آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’پراپیگنڈا اور جھوٹ‘ کو تعلقات کے آڑے نہیں آنے دیں گے: نیڈ پرائس
نیڈ پرائس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ کسی بھی ملک بشمول پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے درمیان ’پراپیگنڈا، گمراہ کُن اور جعلی معلومات اور جھوٹ‘ کو آڑے نہیں آنے دے گا۔
لائیو کوریج
’ریاست مخالف‘ ویڈیوز پر اینکر سمیع ابراہیم کے خلاف ایف آئی اے کی انکوائری
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’ریاست مخالف‘ ویڈیوز کے الزام میں اینکر سمیع ابراہیم کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا ہے۔
ایف آئی اے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سمیع ابراہیم کے خلاف انٹرپول کا ریڈ نوٹس جاری کیا جائے گا اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا جائے گا۔
اس کا مزید کہنا ہے کہ ’بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک میں افراتفری نہ پھیلائیں۔‘
ایف آئی اے کے مطابق سمیع ابراہیم ریاستی اداروں کے حوالے سے جعلی خبریں پھیلانے میں ملوث ہیں اور ان کے لگائے گئے الزامات مسلح افواج کے اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے کی واضح کوششیں ہیں۔
دوسری طرف سمیع ابراہیم نے کہا ہے کہ وہ 14 مئی کو ملک واپس آ کر اس انکوائری کا سامنا کریں گے۔ ٹوئٹر پر وہ کہتے ہیں کہ ’یہ معاملہ میں نے اپنے وکیل راجہ عامر عباس سے ڈسکس کیا ہے۔۔۔ 14 مئی کو میری واپسی کے بعد ضروری قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔‘
شہباز شریف کا عمران خان کے ’ریاست مخالف‘ بیانات پر قانونی کارروائی کا اعلان
وزیر اعظم شہباز شریف نے عمران خان کے ایبٹ آباد جلسے سے خطاب کو پاکستان کے خلاف ’سازش‘ قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’ایبٹ آباد میں آج ریاست پاکستان، آئین اور قومی اداروں کو چیلنج کیا گیا۔ قانونی کارروائی کریں گے۔ پاکستان کے قومی اداروں کے خلاف سازشی بیانیہ گھڑنے والا اصل میں میر جعفر اور میر صادق ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’عمران نیازی سیاست نہیں سازش کر رہا ہے۔ یہ سازش پاکستان کے خلاف ہو رہی ہے۔ ایک شخص کی انا، تکبر اور جھوٹ پر پاکستان قربان نہیں کرسکتے۔‘
’پہلے عمران نیازی نے پاکستان کی معیشت ڈبونے کی سازش کی، اب خانہ جنگی کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ عمران نیازی کی ملک میں خانہ جنگی کرانے کی سازش کچل دیں گے۔‘
اتوار کو ایبٹ آباد جلسے سے خطاب کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ’اللہ نے ہمیں نیوٹرل بننے کی اجازت نہیں دی۔ ہمیں سچائی، حق اور انصاف کے لیے کھڑے ہونا ہے۔ اللہ نے ہمیں یہ اجازت نہیں دی کہ میں تیتر ہوں نہ بٹیر ہوں۔ نیوٹرل صرف جانور ہوتے ہیں، انسان کو اللہ کو جواب دینا ہوتا ہے۔‘
’اللہ آپ سے پوچھے گا کیا آپ نے امپورٹڈ حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ آپ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ نہیں میں تو نیوٹرل ہوں۔ بڑا شیر کسی ہرن کو پکڑ لے تو کوئی اسے چھڑانے نہیں آتا کیونکہ وہ نیوٹرل ہیں۔‘
اس پر وزیر اعظم شہباز شریف نے عمران خان پر الزام لگایا کہ وہ ’آج کے دور کا میر جعفر اور میر صادق ہے جو پاکستان کو لیبیا اور عراق بنانا چاہتا ہے۔ میرصادق کے ساتھ بھی صادق لگا ہوا تھا جس طرح عمران نیازی کو سرکاری صداقت کا سرٹیفکیٹ ملا تھا۔
’عمران نیازی اسی تھالی میں چھید کر رہا ہے جس میں اُس نے کھایا۔ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام، آئین اور قومی ادارے ایک شخص کے غلام نہیں۔ عمران نیازی عوام کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے۔ اسے پاکستان کا ہٹلر نہیں بننے دیں گے۔ عمران نیازی نے بہت جھوٹ بول لیا، اب اسے سچائی کا سامنا کرنا ہوگا۔‘
