آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب: ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم، سپریم کورٹ کا پرویز الٰہی سے آج رات ہی حلف لینے کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز کے وزارت اعلیٰ کے نوٹیفیکیشن کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے اور گورنر پنجاب کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, حمزہ شہباز پیر تک بطور ٹرسٹی وزیر اعلیٰ کام کریں گے، سپریم کورٹ کا حکم

    سپریم کورٹ رجسٹری میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر کارروائی 25 جولائی تک ملتوی کر دی گئی ہے اور پیر کو اسلام آباد میں سماعت ہو گی۔

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اس درخواست پر سماعت کی۔

    ڈپٹی سپیکر کی جانب سے عرفان قادر ایڈووکیٹ کے دلائل سننے کے بعد تین رکنی بنچ نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ بادی النظر میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس ہے۔

    سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ حمزہ شہباز 25 جولائی تک بطور ٹرسٹی وزیر اعلی فرائض ادا کریں گے۔

    عدالت نے حکم دیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے اختیارات محدود ہوں گے اور میرٹ کے برعکس تقرریاں ہوئیں تو کالعدم کر دی جائیں گی۔

    سپریم کورٹ نے مزید حکم دیا ہے کہ وزیر اعلی سیاسی فائدے کے لیے کچھ نہیں کریں گے۔

    عدالت نے حمزہ شہباز کو رسمی اختیارات دیتے ہوئے رولنگ کے خلاف درخواست پر کارروائی 25 جولائی تک ملتوی کر دی ہے جو پیر کو اسلام آباد میں ہو گی۔

  2. عدالت سے درخواست ہے خود کو سپیکر کی جگہ پر رکھیں، عرفان قادر ایڈووکیٹ

    سپریم کورٹ رجسٹری میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت جاری ہے۔۔۔

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کررہا ہے اور ڈپٹی سپیکر کی جانب سے عرفان قادر ایڈووکیٹ دلائل دے رہے ہیں۔

    ڈپٹی سپیکر کے وکیل نے دوست مزاری کی رولنگ پڑھنے کے بعد عدالت سے درخواست کی کہ خود کو سپیکر کی جگہ پر رکھیں، ان کا کہنا ہے کہ میری رائے ہے کہ سپیکر نے سپریم کورٹ کی رولنگ کو درست سمجھا ہے۔

    عرفان قادر ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ پارٹی صدر ہوتا ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب انھوں نے غلط سمجھا ہے۔

    جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ‘آپ کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے فیصلے کو غلط لیا ہے۔

  3. عدالتی حکم کا وہ کونسا حصہ ہے جس پر ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دی؟ چیف جسٹس کا سوال

    سپریم کورٹ رجسٹری میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت جاری ہے۔۔۔

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کررہا ہے۔

    سماعت کے دوران بنچ نے ڈپٹی سپیکر کے وکیل سے استفسار کیا ہے کہ بتائیں عدالتی حکم کا کونسا پیرا ہے جس پر ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دی؟

    چیف جسٹس نے ڈپٹی سپیکر کے وکیل سے پوچھا ہے کہ صرف یہ بتانا ہے کہ عدالتی حکم کا وہ کونسا حصہ ہے جس پر ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دی، وہ پیرا گراف پڑھ دیں۔

    جس کے جواب میں وکیل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ آج پہلی پیشی ہے آپ مشکل امتحان لے رہے ہیں۔

    عدالت نے ڈپٹی سپیکر کے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پڑھیں۔

    جس پر عرفان قادر نے پوچھا کہ پہلے آرڈر پڑھوں یا رولنگ پڑھوں؟

    چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ آپ پہلے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پڑھیں۔

    جس کے بعد ڈپٹی سپیکر کے وکیل نے دوست مزاری کی رولنگ پڑھنا شروع کردی ہے۔

  4. ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی طرف سے عرفان قادر سپریم کورٹ میں پیش

    سپریم کورٹ رجسٹری میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت جاری ہے۔۔۔

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کررہا ہے۔

    ڈپٹی سپیکر کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے استفسار کیا کہ ڈپٹی سپیکر پیش نہیں ہوئے؟ جس کے جواب میں عرفان قادر ایڈوکیٹ نے بتایا کہ وہ دوست مزاری کی طرف سے پیش ہوئے ہیں۔

