وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب: ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم، سپریم کورٹ کا پرویز الٰہی سے آج رات ہی حلف لینے کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز کے وزارت اعلیٰ کے نوٹیفیکیشن کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے اور گورنر پنجاب کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں۔

لائیو کوریج

  1. ’عوام ہینڈلرز اور الیکشن کمیشن کو پنجاب میں اپنا مینڈیٹ چرانے نہیں دیں گے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام ہینڈلرز اور الیکشن کمیشن کو پنجاب میں اپنا مینڈیٹ چرانے نہیں دیں گے۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت گرانے کی امریکی سازش کے ذریعے لائی گئی امپورٹڈ حکومت نے سب سے پہلے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں حکومتی اور ریاستی مشینری کے ذریعے دھاندلی کی کوشش کی جس میں جانبدار چیف الیکشن کشمنر سکندر سلطان نے غیر معتبر الیکشن کمیشن کی سربراہی کی۔ ایک انتہائی باشعور اور پُرعزم عوام مذموم ڈیزائن کی ناکامی کو یقینی بنانے کے لیے ثابت قدم رہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’اب جرائم کے بادشاہ، زرداری اور شہباز شریف اپنا این آر او ٹو حاصل کر کے لوٹی ہوئی دولت پنجاب کے ایم پی ایز کو خریدنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں جو کہ قانون کا مذاق اُڑاتے ہیں اور ہمارے آئین کی بے حرمتی ہے۔ میری پاکستان کے ان لوگوں سے اپیل ہے کہ جنھوں نے 17 جولائی کو پنجاب کے الیکشن چوری کرنے کا منصوبہ ناکام بنایا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’انھیں اب پورے پاکستان میں احتجاج کے لیے نکل کر اپنے مینڈیٹ کی حفاظت کرنی چاہیے۔ میں آج رات نو بجے احتجاج سے خطاب کروں گا۔

    ’بدمعاشوں، ان کے ہینڈلرز اور الیکشن کمیشن کو واضح جانا چاہیے کہ لوگ آپ کو پنجاب میں اپنا مینڈیٹ چرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

  2. ’پی ٹی آئی میں جن کا ضمیر زندہ ہے وہ پرویز الہی کو ووٹ نہیں دیں گے‘

    رانا ثنا اللہ

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صفوں میں ایسے ارکان موجود ہیں جو کل پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے دوران اپنے امیدوار پرویز الہی کو ووٹ نہیں دیں گے۔

    پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ نے کہا کہ 371 ارکان میں سے تحریک انصاف کے پانچ نہیں بلکہ پچاس لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ غلط ہو رہا ہے۔ ’ارکان ووٹ کا حق استعمال کر سکتے ہیں یا اس سے خود کو روک سکتے ہیں‘

    انھوں نے تحریک انصاف پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے خود ہمارے لوگوں کو خریدا۔ میں نے یہ امکان ظاہر کیا تھا کہ یہ ہوسکتا ہے۔ امکان موجود ہے کہ پی ٹی آئی کی صفوں میں ایسے لوگ ہیں جن کا ضمیر زندہ ہے اور شعور رکھتے ہیں۔

    ’وہ چوہدری پرویز الہی کو ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے۔ لوگ پوچھیں گے کہ پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو کو ہم کیوں ووٹ ڈالیں گے۔ پرویز الہی کے مطابق پنجاب اسمبلی کی اہمیت اتنی سی ہے کہ وہ عمران خان کے کہنے پر دو سینکڈ میں اسمبلی توڑ دیں گے، پھر ساتھ یہ کہتے ہیں کہ میں سوچوں گا بھی نہیں۔‘

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’مسلم لیگ ن سیاسی طور پر سب سے رابطے کر رہی ہے۔ یہ ہمارا جمہوری اور سیاسی حق ہے۔ ویڈیوز تو آپ کی پکڑی جا رہی ہیں جس میں پیمنٹ ہونے اور کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔

    ’پیسوں کا معاملہ ہمیشہ آپ کے اردگرد رہا ہے۔ آپ نے کبھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکا۔ مسلم لیگ ن ارکان کی خرید و فروخت میں ملوث نہیں۔ پرویز الہی وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کا حق نہیں رکھتے۔ معزز ممبران کو اپنا ووٹ ضائع نہیں کرنا چاہیے، ہم اپنی سیاسی حکمت عملی اپنائیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اتحادی جماعتوں نے عدم اعتماد کی تحریک پر اتفاق کیا تھا۔ ہمیں کسی نے مجبور نہیں کیا تھا۔ مسلم لیگ ن کی سی ای سی میں نواز شریف سے اس پر مشاورت کی گئی اور یہ مسلم لیگ ن کا فیصلہ تھا۔ ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا ہے اور اس کی سیاسی قیمت ادا کی ہے، ریاست و ملک کو اہمیت دی ہے۔‘

  3. جرم ہوگا تو توہین ہوگی، مفروضے پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں کر سکتے: سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی طرف سے وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست پر سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفروضوں پر کارروائی آگے نہیں بڑھا سکتے۔

    دوران سماعت جسٹس منصب اختر نے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کے وکیل سے استفسار کیا کہ اپ کے مؤکل کے ایم پی اے کے ساتھ بات کس تاریخ ہوئی اور اصل بیان حلفی کدھر ہے، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ اصل بیان حلفی لاہور میں ہیں، اس ہر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آئی ایم سوری اس کا مطلب ہے آپ کو کی بھی علم نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ تینوں بیان حلفی پرعبارت ایک جیسی ہے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ ہمارے یکم جولائی کے حکم کی کیا خلاف ورزی ہوئی؟ انھوں نے کہا کہ عطا تارڑ اور ایم پی اے راحیلہ کے خلاف آپ کی توہین عدالت کی درخواست نہیں، جس ہر فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ عدالت راحیلہ اور عطا تارڑ کے خلاف سوموٹو لے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ سوموٹو لینا چیف جسٹس کا اختیار ہے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ اگر ریاستی مشینری سے بندے اٹھائے جائیں تو یہ فوجداری جرم ہوگا اور جب یہ جرم ہوگا توہین تب ہوگی۔ کسی جرم کو پہلے فرض نہیں کر سکتے۔

    سپریم کورٹ نے پرویز الٰہی کے وکیل کو توہین عدالت سے متعلق مزید شواہد ریکارڈ پر لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کا جو الزام لگایا ہے اس کو ثابت کریں تاکہ پتا چلے عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی کے نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہم یہاں پر بیٹھے ہیں اور ہماری آنکھیں بند نہیں ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ہماری نظر اپنے حکمنامے اور قانون پر ہے۔

  4. مفروضوں پر توہین عدالت کیسے کریں، تین بیان حلفی میں ایک ہی قسم کی زبان استعمال کی گئی: سپریم کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ میں رانا ثنا اللہ کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے درخواست کی سماعت کی۔

    پرویز الٰہی کے وکیل نے تحریک انصاف کے تین ارکان صوبائی اسمبلی کے بیان حلفی عدالت کے سامنے پیش کیے۔

    وکیل فیصل چوہدری نے عدالت میں رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس اور نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ پڑھا۔

    فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ نے کہا پانچ بندے ادھر ادھر ہو جائیں گے، جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کہاں ہوئی ہے، یہ بتائیں۔

    انھوں نے کہا کہ مفروضوں پر تو ہم توہین عدالت کی کارروائی نہیں کر سکتے۔

    چوہدری پرویز الہی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ن لیگی ایم پی اے راحیلہ نے عطا تارڑ کے ذریعے پیسے دینے کے لیے ایم پی اپز کو کال کی، جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ کسی بھی بیان حلفی پر تاریخ درج نہیں کہ کب کال کی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ تینوں بیان حلفی میں ایک ہی قسم کی زبان استعمال کی گئی ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ عطا تارڑ اور ایم پی اے راحیلہ کے خلاف کوئی توہین عدالت کی درخواست دائر نہیں کی گئی اور ایسے حالات میں کیسے تسلیم کر لیں کہ کالز کی گئیں اور پیسے آفر کیے گئے۔

