الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو کہوٹہ کا دورہ اور وہاں ڈیم کا افتتاح کرنے سے روک دیا

شیڈیول کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو کہوٹہ میں ڈیم کا افتتاح کرنا تھا تاہم الیکشن کمیشن نے انھیں وہاں جانے سے روک دیا ہے۔ یہ علاقہ پنجاب کے صوبائی حلقہ سات میں واقع ہے جہاں پر اگلے ماہ کی بیس تاریخ کو یہاں ضمنی انتخاب ہونا ہے۔

لائیو کوریج

  1. سوات حلقہ پی کے 7 میں ضمنی انتخابات: پولنگ کا عمل شروع ہو گیا

    سوات کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے7 میں ضمنی انتخاب آج منعقد ہو رہا ہے اور پولنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. میرے کہنے پر ارکان نے شہباز شریف کو ووٹ ڈالا، کسی سے وزارت نہیں مانگی: چوہدری شجاعت

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت نے اپنی بھائی وجاہت کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے بعض ارکان نے ’میرے کہنے پر ہی اپوزیشن کے متفقہ امیدوار وزیراعظم شہباز شریف کو ووٹ ڈالا تھا۔ ہم نے کسی سے کوئی وزارت نہیں مانگی۔‘

    ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’میرے چھوٹے بھائی چوہدری وجاہت حسین نے ہمارے گھر گجرات میں لوگوں سے چند باتیں کی ہیں۔ نیشنل لیول کے ایک بڑے لیڈر آصف علی زرداری کے متعلق الزام تراشی کی ہے اور میرے بیٹوں پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ڈالر مانگے ہیں۔ اگر انھوں نے یہ باتیں کی ہیں تو یہ نہایت بہودہ باتیں ہیں۔‘

    ’میں نے اپنے بیٹوں کی ایسی تربیت نہیں کی۔ میرے کہنے پر میرے بچے فی الحال خاموش ہیں۔‘

    وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’چوہدری وجاہت حسین نے یہ بھی کہا ہے کہ 30 جون تک اگر مسلم لیگ ن سے ہم نے اتحاد ختم نہ کیا تو وہ نئی جماعت بنا لیں گے۔ پاکستان میں پہلے بھی سینکڑوں پارٹیاں بنی ہوئی ہیں ایک اور بن جائے گی تو کیا فرق پڑے گا۔‘

    ’میں ان باتوں کا جواب کسی وقت گجرات جا کر گجرات والوں کے سامنے دوں گا اور بتاؤں گا کہ کس کا کون سا حلقہ ہے۔‘

  3. سٹیٹ بینک نے شرعی عدالت کے سود سے متعلق فیصلے پر سپریم کورٹ سے رہنمائی مانگ لی, تنویرملک، صحافی

    سٹیٹ بنک آف پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سود پر وفاقی شریعت عدالت کے فیصلے پر سٹیٹ بینک آف پاکستان نے سپریم کورٹ سے رہنمائی مانگ لی ہے۔ مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق فیصلے کے مفصل جائزے کے بعد ہمارے قانونی مشیر اعلیٰ اور بیرونی وکیل کے مشورے کی بنیاد پر سپریم کورٹ کی شریعت اپیلٹ بینچ سے عملدرآمد اور عملی نکات کے حوالے سے رہنمائی کی درخواست کی ہے۔

    اس کے مطابق بینک دولت پاکستان نے رُبا کے مقدمے میں 28 اپریل سنہ 2022 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جیسا کہ وزیر خزانہ پہلے ہی کرچکے ہیں۔

    خاص طور پر ہم فیصلے کے عملی حصے کو سراہتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مالی اور زری فریم ورک کے بنیادی محافظ اور ضابطہ کار کی حیثیت سے اسٹیٹ بینک ملک کے مالی شعبے، جو عالمی مالی نظام کے حصے کے طور پر عمل کرتا ہے، کے استحکام اور سلامتی کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ اسلام کے احکامات کی تعمیل کو یقینی بنانے کا بھرپور عزم رکھتا ہے خصوصاً ربا سے متعلق احکامات کے حوالے سے۔

