پیٹرولیم مصنوعات: عمران خان کی ملک گیر احتجاج کی کال، کراچی ضمنی انتخابات میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک

سابق وزیر اعظم عمران خان نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر اتوار کی شام ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔ اُدھر صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں این اے 240 کے ضمنی انتخاب میں پولنگ کے اختتام پر فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حالات اب قابو میں ہیں اور گنتی کا عمل جاری ہے۔

لائیو کوریج

  1. پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 دن میں کرنے کا حکم کالعدم قرار, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی اپیل پر الیکشن کمیشن کو ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 دن میں سنانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے۔

    فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ الیکشن کمیشن تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس بابر ستار نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بلا تفریق کیس کی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے مطابق ابھی تک الیکشن کمیشن نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ عدالت کو توقع ہے کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کے خلاف زیر التوا کیس مناسب وقت میں مکمل کرے گا۔‘

    عدالت کے مطابق شک کی گنجائش نہیں کہ تمام جماعتوں کے ساتھ ایک جیسا برتاؤ ہو گا۔

  2. غیر ملکی سازش پر عمران خان کا جھوٹ ثابت ہو چکا ہے، مریم نواز

    مریم نواز

    نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز نے کہا ہے کہ مراسلے کے معاملے پر کسی کو وضاحت دینے کی ضرورت نہیں کیوں کہ عمران خان کا جھوٹ ثابت ہو چکا ہے۔

    نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں۔

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کو ایک بہانہ چاہیے تھا اس لیے وہ سازش کا معاملہ این ایس سی میں لے کر گئے لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر نے فوج اور سیکیورٹی ایجنسیز کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ سازش نہیں ہوئی۔‘

    ’عمران خان نے سیاست چمکانے کے لیے سیکیورٹی اور سیکیورٹی اداروں کو داو پر لگا دیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اب کسی کو اس معاملے پر وضاحت دینے کی ضرورت نہیں کیوں کہ عمران خان کا جھوٹ ثابت ہو چکا ہے۔‘

    پرویز مشرف کے بارے میں سوال پر انھوں نے کہا کہ ’نواز شریف کا بیان انسانی بنیادوں پر تھا۔‘

    مریم نواز نے کہا کہ ’شہباز شریف نے ایک روپیہ بھی اپنی طرف سے پیٹرول پر اضافی ٹیکس نہیں لگایا اور یہ وہی 2019 کا معاہدہ ہے جو پی ٹی آئی حکومت نے کیا جس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانی پڑیں۔‘

    ’اس معاہدے میں پٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس لگانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ پچھلے بجٹ میں بھی انھوں نے لیوی اور سیلز ٹیکس بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے معاہدے کے مطابق آج پیٹرول کی قیمت تین سو روپے تک ہوتی۔‘

    مریم نواز نے کہا کہ ’اگر آئی ایم ایف سے معاہدے کو توڑدیں تو پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ الیکشن وقت پر ہی ہوں گے۔

  3. ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے مشکل فیصلے کیے، مصدق ملک

    وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ ملک کو دیوالیے سے بچانے کے لیے سیاسی خودکشی کے لیے بھی تیار ہیں۔

    مصدق ملک وفاقی وزرا خواجہ آصف، قمر الزماں کائرہ اور مولانا اسد محمود کے ساتھ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’حکومت نے مشکل فیصلے لیے اس کی سیاسی قیمت تو ادا کرنی پڑے گی۔ اگر ہم ملکی معیشت کو مشکل فیصلے کر کے درست راستے پر لے آئیں تو یہ سیاسی خود کشی نہیں ہے۔‘

    مصدق ملک نے عندیہ دیا کہ حکومت کا مستقبل میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مزید کمی کا ارادہ نہیں لیکن یہ بین الاقوامی منڈی کی قیمت سے مشروط ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر پیٹرول کی بین الاقوامی قیمت نہیں بڑھتی تو ہم نے جو فیصلے کرنے تھے کر چکے ہیں۔‘

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک سوال پر کہا کہ ’مراعات یافتہ طبقے کو ہی مثال قائم کرنی چاہیے۔ اگر ہم کفایت شعاری کریں گے تو تقلید کرنے والی مثال ہو گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر مراسلے کے معاملے پر کمیشن بھی بنا دیا جائے تو عمران خان قبول نہیں کریں گے کیوں کہ قومی سلامتی کیٹی کے اجلاس میں ان کو بتایا جا چکا ہے کہ سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔‘

  4. ایف آئی اے نے ساڑھے چار گھنٹے تفتیش کی، مونس الہی

    مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہی نے کہا ہے کہ ایف آئی اے نے ان سے ساڑے چار گھنٹے سے تفتیش کی۔

    مونس الہی منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے لاہور کے دفتر پیش ہوئے جس کے بعد انھوں نے میڈیا سے بات کی۔

    مونس الہی نے کہا کہ ’ان کو صرف یہ تکلیف تھی کہ ہم نے تحریک انصاف کا ساتھ کیوں دیا اور ن لیگ کا ساتھ کیوں نہیں دیا۔‘

    مونس الہی نے بتایا کہ ان کو ایف آئی اے نے سوالنامہ دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس کیس کا مقصد صرف پنجاب اسمبلی کے اجلاس اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانا تھا۔‘

  5. ’میں بہت تگڑا شو کرنے والا ہوں لیکن ابھی بتاؤں گا نہیں‘، عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے دعوی کیا ہے کہ وہ بہت ’تگڑا شو‘ کرنے والے ہیں جس کی تفصیلات دینے سے انھوں نے گریز کیا ہے۔

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ بار کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں بہت تگڑا شو کرنے والا ہوں، لیکن ابھی بتاؤں گا نہیں۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’پرامن احتجاج ہو گا اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہو گا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’مجھے خوف ہے کہ ملک سری لنکا جیسے معاشی حالات کی طرف جا رہا ہے۔‘

    ’اگر اس وقت یہ حکومت چلتی رہی تو جیسے سوویت یونین معاشی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے ٹوٹ گیا، کہیں پاکستان بھی اس مقام پر نہ پہنچ جائے۔‘

    ’اس وقت صرف ایک چیز ملک کو بچا سکتی ہے جو صاف اور شفاف الیکشن ہیں۔‘

  6. نیوٹرلز کو سمجھایا تھا کہ پاکستان میں عدم استحکام نہ ہونے دیں، عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ’جب سازش کا علم ہوا تو نیوٹرلز کو سمجھایا تھا کہ پاکستان میں عدم استحکام نہ ہونے دیں۔‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ ’جب مجھے پتہ چلا کہ سازش ہو رہی ہے تو میں نے نیوٹرلز کو سمجھایا کہ بین الاقوامی منڈی میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو کسی طرح کا عدم استحکام نہ ہونے دیں۔ میں نے شوکت ترین کو بھی کہا کہ ان کو سمجھاو کہ نیوٹرل ہونے کا ٹائم نہیں ہے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’امریکی انڈر سیکریٹری ڈونلڈ لو نے اس سفارت کار لو دھمکی دی جو میرے نیچے تھا۔ اس نے جس کو بھی کہا، یہاں ایکشن شروع ہو گیا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’کیا آئین اجازت دیتا ہے کہ نیشل سکیورٹی کمیٹی نے کہا کہ مداخلت ہوئی تو کیا اس پر انکوائری نہیں ہونی چاہیے؟ کیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو جو مراسلہ بھیجا کیا ان کو انکوائری نہیں کرنی چاہیے؟‘

    عمران خان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس حکومت کو کچھ نہیں پتہ کہ کیا کرنا ہے۔ مارکیٹ میں خوف آنا شروع ہو گیا کہ ان کے پاس روڈ میپ نہیں ہے اسی لیے ڈالر کا ریٹ اوپر جانا شروع ہو گیا۔‘

    عمران خان نے کہا ’اگر لوگوں نے، اتحادیوں نے ہماری پارٹی چھوڑنی تھی تو دو سال پہلے چھوڑ دیتے۔ پچھلے دو سال میں معاشی ترقی کی رفتار پانچ عشاریہ چھ فیصد تھی۔ ملک کی بہترین ترقی ہو رہی تھی، ریکارڈ ایکسپورٹس اور ٹیکس اکھٹا ہو رہا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھانے سے معیشت پر اثر پڑے گا، سفید پوش طبقہ پس جائے گا، مہنگائی30 فیصد بڑھے گی۔‘