    جس کے بعد چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ کے پاس ڈپٹی سپیکر کا وکالت نامہ ہے؟

    عرفان قادر نے جواب میں انھیں بتایا کہ جی میرے پاس ان کا وکالت نامہ ہے۔

    کمرہ عدالت میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر، فواد چودھری، عمر ایوب، زلفی بخاری، سبطین خان، سابق گورنر پنجاب عمر چیمہ، سابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار، عندلیب عباس سمیت دیگر رہنما پیش ہوئے ہیں۔

    کمرہ عدالت وکلا اور دیگر افراد سے بھر گیا ہے، دلائل کے لیے وکلا کے کھڑے ہونے کی جگہ بھی کم پڑ گئی ہے۔

  5. ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت دوبارہ شروع

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کررہا ہے۔

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت نے دلائل دینا شروع کر دیے ہیں۔

  6. بریکنگ, وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے: حکمراں اتحاد

    ‎حکمران اتحاد میں شامل تمام جماعتیں چیف جسٹس پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتی ہیں کہ وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔

    حکمران جماعت کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ` ‎قرین انصاف ہوگا کہ عدالت عظمیٰ کے تمام معزز جج صاحبان پر مشتمل فل کورٹ ، سپریم کورٹ بار کی نظرِ ثانی درخواست موجودہ درخواست اور دیگر متعلقہ درخواستوں کو ایک ساتھ سماعت کے لیے مقرر کرکے اس پر فیصلہ صادر کرے کیونکہ یہ بہت اہم قومی، سیاسی اور آئینی معاملات ہیں۔‘

    حکمراں جماعت کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ `‎اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام کی بھاری قیمت قومی معیشت دیوالیہ پن کے خطرات اور عوام مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی صورت ادا کر رہے ہیں۔ ‎عمران خان بار بار سیاست میں انتشار پیدا کر رہا ہے جس کا مقصد احتساب سے بچنا، اپنی کرپشن چھپانا اور چور دروازے سے اقتدار حاصل کرنا ہے۔‘

    حکمران اتحاد کا یہ بھی کہنا ہے کہ جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی پرہر گز کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

    ` آئین، جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی پر ہر گز کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہر فورم اور ہر میدان میں تمام اتحادی جماعتیں مل کر آگے بڑھیں گی اور فسطائیت کے سیاہ اندھیروں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔‘

  7. ہمارے کیسز کو فل بینج کے سامنے رکھیں: مسلم لیگ ن کی درخواست

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نام اپنی ایک ٹویٹ میں پیغام دیا ہے کہ ہمارے کیسز فل بینچ کے سامنے پیش کریں۔

    رانا ثنا اللہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ `ہماری معزز چیف جسٹس آف پاکستان سے یہ درخواست ہے کہ ہمارے کیسز سپریم کورٹ کے فل بینچ کے سامنے رکھیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ`جن ججوں نے ہماری قیادت کے خلاف `بلیک لا ڈکشنری‘ اور `قابل وصول آمدنی‘ کے نام پر فیصلے دیے، وہ ہمارے مقدمات کی سماعت کرنے والی بنچوں کا حصہ نہیں بننے چاہیے۔‘

  8. بریکنگ, ڈپٹی سپیکر الیکشن کا ریکارڈ لے کر آئیں اور اپنے موقف کا دفاع کریں، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پی ٹی آئی اور پرویز الہی کی جانب سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف درخواست کی سماعت میں حمزہ شہباز، چیف سیکرٹری پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے گئے جبکہ ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا گیا ہے۔

    عدالت میں سماعت کا آغاز ہوا تو بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے دوسرا راونڈ ہوا جس میں پرویز الہی کو 186 جبکہ حمزہ شہباز کو 179 ووٹ ملے۔

    بنچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ اسمبلی میں کتنے ارکان موجود تھے جس پر بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ 370 ارکان موجود تھے۔