    سود پر وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس تناظر میں اسٹیٹ بینک ملک میں اسلامی بینکاری کو فروغ دینے میں ہمیشہ آگے رہا ہے۔

    اسٹیٹ بینک دنیا بھر کے ضابطہ کار اداروں میں سے ان چند ایک میں شامل ہے جہاں جامع قانونی، ضوابطی اور شریعہ گورننس کے فریم ورکس کامیابی سے تشکیل دیے گئے ہیں اور نافذ کیے گئے ہیں۔

    اس وقت ملک بھر میں 22 اسلامی بینکاری ادارے (5 مکمل اسلامی بینک اور 17 روایتی بینک جن کی علیحدہ اسلامی بینکاری برانچیں ہیں) کام کررہی ہیں جن کا برانچ نیٹ ورک 3983 برانچوں پر مشتمل ہے اور 1418 اسلامی بینکاری ونڈوز (روایتی برانچوں میں اسلامی بینکاری کاؤنٹر) ہیں۔

    یہ شعبہ اثاثہ جات کے لحاظ سے ملک کے پورے بینکاری نظام کے 19.4 فیصد پر مشتمل ہے اور ڈپازٹس کے لحاظ سے 20 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک شریعت کے اصولوں کے مطابق قانونی اور ضوابطی انفراسٹرکچر لانے کے لیے بھی اقدامات کررہا ہے۔

  4. نیب ترامیم سے وائٹ کالر کرائم کو پکڑنا ناممکن ہو جائے گا: عمران خان کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان, دو جولائی کو ملک گیر احتجاج کی کال

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہFacbook/IMRANKHANOFFICIAL

    سابق وزیراعظم عمران خان نے حکومت کی طرف سے نیب قوانین میں ترامیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب چوری آسان ہو گئی ہے اور اس سے اب وائٹ کالر کرائم کو پکڑنا ناممکن ہو جائے گا۔

    عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کر رہے ہیں تاکہ پاکستان بنانا ریپبلک نہ بن جائے۔ عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ ان ترامیم کے خلاف دو جولائی کو ملک گیر احتجاج کی کال دے رہے ہیں۔

    ان کے مطابق ایک طرف عام آدمی پر ٹیکس لگا دیا گیا جبکہ دوسری طرف نیب ترامیم کے ذریعے مافیا کے 11 ارب روپے معاف کر دیے ہیں۔

    سابق وزیراعظم کے مطابق انھوں (حکومت) نے اپنے آپ کو چھوٹ دینے کے لیے خود کو این آر او ٹو دے دیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اگر یہ حکومت اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوگئی تو ملک تباہ ہو جائے گا اور نیب ترامیم صرف ملک کو تباہ کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ نئے قانون کے مطابق میں کرپشن کروں تو مجھے کوئی نہیں پکڑے گا۔ ان کے مطابق اب صرف سائیکل اور بھینس چور ہی پکڑے جائیں گے اور پاکستان میں وائٹ کالر کرائم پکڑنا ناممکن ہو جائے گا۔

    عمران خان نے عوام سے کہا ہے کہ ان ترامیم کے خلاف پرامن احتجاج ہمارا حق ہے۔

    ان کے مطابق 25 مئی کو ہمارے اوپر جو تشدد کیا گیا اس کی مثال پرویز مشرف کے مارشل لا کے دور سے بھی نہیں ملتی جب میں آٹھ دن جیل میں بھی رہا۔

    عمران خان نے الزام عائد کیا کہ (یہ حکومت والے) خوف پھیلانے کے لیے مقدمات درج کرا رہے ہیں، صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو نامعلوم نمبروں سے فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔ انھوں نے عوام سے خوف کا بت توڑنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے سے احتجاج کی کال دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے پر صرف راولپنڈی اور اسلام آباد کے کارکنوں کو پیریڈ گراؤنڈ میں ہونے والے جلسے میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

  5. سابق صدر آصف علی زرداری کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف نواب شاہ میں

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق صدر آصف علی زرداری کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف نواب شاہ میں زرداری ہاؤس پہنچ گئے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آصف زرداری کی والدہ زرین آرا زرداری کی وفات پر تعزیت کی۔

  6. بریکنگ, ریئل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے مشاورت کی جائے گی: مفتاح اسماعیل