  5. حلقہ پی پی 7: تحریک انصاف کی دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد

    الیکشن کمیشن نے حلقہ پی پی سات میں دوبارہ گنتی سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف کے امیدوار کی دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    خیال رہے کہ راولپنڈی کے مضافاتی علاقے میں پنجاب اسمبلی کے اس حلقے میں تحریک انصاف کے امیدوار 49 ووٹ سے ہار گئے تھے، جس کے بعد انھوں نے دوبارہ گنتی کی درخواست کی۔ اس سے قبل درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو عدالت نے انھیں الیکشن کمیشن کا رستہ دکھایا۔

    الیکشن کمیشن نے آج سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا اور پھر یہ درخواست نمٹا دی۔

  6. وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب: اجلاس کے لیے ضابطہ اخلاق جاری, میڈیا کو کوریج کی اجازت ہو گی، پولیس عمارت سے باہر رہے گی

    سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 22 جولائی کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے فری اینڈ فیئر الیکشن کے انعقاد کے لیے پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا ہے۔

    ضابطہ اخلاق کے مطابق اسمبلی سیکرٹریٹ میں اراکین اسمبلی اور اسمبلی عملے کے مہمانوں کے داخلے پر مکمل پابندی ہو گی۔

    سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی نے ایک نوٹیفکیشن مے کہا کہ سپیکر باکس، آفیسر باکس اور مہمانوں کی گیلریاں بند ہوں گی، تاہم میڈیا گیلری کھلی ہو گی۔

    میڈیا پریس گیلری کے ذریعے وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن کی کوریج کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ اراکین اسمبلی سے گزارش ہے کہ اسمبلی کی طرف سے جاری کردہ شناختی کارڈ ہمراہ رکھیں۔ ایوان میں موبائل فون لے جانے پر پابندی ہو گی۔

    اراکین اسمبلی کا اسمبلی سیکرٹریٹ میں داخلہ ڈیوٹی فری شاپ کی طرف واقع گیٹ سے ہو گا۔ ان کے مطابق پولیس اسمبلی سیکرٹریٹ کی چار دیواری کے باہر انتظامی معاملات کنٹرول کرے گی۔

  7. ڈالر کی اڑان جاری، ایک ڈالر 228 روپے تک پہنچ گیا, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان میں مقامی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں ہونے والا اضافہ جمعرات کے روز بھی جاری ہے اور اب تک کاروبار کے دوران ایک ڈالر کی قیمت میں 3.08 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد ایک ڈالر کی قیمت 228 کی سطح تک پہنچ گئی۔

    گزشتہ روز ایک ڈالر کی قیمت 225 کی حد کو چھونے کے بعد 224.92 پربند ہوئی تھی۔

    جمعرات کے روز کرنسی ڈیلرز کے مطابق روپیہ کاروبار کے آغاز پر ہی دباؤ کا شکار نظر آیا۔ ان کے مطابق سیاسی بحران میں ہونے والا اضافہ اور اس کے ساتھ ڈالر کی بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی قیمت پاکستانی روپے کی قدر کو گرا رہی ہے۔

  8. الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے 19 نومنتخب ارکان کا نوٹیفکییشن جاری کردیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پاکستان کے الیکشن کمیشن نے صوبائی اسمبلی پنجاب کے 19 نو منتخب ارکان کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جبکہ پی پی 7 راولپنڈی کا کیس لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے حکم پر آج الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر ابھی اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں اور انھوں نے دوران سماعت یہ واضح کیا ہے کہ اس حلقے کی طرف سے دوبارہ گنتی کی کوئی درخواست الیکشن کمیشن کو موصول ہی نہیں ہوئی ہے مگر پھر پراپیگنڈہ شروع کر دیا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ایسا نہیں کیا۔

