آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب: ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم، سپریم کورٹ کا پرویز الٰہی سے آج رات ہی حلف لینے کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز کے وزارت اعلیٰ کے نوٹیفیکیشن کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے اور گورنر پنجاب کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, سپریم کورٹ کا ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس پر محفوظ فیصلہ ساڑھے سات بجے سنانے کا اعلان

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے مقدمے کا محفوظ فیصلہ آج شام ساڑھے سات بجے سنانے کا اعلان کیا ہے۔

    اس سے قبل عدالت کی جانب سے محفوط فیصلہ شام پونے چھ بجے سنانے کا کہا گیا تھا۔

  2. بریکنگ, ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس پر فیصلہ محفوظ، شام پونے چھ بجے سنایا جائے گا

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے آج شام پونے چھ بجے سنانے کا اعلان کیا ہے۔

  3. ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی کوشش درست نہیں: چیف جسٹس

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے معاملے پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بھی آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی کوشش کی ہے، جو اچھی ہے لیکن درست نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ تھا کہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کس طرح عدالتی رائے کے مطابق ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ ہدایات پارٹی سربراہ جاری کرتا ہے یا پارلیمانی پارٹی سربراہ؟

    اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مختصر رائے میں کہا منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہ کیا جائے، پارٹی سربراہ یا پارلیمانی پارٹی بارے تفصیلی بحث نہیں کی گئی۔

    جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا عدالتی مبہم ہے۔ اس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ کوئی ابہام نہیں ہے۔کون پارٹی سربراہ ہے، کون پارلیمانی پارٹی سربراہ ہوتا ہے سب واضح ہے۔

    اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی سربراہ کو ووٹ کے لیے ہدایات بارے آٹھ ججوں کا فیصلہ جب تک کالعدم یا نظرثانی نہ کی جائے وہی اصول رہے گا۔

    اس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آپ کی دلیل عجیب و غریب ہے۔ وہاں اس کیس میں تو ووٹنگ کا سوال ہی نہیں تھا۔

    اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اٹھارہویں اور اکیسویں ترمیم میں اکثریتی رائے کا اطلاق ہم پر لازم نہیں ہے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اٹھارویں،اکیسویں ترمیم کیس فیصلے کا اطلاق لازم ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اطلاق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر لازم ہے جس کے جواب میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ نہیں اطلاق لازم نہیں ہے۔

    اس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آپ کے دلائل مطابقت نہیں رکھتے، اگر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے ذہن میں اکیسویں ترمیم کیس فیصلہ تھا تو اسے لکھنا چاہیے تھا۔

  4. عدالت کو رضا مندی دی گئی ضمنی الیکشن ہونے دیا جائے: جسٹس اعجاز الاحسن

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے معاملے پر سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ میں متفقہ کہا گیا ضمنی انتخاب کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب کرایا جائے۔ عدالت کو رضا مندی دی گئی ضمنی الیکشن ہونے دیا جائے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ یقین دہانی بھی دی گئی کہ ضمنی الیکشن کے نتائج پر رن آف الیکشن کرایا جائے۔

    اس موقع پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ کیا حمزہ شہباز عدالت میں موجود تھے۔

    اس کے جواب میں پرویز الہی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’جی حمزہ شہباز، پرویز الہیٰ دونوں پیش ہوئے تھے اور وزیراعلیٰ پنجاب کے دونوں امیدواروں نے کہا تھا کہ ضمنی انتخاب کے بعد الیکشن پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نظرثانی اپیلوں کا اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کا انتظار کرنے کا کہا جا رہا ہے۔

    جس پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اتفاق رائے سے جاری کیے گئے یکم جولائی کے فیصلے کیخلاف نظرثانی بھی دائر نہیں کی گئی، یہ معاملہ اب حتمی طور پر طے ہو چکا ہے۔

    جسٹس اعجاز الااحسن نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ فریق دفاع کے مطابق منحرف ارکان کے کیس میں ہدایات پارٹی ہیڈ عمران خان نے دی۔ فریق دفاع کا کہنا ہے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم ہوا تو 25 ارکان بحال ہو جائیں گے۔

