الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو کہوٹہ کا دورہ اور وہاں ڈیم کا افتتاح کرنے سے روک دیا

شیڈیول کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو کہوٹہ میں ڈیم کا افتتاح کرنا تھا تاہم الیکشن کمیشن نے انھیں وہاں جانے سے روک دیا ہے۔ یہ علاقہ پنجاب کے صوبائی حلقہ سات میں واقع ہے جہاں پر اگلے ماہ کی بیس تاریخ کو یہاں ضمنی انتخاب ہونا ہے۔

لائیو کوریج

  1. لاہورمیں دو سیاسی جماعتوں کے کارکنان میں تصادم، الیکشن کمیشن کا پنجاب پولیس کو تحقیقات کا حکم

    پاکستان کے الیکشن کمیشن نے لاہور کے صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 167 میں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کے کارکنوں کے درمیان تشدد اور فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے لاہور کو ہدایات جاری کر دیں۔

    لاہور میں میں تشدد اور فائرنگ کے واقعہ کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہے۔

    الیکشن کمیشن کے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر نے سی سی پی او لاہور کو واقعے کی تحقیات کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد اور فائرنگ کے واقعے کی تفصیلی انکوائری رپورٹ فوری طور پر مرتب کی جائے۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان کو ہدایت دی کہ وہ آئی جی پنجاب سے رابطہ کریں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ کسی سیاسی وابستگی کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر آئی جی پنجاب واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائیں۔

    چیف الیکشن کمشنر آئی جی پنجاب کو واقعہ کی شفاف انکوائری کروا کر رپورٹ الیکشن کمیشن کو پیشں کرنے کی ہدایات دی ہیں۔

  2. اوورسیز پاکستانیوں سے ای وی ایم ووٹنگ کا حق واپس لینا رجعت پسندانہ عمل ہے، صدر عارف علوی

    پاکستان کے صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی جانب سے ای وی ایم اور اوورسیز پاکستانیوں کی ووٹنگ سے متعلقہ قانون سازی رجعت پسندانہ اور ترقی کے خلاف ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ انھوں نے ان بلز پر دستخط نہیں کیے جب کہ ان کو معلوم ہے کہ آئین کے مطابق یہ قانون کی شکل اختیار کر لیں گے۔

    واضح رہے کہ حکومتی اتحادیوں کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کو ای وی ایم کے ذریعے ووٹنگ کا حق نئی قانون سازی کے ذریعے ختم کر دیا تھا جس پر صدر پاکستان نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔

    اپنے بیان میں صدر کا کہنا تھا کہ ’حکومتوں کے سامنے دو راستے ہوں گے، آیا وہ پاکستان کو ماضی میں واپس لے جانا چاہتی ہیں یا پھر ماضی سے سبق سیکھ کر نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک روشن مستقبل کی جانب لے جانا چاہتی ہیں۔‘

    ’ایسے بہت سے فیصلے ہمیں آئے دن چیلنج کرتے رہیں گے اور تاریخ بتاتی ہے کہ جو ممالک درست فیصلے کرتے ہیں وہ 'ابھرتے ہیں' اور جو نہیں کرپاتے وہ ان مواقع کو ضائع کر دیتے ہیں جو بعدازاں ان کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. ملک بھر میں سی پی آر کی تربیتی مہم شروع کرنے کا فیصلہ

    CPR

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں شعبہِ صحت کی بہتری کے لیے ملک گیر CPR ٹریننگ کے انعقاد کا فیصلہ ہے۔

    سی پی آر (کارڈیوپلمنری ریسسیٹیشن) ابتدائی طبی امداد کا طریقہ ہے اور اس کا استعمال سیکھنے کے لیے ڈاکٹر ہونا یا طبی عملے سے منسلک ہونا ضروری نہیں ہے۔ سی پی آر کا مقصد دل اور پھیپھڑوں کو ہاتھوں سے پمپ کر کے دھڑکن اور سانس کی بحالی ہے۔

    وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ `ایمرجنسی حالات میں جان بچانے والی بین الاقوامی معیار کی CPR ٹریننگ لاکھوں زندگیاں بچانے میں معاون ثابت ہوگی۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اس حوالے سے سربراہ اسٹریٹجک ریفارمز سلمان صوفی کو فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

    سلمان صوفی نے کہا ہے کہ جان بچانے والی CPR ٹریننگ کو اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے گا۔