سابق وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ ’مسلمانوں، مغلوں کے گورنر سراج الدولہ کے سپہ سلار، کمانڈر ان چیف میر جعفر نے سراج الدولہ اور مسلمانوں سے انگریزوں کے ساتھ مل کر غداری کی۔ انگریز جیتے اور بنگال، مغلوں کا سب سے امیر صوبہ، غلامی میں گیا، وہاں قحط پڑے۔ انگریزوں نے اتنا لوٹا کہ وہاں لاکھوں لوگ بھوک سے مر گئے۔‘
آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا سوال قبل از وقت ہے، جب وقت آئے گا تو دیکھ لیں گے: شہباز شریف کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا سوال قبل از وقت ہے اور جب وقت آئے گا تو دیکھ لیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر ادارہ اپنے آئینی دائرے میں رہ کر کام کرتا ہے، فوج کی بہت قربانیاں ہیں جو غلط بات کرتا ہے اس کی مذمت ہونی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ سپر پاور ہے ہم اس سے بگاڑ نہیں سکتے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی ڈکشنری میں انتقام نہیں، قانون اپنا راستہ بنائے گا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان کے اور ہمارے بیانیے میں بڑا فرق ہے، ہماری کارکردگی لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر فیصلہ کرنا ہے کہ الیکشن کب ہونے ہیں، اس حکومت کا ٹائم اگلے سال اگست تک ہے۔
انھوں نے کہا کہ جو مجھےکہتے تھے یہ ایڈمنسٹریٹر ہے انھوں نے میری سیاست بھی دیکھ لی، کوشش کریں گے کہ اگلے الیکشن میں ایک اتحاد بنایا جائے اور ن لیگ اس میں اپنا حصہ ڈالے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صدر پاکستان تحریک انصاف کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، صدر نے آئینی اور قانونی خلاف ورزیاں کی ہیں، صدر کے خلاف آئینی پٹیشن بھی ہو سکتی ہے لیکن اس پرصبر و تحمل کی پالیسی اپنائی ہے۔
ایک سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ روس سے لے آتے سستی گیس اور تیل، ہمیں تو معاہدے کا کوئی کاغذ نہیں ملا۔ تحریک انصاف کا کام تو جھوٹ بولنا ہے۔
مہنگائی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی زوروں پر ہے، جو پچھلی حکومت کا کیا دھرا ہے، ہمیں آئے تین ہفتے ہوئے ہیں، معاشی پالیسی سے متعلق مشاورت جاری ہے۔
بریکنگ, فوج کو سیاسی گفتگو سے دور رکھیں، غیر مصدقہ اشتعال انگیز بیانات کی روش انتہائی نقصان دہ ہے: آئی ایس پی آر
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے اور اس کے خلاف غیر مصدقہ اشتعال انگیز بیانات دینے کی روش نقصان دہ ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حال ہی میں پاکستان کی مسلح افواج کو ملک میں جاری سیاسی گفتگو میں جان بوجھ کر گھسیٹنے کی کوششیں تیز ہوئی ہیں۔‘
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’کچھ سیاست دانوں، چند صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے عوامی فورمز اور متعدد مواصلات کے ذرائع جن میں سوشل میڈیا بھی شامل ہے، براہِ راست، بالواسطہ اور حوالہ جات کے ذریعے مسلح افواج اور اس کی سینیئر لیڈرشپ کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔‘
اعلامیے کے مطابق ’غیر مصدقہ اشتعال انگیز اور ہتک آمیز بیانات دینے کی روش انتہائی نقصان دہ ہے۔ افواج کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل میں شامل کرنا کی سختی سے مذمت کرتی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ سب قانون کی پاسداری کریں گے اور افواج پاکستان کو ملکی مفاد میں سیاسی گفتگو سے دور رکھیں گے۔‘
عمران خان کا ایبٹ آباد جلسہ: ’20 تاریخ کے بعد جب اسلام آباد کی کال دوں گا، تو 20 لاکھ افراد آئیں گے‘
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے آج ایبٹ آباد میں جلسے سے خطاب کیا ہے اور ایک بار پھر عوام سے مئی کے اواخر میں اسلام آباد آنے کی کال کا انتظار کرنے کو کہا ہے۔
