وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدے کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کہیں زیادہ ہوسکتی تھیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر 30 روپے لیوی اور 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کا وعدہ کیا تھا جس سے ڈیزل 150 روپے اور پیٹرول 90 روپے مزید مہنگا ہونا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’انھوں نے اپنی حکومت بچانے کے لیے (ملک کا) نقصان کیا۔۔۔ یہاں کوئی اور بات کرتے ہیں، وہاں کوئی اور بات کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے سے انکار کیا ہے اور آگے بھی کرتے رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے پاکستان کے اچھے مذاکرات ہوئے ہیں۔ ’ہم نے گزارش کی ہے (سٹیٹ بینک میں موجود) وہ پیسے جو اس سال واپس کرنے تھے وہ اس سال واپس نہ مانگیں، انھوں نے اس پر مثبت ردعمل دیا ہے۔۔۔ پیٹرول مہنگا ہونے پر اس کی حد میں اضافے کی بھی درخواست کی ہے۔‘
’عمران خان بارودی سرنگیں بچھا کر گئے‘
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے چینی اور گندم کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔ ’چینی اب 2019 کے بعد پہلی بار 70 سے 75 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔۔۔ 10 کلو آٹے کی قیمت 550 روپے فی کلو سے کم کر کے 400 روپے کی گئی ہے۔‘
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ تاریخ کے سب سے تیز ترین بجٹ خسارے تحریک انصاف کے دور میں تھے۔ ’عمران خان کی حکومت نے کرپشن کے ریکارڈ قائم کیے، عمران خان بارودی سرنگیں بچھا کر گئے ہیں۔‘
انھوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان کی معاشی مشکلات گمبھیر ہیں مگر ’ہم دن رات محنت کریں گے اور آپ کو نظر آئے گا معیشت صحیح سمت میں جا رہی ہے۔‘
وزیر خزانہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر الزام لگایا کہ وہ ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ مہنگائی چھوڑ کر گئے جس کی وجہ بجٹ خسارے، شرح سود میں اضافہ اور قرض ہیں۔