  7. آئی ایم ایف کی پاکستان میں سی پیک کے تحت پاور پلانٹس کے معاہدوں پر نظر ثانی کی رپورٹس کی تردید, تنویر ملک، صحافی

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ اس کی جانب سے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت لگنے والے بجلی کے پلانٹس (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے معاہدوں پر نظر ثانی کے لیے نہیں کہا گیا۔

    پاکستان میں آئی ایم ایف کی کنٹری نمائندہ ایستھر پیریز روئز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس سلسلے میں کیے جانے والے دعوے بے بنیاد ہیں۔

    انھوں نے کہا آئی ایم ایف پاکستان کی توانائی کے شعبے میں کثیر الجہتی حکمت عملی کی حمایت کرتا ہے جس کے تحت تمام شراکت داروں یعنی حکومت، پاور پلانٹس اور صارفین اس شعبے کے بوجھ میں برابر کا حصہ ڈالیں۔

  8. منی لانڈرنگ کیس: مونس الہی کے شریک ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور

    مسلم لیگ ق کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے بیٹے مونس الہی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں عدالت نے دو ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منطور کر لیا ہے۔

    بدھ کے دن ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے لاہور کے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں مونس الٰہی کے شریک ملزمان نواز بھٹی اور مظہر عباس کو پیش کیا جہاں ان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ ورک نے ایف آئی اے کی درخواست پر دونوں ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

  9. سابق حکومت نے مجھ پر کرپشن کا جھوٹا مقدمہ بنایا، وزیر اعلی سندھ

    وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت نے ان پر کرپشن کا جھوٹا مقدمہ بنوایا۔

    وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اسلام آّباد میں میڈیا سے بات کر رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ سابق حکومت نے سیاسی مخالفین کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنائے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ سابق حکومت کو جمہوری طریقے سے نکالا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ نواز شریف کو اقامے کی بنیاد پر نکالا گیا جب کہ یوسف رضا گیلانی کو بطور وزیر اعظم عدالت نے تیس سیکنڈ کی سزا سنائی۔

  10. پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کی وجہ پی ٹی آئی کی آئی ایم ایف سے ڈیل تھی، شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے آئی ایم ایف معاہدے کی وجہ سے موجودہ حکومت کے پاس پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

    ٹوئٹر پر بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’مجھے فیول کی قیمت میں اضافے کے اثرات کا بخوبی علم ہے لیکن ہم بہت جلد معاشی مشکلات سے باہر نکل آئیں گے۔‘

    شہباز شریف کے مطابق ’بہت جلد قوم کو آئی ایم ایف اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہدے پر اعتماد میں لیا جائے گا اور تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. کراچی: قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 240 میں ضمنی انتخابات

    کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 240 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ جاری ہے۔

    یہ نشست ایم کیو ایم کے اقبال محمد علی کی موت کے بعد خالی ہوئی تھی۔

    صوبائی الیکشن کمشنر کے مطابق پولنگ شام پانج بجے تک جاری رہے گی جہاں تقریبا 25 امیدوار ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف حصہ نہیں لے رہی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ کیا گیا ہے۔

  12. پی ٹی آئی کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر کہا ہے کہ حکومت نے عوام پر خودکش حملہ کیا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ عمران خان اگر آج اقتدار میں ہوتے تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو رہا ہوتا۔

    دوسری طرف پی ٹی آئی رہنما اور سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اُن کی جماعت ’آدھی رات کی اس ڈکیتی‘ کو مسترد کرتی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. بریکنگ, حکومت کا پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 24 روپے اضافے کا فیصلہ

    پیٹرول

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اعلان کیا ہے کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 24 روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

    اس اعلان کے تحت ‏پیٹرول کی نئی قیمت 233 روپے 89 پیسے ہو گی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 59 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے اور اس کی نئی قیمت 264 روپے فی لیٹر ہو گی۔

    بدھ کی رات پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ اضافہ پاس آن کرنے پر مجبور ہیں۔ نقصان کے برابر قیمت بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا۔۔۔ یہ کسی حکومت کے لیے آسان فیصلہ نہیں ہوتا۔ چند ماہ تک یہ مشکل ہوگی اس پر ہم قوم سے معذرت چاہتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’فروری میں عمران خان کی حکومت نے یہ سمجھا کہ ان کی حکومت کے آخری دن شروع ہوگئے تو انھیں ایک قدم اٹھایا جس میں پیٹرول کی قیمت کم کر دی، سیلز ٹیکس اور لیوی ختم کردی جس سے نقصان ہوا۔‘