یہ عید کے بعد سے عمران خان کی جانب سے جلسوں اور تقریروں کے سلسلے کا حصہ ہے جس میں پہلے انھوں نے میانوالی کا رخ کیا، پھر ویڈیو لنک کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے خطاب کیا اور پھر آج ایبٹ آباد پہنچے ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ گرمی زیادہ ہو گئی ہے اس لیے لوگ نہیں نکلیں گے، لیکن میں 20 تاریخ کے بعد جب اسلام آباد کے لیے کال دوں گا، تو حکومت جتنے مرضی کنٹینر کھڑے کر دے، 20 لاکھ افراد آئیں گے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مجھے خیبرپختونخوا کے لوگوں سے اسلام آباد آنے کی سب سے زیادہ امید ہے۔ ان کو آپ کے جنون کا خوف ہے، اسلام آباد میں انسانوں کا جنون آنے والا ہے۔‘
ایم کیو ایم نے گورنر سندھ کے لیے نسرین جلیل کو نامزد کر دیا, ریاض سہیل، بی بی سی اردو کراچی
سندھ کی گورنرشپ کے لیے متحدہ قومی موومنٹ نے نسرین جلیل کا نام تجویز کیا ہے، تقریباً 8 سال کے بعد صوبے میں ایم کیو ایم سے وابستہ شخصیت گورنر بننے جا رہی ہے۔
ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر فیصل سبزواری نے بی بی سی کو بتایا کہ نسرین جلیل کا نام ترجیح کی بنیاد پر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر امیدواروں میں ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان، سابق میئر وسیم اختر، کشور زہرہ، عامر چشتی شامل ہیں۔
متحدہ اپوزیشن میں شمولیت کے وقت ایم کیو ایم نے اپوزیشن اور پاکستان پیپلز پارٹی سے تحریری معاہدے کیے گئے جبکہ دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو یقین دہانیاں بھی کرائیں تھیں، ایم کیو ایم نے تحریک انصاف حکومت سے علیحدگی اختیار کرکے متحدہ اپوزیشن کا عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ساتھ دیا تھا۔
جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد ایم کیو ایم نے ان کا ساتھ دیا تھا اور اس کی سندھ کے شہری علاقوں میں گرفت مضبوط ہوئی تھی، ایم کیو ایم کے جلاوطن رہنما ڈاکٹر عشرت العباد کو سندھ کا گورنر مقرر کیا گیا تھا، وہ 27 دسمبر 2002 سے لیکر 10 نومبر 2016 تک اس منصب پر فائز رہے۔
ایم کیو ایم کو وفاقی حکومت میں دو وزارتیں دی گئی ہیں جبکہ حکومت میں شراکت داری کے لیے اب گورنرشپ دی جائے گی۔
نسرین جلیل اور ان کے شوہر ایم اے جلیل ایم کیو ایم کے دیرینہ کارکن رہے ہیں۔ ایم اے جلیل سندھ کے وزیر تعلیم کے منصب پر فائز رہے جبکہ نسرین جلیل کراچی شہری حکومت میں 2005 سے لیکر 2010 تک ڈپٹی میئر رہیں، اس کے علاوہ 2012 سے لیکر 2018 تک سینیٹر بھی رہ چکی ہیں۔
اس سے قبل نسرین جلیل پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا تھا، مقامی میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق نسرین جلیل نے انڈین سفارتخانے کو خط لکھا تھا جس کی وجہ سے ان کے نام پر اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں۔
یاد رہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے نسرین جلیل کے دستخط سے دنیا کے پچاس سے زائد سفارتخانوں کو خط بھیجے گئے تھے جن میں انڈین سفارتخانہ بھی شامل تھا۔ اس خط میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کی جبری گمشدگی کے بارے میں آگاہی دی گئی تھی۔
وسعت اللہ خان کا کالم: امبر کو چھونے چلا میرا بلوچستان
وزیراعظم شہباز شریف: حسن آباد پل کا متبادل راستہ تیار کرنے اور جنگی بنیادوں پر دو بجلی گھروں کی بحالی کا حکم
وزیراعظم شہبازشریف نے شیشپر گلیشیئر جھیل سے پانی کے اخراج سے ہونے والی تباہی پر ہنگامی اقدامات کا حکم دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ عوام کے جان ومال کی حفاظت اورمحفوظ مقامات پر منتقلی یقینی بنائی جائے۔
وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور ضروری ہنگامی سامان پہنچانے کا حکم دیا ہے اور وفاقی اداروں کو گلگت بلتستان کی حکومت کی بھرپور معاونت کرنے کی تاکید کی ہے۔