    اس کے علاوہ ہر شہری کو CPR کی تربیت دینا بھی مہم کا حصہ ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے اس ملک گیر مہم کے حوالے سے مکمل لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

    سی پی آر کی اہمیت کیا ہے؟

    بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایوب ٹیچنگ انسٹیٹوٹ ایبٹ آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر فضل منان کہتے ہیں کہ ’یہ عام طور پر ان مریضوں کے ساتھ کیا جاتا ہے جن کی دل کی دھڑکن کی رفتار بہت کم ہو چکی ہو یا ہو رہی ہو اور سانس کی بحالی میں بہت دشواری ہو۔ اس میں چند سیکنڈز اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ اکثر ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے اور کئی معاملات میں اگر طبی عملہ صرف سی پی آر ہی ٹھیک سے کر دے تو مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ’سی پی آر ہمارے نوجوانوں کو لازمی سیکھنا چاہیے۔ کسی بھی وقت اسے کام میں لا کر کسی کی جان بچائی جا سکتی ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. عمران خان کی احتجاج کی کال پر حکومت کی تنقید

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے عمران خان کی جانب سے مہنگائی کے خلاف احتجاج کی کال پر شدید تنقید کی ہے۔

    اپنی ٹویٹس میں انھوں نے سوال کیا کہ `چار سال مہنگائی کا طوفان برپا کرنے والوں کی کال پر عوام کیوں نکلے ؟‘

    ان کا کہنا تھا کہ `مہنگائی، معاشی تباہی اور بےروزگاری کے زمہ داروں کی کال پہ عوام کیوں نکلے؟‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. مہنگائی کے خلاف تحریک انصاف کا احتجاج آج ہو گا، عمران خان ویڈیو لنک پر خطاب کریں گے, ترہب اصغر، نامہ نگار بی بی سی

    پاکستان تحریک انصاف آج مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کرے گی۔

    خیال رہے کہ عمران خان نے چند روز قبل عوام کو اتوار کی شب نو بجے ملک بھر میں احتجاج کرنے کی کال دی تھی۔

    پی ٹی آئی کی ملک بھر میں احتجاج کی تیاریاں جاری ہیں۔

    اسلام آباد میں ایف 9 پارک میں احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔

    پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اپنے اپنے شہروں میں احتجاج کرے گی۔

    چئیرمین تحریک انصاف عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے احتجاج سے خطاب کریں گے۔

    اطلاعات ہیں کہ تمام بڑے شہروں میں بڑی سکرنیوں لگائیں جائیں گی۔

    لاہور میں تحریک انصاف کے کارکن لبرٹی چوک پر اکٹھے ہوں گے جبکہ کراچی میں شاہراہ قائدین پر احتجاج ہوگا۔

    فیصل آباد میں گھنٹہ گھر پر کارکن احتجاج کریں گے اور راولپنڈی میں کمرشل مارکیٹ میں احتجاج ہوگا۔

    ملتان میں چوک شاہ عباس پر پی ٹی آئی احتجاج کرے گی جبکہ پشاور میں ہشت نگری گیٹ پر کارکن احتجاج کریں گے۔

  6. ’ذہن میں کبھی اگلے آرمی چیف کی تقرری کا خیال نہیں آیا‘

    آئی ایس آئی

    ،تصویر کا ذریعہGovernment of Pakistan

    سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل فیض حمید کے ساتھ مبینہ طور پر ’ضرورت سے زیادہ‘ گرمجوش تعلقات کے تاثر کو رد کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اُن کے ذہن میں کبھی (اگلے) آرمی چیف کی تقرری کا خیال نہیں آیا تھا کیونکہ وہ اداروں کو کنٹرول نہیں کرنا چاہتے تھے۔

    اُنھوں نے کہا کہ جنرل فیض حمید آئی ایس آئی کے سربراہ تھے جو براہِ راست وزیرِ اعظم کے ساتھ تعلق میں ہوتا ہے۔

    ’میں تو اور کسی فوجی اور جنرل کو نہیں جانتا تھا، نہ تعلقات ہوتے تھے میں نے جنرل باجوہ سے کہا تھا کہ آپ نام تجویز کریں کیونکہ آپ کی فوج ہے آپ بہتر جانتے ہیں۔‘

    جب اینکرپرسن نے اُن سے پوچھا کہ کیا اُن کے اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان تعلقات کی خرابی کی وجہ یہی بات بنی تو عمران خان نے کہا کہ اُنھیں کبھی نہیں سمجھ آئی کہ مسائل کیا بنے۔

