الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو کہوٹہ کا دورہ اور وہاں ڈیم کا افتتاح کرنے سے روک دیا

شیڈیول کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو کہوٹہ میں ڈیم کا افتتاح کرنا تھا تاہم الیکشن کمیشن نے انھیں وہاں جانے سے روک دیا ہے۔ یہ علاقہ پنجاب کے صوبائی حلقہ سات میں واقع ہے جہاں پر اگلے ماہ کی بیس تاریخ کو یہاں ضمنی انتخاب ہونا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی پر سبسڈی دی جائے گی‘

    ’بلوچستان حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی پر سبسڈی کی مد میں چار ارب روپے کی رقم رکھی ہے اور وہ یہ رقم دیں گے۔‘

    یہ بات بلوچستان کے وزیر مواصلات سردار عبدالرحمان کھیتران نے بدھ کو کوئٹہ میں آئندہ مالی سال کے حوالے سے بعد از بجٹ بریفنگ کے دوران بتائی۔

    خیال رہے کہ بلوچستان حکومت کاشتکاروں کو زرعی ٹیوب ویلوں پر رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کررہی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے قرضوں کے لیے ہر قسم کی سبسڈیز کے خاتمے کی شرط کے تناظر میں ایک سوال پر سردار عبدالرحمان کھیتران نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے زرعی ٹیوب ویلوں پر سبسڈی دینے کے لیے جو رقم رکھی ہے وہ دی جائے گی۔

    تاہم انھوں نے بتایا کہ اگر وفاقی حکومت نے زرعی ٹیوب ویلوں پر سبسڈی کی پالیسی تبدیل کی تو پھر بلوچستان حکومت کو مجبوراً بجلی پر سبسڈی دینے کی پالیسی پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔

    بلوچستان میں حکومت نے گذشتہ سال سے ہیلتھ انشورینس کارڈ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ اس سلسلے میں ایک اور سوال پر سردار عبدالرحمان کھیتران نے بتایا کہ آئندہ چھ ماہ میں اس پر عملدرآمد شروع ہوگا اور اس مد میں حکومت نے چھ ارب روپے مختص کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے تحت بلوچستان کے 18 لاکھ خاندانوں میں سے ہر ایک کو سالانہ دس لاکھ روپے تک مفت علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جا ئے گی۔ سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دو ہزار آٹھ سو سے زائد نئی آسامیاں رکھی گئی ہیں جبکہ حکومت کے پاس مجموعی طور پر 70 ہزار کے لگ بھگ آسامیاں خالی ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ان آسامیوں میں سے نصف پر لوگوں کو روزگار فراہم کرے جس سے بے روزگاری کا مسئلہ کسی حد تک کم ہوگا۔ ان کا کہنا تھا بی اے پی حکومت کا یہ چوتھا لیکن میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں نوزائیدہ حکومت کا پہلا بجٹ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سابق حکومت میں منتخب نمائندوں کی بجائے دوستوں اور غیر متعلقہ افراد کو ترقیاتی سکیمیں دی جاتی رہیں جس کے باعث ہر وقت احتجاج ہوتا رہا لیکن موجودہ حکومت نے کسی بھی ضلع کو نظر انداز نہیں کیا جس کے باعث اس بجٹ کے دوران کوئی احتجاج نہیں ہوا۔

    ان کا کہنا تھا بلوچستان کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں منتخب نمائندوں کی تجاویز پر سکیمیں شامل ہیں۔ ’بے روزگار پروفیشنل نوجوانوں کی انٹرن شپ کے لیے پچاس کروڑ روپے مختص ہیں۔‘

  2. سندھ میں بلدیاتی و ضمنی انتخابات کے دوران فوج تعینات کرنے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے دو مراحل اور کراچی کے حلقے این اے 245 میں ضمنی انتخاب کے دوران پاکستانی فوج کے دستے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انتخابی عمل کو ’صاف و شفاف‘ بنایا جاسکے۔ اس ضمن میں سیکریٹری دفاع کو بھی درخواست لکھی گئی ہے۔