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ چھوٹے دکانداروں، جیولرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے میں نے اسوسی ایشنز سے بات کی ہے اور یہ فیصلہ ان کی مشاورت سے کیا ہے۔ اب میں ریئل اسٹیٹ کے بیوپاریوں، بلڈرز، ہاؤسنگ سوسائٹی ڈیولپرز، کار ڈیلرز، ریستورانوں اور سیلونز وغیرہ کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کروں گا۔ لیکن اس میں سے کچھ بھی زبردستی نہیں ہو گا، بلکہ مشاورت سے کیا جائے گا۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کے سٹریٹیجک ریفارمز کے سربراہ سلمان صوفی نے ٹویٹ میں کہا کہ ’وزیرِ اعظم کے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے ایجنڈا میں اگلا قدم، ریئل اسٹیٹ، بلڈرز اور ہاؤسنگ سوسائٹی ڈیویلپرز ہیں۔ جو ان کے نمائندوں سے مفتاح اسماعیل کی مشاورت کے بعد عمل میں لایا جائے گا۔‘

  7. سپر ٹیکس سے جمع ہونے والی رقم مالی مشکلات کا شکار افراد کے لیے استعمال کی جائے گی: شہباز شریف

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہبارز شریف نے گذشتہ رات سپر ٹیکس سے متعلق متعدد ٹویٹس میں اس فیصلے کے محرکات بتائے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’جب اتحادی حکومت برسرِ اقتدار آئی تو اس کے سامنے دو راستے تھے آیا وہ الیکشن کی طرف جاتی اور معیشت کو بری حالت میں چھوڑ دیتی یا پہلے معاشی مشکلات کا مداوا کرتی۔

    ’ہم نے پاکستان کو معاشی بدحالی سے بچانے کا فیصلہ کیا چاہے اس کے لیے ہمیں سیاسی خطرات ہی کیوں نہ مول لینے پڑے۔ ہم نے پاکستان کو ترجیح دی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ پہلا ایسا بجٹ ہے جس میں پاکستان معیشت کو ترقی کے راستے پر ڈالنے کا منصوبہ موجود ہیں۔ جو مشکل فیصلے ہم نے لیے ہیں اس سے معاشی بحران ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

    ’حکومت نے کم آمدن والے افراد اور تنخواہ دار طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔‘

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت نے یہ فیصلہ غربت کے خاتمے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔

    ’ہم نے معاشرے کے صاحبِ ثروت طبقے سے قومی فریضہ ادا کرنے اور اس بوجھ کو سہنے کی بات کی ہے کیونکہ ہمیشہ غریب عوام نے ہی اس کا بوجھ برداشت کیا ہے اور ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں دو باتیں بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ایک ڈائریکٹ ٹیکس ہے جو صنعتوں اور افراد کی آمدن پر لگایا گیا ہے جو آمدن کی مخصوص کیٹیگری میں شامل ہیں۔

    ’دوسرا یہ کہ اس سے جمع ہونے والی رقم ایسے افراد کے لیے استعمال کی جائے گی جنھیں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔‘

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ میکرو اکنامک استحکام پہلا قدم ہے۔ اتحادی حکومت معاشی خودمختاری حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہی اس بجٹ کا مقصد بھی ہے۔ ہماری قومی سلامتی معاشی انحصار سے جڑی ہے۔‘

  8. بریکنگ, چینیوں کو اپنے بھائی سمجھیں اگر ہم نے ان کو سکیورٹی نہ دی تو وہ یہاں سے چلے جائیں گے: شہباز شریف

    shehbaz sharif

    ،تصویر کا ذریعہGoP

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ گوادر یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ چین یہاں ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح اپنی اجارہ داری قائم کرنے نہیں آیا بلکہ وہ پاکستان کا مخلص دوست ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے آیا ہے جس کا فائدہ پاکستان کے لوگوں کو ہی ملے گا۔