    اُنھوں نے کہا کہ وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ جنرل فیض حمید سردیوں میں بھی آئی ایس آئی سربراہ رہیں کیونکہ ایک تو ملک کے خلاف مبینہ طور پر سازش ہو رہی تھی اور دوسرا یہ کہ امریکیوں کے افغانستان سے انخلا سے ہمارے لیے مسائل پیدا ہونے تھے۔

  7. عمران خان: امریکہ سے اچھے تعلقات ہونے چاہییں، مگر غلامی نہیں

    آفتاب اقبال

    ،تصویر کا ذریعہGupshup with Aftab Iqbal

    ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ امریکہ سے ہمیشہ اچھے تعلقات رکھنے چاہییں مگر اچھے تعلقات اور غلامی میں فرق ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ امریکہ عالمی قوت ہے، پاکستان سب سے زیادہ برآمدات وہاں کرتا ہے، سب سے امیر اوورسیز پاکستانی امریکہ میں ہیں، مگر امریکہ ہم سے غلامی چاہ رہا تھا۔

    سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ امریکہ اس بات کی قدر کرتا ہے اگر کوئی اس کے سامنے اپنے قومی مفاد کے لیے کھڑا ہو، اسی لیے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اُنھیں عزت دی تھی۔

    مگر عمران خان نے کہا کہ امریکہ اُن سے غلامی چاہ رہا تھا کہ روس نہیں جائیں، اڈے دے دیں۔

    عمران خان نے کہا کہ پوتن نے تین گھنٹے کی ملاقات میں سے ایک گھنٹہ اُنھیں سمجھایا کہ اُنھوں نے یہ حملہ کیوں کیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ امریکہ اور روس کے اپنے اپنے بیانیوں کے تناظر میں پاکستان کو کیا ضرورت ہے کہ کسی کی سائیڈ لے، اسے غیر جانبدار رہنا چاہیے۔

  8. ’نہیں معلوم تھا کہ روس یوکرین پر حملہ کرنے والا ہے‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوکرین پر روس کے حملے سے ایک دن قبل عمران خان کے دورہ روس پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اپنے اس دورے کے حوالے سے اُنھوں نے کہا کہ وہ کبھی یہ نہیں سمجھتے تھے کہ روس ایسا قدم اٹھا سکتا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ آج کل کے زمانے میں کوئی ایسی جنگ نہیں لڑے گا۔

    جب اینکرپرسن نے اُن سے پوچھا کہ کیا اُنھیں کسی نے بتایا نہیں تھا کہ اس کا امکان ہے، تو سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ وہ سارے سٹیک ہولڈرز سے بات کر کے گئے تھے۔

    ’میں نے جانے سے پہلے صبح ’نیوٹرلز‘ سے بھی بات کی تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ ہم سب نے غور کر لیا ہے اور یہ صحیح وقت ہے جانے کا، اب اسے منسوخ نہیں کر سکتے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ہمیں تیل گیس اور گندم خرینے کے لیے روس کی ضرورت تھی، جبکہ فوج کو بھی ان سے سامان خریدنا تھا۔

  9. عمران خان: ’نیوٹرلز کو بتایا تھا سازش کامیاب ہونے دی تو معیشت بکھر جائے گی‘

    آفتاب اقبال

    ،تصویر کا ذریعہGupshup with Aftab Iqbal

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب اُنھیں معلوم ہوا کہ اُن کے خلاف سازش ہو رہی ہے تو اُنھوں نے ’نیوٹرلز‘ کو بتایا تھا کہ اگر یہ سازش کامیاب ہونے دی گئی تو معیشت بکھر جائے گی۔

    اینکرپرسن آفتاب اقبال کے ساتھ گفتگو میں اُنھوں نے معیشت، امریکہ کے ساتھ تعلقات، پارٹی کی اندرونی سیاست سمیت کئی معاملات پر گفتگو کی۔

    عمران خان نے بظاہر پاکستانی فوج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ’نیوٹرلز‘ کو بتایا تھا کہ ہم نے معیشت بڑی مشکل سے سنبھالی ہوئی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ اُن کی حکومت کے دوران پہلے کورونا وائرس آیا، پھر کورونا کے بعد کے اثرات، پھر توانائی کی قیمتیں بڑھیں، تو اس کے باعث اقتصادی صورتحال کمزور تھی۔

    عمران خان نے کہا کہ اُنھوں نے اپنے وزیر خزانہ شوکت ترین کو بھی بھیجا تھا کہ اُنھیں سمجھایا جائے کہ اگر اس وقت آپ نے اس سازش کو کامیاب ہونے دیا گیا تو یہ سب بکھر جائے گا اور پھر آپ اسے نہیں سنبھال سکیں گے۔