    ’تیل کی عالمی قیمت 120 ڈالر فی بیرل ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود 24.3 روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’مئی میں یہ نقصان 120 ارب روپے سے تجاوز کر گیا تھا۔ سول حکومت چلانے کا خرچ 40 ارب ہے۔ میں 30 سال سے یہ چیزیں دیکھ رہا ہوں، آج تک حالات میں اس قدر بگاڑ نہیں دیکھا۔‘

    ’عمران خان کے اقدام سے نہ صرف آنے والی حکومت کو پھنسایا گیا بلکہ ملک کو بھی پھنسایا گیا۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ آئی ایم ایف سے عمران خان کے معاہدے کے مطابق پیٹرول کی قیمت 234 روپے ہونا تھی۔

  14. ’الیکشن میں دھاندلی کی کوشش کی گئی تو ملک افراتفری کی طرف جائے گا‘

    عمران خان نے مزید کہا ہے کہ اگر آئندہ الیکشن میں دھاندلی کی کوشش کی گئی تو ’اس کے نتائج ہوں گے، ملک افراتفری کی طرف جائے گا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران ’لوگوں نے شیلنگ کا مقابلہ کیا۔ ایسا پاکستان میں کبھی نہیں ہوا۔‘

    انھوں نے متنبہ کیا کہ ’ہم پر ایسے حکمران مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا شدید ردعمل آئے گا۔‘

    ’اللہ نے ہمیں کہیں بھی نیوٹرل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ اس تبدیلی کو کوئی بھی نہیں روک سکے گا۔ جو روکنے کی کوشش کریں گا وہ اس میں بہہ جائے گا۔‘

  15. ’ڈی جی آئی ایس پی آر یہ نہیں کہہ سکتے کہ سازش ہوئی یا نہیں، یہ ان کی رائے ہوسکتی ہے‘, عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    مبینہ بیرونی سازش کے معاملے پر سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ سازش ہوئی یا نہیں۔

    سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے پلیٹ فارمز پر صارفین کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ’کیا ڈی جی آئی ایس پی آر یہ فیصلہ کریں گے کہ یہ سازش تھی یا نہیں۔ یہ ان کی رائے ہوسکتا ہے، وہ فیصلہ تو نہیں کرسکتے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر اس کا فیصلہ کروانا ہے تو صدر مملکت نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے کہ آپ اس کی تحقیقات کرائیں۔۔۔ میں جب کابینہ میں تھا تو میں نے کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا اور اب تک اس کی تحقیقات نہیں ہوئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر یہ نہیں کہہ سکتے کہ سازش ہے یا نہیں ہے۔‘

    ’سب نے یہ تو مان لیا تھا کہ یہ مداخلت ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’مراسلے کے حقائق سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔۔۔ جنھوں نے ان (موجودہ حکومتی اتحاد) کو ہم پر مسلط کیا وہ ملک کے دشمن ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس کی کھلی سماعت کرائیں اور اس میں پتا چل جائے گا کہ صرف مداخلت تھی یا سازش بھی تھی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اور شوکت ترین نے نیوٹرلز کو اسی وقت بتا دیا تھا کہ اگر اس وقت حکومت گرائی جاتی ہے تو معیشت سنبھل نہیں سکے گی اور ملک کو بہت زیادہ مالی نقصان ہو گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ساڑھے تین سال میں سیکھا شروع میں اگر بڑی اصلاحات کر دیں تو آگے آسانی ہوتی ہے۔ حکومتی اتحاد کو کبھی کوئی بلیک میل کرتا ہے تو کبھی کوئی۔ اب پتا ہے کہ شروع میں کون سی اصلاحات کرنی ہیں۔‘

    ’ہماری قیادت اب انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن سے آ رہی ہے۔ پاکستان میں لیڈرشپ کا بہت بڑا خلا ہے۔‘