    انھوں نے یہ بات گوادر کا دورہ کرتے ہوئے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کے علاوہ وفاقی وزرا بھی وہاں موجود تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’لوگ چینیوں کو اپنے بھائی سمجھیں اور اگر ہم نے ان کو سکیورٹی نہیں دی تو وہ یہاں سے چلے جائیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، قطر اور دیگر خلیجی ممالک ہمارے دوست ہیں جو کہ اچھے اور برے وقت میں ہمارا ساتھ دیتے رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں 18، 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی جس کے خاتمے اور ہماری دیگر مشکلات کو کم کرنے میں مسلم ممالک نے ساتھ دیا لیکن چین کی اپنی صلاحیت تھی۔

    ’چین نے ہزاروں میگاواٹ کا پن بجلی اور تھرمل پاور کے منصوبے لگائے ۔چین نے ہماراہاتھ تھاما اورسعودی عرب نے ڈیڑھ ڈالر دیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ مجھے بتا دیں کہ ہم ایسے دوست ممالک کا ساتھ دیں یا ان کو اپنے سے دور کریں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ’جو چینی سرمایہ کاری ہو رہی ہے وہ یہاں کی ترقی کے لیے ہو رہی ہے اور یہ سب کچھ پاکستان کی ترقی کے لیے ہے۔

    انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’ہم 75 سال میں اپنے پاﺅں پرکھڑے نہیں ہو سکے۔ چین نے دو ارب ڈالر سے زائد کے اچھے شرائط پر قرضہ دیا۔ ہم کب تک قرضہ لیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ چین کے وزیر اعظم سے میری ایک گھنٹہ بات ہوئی۔ پونے گھنٹے تک بات چیت کے دوران چینی وزیراعظم نے مجھے کہا کہ آپ سے پہلی بار گفتگو ہوئی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ آپ ہچکچا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے چینی وزیر اعظم کو انگریزی میں کہا کہ آپ یہ سمجھیں گے یہ اچھے دوست ہیں کہ پھر کشکول لے کر آئے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایک مرتبہ پھر ہمیں اچھی شرائط پر خطیر رقم کا قرض دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ افسوس ناک بات ہے کہ دوست آکر مدد کریں اور پھر دشمنان پاکستان ان کے انجنیئروں کو نشانہ بنائیں ۔یہ ہو نہیں سکتا۔ اس کی نہ مجھے اجازت دینی چائیے اور نہ آپ کو۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’خدانخواستہ ایسی بات نہیں کہ چین ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح یہاں اپنی اجارہ داری قائم کر رہا ہے۔ قطعاً ایسی بات نہیں ہے بلکہ چین ہمارامخلص دوست ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہمیں سرمایہ کاری، کروڑوں لوگوں کو روزگار دینے کی ضرورت ہے اور جو لوگ اس سلسلے میں ہماری مدد کریں اور بدلے میں ہم یہ رویہ اختیار کریں کہ ان کے انجینیئروں اور کارکنوں کو ماریں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’وہ کسی کو الزام نہیں دینا چاہتے ہیں لیکن ایسا کرنے والے پاکستان کے دشمن ہیں جو یہاں دوست ممالک کے خلاف آکر کسی کو آلہ کار بناتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سرمایہ کاری کرنے والا کوئی دوست ملک ہو یا کوئی اور ملک ہو ہمیں ان کے لوگوں کو اپنا مہمان سمجھنا چاہیے اور ان کا اسی طرح تحفظ کرنا چاہیے جس طرح ہم اپنا اور اپنے بچوں کی تحفظ کرتے ہیں۔

  9. بریکنگ, چینی بینکوں کا دیا گیا دو ارب 30 کروڑ ڈالر کا قرضہ سٹیٹ بینک کو موصول ہو گیا: مفتاح اسماعیل

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے اعلان کیا ہے کہ ’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ چینی بینکوں کے کانسرشیئم کی جانب سے پاکستان کو دیا گیا دو ارب 30 کروڑ ڈالر کا قرضہ آج سٹیٹ بینک کو موصول ہو گیا ہے جس سے ہمارے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گا۔‘

  10. وزیراعظم شہباز شریف کا گوادر کے لیے ہسپتال کا اعلان

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے شہر گوادر میں ایک ہسپتال بنانے کی منظوری دی ہے۔ اپنے دورہ گوادر کے دوران انھوں نے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور انڈس اسپتال کے درمیان گوادر میں 100 بستروں پر مشتمل بین الاقوامی معیار کے ایک ہسپتال کے قیام کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے ہیں۔

    اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گوادر میں بین الاقوامی معیار کا یہ ہسپتال مقامی لوگوں کو علاج و معالجے کی معیاری سہولیات فراہم کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ہسپتال کی جلد تکمیل کے بعد اس کا انتظام انڈس ہسپتال سنبھالے گا۔ ہسپتال کی تکمیل کے بعد گوادر کے لوگوں کو علاج معالجے کے لیے بڑے شہروں میں جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

  11. شہباز شریف گوادر پہنچ گئے، حق دو تحریک کا ’مزاحمتی احتجاج‘, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو

    shehbaz

    ،تصویر کا ذریعہGoP

    وزیرِ اعظم شہباز شریف گوادر پہنچ گئے ہیں اور اس موقع پر بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں وزیراعظم شہباز شریف کے دورے کی مناسبت سے احتجاج کیا جا رہا ہے۔

    یہ احتجاج حق دو تحریک بلوچستان کی جانب سے کیا جا رہا ہے اور گوادر میں گذشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ کسی وزیر اعظم کے دورے کے موقع پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔

    گوادر کے سینیئر صحافی بہرام بلوچ کے مطابق ’احتجاج میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہے جبکہ قیام امن کے لیے شہر میں پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

    حق دو تحریک کی جانب سے وزیر اعظم کے دورے کی مناسبت سے اس احتجاج کو ’مزاحمتی استقبال‘ کا نام دیا گیا۔ صبح کو شہر میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    ریلی کی جانب سے تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور شرکا شہر کی بعض اہم شاہراہوں کا گشت کرنے کے بعد دھرنا دے رہے ہیں۔

    شام کو ایک مرتبہ پھر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ریلی نکالی جائے گی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے بھی لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ریلی میں شرکت کا اعلان کیا گیا ہے۔

    صبح کو ریلی کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ ’گوادر اور بلوچستان کے لوگ اسلام آباد کی پالیسیوں سے ناراض ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’بلوچستان سے پزاروں افراد لاپتہ ہیں جن کے لیے ان کی مائیں اور بہنیں ایک اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔‘

    انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے آئی ایم ایف کے کہنے پر لوگوں پر مہنگائی مسلط کی۔‘

    مولانا ہدایت الرحمان کے مطابق ’وزیراعظم نے اپنی حکومت کی شاہانہ اخراجات کے لیے تیل کی فی لیٹر کی قیمت کو ڈھائی سو روپے کر دیا۔‘

  12. حکومت کی معاشی پالیسیاں پاکستان کو دیوالیہ کر رہی ہیں: فواد چوہدری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’جب وزیراعظم اور وزیر خزانہ کی میڈیا سے گفتگو کے بعد سٹاک مارکیٹ بری طرح کریش کر جائے اور کرنسی کی قدر بری طرح کم ہو جائے ان حالات سےحکومت پر اعتماد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    ’حکومت کی معاشی پالیسیاں پاکستان کو دیوالیہ کر رہی ہیں، اس ٹولے سے جلد از جلد نجات ہی پاکستان کا مفاد ہے۔‘

  13. سپر ٹیکس معیشت کے رسمی شعبے کو مزید نچوڑ دے گا: حماد اظہر

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق وفاقی وزیرِ توانائی اور پاکستان تحریک انصاف کے فوکل پرسن برائے معیشت حماد اظہر کا کہنا ہے کہ ’سپر ٹیکس معیشت کے رسمی شعبے کو مزید نچوڑ دے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید ٹیکس لگایا گیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’معیشت اس وقت بحرانی کیفیت میں ہے اس وقت ایسے اقدام پی ٹی آئی کی پیدا کردہ صنعت کاری کی رفتار کو بہت سست کر دیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’صنعت کو پہلے ہی اشیا اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سپر ٹیکس کو ان کی بیلنس شیٹ میں شامل کیا جائے گا اور یہ بوجھ فوری طور پر صارفین کو منتقل کر دیا جائے گا۔

