آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب: ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم، سپریم کورٹ کا پرویز الٰہی سے آج رات ہی حلف لینے کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز کے وزارت اعلیٰ کے نوٹیفیکیشن کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے اور گورنر پنجاب کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ہمارا اور تمام اتحادی جماعتوں کا ایک ہی مطالبہ ہے فل کورٹ سماعت کرے: بلاول بھٹو

    بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور تمام اتحادی جماعتوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی فل کورٹ سماعت کرے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا اور تمام اتحادی جماعتوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں فل کورٹ چاہیے، یہ نہیں ہوسکتا کہ صرف تین شخص اس ملک کے آئین کا فیصلہ کرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں اس ملک میں جمہوری نظام چلے، ہمیں نظر آرہا ہےکہ کچھ لوگوں کویہ ہضم نہیں ہورہا، آپ سے برداشت نہیں ہورہا ہے کہ عوام اپنے فیصلے خود کریں، آپ سے برداشت نہیں ہو رہا کہ ملک جمہوریت کی طرف جا رہا ہے۔‘

  2. بریکنگ, یہ نہیں ہو سکتا کہ تین افراد ملک کی قسمت کا فیصلہ کریں: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ تین جج ملک کی قسمت کا فیصلہ کریں۔

    اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں کی پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ تین افراد ملک کی قسمت کا فیصلہ کریں کہ ملک جمہوریت کی مطابق چلے گا یا سلیکٹیڈ کی مرضی کے مطابق۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا 70 سال کا قرض ایک طرف عمران خان کے دور حکومت کے چار سال کا قرض ایک طرف ہے۔

  3. ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس: حمزہ شہباز، پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور چوہدری شجاعت کی فل کورٹ بنانے کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی اور چوہدری پرویز الہی کی درخواست کی سماعت سے قبل وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز سمیت پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور صدر ق لیگ چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے بھی فریق بننے اور فل کورٹ بنانے کی درخواست جمع کرا دی گئی ہے۔

    حمزہ شہباز نے درخواست میں آرٹیکل 63 اے کی نظر ثانی کی درخواستیں کی سماعت اور الیکشن کمیشن کے خلاف منحرف ارکان کی اپیلوں کو بھی ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس کے ساتھ ہی سننے کی استدعا کی ہے۔

    حمزہ شہباز کی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کی 22 جولائی کو دی گئی رولنگ درست ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان کے خلاف عمران خان کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کو تسلیم کیا لیکن اگر سپریم کورٹ نے منحرف ارکان کی اپیلیں منظور کر لیں تو صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی۔

    درخواست کے مطابق ایسی صورت میں 25 منحرف ارکان کے نکالے گئے ووٹ بھی گنتی میں شمار ہونگے۔

  4. بریکنگ, کیا سارے ازخود نوٹس مسلم لیگ ن کے لیے ہیں؟: مریم نواز

    مریم نواز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’میں پوچھتی ہوں کہ کیا سارے ازحود نوٹس مسلم لیگ ن کے لیے ہیں؟ عمران خان نے عدلیہ کی بے توقیری کی گئی لیکن آپ نے اس جھوٹے شخص کو صادق اور امین قرار دے دیا۔

    انھوں نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے دھرنے کے وقت بھی عمران خان کو اسلام آباد آنے کی اجازت دی اور اس نے دارالحکومت کو آگ لگا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں پانچ سال سے عدالتوں میں کھڑی ہوں لیکن علیمہ خان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ میچ فکسنگ کی طرح بینچ فکسنگ بھی جرم ہے۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے الیکشن میں چھ ووٹ مسترد ہوئے تھے، جب سپریم کورٹ گئے تو کہا گیا کہ سپیکر کی رولنگ کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

    دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے رولنگ دی کہ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی مرضی کے خلاف جن اراکین نے ووٹ دیے ہیں وہ شمار نہیں کیے جائیں گے تو سپریم کورٹ نے بلاکران کو کٹہرے میں کھڑا کیا جب کہ وہ بھی ڈپٹی سپیکر کی رولنگ تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح کے فیصلوں کی ایک وہ بھی ہے کہ جب عدالت نے کہا کہ آئین کو توڑا گیا ہے لیکن پھر بھی قاسم سوری کو نہیں بلایا گیا، قاسم سوری کا اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، ان کے جعلی ووٹ ثابت ہوچکے ہیں لیکن ڈھائی سال سے ان کو اسٹے آرڈر ملا ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آئین شکنی کیس میں صدر مملکت اور قاسم سوری ملوث ہیں لیکن انہیں عدالت میں طلب نہیں کیا جاتا جب کہ وزیراعظم شہباز شریف اکثر عدالتوں میں دیکھے جاتے ہیں۔

  5. بریکنگ, عدلیہ کی توہین کوئی شخص نہیں، اس کے متنازع فیصلوں سے ہوتی ہے، مریم نواز

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ کسی بھی ادارے کی توہین کبھی بھی اس کے باہر سے نہیں ہوتی، ادارے کی توہین ادارے کے اندر سے ہوتی ہے، عدلیہ کی توہین کوئی شخص نہیں، اس کے متنازع فیصلوں سے ہوتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں یہاں عدلیہ کی تعریف و توصیف میں لمبا چوڑا مضمون لکھ سکتی ہوں لیکن صرف ایک غلط فیصلہ اس پورے مقدمے کو اڑا کر رکھ دے گا اور اسی طرح اگر فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہو تو اس پر کتنی بھی تنقید کی جائے، وہ تنقید کوئی معنی نہیں رکھتی۔

  6. بریکنگ, پارٹی سربراہ دیکھ کر عدالتوں کے فیصلے بدل جاتے ہیں، مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ کی رہنما مریم نواز نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتوں میں پارٹی سربراہ کو دیکھ کر عدالتوں میں فیصلے بدل دیے جاتے ہیں۔ چند ماہ پہلے عدالت نے 25 ارکان کو ڈی سیٹ کر دیا اور آج اسی تناظر میں مسلم لیگ ق کے دس ارکان کے ووٹ عمران خان کے حق میں دیے جا رہے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان معتبر ٹھہرتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نظام انصاف کا یہ حال ہے کہ جب پٹیشن آتی ہے تو لوگوں کو پتا ہوتا ہے کہ کون سا بینچ بنے گا۔

  7. بریکنگ, مریم نواز نے اتحادی جماعتوں کی پریس کانفرنس کا آغاز کر دیا

    اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کی اہم پریس کانفرنس کے آغاز پر گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ چرچل نے جنگ عظیم دوم کے دوران کہا تھا اگر ہماری عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں تو ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں عدالتی فیصلوں کی تاریخ دیکھیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلے بانجھ نہیں ہوتے ان کے اثرات بہت دیر تک رہتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کسی سے بھی غلط فیصلہ ہوسکتا ہے لیکن تسلسل کے ساتھ غلط فیصلے ہونا سوال اٹھاتے ہیں۔ فیصلے بانچھ نہیں ہوتے، ان کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں، کچھ فیصلوں کے اثرات وقت گزرنے کے ساتھ کم نہیں ہوتے بلکہ آنے والی دہائیوں میں ان کے اثرات مزید گہرے ہوتے جاتے ہیں۔

  8. بریکنگ, حکومتی اتحاد کے رہ نما اہم پریس کانفرنس کے لیے پہنچ گئے

    حکومتی اتحاد کے رہنما وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاملے پر اہم پریس کانفرنس کرنے پہنچ گئے ہیں۔ پریس کانفرنس میں مریم نواز، مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو، طارق بشیر چیمہ، اور دیگر شامل ہیں۔

  9. وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا معاملہ: ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر سپریم کورٹ میں سماعت آج، حکمران اتحاد کا فل کورٹ بنانے کا مطالبہ