  9. سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی: شیریں مزاری کا الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام

    پاکستان تحریک انصاف کی سینیئر رہنما اورسابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ جب کراچی میں تحریک انصاف کی مہم نے زور پکڑا تو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم گھبرا گئی تھیں تو پھر ایسے میں جانبدار الیکشن کمیشن نے ان جماعتوں کو نوازنے کے لیے سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کر دیے۔

    چیف الیکشن کمشنر کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ اپنی بچی کھچی عزت بچا کر فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. وفاقی کابینہ آج ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر غور کرے گی

    وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج ہوگا۔ وفاقی کابینہ چھ نکاتی ایجنڈے سمیت ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔

    وفاقی کابینہ آج کے اجلاس میں فیڈرل لینڈ کمیشن کے چیئرمین کی نامزدگی کی منظوری دے گی۔ اجلاس میں افغانستان میں تین پاکستانی ہسپتالوں کے لیے رقوم کے اجرا کی منظوری دی جائے گی اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت ملٹی ماڈل ائیر روڈ کوریڈو کی منطوری بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

    کابینہ کے اجلاس میں پاکستان اور ترکی کے درمیان گڈز آئٹمز کی تجارت کا معاہدہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

    کابینہ ای سی سی کے 20 جولائی کے فیصلوں کی توثیق کرے گی۔

  11. عمران خان آج لاہور پہنچیں گے، امید ہے پنجاب میں اکثریت حاصل کر لیں گے: فواد چوہدری

    سابق وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان آج لاہور پہنچیں گے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کریں گے اور نامزد وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات بھی کریں گے۔

    فواد چوہدری نے اپنے ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ کل (بدھ) کے بھرپور ردعمل کے بعد اب معاملات مکمل قابو میں ہیں امید ہے کامل اکثریت حاصل کر لیں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ: عمران خان 30 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں سابق وزیر اعظمُ عمران خان کی عبوری درخواست ضمانتوں پر سماعت سیشن جج کامران بشارت مفتی نے کی اور توڑ پھوڑ کے مقدمے میں ضمانت کے لیے عمران خان کو 30 جولائی کو ذاتی طور پر طلب کر لیا ہے۔

    عدالت نے آج دوران سماعت عمران خان کو دس مقدمات میں حاضری سے استثنیٰ دے دیا مگر گیارویں مقدمے میں ان کی پیشی کو لازمی قرار دیا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل عمران خان نے اپنے وکیل کے ذریعے تھانہ کوہسار میں درج مقدمے میں اسلام آباد کی ایک ضلعی عدالت میں ضمانت کے لیے رجوع کر لیا۔

    عدالت نے عمران خان کی دس مقدمات عبوری ضمانتوں میں 30 جولائی تک توسیع کر دی۔ تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ تھانہ کوہسار کے مقدمے میں ضمانت کے لیے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہو گا۔

    عدالت نے عمران خان کے آج لاہور میں ہونے کی وجہ سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی۔

    جج نے عمران خان کے وکیل سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ آپ کا سیاسی معاملہ ہے لیکن ملزم کا پیش ہونا بھی ضروری ہے۔

    جج نے کہا کہ کوہسار تھانے میں درج مقدمے میں ملزم عمران خان کی طرف سے ضمانت کی درخواست پر فیصلہ ملزم کے پیش ہونے پر ہی ہو سکے گا۔

  13. عمران خان کے خلاف توڑ پھوڑ سے متعلق 11 مقدمات پر سماعت آج ہوگی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/PTI

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف 11 مقدمات میں درخواست ضمانتوں پر سماعت آج ہو گی۔

    خیال رہے کہ لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کرنے پرعمران خان سمیت دیگر کے خلاف اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔

    عمران خان کے خلاف تھانہ کوہسار میں تین، آبپارہ، سیکریٹریٹ، آئی نائن میں ایک ایک، ترنول میں دو، کراچی کمپنی میں ایک اور گولڑہ میں دو مقدمات درج ہیں۔

