پیٹرولیم مصنوعات: عمران خان کی ملک گیر احتجاج کی کال، کراچی ضمنی انتخابات میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک

سابق وزیر اعظم عمران خان نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر اتوار کی شام ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔ اُدھر صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں این اے 240 کے ضمنی انتخاب میں پولنگ کے اختتام پر فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حالات اب قابو میں ہیں اور گنتی کا عمل جاری ہے۔

لائیو کوریج

  1. ہمیں سی پیک کے حوالے سے کسی قسم کی بیرونی مداخلت برداشت نہیں کرنی چاہیے: اسد عمر

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنی حکومت کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

    اسد عمر نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’اب ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سی پیک کانٹریکٹس میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی صورتحال میں ہمیں سی پیک میں بیرونی مداخلت برداشت نہیں کرنی چاہیے۔ یہ فیصلے صرف اور صرف پاکستان کے قومی مفاد کی بنیاد پر لیے جانے چاہییں۔‘

  2. حکومت کینٹ کے بازاروں کو بھی ساڑھے آٹھ بجے بند کروائے، انجمنِ تاجران

    کوئٹہ

    ،تصویر کا ذریعہMustafa Gulzari

    آل پاکستان انجمنِ تاجران نے ساڑھے آٹھ بجے بازاریں بند کروانے کے حکومتی اعلان پر کہا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے فیصلے کیے گئے مگر ان کے ’خاطر خواہ نتائج‘ نہیں نکلے۔

    تنظیم کے سیکریٹری جنرل نعیم میر نے کہا کہ حکومت کو ان پر فیصلے ’تھوپنے‘ کے بجائے اُن کی تنظیموں کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے۔

    اُنھوں نے کہا کہ نامساعد معاشی حالات میں وہ حکومت کے ساتھ مشروط تعاون کرنے کو تیار ہیں۔

    اُنھوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایک ہی وقت پر کینٹ حدود کی مارکیٹوں کو بھی بند کروایا جائے۔

    نعیم میر نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتیں اس فیصلے کے حوالے سے اُن تمام حلقوں کے اجلاس بلائیں جن کے اس صورتحال سے مفادات وابستہ ہیں۔

    اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کاروبار کے اوقات میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائے۔

  3. پاکستان کا اقتصادی سروے آج جاری کیا جائے گا

    روپے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کا وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2022/2023 جمعے کو پیش کیا جائے گا۔ روایت کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ سے ایک دن قبل اقتصادی سروے جاری کیا جاتا ہے، چنانچہ حکومت کی جانب سے اقتصادی سروے کی رونمائی آج کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ زرِمبادلہ کے تیزی سے گرتے ہوئے ذخائر، روپے کی قدر میں کمی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث حکومت مالی طور پر دباؤ کی شکار ہے۔

    ماہرین اور حکومتی حلقوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ایک ’سخت‘ بجٹ ہو گا جس میں ممکنہ طور پر کئی ریلیف ختم کیے جا سکتے ہیں۔

  4. وفاقی دارالحکومت میں شادی کی تقاریب 10 بجے تک ختم کرنے کا حکم جاری

    اسلام آباد کی انتظامیہ نے ملک میں بجلی کی کمی کے پیشِ نظر شادی کی تقاریب رات 10 بجے تک ختم کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا اطلاق کسی بھی جگہ ہونے والی شادی کی تقریب پر ہو گا، جن میں شادی ہال، مارکی، ہوٹل، ریستوران حتیٰ کہ نجی مقامات بھی شامل ہیں۔

    نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ حکم دو ماہ کے لیے نافذالعمل رہے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور بجلی کی طلب و رسد میں بڑھتے ہوئے فرق کے باعث حکومت نے کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں سنیچر کی چھٹی بحال کرنا بھی شامل ہے۔

    اس کے علاوہ حکومت بازاروں کو سرِ شام ہی بند کروانے پر بھی غور کر رہی ہے۔

    اس کے علاوہ ملک بھر میں بجلی کی طویل بندش جاری ہے جس کی وجہ حکام کی جانب سے بجلی کی پیداوار میں کمی بتائی گئی ہے۔

    بجلی
  5. ’جنرل باجوہ نے مجھ سے مارچ کے تیسرے ہفتے کے بعد کوئی ملاقات نہیں کی‘, سابق وزیر خزانہ شوکت ترین

    سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ انھیں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کا ساتھ چھوڑنے اور شہباز شریف کی حکومت میں شامل ہونے کا کہا گیا تھا۔

    وہ ٹوئٹر پر کہتے ہیں کہ ’جنرل باجوہ نے مجھ سے مارچ کے تیسرے ہفتے کے بعد سے کوئی ملاقات نہیں کی۔‘

    اس سے قبل پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سابق وزیر خزانہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر الزامات کو بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دیا تھا۔