    بیرسٹر علی ظفر نے موقف اختیار کیا کہ آئینی طور پر پرویز الہی وزیر اعلی کا الیکشن جیت گئے لیکن ڈپٹی سپیکر نے انکے 10 ووٹ مسترد کر دیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آئینی طور پر چودھری پرویز الٰہی وزیر اعلی پنجاب ہیں کیوں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمنٹری پارٹی کی ہدایت پر ہی اراکین ووٹ ڈال سکتے ہیں اور پارلیمنٹری پارٹی کے اراکین نے چودھری پرویز الٰہی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا اور 21 جولائی کو لیٹر بھی جاری کیا تھا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے اپنی رولنگ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا اور پارٹی صدر کے خط کو جواز بنا کر 10 ووٹ مسترد کر دیے جبکہ پارلیمانی پارٹی کے کردار کو نظر انداز کیا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی سپیکر کو ذاتی طور پر طلب کر لیتے ہیں، دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کر دیتے ہیں اور ایڈووکیٹ جنرل کو بھی معاونت کے لیے طلب کر لیتے ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی سپیکر ہی بتا سکتے ہیں کہ انھوں نے کس پیرا گراف کا حوالہ دیا۔

    عدالت نے حکم دیا کہ ڈپٹی سپیکر الیکشن کا تمام ریکارڈ بھی لیکر آئیں اور اپنے موقف کا دفاع کریں۔

    بیرسٹر علی ظفر نے درخواست کی کہ حمزہ شہباز کو حلف ہے سے روکا جائے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پریشان نہ ہوں یہ صرف ایک قانونی سوال ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یاد رکھیں ایسے معاملات غیر تجربہ کاری سے پیش آتے ہیں، یہ معاملہ تشریح سے زیادہ سمجھنے کا ہے۔

    عدالت نے چیف سیکرٹری اور حمزہ شہباز کو نوٹس جاری کیے اور ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو بھی طلب کرتے ہوئے سماعت 2 بجے تک ملتوی کر دی۔

  9. صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی، 7.91 روپے فی یونٹ کے بڑے اضافے کی منظوری, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان میں صارفین کے لیے بجلی کے بیس ٹیرف یعنی بنیادی نرخ میں 7.91 روپے فی یونٹ اضافہ کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان میں پاور شعبے کے ریگولیٹر نیپرا کی جانب سے بجلی کے بیس ٹیرف میں 7.91 روپے یونٹ اضافے کی منظوری ٹیرف میں اضافے کے لیے منعقد کی گئی عوامی سماعت کے دو روز بعد دے دی گئی۔

    واضح رہے کہ بجلی کے بیس ٹیرف میں اضافہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے قرضہ پروگرام بحالی کی شرائط کا حصہ ہے جن کے تحت پہلے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ بھی کیا گیا۔

    نیپرا کے مطابق بجلی کے بیس ٹیرف میں ہونے والا اضافہ جولائی سے لے کر اکتوبر تک تین مراحل میں کیا جائے گا۔

  10. وزیر اعلی کا الیکشن: سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کو طلب کر لیا

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کو الیکشن ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو بجے تک ملتوی کر دی ہے۔

    پنجاب اسمبلی میں وزیراعلی کے متنازع الیکشن کے خلاف تحریک انصاف اور ق لیگ کی درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے لاہور رجسٹری میں سماعت کا آغاز کیا تو بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیے۔

    عدالت نے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی اور ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

  11. پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف تحریک انصاف اور ق لیگ کی درخواست پر سماعت

    پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلی کے متنازع الیکشن کے خلاف تحریک انصاف اور ق لیگ کی درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کا آغاز کر دیا ہے۔

    اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے مطالبہ کیا کہ ن لیگ کے خلاف فیصلے دینے والے ججز کو تریسٹھ اے جیسے کیسز کے بنچز میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔

    واضع رہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی شامل ہیں۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اس فیصلے پر خوشی منائی تھی جس کے نتیجے میں ضمنی الیکشن ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ ق لیگ کے صدر کے خط کی بنیاد پر پرویز الہی کی ووٹ کم ہوئے اور یہ نہیں ہوا کہ دھونس یا دھاندلی سے ووٹ تبدیل کیا گیا ہو۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پاس تحریک عدم اعتماد کا راستہ موجود ہے۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے کہا کہ ایم پی ایز کو 40 کروڑ کی آفر ہوئی، پولیس ہمارے لوگوں کے پیچھے پڑی ہے لیکن ووٹ کا نمبر ثبوت ہے کہ ان کے دعوے جھوٹے تھے۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ انھوں نہ سپریم کورٹ کی رجسٹری کی دیواریں پھلانگی گئیں، دفاتر میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی، ہونا تو چاہیے تھا کہ ان کے خلاف کارروائی کی درخواست دی جاتی لیکن ڈپٹی رجسٹرار رات کو ان کی درخواست وصول کرنے پچنچ گئے۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عوام میں تاثر جاتا ہے کہ جارحانہ رویے کی وجہ سے اداروں میں بیٹھے لوگ رعایت برتتے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ دیا جائے۔

