بریکنگ, حکومت کا بجٹ اجلاس غیرآئینی اور غیرقانونی جس کے خلاف عدلیہ سمیت ہر فورم سے رجوع کریں گے: اپوزیشن رہنما

،تصویر کا ذریعہPML-Q
سابق صوبائی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما راجہ بشارت نے کہا ہے کہ پنجاب کے معاملات غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر چلائے جا رہے ہیں جس کا اثر عوام اور عوامی معاملات پر ہو گا۔
اپوزیشن رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’بطور اپوزیشن ہمیں بیک فٹنگ پر جانا چاہیے تھا مگر حکومت گئی جو ظاہر کرتا ہے کہ انھیں اس بات کا ادراک ہے کہ حکومتی بجٹ اجلاس غیرقانونی اور غیر آئینی تھا۔‘
راجہ بشارت کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت قانونی طور پر مضبوط ہوتے تو وہ بیک فٹنگ پر کبھی نہ جاتے۔ ’ایک ایسے اجلاس کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے جو اسمبلی میں نہ ہو اور جہاں نہ اسمبلی سٹاف موجود ہو اور نہ ہی اپوزیشن۔ ہمیں بتایا جائے بجٹ پیش ہونے کے بعد اب کٹ موشنز کون لائے گا اور ان پر بحث کون کرے گا جو ایک قانونی تقاضہ ہے۔‘
راجہ بشارت نہ کہا کہ ’جو ہو رہا ہے وہ غلط ہو رہا ہے۔ ہمیں عدلیہ سے رجوع کرنا پڑے گا تاکہ اس غیر آئینی اجلاس پر عدلیہ کی رائے جانی جا سکے اور آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے۔‘
اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما میاں محمود الرشید کا کہنا ہے کہ مشاورت اپوزیشن اور سپیکر سے مکمل ہو چکی ہے، ہم اسے چیلنج کریں گے اور اسمبلی کی خودمختاری کے لیے ہر فورم پر جائیں گے۔