    آئی ایس پی آر نے نے متنبہ کیا تھا کہ ذاتی مفادات کو فروغ دینے کے لیے ادارے اور اس کی قیادت کے خلاف بدنیتی پر مبنی الزامات قابل مذمت ہیں اور ادارہ ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا حق رکھتا ہے۔

    بدھ کو آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا کہ شاہین صہبائی اور کچھ دیگر افراد کی جانب سے سوشل میڈیا پر سابق وزیر خزانہ کے حوالے سے بیانات بے بنیاد پروپیگنڈا ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  6. ’خواہش ہے کہ پی ڈی ایم آئندہ الیکشن ایک ساتھ مل کر لڑے‘, خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک الائنس (پی ڈی ایم) آئندہ الیکشن ایک ساتھ مل کر لڑے۔

    انھوں نے اینکر شاہزیب خانزادہ کے شو پر گفتگو کے دوران کہا کہ ’میری خواہش یہی ہے اور میں تجویز بھی یہی دیتا ہوں کہ پی ڈی ایم کا حکومتی اتحاد عام انتخابات کے لیے بھی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر لے۔

    ’ہر پارٹی نے دوسرے کو جگہ دی ہے۔ یہ وسیع شمولیت کے ساتھ بننے والی حکومت ہے جسے بڑی مشاورت سے چلایا جا رہا ہے۔‘

    وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’ہماری مقبولیت نیچے آئی ہے لیکن یہ اوپر بھی جا سکتی ہے۔۔۔ ہمارے اقدامات کے نتائج آنا شروع ہوں گے اور دوست ممالک بھی امداد کریں گے۔‘

    سابق وزیر اعظم کی گرفتاری سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ ’میں سیاسی مخالفین کو گرفتار کرنے کے حق میں نہیں۔‘

    دوسری طرف وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے جیو نیوز کے شو آپس کی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف اس بیانیے کو فروغ دے رہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بجٹ پاس کروا کر الیکشن کروائے گی۔ ’یہ اداروں کو پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ مداخلت کریں۔‘

  7. ’جولائی سے لوڈ شیڈنگ میں نمایاں کمی آئے گی‘

    خرم دستگیر

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ حکومت نے بجلی کی بچت کے لیے ایک منصوبہ تیار کر لیا ہے اور جولائی کے شروع میں لوڈ شیڈنگ میں نمایاں کمی آ جائے گی۔

    بدھ کو پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’رواں ماہ کے آخر تک ری فیولنگ سے کے ٹو اپنی مکمل استعداد 1100 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا جس سے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید ایک گھنٹہ کم ہو جائے گا جبکہ کوئلے سے بجلی کی مکمل پیداوار رواں ماہ کے آخر تک شروع ہو جائے گی۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ ’84 فیصد فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ 4 گھنٹے سے کم ہے۔‘

    خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ پانی کی کم آمد کی وجہ سے ہائیڈل بجلی کی پیداوار کم ہے اور موسم کی شدت کی وجہ سے بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ ’پچھلی حکومت نے بڑھتی ہوئی طلب کے لیے اقدامات نہیں کیے‘

    ’15 جون سے 600 میگاواٹ اور رواں ماہ کے آخر تک 1100 میگاواٹ مزید بجلی سسٹم میں آ جائے گی۔ لائف لائن صارفین کو بجلی کی قیمت میں اضافہ کے اثرات سے بچائیں گے، آئندہ درآمدی ایندھن سے کوئی بجلی گھر نہیں لگایا جائے گا۔‘

  8. پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعرات کو طلب

    پارلیمنٹ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج یعنی جمعرات کو ہوگا جس میں الیکشن ایکٹ 2017 ترمیمی بل اور نیب آرڈیننس میں ترمیم کا بل پیش کیا جائے گا۔

    یہ دونوں بل پہلے ہی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہو چکے ہیں تاہم صدر مملکت عارف علوی نے ان دونوں بلوں کو قانون کا درجہ دینے سے متعلق بھیجی گئی سمری پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا اور انھیں دوبارہ حکومت کو بھیجا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ان بلوں کی منظوری کے بعد صدر کی منظوری کی ضرورت نہیں ہو گی۔ یہ اجلاس شام چار بجے متوقع ہے۔

  9. ایسی جماعت کا ساتھ نہیں دے سکتا جو امپورٹڈ حکومت کی حمایت کرے: حسین الہی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    رہنما مسلم لیگ ق حسین الہی نے اپنی جماعت سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

    ٹوئٹر پر ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ میرا ملک میرے لیے سب سے اہم ہے اور یہ ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے مسلم لیگ ق کے ساتھ سیاسی سفر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ’میں اپنا سیاسی مستقبل مونس الہی کے ساتھ طے کروں گا۔ ایسی جماعت کا ساتھ نہیں دے سکتا جو شہباز شریف کی سربراہی میں بننے والی امپورٹڈ حکومت کی حمایت کرے۔‘