    فریق دفاع کا کہنا ہے اپیل منظور ہونے سے حمزہ کے ووٹ 197 ہو جائیں گے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد بہت ساری پیشرفت ہو چکی ہے۔

    وکیل پرویز الہی کا کہنا تھا کہ وزارت اعلیٰ کے الیکشن پر ہائیکورٹ کا فیصلہ آ چکا ہے۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ پاسٹ اینڈ کلوز ٹرانزیکشن ہو چکی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یکم جولائی کو سپریم کورٹ نے وزارت اعلیٰ کے الیکشن پر متفقہ فیصلہ دیا۔

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی کو وزیر اعلیٰ کا الیکشن ضمنی انتخابات کے بعد ہونے کا حکم فریقین کے اتفاق رائے سے تھا، انھوں نے سوال کیا کہ کیا ضمنی انتخابات کے بعد منحرف ارکان کی اپیل تک سماعت روکنے کا اعتراض ہو سکتا ہے؟

    اس پر پرویز الہی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ اصولی طور پر منحرف ارکان کی اپیلوں کو پہلے سننے کا اعتراض نہیں بنتا۔

  5. بریکنگ, پارٹی سربراہ کے کردار پر کوئی شبہ نہیں، اختیارات پارٹی سربراہ کے ذریعے آتے ہیں: چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے معاملے پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی شبہ نہیں پارٹی سربراہ کا کردار اہم ہے۔ اختیارات پارٹی سربراہ کے ذریعے آتے ہیں،لیکن پارلیمانی پارٹی سربراہ ووٹنگ کے لیے ہدایات جاری کرتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی سربراہ پارلیمنٹرینز کو کہہ سکتا ہے کہ ووٹ کس کو دینا ہے؟

    اس پر پرویز الہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عائشہ گلالئی کیس میں عدالت پارٹی سربراہ کی ہدایات کا طریقہ کار دے چکی ہے۔

    جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ عائشہ گلالئی کیس کا فیصلہ تو آپ کے موکل کے خلاف جاتا ہے۔

    اس کے جواب میں بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عائشہ گلالئی کیس میرے موکل کے خلاف لیکن آئین کے مطابق ہے، عائشہ گلالئی کیس میں بھی منحرف ہونے کا سوال سامنے آیا تھا۔

    اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا عائشہ گلالئی کیس میں لکھا ہے کہ ہدایت کون دے گا؟

    اس کے جواب میں پرویز الہی کے وکیل نے کہا کہ عائشہ گلالئی کیس میں ارکان کو مختلف عہدوں کے لیے نامزد کرنے کا معاملہ تھا۔ عائشہ گلالئی کیس میں قرار دیا گیا کہ پارٹی سربراہ یا اس کا نامزد نمائندہ نااہلی ریفرنس بھیج سکتا ہے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فریق دفاع نے الیکسن کمیشن کے منحرف ارکان کے خلاف فیصلے کا حوالہ دیا ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے جواب میں رولنگ کی بنیاد الیکشن کمیشن کا حکم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیک کے جواب میں تاثر دیا کہ پارٹی سربراہ زیادہ اہم ہے۔

    اس پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ میں الیکشن کمیشن کے فیصلہ ذکر نہیں۔

    اس کے بعد بیرسٹر علی ظفر نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ عدالت میں پڑھ کر سنا دی۔

    سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ جو 25 اراکین صوبائی اسمبلی سے ڈی سیٹ ہوئے ان میں سے کتنے اراکین نے ضمنی انتخاب میں حصہ لیا۔

    جس پر پرویز الہی کے وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ ان میں سے 18 اراکین نے ضمنی انتخاب میں حصہ لیا۔

  6. ’پارٹی سربراہ کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں‘: بیرسٹر علی ظفر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے معاملے پر سماعت کے دوران پرویز الہی کے وکیل علی ظفر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کو ہدایات دے سکتا ہے لیکن ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا۔ ووٹ کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی نے کرنا ہے۔