    درخواست کے مطابق این اے 245 کراچی میں 26 تا 28 جولائی تک فوجی دستے تعینات رہیں گے جبکہ پولنگ 27 جولائی کو شیڈول ہے۔

    جبکہ 26 جون کو بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران تمام پولنگ سٹیشنز پر فوجی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  3. بریکنگ, ٹی ٹی پی مذاکرات: ’حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کی منظوری سے کیا جائے گا‘

    fauj

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آج قومی سلامتی امور پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا جس کے اعلامیے کے مطابق افغان حکومت کی سہولت کاری سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے اور ’حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کی منظوری اور اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔‘

    وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’اجلاس کے شرکا کو ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو اس تمام پس منظر سے باخبر کیا گیا جس میں بات چیت کا یہ سلسلہ شروع ہوا اور اس دوران ہونے والے ادوار پر بریفنگ دی گئی۔‘

    اس کے مطابق ’حکومتی قیادت میں سول اور فوجی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی نمائندگی کرتے ہوئے آئین پاکستان کے دائرے میں بات چیت کر رہی ہے اور حتمی فیصلہ آئین پاکستان کی روشنی میں پارلیمنٹ کی منظوری، مستقبل کے لئے فراہم کردہ راہنمائی اور اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔‘

    اس اجلاس میں قومی، پارلیمانی و سیاسی قیادت، ارکان قومی اسمبلی و سینیٹ اور عسکری قیادت نے شرکت کی جس میں ’قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی جانب سے ملکی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

    ’اجلاس کو ملک کی داخلی اور خارجی سطح پر لاحق خطرات اور ان کے تدارک کے لیے قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’سیاسی قیادت نے معاملات سے نمٹنے کی حکمت عملی اور اس میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔‘

  4. بریکنگ, ٹی ٹی پی سے مذاکرات پارلیمان کی رہنمائی میں آئین و قانون کے مطابق ہوں گے: رانا ثنااللہ

    rana

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پارلیمان کی رہنمائی اور منظوری اور آئین و قانون کے مطابق ہوں گے۔

    وہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں آج منعقد ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے میٹنگ میں ہونے والی مشاورت اور فیصلوں کے بارے میں ایک تفصیلی پریس ریلیز جاری کی جائے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس بریفنگ سے پارلیمان کے تمام معزز ممبران کو آگاہ کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’اجلاس میں ٹی ٹی پی کے حوالے سے یا افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے بارے میں بات چیت ہوئی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کو پارلیمان کی منظوری اور رہنمائی میں آگے بڑھایا جائے گا۔ یہ بنیادی اصول طے کیا گیا ہے کہ یہ مذاکرات آئین کے مطابق ہوں گے۔ یہ ایک بنیادی اصول ہے۔ اور امن کو قانون اور آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے حاصل کیا جائے گا۔‘

    ’بریفنگ کے علاوہ اجلاس میں موجود شرکا نے اپنی آرا کا اظہار کیا۔ آج اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس طرح کی بریفنگ کے علاوہ پارلیمان کا اجلاس بھی بلایا جائے ان کیمرہ اور پارلیمان کو وزیرِ اعظم کی جانب سے آن بورڈ لیا جائے گا۔‘

  5. بریکنگ, انھیں جنرل فیض کی تعیناتی کا خوف اس لیے تھا کیونکہ ان کے اربوں ڈالر باہر پڑے ہیں: عمران خان

    جنرل فیض اور عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGoP

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کو یہ خوف تھا کہ میں جنرل فیض کو لانا چاہتا ہوں تو یہ ان کا خوف اس لیے تھا کیونکہ ان کے اربوں ڈالر باہر پڑے ہیں۔

