آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان کا عدلیہ سے رات گئے عدالتیں کھولنے کا شکوہ، امریکہ کی شہباز شریف کو مبارکباد

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عوامی جلسوں کے سلسلے کا آغاز کیا ہے اور گذشتہ رات پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ سے شکوہ کیا کہ ’میں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کے 12 بجے آپ نے عدالتیں لگائیں۔‘ ادھر امریکہ کی جانب سے شہباز شریف کو وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان کے سابق مشیر اور پرنسپل سیکریٹری کے نام سٹاپ لسٹ پر

    وفاقی تحقیقات ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کے متعدد ساتھیوں کے نام سٹاپ لسٹ میں ڈالے گئے ہیں۔

    عمران خان کے سابق معاون خصوصی شہباز گل اور شہزاد اکبر کے نام سٹاپ لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔

    سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان، ارسلان خالد اور ڈاکٹر رضوان کا نام بھی اس نو فلائی لسٹ میں شامل ہے۔

    جبکہ گوہر نفیس بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

    سٹاپ لسٹ کیا ہے؟

    وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ سٹاپ لسٹ عدالتی فیصلے کی روشنی میں تیار کی جاتی ہے جس میں پولیس اور احتساب کے قومی ادارے نیب کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ اگر کوئی بھی شخص ان کو کسی مقدمے میں مطلوب ہوتا ہے اور اس کے بیرون ملک جانے کا خدشہ ہو تو اس کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل کر لیا جاتا ہے۔

    اہلکار کے مطابق سٹاپ لسٹ پر عمل درآمد پاکستان سے بیرون ملک جانے والے افراد کے لیے ہوتا ہے۔ سٹاپ لسٹ میں کسی کا بھی نام ہو تو وہ صرف 30 روز تک رہ سکتا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص اس مدت کے گزرنے کے باوجود بھی ان اداروں کو مطلوب ہو تو دوبارہ سٹاپ لسٹ میں نام ڈالنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کرنا پڑتا ہے۔

  2. عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب: کب کیا ہوا؟

    عمران خان وزیرِاعظم پاکستان نہیں رہے۔ سنیچر کے دن گہما گہمی اور سیاسی ہل چل عروج پر رہی۔

    تمام دن کیا ہوتا رہا جانیے اس ویڈیو میں۔۔۔

  3. کیا پاکستان میں نئی ممکنہ مخلوط حکومت مہنگائی کے جن پر قابو پا سکے گی؟

  4. سیاست پر تبصروں میں فنکار بھی پیش پیش

    پاکستان کی سیاسی صورتحال کے پیش نظر انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے وابستہ افراد بھی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

    اداکارہ ریشم نے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا جس نے آئین کی بالادستی کے ساتھ ’پاکستان کو بحران سے نکال کر آگے بڑھنے کا ایک راستہ دیا ہے۔

    وہ ایک ویڈیو میں کہتی ہیں کہ ’آئین ہے تو ہم ہیں، آئین ہے تو پاکستان ہے۔ پاکستان فوج کا سیاست سے دور رہنا بھی قابل ستائش ہے۔‘

    دوسری طرف ماہرہ خان نے عمران خان کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’پاکستان کے عوام نہیں چاہتے کہ تاریخ دہرائی جائے۔‘

  5. نئے وزیر اعظم کا انتخاب کیسے کیا جاتا ہے؟

    اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما شہباز شریف اور پاکستان تحریک انصاف نے شاہ محمود قریشی کو نئے وزیراعظم کے لیے اپنا اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر دو بجے شروع ہو گا۔

    نئے قائد ایوان یا وزیر اعظم کے انتخاب کا عمل امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع ہونے سے شروع ہوتا ہے پھر ان کی جانچ پڑتال ہوتی ہے اور آخری مرحلے میں ووٹنگ ہوتی ہے۔

    ایک رکن کو ایک سے زیادہ مرتبہ امیدوار نامزد کیا جا سکتا ہے لیکن تائید کنندہ اور تجویز کنندہ ایک سے زیادہ مرتبہ دستخط نہیں کریں گے۔ اسی طرح تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہارنے والی جماعت کسی دوسرے امیدوار کو نامزد کرنے کے ساتھ ساتھ دوبارہ اس شخص کو بطور امیدوار بھی نامزد کر سکتی ہے جو پہلے ہار چکا ہو۔ اس پر بھی قواعد و ضوابط کے تحت کوئی پابندی نہیں ہے۔

