدر ابھی مزید کم ہوگی۔‘
سپریم کورٹ نے رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس اور ٹاک شو کی نقل جمع کرانے کا حکم دے دیا
سپریم کورٹ نے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ کی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ کی پریس کانفرنس اور ٹاک شو کی نقل جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
پرویزالہیٰ کی جانب سے رانا ثنا اللہ کے خلاف درخواست کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔
سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے بابر اعوان اور فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔
بابر اعوان کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ نے مریم اورنگزیب کی موجودگی میں اراکین اسمبلی کو ہٹانے کا بیان دیا ہے۔
عدالت نے وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس اور ٹاک شو دونوں کی نقل جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
شیخ رشید نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی
،تصویر کا ذریعہAFP
سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن ایکٹ کی شق 94 میں کی گئی ترمیم کو غیر آئینی قرار دیا جائے اور حکومت کو اووسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلوانے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا جائے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور انھیں ووٹ کے بنیادی حق سے محروم کرنا خلاف آئین ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانوں کی تعداد 90 لاکھ سے زائد ہے اور یہ پاکستانی 33 ارب ڈالرز سے زائد رقم پاکستان بھیجتے ہیں۔
درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔
روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سیاسی ہلچل بھی ہے، مفتاح اسماعیل
،تصویر کا ذریعہgettyimages
وزیرِ حزانہ مفتاح اسماعیل نے ڈالر کی بڑھتی قیمت پر بھی بات کی۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی اڑان قدرتی ہے، اور صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ڈالر کی قیمت باقی دنیا کی کرنسیوں کے مقابلے میں بھی بڑھ گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک کی معیشت اچھی چل رہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ ڈالر کی بڑھتی قیمت میں معاشی صورتحال کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔
تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ ملک کی سیاسی ہلچل روپے کی قدر میں کمی کا باعث بنی ہے۔
ایک دوست ملک 1.2 بلین ڈالر کی آئل فنانسنگ کرے گا، مفتاح اسماعیل
مفتاح اسماعیل کی پریس کانفرنس جاری ہے۔۔۔۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک دوست ملک سے تیل کی خریداری میں سہولت ملنے کی توقع ہے جبکہ ایک دوست ملک کے سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ لگانے کا بھی امکان ہے۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو چکا ہے اور اس میں کوئی خلل نہیں آیا۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد ورلڈ بینک سے بھی پیسے آ جائیں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال اور رواں برس آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدوں کی تفصیلات آپ کے سامنے رکھوں گا۔
کوشش کر رہے ہیں درآمدات اور برآمدات میں توازن لے کر آئیں، مفتاح اسماعیل
وزیرِ خرانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ہم کوشش کر رہے ہیں درآمدات کو برآمدات کے برابر کر لیں اور ان میں توازن لے کر آئیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ جولائی کے مہینے سے جواقدامت کیے اس کا ثمر مل رہا ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ رواں ماہ 18 جولائی تک درآمدات 2.6 بلین ڈالر رہیں جو گذشتہ سال سے 20 فیصد کم ہیں۔
ڈالر کی قیمت تین روپے اضافے کے بعد 225 تک پہنچ گئی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں جاری سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ڈالر کی قیمت تین روپے اضافے کے بعد 225 روپے ہوگئی ہے۔
پاکستان میں بڑھتے ہوئے سیاسی عدم استحکام اور بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے بدھ کے روز بھی پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں مزید 3.01 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