    عمران خان نے ریجیم چینج سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں خوف تھا کہ اگر نومبر میں میں نے اپنا آرمی چیف رکھ دیا تو ان کے مستقبل تباہ ہو جائیں گے۔‘

    عمران خان نے ایک مرتبہ پھر یہ بات دہرائی کہ ’مجھے سال پہلے پتا چل گیا تھا کہ گیم شروع ہو چکی ہے، اور جب مجھے سازش کا پتا چلا تو میں سوچتا تھا کہ سازش کیسے ہو گی، کیا شہباز شریف کو کوئی وزیرِ اعظم بنا دے گا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’میں نے ایک دن نیوٹرلز سے سے بات کی اور کہا کہ اس پر 16 ارب کا ایف آئی اے کا کیس ہے اور آٹھ ارب کا نیب کا کیس ہے۔‘

    عمران خان نے وزیرِ توانائی خرم دستگیر کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان اپنا آرمی چیف رکھوانا چاہتا تھا اور آرمی چیف رکھوا کر یہ 15 سال تک رہنا چاہتا تھا کیونکہ پھر احتساب بھی ہو جائے گا ہمارا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اور آرمی چیف آئے گا تو ان کا احتساب رک جائے گا۔‘

    سابق وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ نومبر میں کس کو آرمی چیف بنانا ہے، میرے ذہن میں تو یہ تھا کہ جو بہتر ہے اس کو بنا دوں گا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اپنا آرمی چیف لے کر آؤں گا۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’نواز شریف نے ہمیشہ اپنی پسند کا میرٹ کی دھجیاں اڑا کر آرمی چیف لگایا۔آج اداروں کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔

    ’ان کا مفاد چوری کرنا اور چوری کو بچانا ہے۔ اس لیے ڈر ان کو فوج سے ہوتا ہے کیونکہ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس کے پاس ان کی چوری کے بارے میں رپورٹس ہوتی ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ جو ان کو خوف تھا کہ میں جنرل فیض کو لانا چاہتا ہوں تو یہ ان کا خوف تھا کیونکہ ان کے اربوں ڈالر باہر پڑے ہیں اور اگر نومبر میں اپنا آرمی چیف رکھ دیا تو ان کے مستقبل تباہ ہو جائیں گے۔‘

  6. چینی بینکوں نے پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر قرض دینے کے معاہدے پر دستخط کر دیے: مفتاح اسماعیل

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ چینی بینکوں کے کنسورشیم نے آج 2.3 ارب ڈالر کے قرض معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور اس سے قبل پاکستانی نمائندوں نے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’رقم کی منتقلی کچھ روز میں متوقع ہے۔ اس معاہدے میں معاونت پر ہم چینی حکومت کے شکر گزار ہیں۔‘

  7. حکومت پیمرا قوانین میں ترمیم لا رہی ہے: مریم اورنگزیب

    مریم اورنگزیب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ حکومت پیمرا قوانین میں ترمیم لا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے خلاف درج ایف آئی آرز پر متعلقہ آئی جیز کو بلا کر ان کا موقف سنا جانا چاہیے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پیمرا کے حوالے سے ترمیم میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ ’ہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مشاورت سے ترامیم لا رہے ہیں۔ جو بھی ترمیم ہوگی وہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ہوگی۔‘

    انھوں نے کہا کہ آزاد میڈیا حکومت کا احتساب کرتا ہے۔ ’میڈیا کی تنقید سے ہم نے ہمیشہ رہنمائی لی ہے۔ ہم نے یہاں موجود تمام صحافیوں کو سنا، جن کے خلاف ایف آئی آرز ہوئی ہیں ان کو بھی سنا ہے، بہتر ہے کہ تمام متعلقہ آئی جیز کو بلا کر ان کا موقف بھی سنا جائے۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’جب تک ایف آئی آرز پر ان کا موقف نہیں آئے گا، معاملہ کلیئر نہیں ہوگا جس پر کمیٹی نے صحافیوں پر درج ایف آئی آرز سے متعلق آئی جیز کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