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پارٹی سربراہ بارے اس کے اہم کردار کی بات کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نواز شریف پارٹی صدارت کیس میں سپریم کورٹ نے کہا پارٹی سربراہ سیاسی جماعت کو کنٹرول کرتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم اس معاملے کو دیکھیں گے۔

    جس پر پرویز الہی کے وکیل علی طفر کا کہنا تھا کہ پارٹی سربراہ کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں۔

  7. بریکنگ, ’ق لیگ کے تمام ارکان کو علم تھا کہ کس کو ووٹ دینا ہے:‘ وکیل پی ٹی آئی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے معاملے پر وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وکیل پی ٹی آئی اور سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس روسٹرم پر آ گئے۔

    انھوں نے عدالت کے سامنے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے سے قبل کچھ باتیں سامنے رکھے، تین ماہ سے وزیر اعلی پنجاب کا معاملہ زیر بحث تھا،

    ق لیگ کے تمام ارکان کو علم تھا کہ کس کو ووٹ دینا ہے۔

  8. بریکنگ, کیا عدالتی فیصلے کو ٹھیک سے پڑھا گیا یا نہیں: جسٹس اعجاز الاحسن, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے معاملے پر سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا کہ کیا ووٹنگ سے پہلے خط پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پڑھا گیا۔

    اس پر پی ٹی آئی کے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ پارٹی سربراہ کی ہدایات بر وقت آنی چاہیے، ڈپٹی سپیکر نے کہا کے مجھے چوہدری شجاعت کا خط موصول ہوا۔

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ چوہدری شجاعت کے وکیل نے کہا خط ارکان کو بھیجا گیا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ خط پولنگ سے پہلے پارلیمنٹری پارٹی کے سامنے پڑھا گیا تھا یا نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے سوال یہ بھی ہے کہ فیصلے کو ٹھیک سے پڑھا گیا یا نہیں۔

    اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دوسرے فریق سن رہے ہیں لیکن کارروائی میں حصہ نہیں لے رہے، اس وقت ان کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے اقوام متحدہ میں مبصر ممالک کی ہوتی ہے۔

    سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن اور فاروق نائیک میں دلچسپ مکالمہ بھی ہوا جب جسٹس اعجاز الاحسن نے فاروق نائیک سے کہا کہ نائیک صاحب اگر کچھ بہتری آ سکتی ہے تو عدالت سننے کے لیے تیار ہے۔

    جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ان مقدمات میں ہم پارٹی پالیسی کے پابند ہوتے ہیں۔

    عدالت نے سماعت کی کارروائی میں دوپہر اڑھائی بجے تک وقفہ کر دیا ہے۔

  9. بریکنگ, فیصلے میں کوئی غلطی نہ ہوجائے اس لیے سب کو معاونت کی کھلی دعوت ہے: چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے معاملے پر سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے روسٹم پر آ کر کہا کہ عدالت کی خدمت میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

    جس پر جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا وفاقی حکومت حکمران اتحاد کے فیصلے سے الگ ہو گئی ہے؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کا کہنا تھا کہ عدالت نے معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو رولز 27 اے کا نوٹس کیا۔ عدالتی معاونت کے نوٹس پر پیش ہو رہا ہو۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 27 اے کے تحت عدالت کی معاونت کروں گا۔

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فیصلے میں کوئی غلطی نہ ہوجائے اس لیے سب کو معاونت کی کھلی دعوت ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جج کا بار بار اپنی رائے تبدیل کرنا اچھی مثال نہیں ہوتی، جج کی رائے میں یکسانیت ہونی چاہیے۔

  10. بریکنگ, ’کیا پارٹی سربراہ صرف سیاسی جماعت کا سربراہ ہوتا ہے‘: جسٹس منیب اختر کا سوال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے معاملے پر سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ پارٹی سربراہ کی کیا تعریف ہے؟ کیا پارٹی سربراہ صرف سیاسی جماعت کا سربراہ ہوتا ہے؟