    پاکستان کی سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ آج وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب پر پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی اور چوہدری پرویز الہی کی درخواست پر سماعت کرے گا۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں اس بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ عدالت نے جمعے کو حکم دیا تھا کہ حمزہ شہباز عدالتی فیصلے تک بطور ٹرسٹی وزیر اعلی کام کریں گے۔

    ادھر مسلم لیگ ن اور پی ڈی ایم کی قیادت کی جانب سے اس معاملے پر سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے مطالبے کو باقاعدہ درخواست کی شکل میں عدالت کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

    اس سے قبل حکمران اتحاد اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے فل کورٹ کے مطالبے سے متعلق تفصیلات دے گا۔ حکمران جماعت میں شامل تمام جماعتوں نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر فل کورٹ سماعت کے لیے درخواست دینے پر اتفاق کیا ہے۔

    اس موقع پر اسلام آباد پولیس نے ریڈ زون کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔

    ریڈ زون میں سرکاری، میڈیا اور ممبران اسمبلی کی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہو گی۔ گاڑیوں کے داخلے کے لیے ایکسپریس چوک بند ہو گا۔

    جبکہ ریڈ زون میں کسی قسم کے احتجاج کی اجازت نہیں ہو گی۔ ڈپلومیٹک انکلیو جانے والے شہریوں کو سکیورٹی ڈویژن سے تصدیق کے بعد داخلے کی اجازت ہو گی۔

  10. پنجاب کی 37 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کی کابینہ کے 37 اراکین نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ہے۔

    صوبائی کابینہ کی تقریب حلف برداری گورنر ہاؤس لاہورمیں ہوئی۔

    صوبائی کابینہ تشکیل دینے کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہوئے ایک اجلاس میں کیا گیا، جس کے بعد گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے کابینہ اراکین سے حلف لیا۔

    پنجاب کی کابینہ میں رانا محمد اقبال، مہر اقبال اچھلانا، ملک ندیم کامران، بلال یٰسین، رانا مشہود، خواجہ عمران نذیر، یاور زمان، منشا اللہ بٹ، احمد علی اولکھ، صبا صادق، ملک اسد کھوکھر، سیف الملوک کھوکھر، رانا لیاقت، بلال اصغر وڑائچ، سید حسن مرتضیٰ اور حیدر علی گیلانی شامل ہیں۔

    کابینہ کے دیگر ارکان میں ریٹائرڈ کرنل ایوب غادی، کاظم علی پیرزادہ، چوہدری شفیق، اقبال گجر، فدا حسین وٹو، رانا اعجاز نون، عظمیٰ زاہد بخاری، خلیل طاہر سندھو، ثانیہ عاشق، سبطین بخاری، جہانگیر خانزادہ، ریٹائرڈ کرنل رانا طارق، قاسم ہنجرا، ظہیر اقبال چنڑ، ذیشان رفیق، قاسم عباس لانگا، اشرف انصاری، چوہدری شفیق، تنویر اسلم ملک، صدیق خان بلوچ، اور عمران خالد بٹ شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ حمزہ شہباز22جولائی کو پنجاب اسمبلی میں ہونے والے اجلاس میں ڈیڑھ ماہ کے دوران دوسری بار وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے تھے۔

    تاہم ان کے مخالف امیدوار چوہدری پرویز الٰہی نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا جس پر گزشتہ روز سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے انھیں پیر تک ٹرسٹی وزیراعلیٰ رہنے کا حکم نامہ جاری کیا۔

    پنجاب کابینہ کی حلف برداری پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ کابینہ کا حلف اٹھانا سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے کیونکہ حمزہ شہباز 'منتخب' وزیر اعلیٰ نہیں ہیں۔

  11. اکتوبر، نومبر میں ہر صورت الیکشن ہوں گے، شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ اور عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے دعوی کیا ہے کہ اکتوبر، نومبر میں الیکشن ہوں گے۔