  8. پاکستان اور آئی ایم ایف مزاکرات میں پیش رفت

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان کا معاشی امدادی پیکج بحال کرنے کے لیے حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان مزاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

    آئی ایم ایف کی نمائندہ ایستھر پیریز نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آئندہ مالی سال کے دوران معاشی استحکام کے لیے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت جاری ہے اور بجٹ پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔‘

    غیر ملکی خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج میں ایک سال تک مدت کے ساتھ ساتھ قرض کی رقم بڑھنے کی بھی امید ہے۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے بنیادی طورپربجٹ اور مالیاتی اقدامات پراتفاق ہوا ہے۔

  9. عمران خان خود نیب ترامیم کو ضروری قرار دیتے تھے، احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ’عمران خان خود ماضی میں نیب قوانین میں ترامیم کی بات کر چکے ہیں تو ان کو اب اعتراض کس بات پر ہے۔‘

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہ کہ ’یہ وہی ترامیم ہیں جن کے بارے میں عمران خان کہتے تھے کہ بہت ضروری ہیں۔ یہ وہی ترامیم ہیں جو عمران خان خود بذریعہ آرڈیننس کر گئے تھے۔‘

    احسن اقبال نے کہا کہ نیب قوانین میں ایسی شقوں میں ترامیم کی گئیں جن کو سپریم کورٹ اور دیگر عدالتیں آئین سے متصادم قرار دے چکی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اس میں وہ شق بھی شامل ہے جس کو اسلامی نظریاتی کونسل نے اسلامی تعلیمات سے متصادم قرار دیا ہے۔

    احسن اقبال نے الزام عائد کیا کہ ’عمران خان سیاسی حریفوں کو بنا ثبوت جیل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

    ’فرضی کرپشن کی کہانیوں پر کردار کشی کی گئی اور حکومت چلائی گئی۔ آج تک کوئی مقدمہ نہیں کہ شہباز شریف نے سرکاری عہدے کا استعمال کرتے ہوئے کوئی کرپشن کی۔‘

  10. حکومت کی اپروچ پرانے پاکستان والی ہے، شوکت ترین

    سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی پرانے پاکستان والی ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ حکومت پٹرولیم لیوی 50 روپے تک کرنے جا رہی ہے۔

    ’ایسے حالات میں ملک میں سرمایہ کاری کون کرے گا، ترسیلات زر بھی کم ہوں گی، بے روزگاری میں اضافہ ہو گا۔‘

    شوکت ترین نے کہا کہ روز مرہ استعمال کی چیزوں کی قیمت 40 فیصد بڑھ چکی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری اپروچ پروگریسو تھی، ان کی اپروچ پرانے پاکستان والی ہے۔‘

    ’اس حکومت نے چھ ہفتے کوئی فیصلہ نہیں لیا جس کی وجہ سے بحران آیا۔‘

    مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے جو کچھ بھی طے کیا اس پر سینیٹ میں بحث ہونی چاہیے۔

  11. وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس آج ہو گا, فرحت جاوید، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    وزیر اعظم شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPM OFFICE

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس آج سہ پہر 3 بجے وزیراعظم آفس میں ہوگا۔

    اجلاس میں چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان کے علاوہ وزیر دفاع، وفاقی وزیر خارجہ سمیت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ رہاض بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق اس ان کیمرہ اجلاس کے دوران عسکری قیادت اور قومی سلامتی کے اداروں کے سربراہان پارلیمانی رہنماؤں کو سلامتی کی صورتحال پربریفنگ دینگے اور اس دوران شرکاء کو ٹی ٹی پی سے مذاکرات میں پیشرفت سے متعلق بھی آگاہ کیا جائے گا۔

    اس کے ساتھ ساتھ سرحدوں کی صورتحال، بیرونی اور داخلی سطح پردرپیش چیلنجز، امن وامان کی صورتحال، ہمسایوں کے ساتھ تعلقات اور دیگر اہم سیکیورٹی امور پر اجلاس کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