  10. ’لوگ اسرائیل پر تنقید کرتے ہیں مگر ہمیں اپنے مفادات کو دیکھنا چاہیے‘

    سلیم مانڈوی والا

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے عندیہ دیا ہے کہ پاکستان کو اسرائیل سے اپنے تعلقات کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اپنے مفاد کو دیکھنا چاہیے کہ اسرائیل سے ڈیل میں ہمارا مفاد ہے یا نہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک اسرائیل سے بات کر رہے ہیں، سفارتی تعلقات قائم کر رہے ہیں اور تجارت کر رہے ہیں۔‘

    ڈان نیوز کو دیے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کسی ملک کے ساتھ مذاکرات اور تجارت روکنی نہیں چاہیے۔ لوگ اسرائیل پر تنقید کرتے ہیں (لیکن) ہمیں اپنے مفادات کو دیکھنا چاہیے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اور تجارت کر رہے ہیں اور پاکستان کو بھی وہی کرنا چاہیے جو اس کے مفاد میں ہو۔ ’یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا اسرائیل سے معاہدہ پاکستان کے مفاد میں ہے یا نہیں۔‘

    خیال رہے کہ پاکستان اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم نہیں کرتا اور دونوں کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کا مؤقف رہا ہے کہ فلسطین کے مسئلے کے حل تک اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے جا سکتے۔

    سلیم مانڈوی والا نے یہ بھی کہا کہ انڈیا سمیت پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بات چیت کے دروازے بند نہیں ہونے چاہییں۔ ’انڈیا کے ساتھ ہماری سرحد ہے۔ وہاں رشتہ دار رہتے ہیں۔ تینوں ملک (انڈیا، ایران اور افغانستان) ہمارے لیے اہم ہیں۔‘

  11. پنجاب بھر میں بازار اور کاروباری مراکز رات نو بجے بند کرنے کا فیصلہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے توانائی کی بچت کے لیے صوبہ بھر کی تاجر برادری کی مشاورت سے صوبے میں بازار اور کاروباری مراکز رات نو بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ایک بیان میں پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اب مارکیٹیں، بازار اور کاروباری مراکز رات نو بجے بند ہوں گے جبکہ ریستوران رات ساڑھے 11 بجے تک کھلے رہیں گے اور شادی ہالز سابقہ پالیسی کے تحت رات 10 بجے تک کھل سکیں گے۔

    اس سے قبل سندھ حکومت نے بھی ملک میں توانائی کے بحران کے پیش نظر ایسے ہی اقدامات کا اعلان کیا تھا۔

  12. وزارت داخلہ کا گاڑیوں کے کالے شیشوں کے جعلی اجازت ناموں کے خلاف کریک ڈاون کا فیصلہ

    وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے نام سے منسوب گاڑیوں کے کالے شیشوں کے لیے جعلی اجازت نامے جاری کیے جا رہے ہیں اور اس کے لیے ایک ویب سائٹس بھی استعمال کی جا رہی ہے۔

    وزارت داخلہ نے اس کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو جعلسازوں کے خلاف کارروائی کی ہدایات دی گئی ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ جعلساز وزارت داخلہ کا نام استعمال کرتے ہوئے دھوکہ دہی سے عوام کو جعلی اجازت جاری کر رہے ہیں اور بھاری معاوضہ وصول کیا جا رہا ہے۔

  13. ’مہنگائی کے خلاف عمران خان کا احتجاج نئے انقلاب کی آواز ہوگا‘

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کو مہنگائی اور لاقانونیت کے خلاف احتجاج کی کال دی ہے جس میں ہزاروں لوگ تمام بڑے شہروں میں اپنے گھروں سے نکلیں گے اور یہ ’نئے انقلاب کی آواز ہوگا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. انڈیا سے متعلق پالیسی میں ’کوئی تبدیلی نہیں‘، دفتر خارجہ کی بلاول کے بیان پر وضاحت

    بلاول

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ انڈیا سے متعلق پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور انڈیا کے ساتھ تعلقات کے بارے میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے ایک حالیہ بیان کی ’سیاق و سباق سے ہٹ کر تشریح کی گئی‘ ہے۔

    اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق 16 جون کو بلاول نے اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کیا (انڈیا سے) تمام تعلقات ختم کر دینے سے ہم اپنے مفادات حاصل کر سکتے ہیں؟ ۔۔۔ میں بطور وزیر خارجہ اپنے ملک کے نمائندے کے طور پر انڈین حکومت اور انڈین شہریوں سے بات نہیں کرتا تو کیا یہ پاکستان کے مقاصد کو حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ہوگا؟‘

    دفتر خارجہ نے اس پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’تھنک ٹینک کی تقریب کے دوران وزیر خارجہ کے بیان کو تنازعات کے حل کے پیغام اور اس سیاق و سباق کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے۔‘

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ’پاکستان ہمیشہ انڈیا سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔ ہم نے جموں و کشمیر کے تنازع سمیت تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے مسلسل تعمیری بات چیت اور نتیجہ خیز مذاکرات کی حمایت کی ہے۔

    ’دشمنی اور پسپائی کے اقدامات نے امن و تعاون کے ماحول کو خراب کیا ہے۔ اس لیے یہ انڈیا پر منحصر ہے کہ وہ نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے بات چیت کا ماحول پیدا کرے۔‘

  15. ہم نے ایف اے ٹی ایف کو سسٹم بنانے کے بعد نتائج اور کارکردگی دکھائی: حماد اظہر

    پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے لیے صرف سسٹم کو بنانا ہی اس ادارے کی تسلی نہیں کرواتا بلکہ نتائج بھی دکھائے جاتے ہیں۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ اکتوبر میں بہت سے ممالک نے ہمارے ایکشن پلان کو مکمل کیے جانے کے حوالے سے ووٹ کیا لیکن کچھ نے ویٹو کر دیا۔

    حماد اظہر نے کہا کہ اس سفر کو جاری رکھنا ہے قابل افسران ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے الگ سیکریٹیریٹ موجود ہے جس میں قابل افسران موجود ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے تحت بہت سے بے نامی اکاونٹس کو بھی پکڑے گئے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. ایف اے ٹی ایف: کسی فرد یا جماعت نہیں، یہ ریاست پاکستان کی جیت ہے، حنا ربانی کھر

    حنا ربانی کھر

    ،تصویر کا ذریعہPTV SCREEN GRAB

    وزیر ملکت خارجہ امور حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے سفر کا آغاز کسی فرد یا سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ پاکستان کی جیت ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ میں پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ ’سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہم نہیں چاہیں گے کہ پاکستان پھر کبھی بھی ایسی کسی لسٹ کا حصہ بنے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ پاکستان کی ریاست کی کوشش تھی۔ حکومتیں آتی جاتی رہیں گی۔ یہ کام بہت سال سے ہو رہا تھا اس لیے ہم ہر کسی کو کریڈٹ دینے کے حق میں ہیں جنھوں نے اس پر کام کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس وقت پاکستان کی کوشش ہے کہ اکتبر میں فیٹف اجلاس سے قبل وفد کا دورہ مکمل ہو اور پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے۔ پاکستان ایسی پوزیشن میں ہے کہ آئندہ نا صرف خود بھی اس کام کو جاری رکھے گا بلکہ دیگر ممالک کو مشورہ بھی دے سکے گا تاکہ ہم ایک ماڈل ملک کے طور پر کام کریں۔‘

    ’اگر آپ ہمیں بین الااقوامی معیار کے حساب سے پرکھیں تو ہم کئی مغربی ممالک سے بھی آگے ہیں۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنا سب سے اہم اقدامات تھے۔ اب فیٹف کا وفد پاکستان کا دورہ کرے گا اور ہمیں امید ہے کہ ہم گرے لسٹ سے باہر نکل آئیں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم ایسا معیار بنا لیں کہ ہمیں کسی اور کو جواب دہ نہ ہونا پڑے بلکہ ہم خود کو جواب دہ ہوں۔‘

    حنا ربانی کھر نے کہا کہ ’پاکستان فیٹف کی تاریخ میں واحد ملک تھا جس کو دو ایکشن پلان پر ایک ہی وقت میں عمل درآمد کرنا تھا جو بہت محنت طلب کام تھا جس میں سسٹم بنانا تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ابھی خوشی منانا جلد بازی ہو گی۔ ماضی میں خبر میں پہل کرنے کی کوشش نے ہمیں نقصان پہنچایا۔ اس سے گریز کرنا چاہیے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ فیٹف غیر سیاسی اور غیر جانب دار ہو صرف تیکنکی فورم ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک ایسا ملک تھا جس نے کوشش کی کہ سیاسی معاملہ بنایا جائے اور اسی لیے ہمیں زیادہ کام کرنا پڑا۔‘