    اس مقدمے کی گذشتہ سماعت پر جج کامران بشارت مفتی نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 21 جولائی تک توسیع کی تھی۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی۔

  14. سندھ میں بلدیاتی انتخابات اور حلقہ این اے 245 کے ضمنی کا انتخاب خراب موسم کے باعث ملتوی

    الیکشن کمیشن نے سندھ بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ممکنہ بارشوں اور خراب موسم کے باعث ملتوی کر دیا۔

    آج الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس ہوا جس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کی۔ اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن کے علاوہ سیکریٹری الیکشن کمیشن اور دیگر سئنیر افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں الیکشن کمیشن نے مختلف امیدواروں اور پبلک کی طرف سے ان درخواستوں کا جائزہ لیا جس میں الیکشن کمیشن سے حالیہ بارشوں کی وجہہ سے نقصانات ، موجودہ موسمی حالات اور محرم الحرام ضمنی انتخاب این اے حلقہ 245 ۔ کراچی شرقی جو مورخہ 27 اگست 2022 کو ہونے تھے اور دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات جو مورخہ 24 جولائی 2022 کو ہونے تھے انہیں محرم الحرام کے بعد کروانے کی درخواست کی گئی تھی۔

    ان درخواستوں پر غور کرنے سے پہلے صوبائی الیکشن کمشنر سندھ اور محکمہ موسمیات سے رپورٹ طلب کی گئی۔

    محکمہ موسمیات نے مذکورہ بالا دنوں میں بارشوں کی پیشن گوئی کی۔ مزید صوبائی الیکشن کمشنر نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے آمد و رفت کے ذرائع، پولنگ سٹیشنوں کی بلڈنگوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات، پولنگ کے سامان کی ترسیل، بارشوں کی وجہ سے عوام کے ووٹ ڈالنے میں دشواری اور دیگر انتظامی امور کو مد نظر رکھتے ہوئے پولنگ کی تاریخ کو ملتوی کرکے محرم الحرام کے بعد مناسب تاریخوں کا اعلان کیا جائے۔

    الیکشن کمیشن نے مذکورہ بالا تمام حقائق کو۔سامنے رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کی پولنگ 24 جولائی کے بجائے 28 اگست 2022 کو ہوگی۔

    جبکہ ضمنی انتخاب حلقہ این اے 245 کراچی مشرقی جس کی پولنگ مورخہ 27 جولائی 2022 کو ہونی تھی اب 21 اگست 2022 کو ہوگی۔

    یہ فیصلہ ووٹروں، امیدواروں کی سہولت اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

  15. ’مسلم لیگ ن سیاسی جوڑ توڑ کے لیے زور لگائے گی، پیسوں والا معاملہ نہیں‘

    رانا ثنا اللہ

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے وضاحت دی ہے کہ انھوں نے پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے انتخاب سے قبل تحریک انصاف کے کسی ارکان کو ’غائب کرنے کی بات نہیں کی۔ میں نے حالات کے پیش نظر امکان ظاہر کیا ہے کہ پانچ، سات بندوں کا اِدھر سے اُدھر ہوجانا ممکن ہے۔‘

    انھوں نے ہم نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تحریک انصاف کے ’ارکان اس لیے نہیں آئیں گے کیونکہ اس (پارٹی) نے 10، 10 کروڑ دے کر ن لیگ کے ارکان کو خریدا ہے۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ ’مسلم لیگ ن کے دو بندے بِکے ہیں۔ جلیل شرقپوری اور غیاث الدین کو دس، دس کروڑ روپے پرویز الہی نے دیے ہیں۔ ایک گجرات میں بیٹھا ہے اور دوسرا بیرون ملک چلا گیا ہے۔‘

    انھوں نے واضح کیا کہ ’مسلم لیگ ن سیاسی طور پر جوڑ توڑ کے لیے اپنا بھرپور زور لگائے گی (تاہم) پیسوں والا معاملہ نہ عدم اعتماد میں ہوا اور نہ ہی اب ہوگا۔‘

