’بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی پر سبسڈی دی جائے گی‘
’بلوچستان حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی پر سبسڈی کی مد میں چار ارب روپے کی رقم رکھی ہے اور وہ یہ رقم دیں گے۔‘
یہ بات بلوچستان کے وزیر مواصلات سردار عبدالرحمان کھیتران نے بدھ کو کوئٹہ میں آئندہ مالی سال کے حوالے سے بعد از بجٹ بریفنگ کے دوران بتائی۔
خیال رہے کہ بلوچستان حکومت کاشتکاروں کو زرعی ٹیوب ویلوں پر رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کررہی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے قرضوں کے لیے ہر قسم کی سبسڈیز کے خاتمے کی شرط کے تناظر میں ایک سوال پر سردار عبدالرحمان کھیتران نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے زرعی ٹیوب ویلوں پر سبسڈی دینے کے لیے جو رقم رکھی ہے وہ دی جائے گی۔
تاہم انھوں نے بتایا کہ اگر وفاقی حکومت نے زرعی ٹیوب ویلوں پر سبسڈی کی پالیسی تبدیل کی تو پھر بلوچستان حکومت کو مجبوراً بجلی پر سبسڈی دینے کی پالیسی پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔
بلوچستان میں حکومت نے گذشتہ سال سے ہیلتھ انشورینس کارڈ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ اس سلسلے میں ایک اور سوال پر سردار عبدالرحمان کھیتران نے بتایا کہ آئندہ چھ ماہ میں اس پر عملدرآمد شروع ہوگا اور اس مد میں حکومت نے چھ ارب روپے مختص کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے تحت بلوچستان کے 18 لاکھ خاندانوں میں سے ہر ایک کو سالانہ دس لاکھ روپے تک مفت علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جا ئے گی۔ سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دو ہزار آٹھ سو سے زائد نئی آسامیاں رکھی گئی ہیں جبکہ حکومت کے پاس مجموعی طور پر 70 ہزار کے لگ بھگ آسامیاں خالی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ان آسامیوں میں سے نصف پر لوگوں کو روزگار فراہم کرے جس سے بے روزگاری کا مسئلہ کسی حد تک کم ہوگا۔ ان کا کہنا تھا بی اے پی حکومت کا یہ چوتھا لیکن میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں نوزائیدہ حکومت کا پہلا بجٹ ہے۔
انھوں نے کہا کہ سابق حکومت میں منتخب نمائندوں کی بجائے دوستوں اور غیر متعلقہ افراد کو ترقیاتی سکیمیں دی جاتی رہیں جس کے باعث ہر وقت احتجاج ہوتا رہا لیکن موجودہ حکومت نے کسی بھی ضلع کو نظر انداز نہیں کیا جس کے باعث اس بجٹ کے دوران کوئی احتجاج نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا بلوچستان کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں منتخب نمائندوں کی تجاویز پر سکیمیں شامل ہیں۔ ’بے روزگار پروفیشنل نوجوانوں کی انٹرن شپ کے لیے پچاس کروڑ روپے مختص ہیں۔‘












