پاکستان
کی سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے
معاملے پر سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ میں متفقہ کہا گیا ضمنی انتخاب کے بعد وزیراعلیٰ
پنجاب کا انتخاب کرایا جائے۔ عدالت کو رضا مندی دی گئی ضمنی الیکشن ہونے دیا جائے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ یقین دہانی بھی دی گئی کہ ضمنی الیکشن کے
نتائج پر رن آف الیکشن کرایا جائے۔
اس موقع پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ کیا حمزہ شہباز عدالت میں
موجود تھے۔
اس کے جواب میں پرویز الہی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’جی حمزہ شہباز، پرویز
الہیٰ دونوں پیش ہوئے تھے اور وزیراعلیٰ پنجاب کے دونوں امیدواروں نے کہا تھا کہ ضمنی
انتخاب کے بعد الیکشن پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نظرثانی اپیلوں کا اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف
اپیلوں کا انتظار کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
جس پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اتفاق رائے سے جاری کیے گئے یکم جولائی کے فیصلے
کیخلاف نظرثانی بھی دائر نہیں کی گئی، یہ معاملہ اب حتمی طور پر طے ہو چکا ہے۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ فریق دفاع کے مطابق منحرف
ارکان کے کیس میں ہدایات پارٹی ہیڈ عمران خان نے دی۔ فریق دفاع کا کہنا ہے الیکشن
کمیشن کا فیصلہ کالعدم ہوا تو 25 ارکان بحال ہو جائیں گے۔
فریق دفاع کا کہنا ہے اپیل منظور ہونے سے حمزہ کے ووٹ 197 ہو جائیں گے۔ الیکشن
کمیشن کے فیصلے کے بعد بہت ساری پیشرفت ہو چکی ہے۔
وکیل پرویز الہی کا کہنا تھا کہ وزارت اعلیٰ کے الیکشن پر ہائیکورٹ کا فیصلہ آ
چکا ہے۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ پاسٹ اینڈ کلوز ٹرانزیکشن ہو
چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یکم جولائی کو سپریم کورٹ نے وزارت اعلیٰ کے الیکشن پر
متفقہ فیصلہ دیا۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی کو وزیر اعلیٰ کا الیکشن
ضمنی انتخابات کے بعد ہونے کا حکم فریقین کے اتفاق رائے سے تھا، انھوں نے سوال کیا
کہ کیا ضمنی انتخابات کے بعد منحرف ارکان کی اپیل تک سماعت روکنے کا اعتراض ہو
سکتا ہے؟
اس پر پرویز الہی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ اصولی طور پر منحرف ارکان کی
اپیلوں کو پہلے سننے کا اعتراض نہیں بنتا۔