  12. بریکنگ, اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے، 6.1 شدت ریکارڈ

    Earthquake

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا سمیت ملک کے شمالی علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت 6.1 تھی اور اس کا مرکز افغانستان کے صوبے خوست سے 44 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا، جبکہ گہرائی 50.8 کلومیٹر تھی۔

    امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق بھی پاکستان میں محسوس کیے جانے والے زلزلے کے جھٹکوں کی شدت 6.1 تھی۔

    پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق زلزلے کے جھٹکے منگل اور بدھ کی درمیانی رات تقریباً ایک بج کر 54 منٹ پر محسوس کیے گئے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. بلوچستان کا چھ سو 12 ارب 70 کروڑ روپے حجم کا بجٹ پیش، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    Balochistan Assembly

    ،تصویر کا ذریعہBalochistan Assembly Website

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان نے آئندہ مالی سال کے لیے چھ سو 12 ارب 70 کروڑ روپے حجم کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔

    بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔

    صوبے کے وزیر خزانہ نہ ہونے کی وجہ سے آئندہ مالی سال کا بجٹ صوبائی وزیر مواصلات سردار عبد الرحمان کھیتران نے پیش کیا۔

    بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی محاصل اور بلوچستان کے اپنے وسائل سے آمدن کا مجموعی تخمینہ پانچ سو 39ارب 94 کروڑ روپے لگایا گیا ہے ۔

    آئندہ مالی سال کے لیے اخراجات کا تخمینہ 612ارب 79کروڑ روپے ہے۔

    اس طرح بجٹ میں 72ارب 80 کروڑ روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 12ارب روپے کم ہے۔

    بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 366ارب72کروڑ روپے مختص کیئے گئے ہیں جبکہ ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 246ارب روپے ہے۔

    ترقیاتی اخراجات کے لیے بلوچستان حکومت 191ارب 51کروڑ روپے فراہم کرے گی۔ فارن فنڈد پروجیکٹس اسسٹینس کی مد میں اخراجات کا تخمینہ14ارب 94کروڑ روپے ہے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان میں جو ترقیاتی منصوبے ہیں ان کے39ارب 64کروڑ روپے کی رقم کو بھی بلوچستان کے ترقیاتی اخراجات میں ظاہر کیاگیا ہے ۔

    سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ آئند مالی سال کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کو ترجیح دی گئی ہے اور اس کے لیے 83 ارب 21 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔جن میں غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 71ارب روپے سے زائد ہے ۔

    تعلیم کی مد میں آئندہ مالی سال کے لیے رکھی جانے والی رقم رواں مالی سال کے مقابلے میں 13ارب روپے زیادہ ہے۔

    امن و امان اورسیفٹی افئیرز کی مد میں 56ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 4ارب روپے زیادہ ہیں ۔

    صحت کے شعبے کے لیے رواں مالی سال کے مقابلے میں چار ارب روپے زیادہ مختص کیے گئے ہیں ۔آئندہ مالی سال کے لیے صحت کے شعبے کے لیے43ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیںجن میں سے 31ارب روپے سے زائد غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے ہیں ۔

    سماجی تحفظ کے شعبے کے لیے پانچ ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ رواں مالی سال کی نظرثانی شدہ اخراجات کے مقابلے میں 20کروڑ روپے کم ہیں ۔

    بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواوں میں 15 فیصد اضافہ کیا گیاہے جبکہ کم سے کم تنخواہ کی حد 25ہزار روپے مقرر کی گئی ہے ۔

    بجٹ میں مختلف محکموں میں مجوعی طور پر دو ہزار 850 نئی آسامیاں رکھی گئی ہیں۔

    دو مرتبہ تاریخ میں تبدیلی کے بعد بھی جب منگل کے روز بلوچستان کے آئندہ مالی سال 2022-23کا بجٹ پیش کیا گیا تو اس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام اور وائٹ پیپر جیسے اہم دستاویزات شامل نہیں تھے۔