    ’یعنی عوام کے لیے قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔‘

  14. ہمارا ترقی پسند ٹیکس نظام تھا، یہ پرانا ٹیکس کا نظام واپس لے آئے ہیں: شوکت ترین

    shaukat

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے سپرٹیکس کے حوالے سے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’میرے خیال میں یہ پرانے پاکستان میں واپس لے کر جا رہے ہیں۔ ہم نے ٹیکس کی مد میں 1400 ارب کا اضافہ کیا، جس میں ہم نے کوئی نئے ٹیکس نہیں لگائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس سال ہمارا آٹھ ہزار ارب کا ٹیکس لگانا تھا، ٹیکس دینے والوں پر زیادہ ٹیکس لگانے کی بجائے ٹیکس نیٹ بڑھائیں۔‘

    شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پوائنٹ آف سیل مشین کی بات کی تھی، لیکن انھوں نے ریٹیلرز کو بچا لیا۔

    ’چار کروڑ افراد ایسے ہیں جو ٹیکس نہیں دے رہے، ان کو کیوں ٹیکس نہیں کر رہے۔ چند صنعتوں کو ٹیکس کریں گے جو آگے غریب آدمی پر بوجھ منتقل کریں گی۔‘

  15. بڑی صنعتوں پر سپر ٹیکس پر سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس میں 2000 پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    حکومت کی جانب سے بڑی صنعتوں پر 10 فیصد کی شرح سے سپر ٹیکس لگانے کی اطلاعات کے بعد جمعے کے روز پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کی وجہ سے 100 انڈیکس میں 2000 سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔

    جمعے کے روز کاروبار کے آغاز پر ملا جلا رجحان تھا۔ حکومت کی جانب سے بڑی صنعتوں پر 10 فیصد کی شرح سے سپر ٹیکس لگانے کے بعد حصص میں فروخت کا دباؤ بڑھا اور سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان غالب رہا۔

    انڈیکس 42000 پوائنٹس سے زائد کی سطح سے گر 40663 کی سطح تک گر گیا۔

    سٹاک مارکیٹ میں جمعے کے روز کاروبار کے پہلے سیشن کے اختتام پر انڈیکس میں 2000 پوائنٹس سے زائد کی کمی دیکھی گئی۔

    ڈارسن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار شہر یار بٹ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بڑی صنعتوں جن میں سیمنٹ، سٹیل، شوگر، تیل و گیس، فرٹیلائزر، بینکنگ، آٹو اور تمباکو کی صعنتیں شامل ہیں ان پر 10 فیصد ٹیکس لگانے کا اعلان ہوا جس کا سٹاک مارکیٹ پر منفی رجحان ہوا اور اس کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان غالب آیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. بریکنگ, وزیر اعظم شہباز شریف کا بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس کا اعلان، ’صاحبِ ثروت آگے بڑھیں اور اپنا کردار ادا کریں‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک کو درپیش معاشی مشکلات سے نمٹنے اور غربت میں کمی کے لیے بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    گوادر کے دورے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس، غربت کم کرنے کے لیے، لگایا جا رہا ہے۔‘

    ’ان میں سیمینٹ، سٹیل، چینی، آئل اینڈ گیس، فرٹیلائزر، ایل این جی ٹرمینل، ٹیکسٹائل، بینکنگ، سگریٹ انڈسٹری، کیمیکلز، بیورجز انڈسٹری شامل ہیں۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے سالانہ 15 کروڑ سے زیادہ کمانے والوں کی آمدنی پر ایک فیصد، 20 کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی والوں پر دو فیصد، 25 کروڑ سے زیادہ کمائی کرنے والوں پر تین فیصد اور 30 کروڑ سے زیادہ کمانے والوں پر چار فیصد ٹیکس لگانے کا بھی اعلان کیا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’پاکستان کے صاحب ثروت آگے بڑھیں اور اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان میں ہمیشہ غریب نے قربانی دی ہے۔ اب ایثار کرنے کی امیر افراد کی باری ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ دل کی گہرائیوں سے اس کام میں ہاتھ بٹائیں گے۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہم ایسی پالیسی بنائیں گے کہ ٹیکس چوری کو روکا جا سکے۔ پاکستان میں تقریبا دو ہزار ارب روپیہ سال میں ٹیکس غائب ہو جاتا ہے، ریاست کے وہ ادارے جن کی ٹیکس اکھٹا کرنے کی ذمہ داری ہے وہ آج تک یہ پیسہ حاصل کرنے اور قومی خزانے میں داخل کرانے میں ناکام رہے۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’ملک کے مسائل کے حل کے لیے یکجہتی کی ضرورت ہے اور اس کے لیے چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کی ضرورت ہے۔‘