  12. وزیر اعلی پنجاب کا انتخاب: چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ تشکیل

    پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلی کے متنازع الیکشن کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔

    اس بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی شامل ہیں۔

    تحریک انصاف کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دے کر پرویز الہی کی بطور وزیر اعلی جیت کا حکم دیا جائے۔

  13. ملک زرداری سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا، فواد چوہدری

    تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان اقتدار نہیں بلکہ الیکشن کا انعقاد چاہتے ہیں۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک زرداری سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

    انھوں نے کہا کہ ملک معاشی ہی نہیں سیاسی دیوالیہ پن کے قریب پہنچ چکا ہے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ طاقتور قوتوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ملک سے کھلواڑ بند کیا جائے۔

    فواد چوہدری نے اس امید کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ پرویز الہی کی بطور وزیر اعلی پنجاب انتخاب میں جیت کا فیصلہ دے گی۔

  14. ڈپٹی اسپیکر کے رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت: چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پہنچ گئے

    پنجاب اسمبلی میں ق لیگ کے دس ووٹ مسترد کرنے کی ڈپٹی اسپیکر کے رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری پہنچ چکے ہیں۔

    چیف جسٹس پاکستان کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی سپریم کورٹ رجسٹری میں موجود ہیں جہاں تھوڑی دیر میں سماعت کا آغاز متوقع ہے۔

    پولیس کی اضافی نفری بھی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر تعینات ہے اور تحریک انصاف کی قانونی ٹیم بھی موجود ہے۔

    اس سے قبل پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ درخواست سماعت کے لیے مقرر ہو چکی ہے اور میری اطلاعات کے مطابق جج صاحبان آ رہے ہیں۔

  15. بریکنگ, حمزہ شہباز نے دوسری بار وزیر اعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھا لیا

    پنجاب کے نو منتخب وزیر اعلٰی حمزہ شہباز نے ایک بار پھر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

    سنیچر کو تقریب حلف برداری گورنر ہاوس میں منعقد ہوئی جہاں گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔

    تقریب میں مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

    جمعے کو سپریم کورٹ کے حکم پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب پر ووٹنگ ہوئی تھی جس میں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کی ایک متنازع رولنگ کے بعد حمزہ شہباز دوسری بار صوبے کے وزیر اعلی منتخب ہوئے تھے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل حمزہ شہباز 30 مئی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنے تھے۔

    جمعے کو ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے انتخاب کے دوران سپریم کورٹ کے فیصلے اور ق لیگ کے صدر چوہدری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم لیگ ق کے 10 ووٹ مسترد قرار دیے کر حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب برقرار رکھنے کی رولنگ جاری کی تھی جس پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔

  16. بریکنگ, پرویز الٰہی میرا وزیراعلیٰ کا امیدوار تھا اور رہے گا لیکن پی ٹی آئی کا امیدوار نہیں ہوسکتا: چوہدری شجاعت

    پاکستان ملسم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ’پرویز الٰہی میرا وزیراعلیٰ کا امیدوار تھا اور آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا لیکن پی ٹی آئی کا امیدوار نہیں ہوسکتا۔ ‘

    سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ایک تھریڈ میں ان کا کہنا تھا کہ ’اداروں کے ساتھ تیس سال سے ایک تعلق رہا ہے، کیسے اداروں پر تنقید کرنے والوں کی حمایت کر سکتا ہوں۔ ادارے ہیں تو پاکستان میں استحکام ہے۔ ‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ملک اس وقت جس نہج پر پہنچ چکا ہے اس میں تمام لیڈران اپنے ذاتی مفادات اور ذاتی سوچ کو بالائے طاق رکھیں تاکہ ملک مزید بحرانوں کا شکار نہ ہو جائے ورنہ عوام اور ادارے اور ملک مزید نظریوں میں تقسیم ہوگا اور ملک مفاد پرستوں کے ہتھے چڑھ جائے گا۔ ‘