    ماضی میں یہ دو اہم دستاویز نہ صرف اراکین اسمبلی بلکہ میڈیا کے نمائندوں کو کابینہ کی جانب سے بجٹ کی منظوری کے بعد فراہم کی جاتی تھیں جن سے میڈیا کے نمائندے بجٹ پیش ہونے سے پہلے اپنے اداروں کو بجٹ سے متعلق درست اعداد و شمار فراہم کرتے تھے۔

    لیکن اس مرتبہ اسمبلی میں بجٹ تقریر شروع ہونے کے بعد بجٹ سے متعلق چند اعداد و شمار میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ شیئر کیے گئے۔

    سالانہ ترقیاتی پروگرام سے متعلق دستاویزات نہ ہونے پر حزب اختلاف کے اراکین کی جانب سے بھی بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن نصیر احمد شاہوانی نے کہا کہ ’ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں کیا ہے۔‘ جبکہ جمیعت العلما اسلام سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف کے رکن یونس زہری نے کہا کہ ’یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی چیز چھپائی جا رہی ہے۔‘

    تاہم بلوچستان کے وزیر مواصلات سردار عبد الرحمان کھیتران جو کہ وزیرخزانہ نہ ہونے کی وجہ سے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کر رہے تھے نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام سے متعلق دستاویزات ابھی تک چھپائی کے مراحل میں ہے۔

  14. عمران خان کا نیب ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان

    Imran khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کی نیب کے حوالے سے کی گئیں ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے۔

    عمران خان نے ایک بیان میں کہا کہ ’حکومت نے نیب کے حوالے سے جو ترامیم کی ہیں، اس کو ہم نے اسی ہفتے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سپریم کورٹ میں گئے ہیں اور امید ہے کہ ہماری عدالتیں اس پر پورا نوٹس لیں گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ملک کا مذاق اڑایا گیا ہے، جن لوگوں نے بے شرمی سے نیب کی ترامیم منظور کی ہیں، ان کو بے شرمی کی وجہ سے جیل میں ڈالنا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جس قوم کے اندر کرپشن ہو وہ ترقی نہیں کر سکتی، جس قوم کے اندر انصاف نہ ہو یعنی قانون کی حکمرانی نہ ہو تو کرپشن اس کی نشانی ہے۔

    ’جس ملک میں ایک طبقہ قانون سے اوپر ہو اور قانون صرف کمزوروں کےلیے ہو تو وہ ملک تباہ ہوجاتے ہیں، بنانا ریاست بنتے ہیں اور ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا ہے۔‘

  15. درآمدات کی ادائیگی کے لیے بینکوں کے پاس وافر زرمبادلہ موجود ہے: سٹیٹ بینک

    سٹیٹ بینک

    پاکستان کے مرکزی بینک نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ اس کی جانب سے درآمدات کے لیے دیے جانے والے زرمبادلہ کو روک دیا گیا ہے۔ بینک نے ان خبروں کو بھی مسترد کیا جن کے مطابق بینکوں کے پاس ڈالر ختم ہو گئے ہیں۔

    مرکزی بینک کے اعلامیے کے اعلامیے کے مطابق دس جون تک سٹیٹ بینک کے پاس 8.99 ارب ڈالر موجود تھے جس میں سونے کے ذخائر شامل نہیں ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق بینکوں کے پاس درآمدات کی ادائیگی کے لیے وافر زرمبادلہ موجود ہے۔

  16. عمران خان نیا پاکستان بناتے بناتے مہنگا پاکستان چھوڑ گئے: بلاول بھٹو

    بلاول

    ،تصویر کا ذریعہPPP Media Cell

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلے دن سے پیپلز پارٹی کا یہ فیصلہ تھا کہ ’سلیکٹیڈ‘ وزیر اعظم کو آئینی طریقے سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے الگ کیا جائے گا۔

