سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پی ٹی آئی اور پرویز الہی کی جانب سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف درخواست کی سماعت میں حمزہ شہباز، چیف سیکرٹری پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے گئے جبکہ ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا گیا ہے۔
عدالت میں سماعت کا آغاز ہوا تو بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے دوسرا راونڈ ہوا جس میں پرویز الہی کو 186 جبکہ حمزہ شہباز کو 179 ووٹ ملے۔
بنچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ اسمبلی میں کتنے ارکان موجود تھے جس پر بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ 370 ارکان موجود تھے۔
بیرسٹر علی ظفر نے موقف اختیار کیا کہ آئینی طور پر پرویز الہی وزیر اعلی کا الیکشن جیت گئے لیکن ڈپٹی سپیکر نے انکے 10 ووٹ مسترد کر دیے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئینی طور پر چودھری پرویز الٰہی وزیر اعلی پنجاب ہیں کیوں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمنٹری پارٹی کی ہدایت پر ہی اراکین ووٹ ڈال سکتے ہیں اور پارلیمنٹری پارٹی کے اراکین نے چودھری پرویز الٰہی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا اور 21 جولائی کو لیٹر بھی جاری کیا تھا۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے اپنی رولنگ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا اور پارٹی صدر کے خط کو جواز بنا کر 10 ووٹ مسترد کر دیے جبکہ پارلیمانی پارٹی کے کردار کو نظر انداز کیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی سپیکر کو ذاتی طور پر طلب کر لیتے ہیں، دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کر دیتے ہیں اور ایڈووکیٹ جنرل کو بھی معاونت کے لیے طلب کر لیتے ہیں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی سپیکر ہی بتا سکتے ہیں کہ انھوں نے کس پیرا گراف کا حوالہ دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ ڈپٹی سپیکر الیکشن کا تمام ریکارڈ بھی لیکر آئیں اور اپنے موقف کا دفاع کریں۔
بیرسٹر علی ظفر نے درخواست کی کہ حمزہ شہباز کو حلف ہے سے روکا جائے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پریشان نہ ہوں یہ صرف ایک قانونی سوال ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یاد رکھیں ایسے معاملات غیر تجربہ کاری سے پیش آتے ہیں، یہ معاملہ تشریح سے زیادہ سمجھنے کا ہے۔
عدالت نے چیف سیکرٹری اور حمزہ شہباز کو نوٹس جاری کیے اور ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو بھی طلب کرتے ہوئے سماعت 2 بجے تک ملتوی کر دی۔