    پرویز الہی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف دور میں پارٹی سربراہ کی جگہ پارلیمانی سربراہ کا قانون آیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں پرویز مشرف کے قانون کو ختم کیا گیا۔میری نظر میں جسٹس عظمت سعید کی آبزرویشن آئین کے خلاف ہے۔

    علی ظفر کا کہنا تھا کہ اکیسویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے ایشو نہیں تھا، جسٹس عظمت سعید کی آبزرویشن کی سپریم کورٹ پابند نہیں،

    اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ پارلیمانی لیڈر والا لفظ کہاں استعمال ہوا ہے؟

    اس کے جواب میں علی ظفر کا کہنا تھا کہ سنہ 2002 میں سیاسی جماعتوں کے قانون میں پارلیمانی پارٹی کا ذکر ہوا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹری پارٹی کی جگہ پارلیمانی لیڈر کا لفظ محظ غلطی تھی۔

    اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ آئین کیا کہتا ہے کہ کس کی ہدایات پر ووٹ دیا جائے۔ بیرسٹر علی ظفر نے جواب میں کہا کہ آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایات پارلیمنٹری پارٹی دیتی ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا پارلیمنٹریپارٹی، پارٹی سربراہ سے الگ ہے؟ جس کے جواب میں وکیل پرویز الہی نے جواب دیا کہ پارلیمانی جماعت اور پارٹی لیڈر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

  11. بریکنگ, ’جسٹس جواد خواجہ نے آرٹیکل 63 اے کو خلاف آئین قرار دیا تھا‘: وکیل پرویز الہی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے معاملے پر سماعت کے دوران پرویز الہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اکیسویں ترمیم کیس میں جسٹس جواد خواجہ نے آرٹیکل 63 اے کو خلاف آئین قرار دیا تھا۔

    وکیل پرویز الہی کا کہنا تھا کہ جسٹس جواد خواجہ کی رائے تھی کہ آرٹیکل 63 اے ارکان کو آزادی سے ووٹ دینے سے روکتا ہے۔ جسٹس جواد خواجہ نے فیصلے میں اپنی رائے کی وجوہات بیان نہیں کیں۔

    علی ظفر کا کہنا تھا کہ جسٹس جواد خواجہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا۔ پارلیمانی جماعت اور پارٹی لیڈر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

    جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آئین کے تحت پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کراتا ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارلیمانی جماعت اپنے طور پر تو کوئی فیصلہ نہیں کرتی، سیاسی جماعت کا فیصلہ پارلیمانی جماعت کو آگاہ کیا جاتا ہے جس کی روشنی میں وہ فیصلہ کرتی ہے۔

    چیف جسٹس نے علی ظفر سے سوال کیا کہ آئین کیا کہتا ہے کہ کس کی ہدایات پر ووٹ دیا جائے۔ جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایات پارلیمنٹریپارٹی دیتی ہے۔

  12. بریکنگ, ’قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کریں، دوسرا راستہ ہے کہ ہم بنچ سے الگ ہو جائیں‘: چیف جسٹس

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے معاملے پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے علی ظفر کو ہدایت کی ہے کہ ’قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کریں، دوسرا راستہ ہے کہ ہم بنچ سے الگ ہو جائیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا بائیکاٹ کرنے والے تھوڑا دل بڑا کریں اور کارروائی سنیں۔

    عدالت کی فریقین کو دلائل دینے ہدایت کی جس پر پرویز الہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے گزشتہ روز تفصیلی دلائل سنے، یہاں معاملہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا نہیں ہے، سپریم کورٹ پہلے ہی اس معاملے کی تشریح کر چکی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہاں معاملہ صرف پارٹی ہیڈ کی ڈائریکشن کا ہے، 18ویں ترمیم میں پارٹی ہیڈ کو منحرف ارکان کے خلاف کاروائی کا اختیار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اکیسویں ترمیم کے خلاف درخواستیں 13/4 کے تناسب سے خارج ہوئی تھیں، درخواستیں خارج کرنے کی وجوہات بہت سے ججز نے الگ الگ لکھی تھیں۔

  13. ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس کی سماعت پر بی بی سی لائیو

    سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں نے بینچ پر عدم اعتماد کرتے ہوئے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ دیکھیے سپریم کورٹ سے بی بی سی کا فیس بک لائیو۔

  14. بریکنگ, ابھی تک قانونی سوال کا جواب نہیں دیا گیا، چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے معاملے پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں فل کورٹ بنانے پر ایک بھی قانونی نکتہ نہیں بتایا گیا۔

    چیف جسٹس نے فاروق نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے وقت مانگا تھا اس لیے سماعت ملتوی کی، عدالت میں موجود رہیں اور کارروائی دیکھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالتی بائیکاٹ کرنے والوں نے اتنی گریس دکھائی ہے کہ بیٹھ کر کارروائی سن رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک قانونی سوال کا جواب نہیں دیا گیا، سوال یہ تھا کہ کیا پارٹی ہیڈ پارلیمانی پارٹی کو ہدایات جاری کر سکتا ہے یا نہیں؟

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فل کورٹ بنانے پر ایک نقطہ بھی نہیں بتایا گیا، قانون کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پارٹی ہیڈ پالیسی سے انحراف پر ریفرنس بھیج سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سوال کے لیے فل کورٹ نہیں بنایا جا سکتا، ہم نے تمام فریقین کو قانونی نقطے پر دلائل کے لیے وقت دیا تھا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سنہ 1998 میں نگران کابینہ کو سپریم کورٹ نے معطل کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف ایگزیکٹو ہی کابینہ کا سربراہ ہوتا ہے، اکیسویں ترمیم کا حوالہ پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس عظمت سعید نے اٹھارویں ترمیم میں ابزرویشن دی کہ ووٹ پارٹی ہیڈ کی ہدایات پر دیا جاتا ہے۔اٹھارویں ترمیم اس کیس سے مختلف ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس معاملے پر معاونت درکار ہے۔ اگر کسی نے کچھ غلط سمجھا اسے درست کیا جا سکتا ہے۔ غلط طور پر آئین کو سمجھنے کا مقصد ہے کہ آئین کو درست انداز میں نہیں سمجھا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ 17ججوں میں سے آٹھ ججوں نے اکیسویں ترمیم میں رائے دی۔ لیکن یہ اکثریتی فیصلہ نہیں کیونکہ نو ججز کی اکثریت ہونی چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’گورننس اور بحران کے حل کے لیے جلدی کیس نمٹانا چاہتے ہیں، آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں کون ہدایت دے گا یہ سوال نہیں تھا، تشریح کے وقت سوال صرف منحرف ہونے کے نتائج کا تھا۔‘

    کیا 17 میں سے آٹھ ججز کی رائے کی سپریم کورٹ پابند ہو سکتی ہے؟ فل کورٹ بنچ کی اکثریت نے پارٹی سربراہ کے ہدایت دینے سے اتفاق نہیں کیا تھا۔

  15. بریکنگ, سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس کی سماعت، عرفان قادر کا کارروائی کا بائیکاٹ

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے معاملے پر مقدمے کی سماعت کا آغاز ہو گیا ہے، اور ڈپٹی سپیکر کے وکیل عرفان قادر نے کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہیمیں تین رکنی خصوصی بینچ کیس پر سماعت کر رہا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ کا حصہ ہیں۔

    ڈپٹی سپیکر کے وکیل عرفان قادر پیپلز پارٹی اور چوہدری شجاعت کے وکیل صلاح الدین اعوان سمیت درخوست گزار چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر ڈپٹی اٹارنی جنرل بھی عدالت میں موجود ہیں۔

    سماعت کے آغاز پر عرفان قادر نے عدالت میں کہا کہ میرے مؤکل کی ہدایت ہے کہ عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بننا، ملک میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ چل رہا ہے۔

    انھوں نے عدالت کے سامنے کہا کہ فل کورٹ سے متعلق فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کریں گے۔