    انھوں نے عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جب ہم نے حکومت سنبھالی تو سمجھ آئی کہ اس ایک شخص (عمران خان) نے چار سال میں اس پاکستان کے ساتھ کیا کیا ہے۔ عوام کے ساتھ مذاق کیا گیا۔ عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں یکطرفہ تبدیلی کی جس کی وجہ سے پورے ملک نے اتنا معاشی نقصان اٹھایا کہ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے میں تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عمران خان نیا پاکستان بناتے بناتے مہنگا پاکستان بنا گئے۔‘

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان کا احتساب اور کرپشن کے خلاف بیانیہ سو فیصد جھوٹ تھا۔ ’کرپشن کا درس دینے والا کرپشن کی داستانیں چھوڑ کر گیا ہے۔۔۔ عمران خان کو اپنی اور اپنی اہلیہ کی کرپشن کا جواب دینے ہو گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ سابق حکومت کی نااہلی کی سزا پاکستان کی عوام اٹھا رہی ہے جبکہ ملک کو عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔انھوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے خلاف ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کی دو الگ الگ ایف آئی آرز درج تھیں مگر اب اس سلسلے میں جلد خوشخبری ملے گی۔

  17. غریب آدمی کا بوجھ بانٹیں گے، صاحبِ ثروت افراد پر ٹیکس لگائیں گے چاہے وہ ون ٹائم ہی ہو: شہباز شریف

    shehbaz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کابینہ کی میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ غریب آدمی کا بوجھ بانٹیں گے اور صاحبِ ثروت افراد پر ٹیکس لگائیں گے چاہے وہ ون ٹائم ہی کیوں نہ ہو۔

    انھوں نے یہ بات ایک ایسے موقع پر کی جب پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ تاحال تعطل کا شکار ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے ہمیں جو حکومت ملی، پچھلی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ناقص کارکردگی کے باعث ہمیں بہت بڑا معاشی چیلنج ملا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، لیکن پچھلی حکومت نے آنے والی حکومت کے لیے جال بچھایا جو سو فیصد بدنیتی پر مبنی تھا۔‘

    شہباز شریف نے غریب آدمی کو دیے گئے ریلیف سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اب ہیلپ لائن کے ذریعے دو ہزار روپے مہینہ کروڑوں لوگوں کو دیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’غریب آدمی پر آنے والا بوجھ بانٹیں گے، اور جن کو اللہ نے نوازا ہے ان پر ہم ٹیکس لگائیں گے چاہے وہ ون ٹائم ہو اور اس طرح ہم کئی سو ارب روپیہ ٹیکس اکٹھا کریں گے۔‘

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم مشکل وقت میں حکومت میں آئے ہیں اور یہ مشکل ذمہ داری ہم نبھائیں گے، ہم نے مشکل معاشی فیصلے کیے ہیں اور اگر ہمیں مزید بھی کرنے پڑے تو کریں گے۔

    ’پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے کسی بھی قسم کے فیصلے سے نہیں ہچکچائیں گے۔‘

  18. بریکنگ, قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس طلب: مقامی میڈیا

    پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق قومی اسمبلی میں قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اِن کیمرا اجلاس بدھ کو طلب کیا گیا ہے جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل ندیم انجم قومی سلامتی امور پر ارکان کو بریفنگ دیں گے۔

  19. ’اس کیس کا فیصلہ انصاف کے مطابق ہوگا‘

    پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس سے متعلق مزید اپ ڈیٹس۔۔۔

    ارسلان وردک کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ناروے، فنلینڈ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے ڈونرز کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ اس پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی نے بعد میں تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کرا دی تھیں۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ 11 بینک اکاوئنٹس کی پی ٹی آئی نے تصدیق کی جو چھپائے گئے تھے اور ان بینک اکاوئنٹس میں ستاون ملین روپے کی ترسیلات ہوئیں۔