    ’میرا تجزیہ ہے کہ الیکشن کے سال میں حکومت بنانا آسان نہیں۔ جو حکومت بنائے گا وہ بھگتے گا۔۔۔ ہم بالکل استعفیٰ نہیں دیں گے۔ اگر صوبائی اسمبلیوں نے مدت پوری کرنی ہے اور قومی اسمبلی نے بھی مدت پوری کرنی ہے۔‘

    ’پنجاب میں ان کی حکومت آٹھ روز تک بھی نہیں چلے گی‘

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر ان پر ’پنجاب داخل ہونے پر پابندی لگائی گئی تو میں ان کے اسلام آباد داخل ہونے پر پابندی لگاؤں گا۔ میں بنی گالا کو لاک کر دوں گا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’یہ پنجاب، کے پی کی اسمبلیاں توڑ دیں تو اکتوبر کا الیکشن ستمبر میں ہوجائے گا۔ آصف علی زرداری سندھ حکومت توڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر کوئی بھی اسمبلیاں نہیں توڑتے تو ہم کیوں وفاقی اسمبلی تحلیل کریں۔‘

    وزیر داخلہ نے کہا کہ پنجاب میں اگر ن لیگ کی حکمت عملی کامیاب نہ ہوئی تو عدم اعتماد کی تحریک کے لیے اسی دن پارلیمانی اجلاس بلایا جائے گا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر 188 وزیر بھی بنا دیے گئے تو ’پنجاب میں ان کی حکومت آٹھ روز تک بھی نہیں چلے گی۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک، الیکشن کی بجائے حکومت، مشکل فیصلوں اورآئینی مدت پوری کرنے کے فیصلے کو ’نواز شریف کی مکمل تائید اور منظوری حاصل تھی۔‘

  16. مختلف نمبروں سے دھمکیاں مل رہی ہیں، تحریک انصاف کے ایم پی اے کا الزام

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پی پی 106 فیصل آباد سے تحریک انصاف کے ایم پی اے عمر فاروق نے الزام لگایا ہے کہ انھیں پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے انتخاب سے قبل دھمکی آمیز کالز موصول ہو رہی ہیں مگر وہ عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔

    ایک ویڈیو پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’مختلف نمبروں سے دھمکیاں مل رہی ہیں کہ اگر پرویز الہی کو ووٹ دیا تو آپ کی اور آپ کی فیملی کی خیر نہیں۔ مختلف ذرائع سے مختلف آفرز ہو رہی ہیں۔‘

    ’2018 میں آزاد جیت کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ خان صاحب کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہوں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ بطور وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو خوددار بنایا اور دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔

  17. ’ہمارے ووٹ چوری کرنے کی کوشش کی گئی تو اگلی کال عمران خان دیں گے‘

    حماد اظہر

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    رہنما تحریک انصاف حماد اظہر نے کہا ہے کہ اگر پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے انتخاب سے قبل ایم پی ایز کے ووٹ چوری کرنے کی کوشش کی گئی ’تو اگلی کال عمران خان دیں گے۔‘

    لبرٹی چوک پر تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہرے سے مخاطب ہوتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ ’اگر لوٹا کریسی کی گئی تو پنجاب کا ہر چوک تحریر سکوائر بن جائے گا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’عمران خان کی اگلی کال کے لیے تیار رہیں۔ اگلی کال جہاں کی آئے گی اس کے بعد کوئی آپ کے مینڈیٹ کو چرانے کی جرات نہیں کرے گا۔ ایک کال آئے گی اور اربوں کی جائیدادیں خاک میں اُڑ جائیں گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایک گھٹیا ایم پی اے کے علاوہ اور کوئی نہیں بِکا۔ اگلی کال لبرٹی چوک کی نہیں کہیں اور کی ہوگی۔‘

    ’وارننگ دیتا ہوں یہ قوم آئینی و جمہوری طریقے سے مینڈیٹ واپس مانگ رہی ہے۔ ہم اس حکومت کو نہیں مانتے۔ ووٹ کو چوری کرنے کی کوشش کی گئی تو تم سری لنکا کا انقلاب بھول جاؤ گے۔‘