  16. ’ایوان میں بجٹ پر بحث کے لیے میرے علاوہ کوئی وزیر نہیں‘

    خورشید شاہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا تاہم وزرا اور ارکان کو اس پر بات کرنے کے لیے ایوان میں موجود ہونا چاہیے تھا۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس ایوان میں 35 سال ہوگئے اس دوران ہم حکومت اور اپوزیشن دونوں میں رہے، حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے مجبوراً ایسی باتیں کرنی پڑ رہی ہیں۔ ’ایوان میں بدقسمتی سے میرے علاوہ اس وقت کوئی وزیر موجود نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس وقت ایوان میں بجٹ پر بحث کرنے کے لیے کوئی نہیں۔ اتنا اچھا بجٹ پیش کیا گیا، زراعت پیشہ افراد حکومت کو دعائیں دے رہے ہیں لیکن اس پر یہاں کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔‘

    ’جس نے اس ایوان کو عزت نہیں دی اس کو کہیں عزت نہیں ملی۔ ایوان کی کارروائی کورم پورا ہونے اور وزراء کی آمد تک ملتوی کی جائے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’میرے پاس بھی وزارت ہے۔ میں وزارت کا کام بھی کرتا ہوں اور یہاں اجلاس میں بھی آتا ہوں۔ دیگر وزرا کو بھی یہاں آنا چاہیے۔‘

    سپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ خورشید شاہ نے اہم معاملہ اٹھایا ہے وزرا اس پر غور کریں۔ ’یہ اہم بجٹ اجلاس ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کورم پورا رکھیں اور حکومت کی اس معاملہ پر زیادہ ذمہ داری ہے۔‘

  17. ’فوج کو جوڈیشل کمیشن کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں‘, میجر جنرل بابر افتخار

    بابر افتخار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مبینہ بیرونی سازش کے معاملے پر تحریک انصاف نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس پر پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ ادارے کو اس مطالبے کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے دوران فوج نے واضح طور پر اپنا موقف پیش کر دیا تھا۔

    ہم نیوز کے اینکر محمد مالک سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے کسی قسم کا سیاسی بیان نہیں دیا۔ میں نے پاکستان کے سروس چیفس کی طرف سے وضاحت دی ہے۔‘

    ’گذشتہ ہفتے ایک پروگرام میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے دوران کسی سروس چیف نے یہ نہیں کہا کہ سازش ہوئی۔ وہ براہ راست یہ بتانا چاہتے تھے جیسے وہ ان کے نمائندے کے طور پر بات کر رہے ہیں۔‘

    فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ (ڈی جی آئی ایس پی آر) کا کہنا تھا کہ ’میں نے اسی پروگرام میں جا کر اس کی وضاحت کی۔ سروس چیفس کا ترجمان میں ہی ہوں۔ اس میں کوئی سیاسی بات نہیں۔ سروس چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے واضح کیا تھا کہ کسی قسم کی سازش کے شواہد نہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’قومی سلامتی کے معاملے پر جب اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا جاتا ہے تو اس میں ایجنڈا پہلے سے طے ہوتا ہے۔ اس میں شرکا خاص طور پر سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی انٹیلیجنس معلومات لے کر جاتے ہیں، یہ رائے نہیں ہوتی۔ کسی نے یہ بھی کہا کہ یہ ان کی رائے ہے، یہ ہماری رائے ہے۔‘

    ’یہ رائے نہیں تھی، یہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر معلومات تھی۔ اس کے مطابق وہاں یہیں بتایا گیا۔ اعلامیے میں بھی سازش کا لفظ شامل نہیں۔ اسے رائے نہیں کہا جاسکتا۔ یہ بریف اور موقف تھی۔‘

    میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کو ’جوڈیشل کمیشن کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں۔ حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی کہ اس کی تحقیقات کس فورم یا کمیشن نے کرنی ہے، ادارہ اس کی مکمل معاونت کرے گا۔۔۔ یہ فیصلہ ہم نے نہیں کرنا کہ اسے کیسے منتقلی انجام پر پہنچایا جائے گا۔‘

  18. ’سیاسی معاملات سیاستدانوں کو طے کرنے دیں، ڈی جی آئی ایس پی آر اس کی تشریح نہ کریں‘, اسد عمر

    اسد عمر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عسکری قیادت کے کچھ نمائندوں کو بیرونی سازش کے شواہد نظر نہیں آئے تھے تاہم سویلین قیادت میں اکثریت کی رائے یہ تھی کہ سازش نظر آ رہی ہے۔

    بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان قانون پر عمل کرنے والے انسان ہیں۔۔۔ (ہماری) کابینہ نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب بھی یہی مطالبہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں کھلی سماعت کی جائے۔‘

    ’قومی سلامتی کا دفاع کرنا صرف فوج کا کام نہیں بلکہ اولین ذمہ داری منتخب قیادت کی بھی بنتی ہے۔۔۔ آئینی ذمہ داریوں پر کوئی ابہام نہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’سیاستدانوں کو آپس میں سیاسی معاملات طے کرنے دینا چاہیے۔ اگر بار بار ان سیاسی معاملات کی تشریح ڈی جی آئی ایس پی آر کرنا ضروری نہ سمجھیں تو یہ فوج اور ملک کے لیے اچھا ہوگا۔‘

  19. ’جنوبی پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ‘, پنجاب بجٹ 2022-23

    پنجاب حکومت نے بجٹ میں جنوبی پنجاب کے لیے دو کھرب 39 ارب 79 کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    مسلم لیگ ن کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’(وزیر اعلیٰ) حمزہ شہباز کی سربراہی میں مسلم لیگ کی پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب کے لیے تاریخی ترقیاتی بجٹ مختص کر دیا ہے۔‘

    اس کے مطابق جنوبی پنجاب میں سپیشلائز ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے لیے 53 ارب 54 کروڑ، سڑکوں کی تعمیر کے لیے 26 ارب روپے، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لیے 14 ارب 83 کروڑ، پبلک بلڈنگز کے لیے 10 ارب روپے، سپیشل پروگرامز کے لیے 38 ارب 32 کروڑ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب کے ترقاتی بجٹ میں 50 ارب 56 کروڑ روپے کا اضافہ کیا ہے۔

  20. پنجاب اسمبلی کے ایک اجلاس میں بجٹ پیش، دوسرے اجلاس میں عطا تارڑ کے ’نازیبا‘ اشارے کی مذمت

    پنجاب اسمبلی

    پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں آئینی و قانونی بحران اس قدر گہرا ہوچکا ہے کہ اس وقت لاہور میں پنجاب اسمبلی کے دو الگ الگ اجلاس ہوئے ہیں۔

    ڈپٹی سپیکر کی زیر صدارت ایک اجلاس گورنر بلیغ الرحمان کی ہدایت پر ایوان اقبال میں بلایا گیا جس میں صوبائی وزیر اویس لغاری نے پنجاب کا بجٹ پیش کیا۔ جبکہ اس سے قبل ایک اجلاس سپیکر پرویز الہی کی صدارت میں ہوا جس میں صوبائی وزیر عطا تارڑ کے رویے کی مذمت کی گئی۔

    اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی میں اپنے اجلاس کے دوران عطا تارڑ کے خلاف ایک قرارداد پیش کی۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ’عطا تارڑ نے بجٹ کے روز جس قسم کے نازیبا اشارے کیے وہ خواتین کے لیے قابل قبول نہیں۔‘ سپیکر نے یہ قرارداد متعلقہ کمیٹی کو بھجوائی ہے اور اس پر دو ماہ میں فیصلہ کیا جائے گا۔

    اس کے ساتھ اپوزیشن کے اجلاس میں سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے محمد رضوان، مقصود ملک اور ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

    پنجاب اسمبلی میں ہونے والے اجلاس نے گورنر پنجاب کے اس آرڈیننس کو مسترد کیا جس میں ’اسمبلی کو محکمہ قانون قانون کے ماتحت کرنے کی ترمیم ختم کی گئی تھی۔‘ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ نئی قانون سازی کے ذریعے اسمبلی کو دوبارہ خود مختار حیثیت میں بحال کر دیا گیا ہے۔ نئی قانون سازی ڈپٹی اپوزیشن لیڈر راجہ بشارت نے پیش کی جسے متفقہ طور پر اپوزیشن نے منظور کیا۔

    دوسری طرف ایوان اقبال میں بجٹ تقریر کے دوران اویس لغاری نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بجٹ اجلاس پر ڈیڈلاک گذشتہ تین روز سے جاری تھا۔ سپیکر پرویز الہی نے مطالبہ کیا تھا کہ چیف سیکریٹری اور آئی جی کو اسمبلی بلا کر ان سے سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات پر وضاحت مانگی جائے تاہم حکومت کی جانب سے اسے مسترد کیا گیا۔