    انہوں نے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی کو ڈونرز کی نامکمل تفصیلات فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ 13 ممالک سے فنڈنگ ہوئی لیکن سکروٹنی کمیٹی کو نہیں بتایا گیا۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ 2013 کے ڈونرز کی تفصیلات جمع نہیں کرائی گئیں جس پر پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کچھ دن پہلے ڈونرز کی فہرست جمع کرا دی ہے۔‘

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ فنڈنگ کے لیے بیرون ملک بنائی گئی کمپنیوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اس پر پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کے فنانشل ایکسپرٹ ریبٹل والی کوئی بات نہیں کر رہے اس پر چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں۔‘

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک سے 11 اکاوئنٹس کی تفصیلات منگوائی جائیں۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ آڈٹ کے اصول اور معیار کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈونرز تھرڈ پارٹی نہیں بلکہ پی ٹی آئی قیادت کی اپنی بنائی ہوئی کمپنیاں ہیں۔

    درخواست گزار اکبر ایس بابر نے کمیشن کو بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کوئی سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں فنڈنگ کی تفصیلات دے رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہر سیاسی جماعت کو الیکشن کمیشن کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے فریقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کِہ ’پاکستان تحریک انصاف کا کیس فائنل ہوا ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں دوسری سیاسی جماعتوں کے کیسز کا بھی اختتام ہو۔‘ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ووٹر کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ ملک کو جمہوری طور پر مضبوط کرنا ہے۔‘

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ’یہ کیس مکمل ہوگیا۔ دوسری پارٹیز کے کیس بھی جلد مکمل ہوں گے۔

    ’بہت سے حساس کیسز سامنے آئے۔ کمیشن نے اپنی کوشش کی۔ ملک کے لیے جمہوریت بہت اہم ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ ’ہمیں کسی قسم کی پریشانی نہیں کہ باہر کون کیا کہہ رہا ہے اور انصاف کے مطابق اس کیس کا فیصلہ ہوگا۔‘

  20. بریکنگ, الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی فنڈنگ سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ’ممنوعہ‘ فنڈنگ سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ ’اگر ضرورت پڑی تو فنانشل ایکسپرٹ کو طلب کیا جاسکتا ہے۔‘

    پی ٹی آئی کی ممنوعہ فنڈنگ کا معاملہ آٹھ سال تک الیکشن کمیشن اور مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہا۔ پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے ممنوعہ فنڈنگ سے متعلق درخواست دائر کی تھی اور یہ درخواست 2014 میں دائر کی گئی تھی۔

    الیکشن کمشن نے یہ نہیں بتایا کہ محفوظ شدہ فیصلہ کب سنایا جائے گا۔

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ دیگر جماعتوں کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اس کی سماعت کی جائے گی۔

    ’فنڈز کے حوالے سے پی ٹی آئی نے انکار نہیں کیا‘

    اس سے قبل درخواست گزار اکبر ایس بابر کے فنانشل ایکسپرٹ ارسلان وردک کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور انھوں نے کہا کہ ’میں ایک گھنٹے میں اپنی بات مکمل کر لوں گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ صرف ان اعداد و شمار ہر بات کریں گے جو مبہم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ برطانیہ سے پیسے آئے اور اگر کوئی تسلیم شدہ حقیقت ہے تو دوبارہ کیوں دہرا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کینیڈا سے ملنی والی رقوم کے بارے میں کسی کو پتا نہیں کہ رقوم کس نے دیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے فنڈ آئے، ہم نے اس کا رجسٹریشن نمبر دے دیا ہے اور متحدہ عرب امارات کی کمپنی سے 49 ہزار ڈالر آئے۔

    انھوں نے کہا کہ ان فنڈز کے حوالے سے پی ٹی آئی نے انکار نہیں کیا۔