گذشتہ روز ڈالر کی قیمت جو 221.99 روپے پر بند ہوئی تھی بدھ کے روز کاروبار کے آغاز کے پہلے ایک گھنٹے میں ہی 225 روپے کی سطح تک پہنچ گئی۔
پاکستان میں کرنسی ڈیلروں کے مطابق ملک میں ڈالر کی رسد و طلب معمول کے مطابق ہے تاہم بڑھتا ہوا سیاسی عدم استحکام اور بین الاقوامی مارکیٹ میں دوسری کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت کہ وجہ سے پاکستانی کرنسی تیزی سے قدر کھو رہی ہے جس کا رجحان بدھ کے روز کاروبار کے آغاز سے دیکھا گیا ہے۔
پاکستان نے ایک سال میں 23 ارب ڈالر سے زائد کی ریکارڈ تیل و گیس کی درآمد کی, تنویر ملک، صحافی
پاکستان نے 30 جون 2022 کو ختم ہونے والے مالی سال میں 23 ارب ڈالر سے زائد کی تیل و گیس درآمد کی جو ملکی تاریخ میں ریکارڈ درآمد ہے۔
گذشتہ مالی سال میں تیل و گیس کی درآمد اس سے پہلے سال کے مقابلے میں سو فیصد زائد رہی جو 11 ارب ڈالر تھی۔
عالمی مارکیٹ میں تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اندرون ملک تیل و گیس کی بڑھتی ہوئی ضروریات نے ان کہ درآمدات کو بلند ترین سطح پر پہنچ دیا ہے جس نے ملک کے زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔
ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے ملک کی بیرونی تجارت کے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی تیل و گیس کی درآمد میں نا صرف بے تحاشا اضافہ دیکھا گیا بلکہ کھانے پینے کی اشیا کی درآمد بھی نو ارب ڈالر سے زائد رہی جو گذشتہ سال آٹھ ارب ڈالر تھی۔
پاکستان نے گذشتہ مالی سال میں گندم، خوردنی تیل، چائے، چینی اور دالوں کی درآمد پر نو ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے ہیں۔
رواں ماہ 18 جولائی تک درآمدات 2.6 بلین ڈالر رہیں جو گذشتہ برس سے 20 فیصد کم ہیں، مفتاح اسماعیل
وزیرِ خرانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ رواں ماہ 18 جولائی تک درآمدات 2.6 بلین ڈالر رہیں، جو گذشتہ سال سے 20 فیصد کم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم مہینے کا اختتام 5.5 بلین ڈالر پر کریں گے۔
مفتاح اسماعیل نے ٹویٹر پر کہا ہے کہ سٹیٹ بینک کے اقدامات کی بدولت گذشتہ برس کے مقابلے میں اس ماہ درآمدات کنٹرول میں آ گئی ہیں۔ درآمدات اور جاری کھاتوں کا خسارہ کنٹرول میں رکھنے کے لیے ان اقدامات کو جاری رکھیں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
مشکل فیصلوں کی وجہ سے انتخابی مسائل کا سامنا کرنا پڑا: مفتاح اسماعیل
ڈالر کی قدر 222 روپے کی سطح پر پہنچنے کے بعد وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ قیاس آرائیوں اور سٹے بازی کا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے مشکل فیصلے کیے، مزید مشکل فیصلے کر رہے ہیں۔ اب میری ترجیح یہ ہے کہ ملک ڈیفالٹ نہ کرے اور اس کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف سے کیے گیے معاہدے کی پیروی بہت ضروری ہے۔ اگر ہماری حکومت چلتی رہے گی تو ملکی مفاد میں ہے۔ اگر کوئی اور حکومت آتی ہے تو انھیں آئی ایم ایف سے معاہدے پر عمل کرانا ہوگا۔
’آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی کے بعد کسی نئی حکومت کو آئی ایم ایف سے دوبارہ مذاکرات نہیں کرنے پڑے گے بلکہ اس پر عملدرآمد کرانا ہوگا۔‘
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے کیے گئے مشکل فیصلوں کی وجہ سے انتخابی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ’پارٹی اگر ساتھ نہ کھڑی ہوتی تو میری چھٹی ہوجاتی۔‘
ملک کو مزید یرغمال بنانے کی کوشش کی تو فیصلہ عمران خان کریں گے: فواد چوہدری
،تصویر کا ذریعہEPA
مرکزی سینیئر نائب صدر تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخاب میں عبرتناک شکست نے 13 جماعتی اتحاد کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بُری طرح مجروح کیا ہے۔
حکومتی اتحادیوں کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ پنجاب کے انجام کے بعد عام انتخابات کا سوچ کر ہی کٹھ پتلیوں کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔ ’
پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ مرکزی حکومت تو پہلے ہی سے وینٹیلیٹر پر ہے، یہ طے کرنا ان کے بس میں ہی نہیں کہ انھوں نے کتنی دیر رہنا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ فیصلہ ہم ہی نے کرنا ہے مگر ابھی ان کو موقع دے رہے ہیں کہ کچھ عقل کا فیصلہ کرلیں۔ سازش سے اقتدار ہتھیانے والے ملکی بقا و مستقبل کی قیمت پر حکومت پر قابض رہنا چاہتے ہیں۔ عوام نے دوٹوک انداز میں فیصلہ سنایا ہے کہ وہ عمران خان کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
’فوری صاف شفاف انتخابات چیئرمین عمران خان کے بیانیے کا کلیدی جزو ہے۔ سنگین ترین سیاسی عدمِ استحکام اور روپے کی قدر میں تاریخی گراوٹ ہر صاحبِ شعور پاکستانی کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ ملک و قوم کو عوام کے مسترد شدہ کرپٹ گروہ کی ضد کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاسکتا۔ ایک بھگوڑے اور اس کے کرپٹ حواریوں کی مرضی سے نہیں 22 کروڑ عوام کے مفاد کے مطابق فیصلہ سازی وقت کی ضرورت ہے۔‘
فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ ’جب بھی انتخاب میں جائیں گے، انجام اس سے بھی عبرتناک ہوگا۔ الیکشن کمیشن پر اپنی مرضی کے فیصلوں کے لیے دباؤ ان کے کسی کام نہیں آئے گا۔ چپڑاسیوں اور فالودے والوں کی فوج کھڑی کرنے والوں کو فنڈنگ کیس کا فیصلہ مانگتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔
’شریفوں کو اعزاز حاصل ہے کہ جماعتی اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ’لوہے کے کھوکھلے‘ چنوں سے بھڑھکیں مروانے کی بجائے عقل سے کام لیں اور رخصتی کی تیاری کریں۔ جو قوم اب تک مشرف کا این آر او نہیں بھولی وہ این آر او ٹو بھی نہیں بھلائے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’انتخاب کی تاریخ کا اعلان کر کے پاکستان کو بحران سے نکلنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ مزید ملک کو یرغمال بنانے کی کوشش کی تو فیصلہ عمران خان کریں گے۔‘
’میدان خالی نہیں چھوڑیں گے، بھرپور مقابلہ کریں گے‘
،تصویر کا ذریعہDGPR
مسلم لیگ ن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کی زیر صدارت صوبائی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، اتحادی جماعتوں اور آزاد ارکان نے شرکت کی۔
مسلم لیگ ن کے مطابق مشترکہ اجلاس میں تمام ارکان نے حمزہ شہباز کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
اس موقع پر حمزہ شہباز نے کہا کہ ’سدا بادشاہی اللہ تعالٰی کی ہے۔ 1993 سے بحیثیت سیاسی کارکن محاذ پر ڈٹا ہوا ہوں۔ خوب جانتا ہوں کہ مقابلہ کیسے کیا جاتا ہے۔ نہ ہار ابدی ہے نہ کسی جیت کو دوام حاصل ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مشن پاکستان کو بچانا اور سنوارنا ہے جو انشا اللہ جاری رہے گا۔ ہم چاہتے تو پی ٹی آئی کی طرح ریاست کو نقصان پہنچا کر سیاست کر سکتے تھے لیکن ہم نے ریاست کو مقدم رکھا۔ وطن عزیز پاکستان ہمیں ہر چیز پر مقدم ہے، پاکستان کو پی ٹی آئی کی مچائی تباہی نکال لیا تو خود کو کامیاب سمجھیں گے۔
خوشحال پاکستان ہماری منزل ہے جس تک انشا اللہ ضرور پہنچیں گے۔‘
اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ’میدان خالی نہیں چھوڑیں گے، بھرپور مقابلہ کریں گے۔‘
اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے 22 جولائی کو ہونے والے اجلاس کے بارے میں حکمت عملی طے کی گئی جس دوران پنجاب اسمبلی میں وزارت اعلی کا الیکشن ہوگا۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف کے امیدوار سپیکر پرویز الہی ہیں۔
وزیر خارجہ یا وزیر اعظم سے سائفر چھپانے کا دعویٰ بے بنیاد: دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ نے ’میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اس دعوے کو سراسر بے بنیاد قرار دیا کہ واشنگٹن میں سفارتخانے سے موصول ہونے والے سائفر کو وزیر خارجہ یا وزیر اعظم سے چھپایا گیا تھا۔‘
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایسا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دفتر خارجہ پیشہ ورانہ بنیادوں پر کام کرتا ہے اور اس کے کام پر شکوک و شبہات کا اظہار کرنا نقصان دہ ہوگا۔‘
4 جولائی کو ایک پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کے چیف آف سکیورٹی سٹاف شہباز گل نے کہا تھا کہ ’سازش کا آغاز یہاں سے ہوا جب شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم عمران خان سے سائفر چھپایا گیا۔‘