انھوں نے شاہراہِ قراقرم پر حسن آباد پل گرنے کے سبب متبادل راستہ تیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم نے زرعی اور پینے کے پانی کے نظام کی تباہی اور دو بجلی گھر متاثر ہونے کا تخمینہ لگانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 700 اور250 میگاواٹ بجلی گھروں کی جنگی بنیادوں پر بحالی کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی گھروں کی بحالی و مرمت پر اخراجات وفاقی حکومت ادا کرے گی۔
انھوں نے شاہراہ قراقرم کو پہنچنے والے نقصانات اور متاثرہ عوام کے بارے میں بھی رپورٹ طلب کی گئی ہے اور کہا ہے کہ متاثرہ عوام کی ہنگامی مدد اور بحالی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔
منور فاروقی: متنازع انڈین کامیڈین کا حوالات سے ریئلٹی شو ’لاک اپ‘ جیتنے تک کا سفر
آمنہ مفتی کا کالم ’اڑیں گے پرزے‘: بات نکلے گی تو پھر۔۔۔
ریاست پاکستان کی کوششوں کے باوجود بلوچ نوجوان عسکریت پسندی کی جانب مائل کیوں ہو رہے ہیں؟
’زلزلے سے کچے گھروں میں رہنے والے بے گھر ہوگئے‘
اسحاق ڈار: کوئی بھی اتحادی ڈیڑھ سال حکومت کرنے نہیں آیا، فوری انتخابات ترجیح ہے
سابق وزیر خزانہ اور رہنما مسلم لیگ ن اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کوئی بھی حکومتی اتحادی پورا ڈیڑھ سال حکومت میں رہنے نہیں آیا اور ان کی جماعت کی ترجیح جلد انتخابات ہیں۔
جب جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں ان سے پوچھا گیا کہ حکومتی وزرا ایسے بیانات دے چکے ہیں کہ اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی تو ان کا جواب تھا کہ ’الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ہم اکتوبر سے پہلے الیکشن نہیں کروا سکتے۔‘
’ترجیح یہی تھی جب ہم خود ہی کہہ رہے ہیں کہ الیکشن چوری کا تھا تو ہمیں چاہیے تھا سب لوگ نئے الیکشن میں جائیں، جو بھی ہوا اسے بھول جائیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی وزرا کی رائے پارٹی پالیسی نہیں ہے۔ ’(نواز شریف) چاہتے تھے کہ جتنی جلدی ہوسکے صاف اور شفاف الیکشن ہو تاکہ عوام کو موقع ملے کہ وہ اپنے مرضی کے نمائندے چنے۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’ہماری ترجیح وہی ہے جو میاں نواز شریف صاحب کے بیانات تھے کہ جتنی جلدی ہوسکے گا ہم الیکشن کی طرف جائیں گے۔ ملک کے ضروری معاملات کو ہینڈل کریں گے۔ ابھی بھی ان کی ترجیح وہی ہے۔ ڈیڑھ سال میں بہت کچھ ہوسکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر وہ (تحریک انصاف) کارکردگی دکھاتے تو پھر شاید ہم صبر کر کے پورے پانچ سال انتظار کرتے۔ یہ اپوزیشن، مسلم لیگ ن اور دیگر اتحادیوں، کے لیے مشکل فیصلہ تھا۔‘
مہنگائی اور معاشی بحران کو مدنظر رکھ کے ’اپوزیشن اور مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا کہ ہم اسے روکیں۔‘
’ضروری کام کر کے ہم نے انتخابات کی طرف جانا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی اتحادی اس لیے آیا ہے کہ ہم نے پورا ڈیڑھ سال حکومت میں رہنا ہے۔‘
دریں اثنا اسحاق ڈار کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرنا ہوگی اور نئے پروگرام میں جانے کی ضرورت ہے۔
’اس پروگرام کے لیے بدترین مذاکرات کیے گئے۔ وہ کون ہیں ہمیں بتانے والے کہ ہمارا روپیہ کہاں ہونا چاہیے؟‘
چیئرمین واپڈا کے استعفے پر عمران خان نے ان کی تعریف کر دی
سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین کے استعفے پر انھیں داد دی ہے۔
انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’یہ شوق و جذبے، قابلیت اور حب الوطنی سے سرشار ایک غیر معمولی پیشہ ور افسر ہیں۔
’مجھے خدشہ ہے کہ ان کی رخصتی سے ہمارے ’عشرۂ آبی ذخائر پروگرام‘ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘
انھوں نے ایک تصویر شیئر کی جس میں لکھا ہے کہ مزمل حسین کا کہا ’موجودہ حکومت کے ساتھ کام نہیں کر سکتا۔‘
’پیکا کی شق 20 حکومتی پالیسی کے خلاف ہے، ایف آئی اے کی اپیل واپس لے رہے ہیں‘
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا کہنا ہے کہ اس نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) 2016 کی شق 20 کے خاتمے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل واپس لے لی ہے۔