    ایک اور سوال کے جواب میں حنا ربانی کھر نے جواب دیا کہ ’فیٹف قانون سازی پر بائیکاٹ کے معاملے سے پہلے وہی قانون سازی ہم نے کمیٹی میں مل کر پاس کی۔ ہمیں طریقہ کار سے مسئلہ تھا۔‘

    حنا ربانی کھر نے کہا کہ ’جو بھی ماضی میں ہوا، اس کو بھول جانا چاہیے۔ ہمیں آگے پر فوکس کرنا چاہیے۔ یہ غیر ضروری بحث ہے۔ میں جب کریڈٹ دوں گی تو میں ہر ٹیم کے ممبر کو دوں گی جو نظر آ رہے ہیں اور وہ بھی جو نظر نہیں آ رہے کیوں کہ بہت سی ایجنسیز نے اس پر کام کیا۔ اور ابھی دورہ ہونا ہے۔ اس کے بعد بھی ہمارا سفر جاری رہے گا تاکہ ہم قوانین اور نظام کو مذید مضبوط بنائیں۔‘

    حنا ربانی کھر نے بتایا کہ ’پاکستان کو اب فیٹف وفد کے دورے تک کچھ نیا نہیں کرنا۔ دورے میں پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا تکنیکی جائزہ لیا جائے گا جن کے بارے میں تسلیم کر لیا گیا کہ پاکستان نے ایکشن پلان پر عمل کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم کسی اور کے لیے کچھ نہیں کر رہے بلکہ پاکستان کے لیے کر رہے ہیں جس سے ہماری معیشت کو بھی مدد ملے گی۔‘

  17. عمران خان: ملک کو بلیک لسٹ میں جانے سے بچایا، حماد اظہر اور ٹیم پر قوم کو فخر ہے

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب ان کی حکومت قائم ہوئی تو ملک ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کے خطرے سے دوچار تھا مگر اُن کی ٹیم کی محنت نے ایسا نہیں ہونے دیا۔

    ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں اُنھوں نے کہا کہ اُن کی بنائی گئی ایف اے ٹی ایف رابطہ کمیٹی نے سب سے پہلے ملک کو بلیک لسٹ میں جانے سے بچایا اور پھر 34 میں سے 32 نکات پر عملدرآمد کروایا اور بقایا دو پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی اپریل میں جمع کروائی گئی۔

    اُنھوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کا دورہ بھی کامیاب رہے گا اور کہا کہ اس پر حماد اظہر، کمیٹی کے ارکان اور حکومتی افسران پر ملک کو فخر ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. وزیرِ اعظم شہباز شریف: وائٹ لسٹ میں آنے سے معیشت بہتر بنانے میں مدد ملے گی

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط کی تکمیل پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی اور سول قیادت اور ٹیم کی کاوشیں لائقِ تحسین ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ وائٹ لسٹ میں پاکستان کی واپسی سے معاشی و اقتصادی صورت حال کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

  19. آرمی چیف کا ایف اے ٹی ایف اہداف کی تکمیل پر تہنیتی پیغام

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے ایکشن پلانز کی تکمیل پاکستان کی بڑی کامیابی ہے اور وائٹ لسٹنگ کی راہ ہموار کرنے کی ایک شاندار کوشش ہے۔

    ایک بیان میں اُن کے حوالے سے کہا گیا کہ جی ایچ کیو میں قائم کور سیل نے سول اور ملٹری ٹیموں کے ساتھ قومی مقصد میں اہم کردار ادا کیا جس سے پاکستان کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. چین سے سرمایہ کاری میں کمی، امریکہ سے آنے والی سرمایہ کاری میں اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں موجودہ مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں بیرون ملک سے آنے والی سرمایہ کاری میں گذشتہ سال کے ان مہینوں کے مقابلے میں پانچ فیصد کمی دیکھی گئی۔

    گیارہ مہینوں میں بیرونی سرمایہ کاری کا حجم ایک ارب 597 کروڑ ڈالر رہا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں چین نے پاکستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی۔

    تاہم اس میں گذشتہ سال کے مقابلے میں کمی دیکھی گئی۔

    گذشتہ سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں 720 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے مقابلے میں اس سال 373 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔ گیارہ مہینوں میں امریکہ سے آنے والی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا گیا۔

    اس سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں 241 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جو گذشتہ ان مہینوں میں 122 ملین ڈالر تھی۔