    اس موقع پر فاروق نائیک نے بھی عدالت کو کارروائی کے بائیکاٹ سے آگاہ کر دیا۔

    چیف جسٹس نے فاروق نائیک سے مکالمہ کیا کہ آپ تو کیس کے فریق ہی نہیں، اس کے بعد عدالت نے پرویزالٰہی کے وکیل علی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے حکمران اتحاد کی فل کورٹ بنانے کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد حکمران اتحاد نے عدالتی کارروائی کے بائیکات کا اعلان کیا تھا۔

    دورانِ سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارے سامنے فل کورٹ بنانے کا کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا گیا، عدالت میں صرف پارٹی سربراہ کی ہدایات پرعمل کرنے سے متعلق دلائل دیے گئے، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ موجودہ کیس میں فل کورٹ بنانے کی ضرورت نہیں، اصل سوال تھا کہ ارکان کو ہدایات کون دے سکتا ہے، آئین پڑھنے سے واضح ہے کہ ہدایات پارلیمانی پارٹی نے دینی ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اس سوال کے جواب کے لیے کسی مزید قانونی دلیل کی ضرورت نہیں، اس کیس کو جلد مکمل کرنے کو ترجیح دیں گے، فل کورٹ بنانا کیس کو غیر ضروری التوا کا شکار کرنے کے مترادف ہے، فل کورٹ بنتا تو معاملہ ستمبر تک چلا جاتا کیونکہ عدالتی تعطیلات چل رہی ہیں۔

    گزشتہ روز عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ معاملے کی بنیاد قانونی سوال ہے کہ ارکان اسمبلی کو ہدایت پارٹی سربراہ دے سکتا ہے یا نہیں؟

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ سنجیدہ اور پیچیدہ معاملات پر بنایا جاتا ہے اور موجودہ کیس پیچیدہ نہیں۔

  16. بریکنگ, وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب: ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس کی سماعت کچھ دیر میں، فریقین کی عدالت آمد جاری

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع انتخاب میں ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس پر سماعت کچھ دیر بعد شروع ہو گی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ مقدمے کے سماعت کر رہا ہے۔

    گزشتہ روز سپریم کورٹ نے حکمران اتحاد کی فل کورٹ بنانے کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد حکمران اتحاد نے عدالتی کارروائی کے بائیکات کا اعلان کیا تھا۔

    حکومتی اتحاد میں شامل مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ ’ہم (حکومتی اتحاد) عدلیہ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ہم اس بنچ کا بائیکاٹ کریں گے اور اس مقدمے کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    گزشتہ روز عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ معاملے کی بنیاد قانونی سوال ہے کہ ارکان اسمبلی کو ہدایت پارٹی سربراہ دے سکتا ہے یا نہیں؟

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ سنجیدہ اور پیچیدہ معاملات پر بنایا جاتا ہے اور موجودہ کیس پیچیدہ نہیں۔

    سپریمکورٹ میں آج ہونے والی سماعت کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک اور پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں۔

  17. بریکنگ, جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس موخر کرنے کے لیے خط

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو ججز تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس موخر کرنے کے لیے خط لکھ دیا۔

    جسٹس فائز عیسیٰ کی جانب سے لکھے گئے خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی سے پہلے مل بیٹھ کر طے کرنا ہو گا آگے کیسے بڑھنا ہے۔

    خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، سینیئر ججز کو بائی پاس کرنے سے پہلے چیف جسٹس کی نامزدگی کے طریقہ کار کو زیر غور لایا جائے۔ سپریم کورٹ کا موسٹ سینئر جج ججز کی نامزدگی کا طریقہ کار طے کرنے میں ناکام رہا۔

    خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ چیف جسٹسکی طرف سے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جلد بازی سوالیہ نشان ہے، چیف جسٹس چاہتے ہیں2347دستاویز کا ایک ہفتے میں جائزہ لیا جائے۔

    جسٹس فائز عیسیٰ نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ دستاویزات ابھی تک مجھے فراہم ہی نہیں کی گئی، واٹس ایپ کے ذریعے یہ ہزاروں دستاویزات مجھے بھیجنے کی کوشش کی گئی، واٹس ایپ کے ذریعے مجھے صرف 14 صفحات تک رسائی ملی جو پڑھے نہیں جا سکتے۔