  18. آئی ایم ایف پاکستان کو ملنے والی سعودی مالی امداد کا جائزہ لے گا: بلومبرگ

    بلومبرگ کی ایک خبر کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان کو رقم کی منتقلی سے قبل سعودی عرب کے مالی امداد کے وعدے کا جائزہ لے رہا ہے۔

    اس خبر میں ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ آئی ایم ایف یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو چار ارب ڈالر دے گا۔

    جب بلومبرگ نے اس کی تصدیق کے لیے آئی ایم ایف اور پاکستان کی وزارت خارجہ سے رابطہ کیا تو ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    خیال رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدے کے بعد پاکستان کو دو ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔

  19. رکن صوبائی اسمبلی چوہدری مسعود کی رہائش گاہ کے باہر پی ٹی آئی کارکنان کا مظاہرہ

    پی ٹی آئی

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    رکن صوبائی اسمبلی چوہدری مسعود کی مبینہ بیرون ملک روانگی کے بعد لیاقت پور میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ان کی رہائش گاہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

    اس موقع پر کارکنان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی اور انھوں نے ہاتھوں میں لوٹے اور پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے۔ کارکنان کا کہنا تھا کہ ایم پی اے نے مشکل وقت میں پی ٹی آئی کی پیٹھ پیچھے چھڑا گھونپا ہے۔ ایک پی ٹی آئی کارکن کا کہنا تھا کہ ’مشکل وقت میں مبینہ وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کا گھیراؤں کیا جائے گا۔‘

    پولیس کے ساتھ مذاکرات کے بعد کارکن پُرامن طور پر منتشر ہوگئے ہیں۔

  20. مسعود مجید کو پیسوں کی پیشکش نہیں کی، وہ تحریک انصاف سے مستعفی ہوچکے ہیں: عطا تارڑ

    پنجاب کے وزیر داخلہ عطا تارڑ نے فواد چوہدری کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے جس میں ان کا دعویٰ تھا کہ پنجاب حکومت کے وزرا کی جانب سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے الیکشن سے قبل کروڑوں روپے کے عوض ایم پی ایز کو خریدا جا رہا ہے۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ ’اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں اگر میں نے چوہدری مسعود مجید کو 40 کروڑ آفر کیا ہو تو اللہ مجھ پر عذاب نازل کرے۔ اگر آپ جھوٹے ہیں تو اللہ آپ پر عذاب نازل کرے۔‘

    انھوں نے چوہدری مسعود کا استعفیٰ لہراتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک انصاف کے ایم پی اے کا استعفی ہے جو ’اپریل 2022 کا ہے۔ انھوں نے آپ کی پارٹی تحریک انصاف سے نالاں ہو کر یہ استعفی دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پارٹی میں کوئی انصاف نہیں۔‘

    ’استعفے کے بعد آپ ان پر رشوت لینے کا الزام لگا رہے ہیں۔ کیا یہ توہین عدالت نہیں؟ قرآن پر حلف لینے کو تیار ہوں کہ چوہدری مسعود کو کوئی پیسے نہیں دیے۔‘

    انھوں نے تحریک انصاف کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر فواد چوہدری حلف دیں تو میں ہمیشہ کے لیے سیاست چھوڑ دوں گا۔ آپ کو علم نہیں تھا کہ آپ کا ایم پی اے اپریل کو ہی استعفیٰ دے چکا ہے۔‘

    ’اب آپ کے ایم پی اے 187 رہ گئے ہیں۔ ہمارے پاس 180 رکن ہیں۔ ایک استعفیٰ آگیا، اب سات کی گنتی باقی ہے۔ صرف فرق سات کا رہ گیا ہے۔‘

    مسعود

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    ،تصویر کا کیپشنعطا تارڑ کی جانب سے دکھایا گیا چوہدری مسعود کا مبینہ استعفیٰ