    ٹؤٹر پر بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ اکتوبر، نومبر میں ہر صورت الیکشن ہوں گے، قوم تیاری کر لے۔

    انھوں نے کہا کہ حمزہ شہباز اور شہباز شریف اپنا سامان پیک کر لیں، پنجاب چلا گیا تو وزیر اعظم صرف سی ڈی اے کا چیئرمین بن کر رہ جائے گا۔

    شیخ رشید نے کہا کہ ایک اہم آئینی اور قانونی معاملے کو چھوڑ کر اٹارنی جنرل ملک سے باہر کیوں گئے۔

  12. ن لیگ اداروں کو ٹارگٹ کرے گی، فواد چوہدری

    تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے دعوی کیا ہے کہ ن لیگ کی جانب سے عدلیہ کے خلاف بیانات کے بعد فوج کے خلاف بھی مہم شروع کی جائے گی۔

    ٹوئٹر پر بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ نون لیگ کی حکمت عملی نون لیگ کو سیاست سے مکمل باہر کر دے گی لیکن اداروں کو نقصان ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ ادارے اس گرداب میں اپنی قیادت کی غلطیوں سے پھنسے ہیں، اپنی حدود میں رہتے تو کچھ نہیں تھا لیکن بہرحال اب اداروں کو نون لیگ نے ٹارگٹ کرنا ہے۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نون لیگ کو لگا کہ عمران خان کیخلاف اسٹیبلشمنٹ سے نتھی ہو کر بڑی غلطی ہو گئی۔

  13. مینڈیٹ پارلیمانی پارٹی کا نہیں، پارٹی قیادت کا ہوتا ہے، قمر زمان کائرہ

    پیپلز پارٹی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ سیاست دانوں کو سیاسی معاملات عدالتوں میں نہیں لے کر جانا چاہیے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمیں کیسز عدالتوں میں نہیں، سیاست دانوں کو پارلیمان میں فیصلے کرنے چاہییں۔

    انھوں نے کہا کہ سیاسی معاملات جب عدالتوں میں جاتے ہیں تو حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی تشریح کرتے ہیں۔

    قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی الیکشن کے بعد کی پیداوار ہے، اس کا مینڈیٹ نہیں ہوتا، مینڈیٹ قیادت کا ہوتا ہے۔

    سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمارا تحفظ ہے کہ ایک ہی طرح کا عدالتی بینچ نہایت اہم کیسز کے فیصلے کر رہا ہے، کچھ جج صاحبان کے کمنٹس پر بھی ہمارے تحفظات ہیں، اس سے ان کی نیوٹریلٹی متاثر ہوتی ہے۔

    اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ فل کورٹ ہو اور اس معاملے پر تعطل دور کرنے کے لیے آگے کا فیصلہ دیا جائے۔‘

  14. جمہوریت کو مفاد پرستوں کے ہاتھ ہائی جیک نہیں ہونے دیا جا سکتا، صدر عارف علوی

    صدرِ مملکت عارف علوی کا کہنا ہے کہ ہم ایک ایسے امتحان سے گزر رہے ہیں جہاں جمہوریت، میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ سب کو پاکستان میں ایک ایسی حکومت تشکیل دینے کے لیے کام کرنا ہوگا جو پاکستانی عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔

    ان کا کہنا ہے کہ جمہوریت کو مفاد پرستوں کے ہاتھ ہائی جیک نہیں ہونے دیا جا سکتا۔

    صدر عارف علوی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایسی حکومت قائم کرنے کی ضرورت ہے جو عوام کی صحیح معنوں میں نمائندگی اور سیاسی و معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ان کی امنگوں اور امیدوں کی عکاسی کرے۔

  15. حمزہ شہباز اپنے اختیارات سے کوئی سیاسی فائدہ نہیں اٹھائیں گے، عدالت کا تحریری حکم نامہ, عباد الحق، صحافی

    سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کو ٹرسٹی وزیر اعلی رکھنے پر کسی بھی فریق نے کوئی اعتراض نہیں کیا اور وہ محدود اختیارات کے ساتھ اپنے عہدے کے فرائض ادا کریں گے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے وزیر اعلیٰ کے امیدوار چودھری پرویز الٰہی کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

    درخواست میں پرویز الہی نے ڈپٹی سپیکر کی اُس رولنگ کو چیلنج کیا تھا جس کی بنیاد پر مسلم ق کے ارکان اسمبلی کے ووٹوں کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

    تین رکنی بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔

    چھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صوبے کا وزیر اعلیٰ اور اس کی کابینہ کے بغیر تصور نہیں ہے، اس لیے صوبے کے عوام کی بہتری اور گورننس کے لیے حمزہ شہباز بطور ٹرٹسی وزیر اعلیٰ فرائض ادا کریں گے۔

    تین رکنی بنچ نے پابند کیا ہے کہ حمزہ شہباز اپنے اختیارات سے کوئی سیاسی فائدہ نہیں اٹھائیں گے اور نہ ہی ایسے انتظامی اقدام کر سکیں گے جس سے ان کے حامیوں کو کوئی مدد ہوسکے۔

    اس کے ساتھ ساتھ تحریری فیصلے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ فیصلہ آنے تک حمزہ شہباز آئین کے ساتھ وفادار رہتے ہوئے بطورِ وزیر اعلی اپنے اختیارات محدود رکھیں گے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت کے وکلا ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر جواز پیش نہیں کرسکے۔

    عدالت نے باور کرایا کہ اس صورت میں وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کی حیثیت پر شکوک ہیں اور حمزہ شہباز کو منتخب وزیر اعلی نہیں کہا جا سکتا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ فریقین کے درمیان بالکل یکم جولائی والی صورتحال ہو چکی ہے اور یکم جولائی کو فریقین کی رضا مندی سے حمزہ شہباز کو ٹرسٹی وزیر اعلی بنایا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے قرار دیا ہے کہ حمزہ شہباز ٹرسٹی وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کریں تاکہ کسی آئینی پیچیدگی یا خلا سے بچا جا سکے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ حمزہ شہباز انتظامی اقدامات، تقرر اور پولیس کارروائی کے ذریعے اپنی جماعت اور حامیوں کو کسی طرح سیاسی فائدہ نہیں دے سکتے۔

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے حکم دیا ہے کہ مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت کا تحریر کردہ خط بھی آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے۔

    عدالت نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری تمام متعلقہ ریکارڈ 25 جولائی کو عدالت میں پیش کریں۔

    پرویز الہی کی درخواست پر اب سماعت 25 جولائی کو اسلام آبااد میں ہو گی۔

  16. مسلم لیگ ق کے صدر کے خط کی اہمیت نہیں تو 20 ڈی سیٹ کیے گئے ایم پی ایز کا قصور کیا تھا؟ شازیہ مری

    وفاقی وزیر اور ترجمان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری کا کہنا ہے کہ پارلیمانی پارٹی صدر کی ہدایات پر عمل کرنے کی پابند ہے اور جو کل تک صحیح تھا آج کیسے غلط ہو گیا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے شازیہ مری نے سوال کیا کہ مسلم لیگ ق کے صدر کے خط کی اہمیت نہیں تو 20 ڈی سیٹ کیے گئے ایم پی ایز کا قصور کیا تھا؟

    شازیہ مری کا کہنا ہے کہ ہم پوچھتے ہی رہیں گے کہ سید یوسف رضا گیلانی سے انصاف کیوں نہیں ہوا؟

    ان کا کہنا ہے کہ قوم حیران ہے کہ عمران خان کے بارے میں قانون بھی موم بن جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عارف علوی، عمران اور قاسم سوری نے واضح آئین شکنی کی تھی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان اداروں کی توہین کرتے ہیں مگر ان کی دھمکیاں بھی توہین کے زمرے میں نہیں آتیں۔