    انھوں نے اپنے خط میں لکھا کہ یہ دستاویزات نہ مجھے کورئیر کیے گئے نہ ایمبیسی کے ذریعے بھجوائے گئے۔

  18. ’کل سپریم کورٹ ان پر کیسے اعتماد کرے گی؟‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کا کہنا ہے کہ حکومتی اعتماد نے عدالت پر عدم اعتماد ظاہر کیا ہے تو ’کل سپریم کورٹ ان پر کیسے اعتماد کرے گی؟‘

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’جب انھوں نے کہہ دیا کہ انھیں سپریم کورٹ پر اعتماد نہیں تو کل سپریم کورٹ کل ان پر کیسے اعتماد کرے گی؟ وزیر داخلہ نے سپریم کورٹ کے ججز کی سکیورٹی کا بھی خیال کرنا ہے وہ عدالت کے احاطے میں کہتے ہیں کہ ہم ان کا بائیکاٹ کریں گے۔ عدالت نے ان کی بدتمیزی سنی اور انھیں برداشت کیا۔‘

    شہباز گل نے کہا کہ قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر ’قاسم سوری کی رولنگ پر بھی سپریم کورٹ کے یہی تین ججز تھے۔ سپریم کورٹ کا اس میں کیا قصور ہے؟‘

    ’یہ سپریم کورٹ پر دوبارہ حملہ آور ہوسکتے ہیں۔۔۔ دنیا کی کوئی طاقت موجود نہیں جو (حمزہ شہباز کو پڑنے والے) 179 ووٹوں کو 186 ووٹوں سے اوپر کردے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’آئندہ عدالتیں آپ کی مرضی کی نہیں بنیں گی۔ آپ کو گورنینس بھی نہیں کرنی آتی، پورے پنجاب میں آپ کو ضمنی انتخابات میں شکست ہوئی۔ اخلاقیات یہ تھی کہ آپ عدالت کے فیصلے کو مانتے۔ مگر اب اس (مگر حکومتی اتحاد کے اعلان) کے بُرے نتائج ہوں گے۔ (حکومتی اتحاد کی) پریس کانفرنس کے پاکستان کی صورتحال پر اثرات ہوں گے۔‘

    انھوں نے حکومتی اتحاد سے مطالبہ کیا کہ ’اپنی غلطی مانیں اور انتخابات میں جائیں۔‘

    اس دوران سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومتی اتحاد کی جماعتوں کا ’نظریہ اور منزل ایک نہیں اور ان میں تضاد آج رات سے واضح ہو رہا ہے۔‘ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ماضی میں مسلم لیگ ن نے سپریم کورٹ پر ’جسمانی حملہ کیا تھا اور اب یہ لفظی حملہ ہے۔‘

    تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی نے کہا کہ ’ہم چیف جسٹس صاحب سے اپیل کرتے ہیں کہ کیا آپ کو بھی یہ نہیں مانیں گے؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ میں عدالت کو نہیں مانتا؟ جو ایسا کرے اسے جیل میں ہونا چاہیے۔‘

  19. ’عدلیہ پر غصے کے بجائے اپنے فیصلوں پر نظرکریں‘

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے حکومتی اتحاد کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’عدلیہ پر غصے کے بجائے اپنے فیصلوں پر نظرکریں۔‘

    ادھر اسد عمر کہتے ہیں کہ ’ان کو پتہ ہے ان کے لیے اب کوئی جانے کی جگہ نہیں جہاں عزت اور پیار ملے۔‘

    عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کہتے ہیں کہ ’سپریم کورٹ آف پاکستان نے بدمعاشوں کی بدمعاشی اور دھمکیوں کو مسترد کر دیا ہے جبکہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی ہے۔‘

  20. ’فل کورٹ نہ بنانے کی ایک ہی وجہ ہے۔۔۔ خوف: مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’فُل کورٹ نہ بنانے کی ایک ہی وجہ ہے۔۔۔ خوف ! اپنے ہی کیے ہوئے فیصلوں کا تضاد سامنے آنے کا خوف!‘