  17. وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ گوادر: ’مقامی افراد کی زندگی میں بہتری نہ لانے والی ترقی بے معنی ہے‘

    وزیرِ اعظم شہباز شریف گوادر کی ترقی اور خوشحالی کے ویژن کے تحت ساحلی شہر کا ایک روزہ دورہ کریں گے جس کے دوران ان کو جاری ترقیاتی منصوبوں بشمول گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ، پاور پراجیکٹس، انفراسٹرکچر پر تفصیلی بریفنگ بھی دی جائے گی۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم کا ایک ماہ کی قلیل مدت کے دوران گوادر کا یہ دوسرا دورہ ہے جہاں وہ مقامی ماہی گیروں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    وزیرِ اعظم انڈس اسپتال اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مابین عالمی معیار کے اسپتال کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کی سرپرستی کریں گے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے دورے سے قبل ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ ’ایسی ترقی بے معنی ہے جو مقامی افراد کی زندگی میں بہتری نہ لا سکے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. آئی ایم ایف سے معاہدہ تقریباً طے، آئینی مدت پوری کریں گے: شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وہ ’تمام اتحادی جماعتوں اور اداروں کے ساتھ مل کر‘ اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کے سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’اتحادی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف سے ہمارا معاہدہ تقریباً طے ہوگیا ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ پورا نہ کیا جس کی وجہ سے ’آج آئی ایم ایف کہتا ہے آپ پر کیسے اعتبار کریں۔‘

    ’سب کو قیمتیں بڑھانے پر تکلیف تھی۔ لیکن سب کے ذہن میں یہ بات تھی کہ پہلے ریاست بعد میں سیاست۔ اگر ریاست بچتی ہے تو سیاست بچ جائے گی۔ ماضی کی حکومت انڈر 19 بھی نہیں، انڈر 12 تھی۔ آئی ایم ایف تلا ہوا تھا کہ آپ (پرانے) معاہدے کے وعدے پورے کریں، ہمیں آپ پر بھی اعتماد نہیں۔‘

    شہباز شریف نے متنبہ کیا کہ ابھی مشکلات آنی ہیں مگر ’راستہ مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی بار امیر لوگوں کی آمدن پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ انھوں نے یہ وعدہ کیا ہے کہ ’ہمارا سیاسی فرض ہے کہ مزدوروں اور ان کے بچوں کی حفاظت دیں۔‘

    ’بدقسمتی ہے ماضی کی حکومت نے مفت ادویات اور علاج ختم کر دیا۔ لیپ ٹاپ کو سیاسی رشوت کہا گیا، وہی لیپ ٹاپ کورونا کے وقت میں رزق حلال اور تعلیم کا ذریعہ بنا۔‘

    انھوں نے سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’لاکھوں گھروں کا وعدہ کیا گیا، ایک اینٹ نہیں رکھی۔ چین، ترکی، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے تعلقات خراب کیے گئے۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ماضی میں ’گیس کی قیمتیں زمین بوس ہو چکی تھیں۔ پوری دنیا میں گیس مفت مل رہی تھی۔ انھوں نے طویل مدتی معاہدے نہیں کیے۔ قطر سے معاہدے میں کیڑے نکالتے رہے، آج وہ ہماری لائف لائن ہے۔‘