ایف آئی اے نے کہا کہ یہ اپیل وزارت داخلہ کی اجازت کے بغیر دائر کی گئی تھی۔
ادھر وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایف آئی اے کی اپیل اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے حکومتی پالیسی اور اصولوں کے خلاف ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ اپیل فوراً واپس لے لی گئی ہے۔
خیال رہے کہ فروری کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو پیکا قانون کی شق 20 کے تحت گرفتاریوں سے روک دیا تھا۔
اس قانون کی دفعہ 20 ہتک عزت کے تحت شکایت کے اندارج سے متعلق ہے۔ آرڈیننس سے قبل یہ جرم قابل ضمانت تھا تاہم آرڈیننس کے ذریعے اسے ناصرف ناقابل ضمانت بنا دیا گیا ہے بلکہ اسے فوجداری قوانین کے زمرے میں داخل کیا گیا ہے جس کی سزا پانچ سال تک قید ہو سکتی ہے۔
شاہد آفریدی سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں کیوں؟
گیس پر ہماری حکومتیں بات کر رہی تھیں، امریکہ روس سے تیل کم قیمت پر طے کرنے پر ناراض ہوا: عمران خان
سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے آج بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ان سے روس سے تیل کم قیمت پر طے کرنے پر ناراض ہوا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ میں کبھی امریکہ مخالف یا یورپ مخالف نہیں رہا لیکن ہم دوستی کرنا چاہتے ہیں غلامی نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ روس سے تیل کم قیمت پر طے کرنے پر ناراض ہوا، حکومت کو ہٹانا ہی تھا تو ایسے لوگ لاتے جن کی ہم سے زیادہ اہلیت ہوتی۔‘
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’روس سےہمیں دعوت ملی، گیس سے متعلق ہماری حکومتیں پہلے سے بات کر رہی تھیں، امریکہ روس سےتیل کم قیمت پر طے کرنے پر ناراض ہو گیا۔‘
کپڑے بیچ کر آٹا سستا کروں گا: شہباز شریف کا شانگلہ میں خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے شانگلہ کے علاقے بشام میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں جو وزیراعلیٰ ہیں وہ سستا آٹا فراہم کریں، اگر کر دیں گے تو شکر گزار ہوں گا، نہیں کریں گے تو اپنے کپڑے بیچ کر آٹا سستا کروں گا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر شانگلہ میں میڈیکل کالج بنانے کا اعلان کیا جبکہ بشام کو 2 ارب گرانٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ انھوں نے پوران گرڈ سٹیشن تین ماہ میں بنانے کا بھی اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی ہر دکان پر سستا آٹا مہیا کرنے کا طریقہ آتا ہے، اگلے ایک دو دن میں آٹے کی جو قیمت پنجاب میں ہو گی وہی خیبرپختونخوا میں ہو گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک تب ترقی کرے گا جب پنجاب کے ساتھ خیبرپختونخوا بھی ترقی کرے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ کب تک ہم کشکول لے کر پھریں گے، بھیک مانگیں گے، کشکول لے کر پھرنے سے عزت نہیں ملتی، 75 سال گزر گئے، رونے دھونے سے کچھ نہیں ہو گا، محنت اور خون پسینا ایک کرنے سے ہمارا بھکاری پن ختم ہو گا۔
انتخابی اصلاحات کے بعد معاشی مسائل کا واحد حل انتخابات کروائے جائیں: حمزہ شہباز
وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں انتخابی اصلاحات کے بعد معاشی مسائل کا واحد حل انتخابات کروائے جائیں۔
فیصل آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ آنے والے انتخابات میں انہیں عوام کی جانب سے اعتماد کا ووٹ ملے گا۔
تمام سیاسی جماعتیں اس وقت ان،حابی ترجیحات وضع کر رہی ہیں اور سب سے اہم ترجیح یہ ہے کہ وہ حکمت عملی اپنائی جائے جس سے عوام کو مہنگائی سے ریلیف ملے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ بلند و بانگ وعدے نہیں کرتے تاہم وہ ہنگامی بنیادوں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف جنگ لڑنی ہے۔‘