  10. سازش کرنے والے چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور پاک فوج کمزور ہو: عمران خان

    Imran

    ،تصویر کا ذریعہFacebook/@ImranKhanPTI

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ سازش کرنے والے چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور پاک فوج کمزور ہو۔

    تحریک انصاف کی نیشنل کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کچھ دنوں میں ملک بھر میں احتجاجی تحریک کا اعلان کرنے جا رہا ہوں، چوروں کا ٹولہ ایک ساتھ اکٹھا ہو گیا ہے، لیکن عوام آپ کے ساتھ ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ ’جس طرح کی آنسو گیس کی شیلنگ ہماری خواتین پر کی گئی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، مارشل لا کے علاوہ کبھی ایسا نہیں ہوا جیسا پولیس نے 25 مئی کو کیا۔‘

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پیٹرول پر چار روپے بڑھے تو بلاول نے مہنگائی مارچ کیا، ہم نے تو کسی کو نہیں روکا، ہم نے فیک نیوز کے علاوہ کسی چیز کو نہیں روکا، مثبت تنقید قوم کا اثاثہ ہوتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایک ناجائز کام کو جائز بنانے کے لیے تمام حربے استعمال کیے جارہے ہیں، دنیا میں کہیں بھی ملزم قاضی نہیں بن سکتا، دنیا میں کہیں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنے کیسز خود ختم کروائے۔‘

  11. وفاقی بجٹ سخت ہو گا، ٹیکس نیٹ بڑھانے پر فوکس ہے، وفاقی وزیر

    boss

    ،تصویر کا ذریعہsocial media

    وفاقی وزیر فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ بجٹ سخت ہو گا اور فوکس ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ریوینیو اکھٹا کرنے پر ہو گا۔

    صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اور رہنما ایم کیو ایم فیصل سبز واری نے کہا کہ ’یہ موازنہ بعد میں کر لیں گے کہ کس سے مس مینیجمنٹ ہوئی لیکن وزیر اعظم نے کہا ہے کہ چارٹر آف اکانومی ہو، سب تعلیم، معیشت اور صحت پر سیاست نہ کریں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’پٹرول کی قیمت ہر اس حکومت کو کم کرنی چاہیے جو ٹیکس لے رہی ہو یا لیوی لے رہی ہو، ابھی تو حکومت ایک روپیہ بھی اضافی نہیں لے رہی۔ جو موجودہ حکومت کر رہی ہے، اس کے بغیر آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں ہو سکتا۔‘

    ایک اور سوال کے جواب میں فیصل سبزواری نے کہا کہ ’ہم کہہ چکے ہیں کہ نئی مردم شماری کے بغیر نئے انتخابات نہیں ہونے چاہیے۔ ہم نے پچھلی حکومت سے مردم شماری کا اعلان کرویا جس پر کام ہو رہا ہے۔ توقع ہے کہ گننے والے ڈنڈی نہیں ماریں گے۔‘

  12. پانی کی کمی ختم کرنے کے لیے نئے منصوبے شروع کر رہے ہیں، وفاقی وزیر آبی وسائل

    وفاقی وزیر آبی وسائل خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ملک میں زراعت کے لیے پانی کی کمی کو ختم کرنے کے لیے حکومت نئے منصوبوں کا آغاز کرنے والی ہے۔

    وفاقی وزیر آبی وسائل خورشید شاہ، پیپلزپارٹی رہنماؤں فیصل کریم کنڈی اور چوہدری منظور کے ساتھ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ جو کام چار سال میں نہیں ہوئے ان پر تیزی سے کام شروع ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے پاکستان کے زراعت کے شعبے کو مضبوط کیا جائے۔

    خورشید شاہ نے بتایا کہ حکومت تین ملین ٹن گندم درآمد کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو اتنا مضبوط بنائیں کہ پاکستان امپورٹ کی بجائے برآمد کرے اور ملک قرضوں سے نکل سکے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آج باتیں ہو رہی ہیں کہ ہم آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کے پاس مدد کیلئے جاتے ہیں۔‘

    خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ’صوبہ خیبر پختونخواہ کو دو فیصد پانی کم مل رہا ہے۔ پانی کے مسائل کو حل کرنے اور کمی کو ختم کرنے کے لیے نئے پروجیکٹ شروع کر رہے ہیں۔‘

  13. پاکستان کی سیاسی صورتحال سے متعلق بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمدید!

    politician

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے متعلق بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمدید!

    اس لائیو پیج پر آپ پاکستان کی سیاسی صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ صورتحال جان سکیں گے۔ اس سے قبل ہونے والی پیش رفت کے لیے یہاں کلک کریں۔