    ’لوڈشیڈنگ کو کم سے کم رکھنا ہے۔ ایک طرف مہنگائی ہے، دوسری طرف بے روزگاری۔ لوڈشیڈنگ ابھی ہے لیکن اللہ نے چاہا تو قابو پائیں گے۔ گیس اب دستیاب نہیں ہے۔ یورپی ممالک گیس خرید رہے ہیں، انھوں نے معاہدے کر لیے ہیں۔ گذشتہ حکومت کے پاس موقع تھا کہ سستی ترین گیس پر معاہدے کرتے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’آج وہ ممالک ہمیں گیس دینے کے پابند ہوتے۔ پاکستان میں گیس کے ذخائر روز بروز کم ہو رہے ہیں۔ یہ ان کی فاش غلطیاں ہیں جن سے قومی معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچ چکا ہے۔ ہم نے ہمت و حوصلے کے ساتھ اس نقصان میں کمی لانی ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’چین کے وزیر اعظم سے ایک گھنٹہ طویل کال پر بات ہوئی۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ میں نے ان کو کہا کہ سی پیک کی رفتار دوبارہ تیز کرنی ہے۔۔۔ اُنھوں نے ایم ایل ون کی حمایت کی یقین دہانی کرائی اور اب 2.3 ارب ڈالر قرض دلوایا۔‘

  19. نئے ٹیکس کے نتیجے میں وزیر اعظم کے بیٹے اور میری کمپنی کا ٹیکس بھی بڑھے گا، وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ’حکومت امیر افراد سے ٹیکس لے گی اور اس سلسلے میں جو نئے ٹیکس لگے ہیں ان کے نتیجے میں وزیر اعظم کے بیٹے اور ان کی ذاتی کمپنی کا ٹیکس بھی بڑھے گا۔‘

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایک جانب امرا سے ٹیکس لیا جائے گا اور غریبوں کے لیے سستا راشن فراہم کیا جائے گا۔ ’ساتھ ہی مہنگائی کو قابو میں لایا جائے گا۔‘

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’پاکستان کی خودمختاری خسارہ کم کرنے سے آئے گی، قرضہ بڑھانے سے نہیں۔ عمران خان پاکستان کو دیوالیے کی نہج پر چھوڑ کر گئے۔ کبھی اس طرح کی نازک صورت حال نہیں دیکھی تھی۔‘

    ’حکومت کے چلانے سے تین گنا زیادہ خرچہ پٹرول اور ڈیزل کی سبسڈی میں کیا جا رہا تھا۔ حکومت جانے کے خطرے سے پہلے پٹرول پر ٹیکس بھی لگایا جا رہا تھا، اس وقت ان کو عوام کا خیال نہیں آیا۔ ہم نے جو قیمت بڑھائی ہے، اس سے پاکستان کو دیوالیے سے بچایا ہے۔‘

    ’سٹاک ایکسچینج بڑھی ہے، جو مثبت بات ہے۔ روپیے کی قیمت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔‘

    مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ ’چین نے وہ سیف ڈیپازٹ جو جون، جولائی میں واپس دینے تھے، وہ ہمارے کہے بغیر انھوں نے اس میں توسیع کر دی ہے۔ چین سے قرضے پر بھی دستخط ہو چکے ہیں جو دو تین دن میں ڈیپازٹ ہو جائیں گے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں مفتاح نے کہا کہ ’میں دن میں چھ بار تیل کی قیمت دیکھتا ہوں۔ جیسے ہی قیمت میں کمی آئے گی، ہم ریلیف دیں گے۔‘

  20. چینی بینکوں کی پاکستان کو قرض فراہمی کی منظوری کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان میں جمعرات کے روز کاروبار کے آغاز پر امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قیمت میں دو روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    ایک ڈالر کی قیمت گزشتہ روز کاروبار کے اختتام پر 211.93 تھی تاہم جمعرات کو کاروبار کا آغاز ہوتے ہی ڈالر کی قیمت 209.94 تک گر گئی۔

    پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں، درآمدات کے بڑھتے بل اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے روپے کی قدر میں حالیہ ہفتوں میں مسلسل کمی دیکھی گئی تھی اور ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی تھی۔

    کرنسی ڈیلرز نے روپے کی قدر میں بہتری کی وجہ چینی بینکوں کی جانب سے پاکستان کے لیے 2.3 ارب ڈالر قرض کی فراہمی کو قرار دیا جو وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق دو دن میں پاکستان کو مل جائیں گے۔

    ڈیلرز کے مطابق اگر آئی ایم ایف سے بھی معاہدہ ایک دو روز میں ہو جاتا ہے تو ڈالر کی قدر میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