    ایک ٹویٹ میں انھوں نے پرویز الہی سے ذاتی اختلاف کی باتوں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ’سیاسی مخالفت کو ذاتی مخالفت بنا کر غلط معنی نکالنے کی کوشش نہ کریں اور سب کچھ بھول کر صرف اور صرف ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے محاذ آرائی والی سیاست کو ترک کردیں۔‘

    انھوں نے سیاستدانوں سے ذاتی مفادات سے ہٹ کر ملک کی سلامتی کے لیے مفاہمت کی سیات کرنے کو کہا۔

    چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ ’جس کو بھی اقتدار میں آنے کا موقع ملے وہ سیاسی مخالفین کے پاس جائے۔ اور ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے لیے مل بیٹھ کر مشاورت سے آگے بڑھا جائے۔ ‘

  17. بریکنگ, ہمیں سپریم کورٹ سے انصاف کی امید ہے: فواد چوہدری

    پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کی پیٹیشن داخل ہو گی ہے اور ’سپیکر کے غیر آئینی اقدام کیخلاف پیٹیشن کی سماعت کل صبح دس بجے ہو گی۔‘

    سماجی رابھے کے ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا ’ہمیں سپریم کورٹ سے انصاف کی امید ہے۔‘

  18. ’ پہلے مرحلے میں ووٹ دینے والوں کو دوسرے مرحلے میں کیسے روک سکتے ہیں؟‘

    پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے مرکزی قائدین قانونی ٹیم کے ہمراہ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پہنچے ہیں جہاں وہ پنجاب اسمبلی میں آج ہونے والی کارروائی کے خلاف باضابطہ آئینی درخواست داخل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ’پنجاب میں ہماری اکثریت تھی، ووٹنگ میں منتخب ہوا لیکن فیصلہ ہمارے خلاف دیا گیا۔ ‘

    ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں آج پھر پولیس کو بلایا گیا۔ حالانکہ ہدایت کی گئی تھی کہ اندر پولیس نہیں آئے گی۔

    پرویز الہی کا کہنا تھا کہ سپیکر کے خلاف آرٹیکل چھ لگتا ہے انھوں نے غداری کی ہے۔ پرویز الہی چوہردی شجاعت کی پارٹی حیثیت سے متعلق صحافیوں کے سوال ٹال گئے۔

    اس موقعے پر راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار پارٹی ووٹ کے حساب سے نتائج کا اعلان ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں وزیر اعلی کے انتخاب کے لیے یہ دس لوگ ووٹ دے چکے تھے۔ آپ دوسرے مرحلے میں انہیں کیسے روک سکتے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کے ان کے ارکان کو چوہدری شجاعت کے اس خط کا علم ہی نہیں تھا۔

  19. بریکنگ, وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سکیورٹی میں اضافہ

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے مطابق تمام اہم مقامات و تنصیبات کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز اور لاء اینڈ آرڈر کو پولیس اور ایف سی کے اضافی دستے مہیا کردیے گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق ٹریفک کے بہاؤ کو برقرار رکھنے اور امن وامان کو بحال رکھنے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔

    بیان میں اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ جہاں کوئی لوگ اکٹھے ہوں گے ان کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ بڑھا دی گئی ہے۔

    پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کے متعلق پولیس کو فوری اطلاع دیں۔

  20. قمر زمان کائرہ: آصف علی زرداری نے کوئی شب خون نہیں مارا

    قمرزمان کائرہ نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری نے کوئی سازش نہیں کی اور نہ ہی کوئی شب خون مارا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں کا کوئی رکن نہیں ٹوٹا ہے بلکہ یہ ووٹ اُن کے مطابق تکنیکی بنیادوں پر مسترد ہوئے ہیں۔

    قمر زمان کائرہ نے کہا کہ جس دن سے چوہدری پرویز الٰہی نے زرداری کے بجائے عمران خان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا، اسی دن چوہدری شجاعت نے کہا تھا کہ وہ اس بات سے خوش نہیں ہیں۔