    شازیہ مری نے سوال کیا کہ عمران نے جب اپنے ایم پی ایز کو ووٹ کے حوالے سے ہدایت دی تو وہ جائز تھی اور اگر وہی ہدایت مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت نے دی تو ناجائز کیسے ہو گئی؟

  17. ایسے یک طرفہ فیصلوں کے سامنے سر جھکانے کی توقع ہم سے نہ رکھی جائے، مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے سپریم کورٹ کے دیے گئے حکم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر انصاف کے ایوان بھی دھونس، دھمکی، بدتمیزی اور گالیوں کے دباؤ میں آ کر بار بار ایک ہی بنچ کے ذریعے مخصوص فیصلے کرتے ہیں، اپنے ہی دیے فیصلوں کی نفی کرتے ہیں، سارا وزن ترازو کے ایک ہی پلڑے میں ڈال دیتے ہیں تو ایسے یک طرفہ فیصلوں کے سامنے سر جھکانے کی توقع ہم سے نہ رکھی جائے۔ بہت ہو گیا۔‘

    انھوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’موجودہ سیاسی انتشار اور عدم استحکام کا سلسلہ اس عدالتی فیصلے سے شروع ہوتا ہے جس کے ذریعے آئین کی من مانی تشریح کرتے ہوئے اپنی مرضی سے ووٹ دینے والوں کے ووٹ نہ گننے کا حکم جاری ہوا اور آج اس کی ایک نئی تشریح کی جا رہی ہے تاکہ اب بھی اسی لاڈلے کو فائدہ پہنچنے جسے کل پہنچا تھا! نا منظور!‘

  18. لاہور: سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر سے بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو

    ہمارے نمائندے عمر دراز ننگیانہ اس وقت لاہور میں سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر موجود ہیں اور ہمیں سپریم کورٹ میں ہونے والی کارروائی اور تین رکنی بینچ کے احکامات سے متعلق آگاہ کر رہے ہیں۔

  19. جو شخص عدالت کے مطابق کبھی وزیر اعلیٰ منتخب ہی نہیں ہوا تھا، وہی دو دن نگران وزیر اعلیٰ رہے گا، اسد عمر

    سپریم کورٹ کے حکم پر تبصرہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما اسد عمرنے کہا ہے ’کہ جو شخص عدالت کے مطابق کبھی وزیر اعلیٰ منتخب ہی نہیں ہوا تھا، اور جو ساری قوم کے سامنے کل الیکشن ہارا، وہی عدالت کے فیصلے کے مطابق دو دن نگران وزیر اعلیٰ رہے گا۔‘

  20. عمران خان قومی اداروں کو دباؤ میں لا کر اپنا فیصلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں، احسن اقبال کا الزام

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے تحریکِ انصاف کے چیئرمین پر الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان جب بھی سیاست میں مار کھاتے ہیں تو قومی اداروں اور سپریم کورٹ کو شامل کرکے بیل آؤٹ پیکج لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

    احسن اقبال نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عمران خان قومی اداروں کو دباؤ میں لا کر پھر اپنا فیصلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ کبھی کسی نے عمران خان کو بلا کر نہیں پوچھا کہ توہین عدالت کیوں کرتے ہیں مگر ہم تو توہین عدالت میں نا اہل بھی ہوجاتے ہیں۔

    انھوں نے سوال کیا کہ عمران خان نے کون سی سیاسی ٹوپی پہن رکھی ہے کہ عدالتوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے بعد اپنے فیصلے کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    احسن اقبال نے کہا کہ پچھلے سات سال سے فارن فنڈنگ کیس میں سپریم کورٹ الیکشن کمیشن سے ان کا فیصلہ نہیں آرہا مگر ہم ایک سیکنڈ میں نا اہل ہوجاتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ قاسم سوری ڈھائی سال سٹے آرڈر پر ڈپٹی سپیکر رہے، ہمیں یہ پوچھنے کا ضرور حق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب کے سپیکر بھی ایک منتخب ایوان کے سپیکر ہیں اور ان کا بھی اتنا ہی لحاظ بنتا ہے۔