    قومی اسمبلی کے سپیکر تین وجوہات کی بنا پر امیدوار کے کاغذات نامزدگی مسترد کر سکتے ہیں۔ اول یہ کہ امیداور قومی اسمبلی کا رکن نہ ہو، دوئم یہ کہ قومی اسمبلی کے رول نمبر 32 کی خلاف ورزی کی گئی ہو اور سوئم یہ کہ تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے دستخط جعلی ہوں۔

    کاغذات نامزدگی مسترد یا منظور کیے جانے سے متعلق سپیکر قومی اسمبلی کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ کاغذات نامزدگی جمع کروانے اور واپس لینے کا مرحلہ ووٹنگ سے ایک دن قبل مکمل کیا جاتا ہے۔

    اگر قائد ایوان کے عہدے کے لیے ایک سے زیادہ امیدوار ہوں تو پھر تقسیم ہو گی اور ارکان قومی اسمبلی سے کہا جائے گا کہ فلاں امیدوار کے حمایتی دائیں جانب والی لابی میں چلے جائیں اور فلاں امیدوار کے حامی بائیں جانب والی لابی میں چلے جائیں۔

    گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کامیاب ہونے والے قائد ایوان کے نام کا اعلان کریں گے۔

  6. ’تمام شہروں میں عوام اُٹھ چکے ہیں‘, تحریک انصاف کے مختلف شہروں میں مظاہرے

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ روز ملک گیر احتجاجی مظاہروں نے ثابت کیا ہے کہ عوام اب بھی سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پی ٹی آئی نے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے اور اپنی سٹریٹ پاور دکھائی ہے۔

    سابق وزیر اطلاعات اور رہنما پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ ’میں نے عرض کیا تھا سیاست کے فیصلے عدالتوں میں کرنے کی کوشش تباہ کن ہو گی، جن کو سمجھ نہیں آ رہی تھی آج باہر نکلیں اور عوام کے اس سمندر کو روک کر دکھائیں۔‘

    ادھر حماد اظہر کہتے ہیں کہ ’ہم پاکستان کے تمام شہروں میں تاریخی لمحات دیکھ رہے ہیں۔ یہ بے مثال اور بے ساختہ ہے۔ عوام اُٹھ چکے ہیں۔‘

    اسد عمر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’بار بار سمجھا رہے ہیں لیکن لگتا ہے بات سمجھ نہیں آ رہی۔ قوم فیصلہ کر بیٹھی ہے کے مستقبل کے فیصلے پاکستان کے عوام نے کرنے ہیں کسی اور نے نہیں۔ ایک ہی جمہوری راستہ ہے۔ الیکشن۔‘

    ’پی ٹی آئی کس کے خلاف احتجاج کر رہی ہے؟‘

    اس کے ردعمل میں مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے تبصرہ کیا ہے کہ ’اگر سڑکوں پر عوام اکٹھے کرنا اور سوشل میڈیا پر بڑے ٹرینڈ بنانا ہی مقبولیت کا پیمانہ ہے تو پھر تحریک لبیک پی ٹی آئی سے بڑی جماعت ہے۔‘

    وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ پی ٹی آئی کس کے خلاف احتجاج کر رہی ہے، ان معزز ججز کے خلاف جنھوں نے عمران نیازی کی آئین شکنی کو مسترد کر دیا۔ پاک فوج کے خلاف جو اپنی آئینی حد میں رہی یا پھر عوام کے منتخب کردہ 174 ارکان کے خلاف جنھوں نے عوام دشمن حکومت کو آئینی طریقے سے برطرف کیا۔‘

  7. بریکنگ, شہباز شریف یا شاہ محمود قریشی: پاکستان کے نئے وزیراعظم کا انتخاب آج ہو گا

    عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد پاکستان کی قومی اسمبلی آج ملک کے نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی۔

    اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما شہبازشریف اور پاکستان تحریک انصاف نے شاہ محمود قریشی کو وزیراعظم کے لیے اپنا اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر دو بجے شروع ہو گا، جس میں ملک کے 23ویں وزیراعظم کا انتخاب ہو گا۔

  8. ’شہباز گل، شہزاد اکبر، اعظم خان اور ڈاکٹر رضوان کا نام نو فلائی لسٹ میں ڈال دیا گیا‘

    پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما عطا اللہ تارڑ کے مطابق تحریک انصاف کے شہباز گل، شہزاد اکبر، اعظم خان اور ڈاکٹر رضوان کا نام نو فلائی لسٹ میں ڈال دیا گیا۔

    عطا اللہ تارڑ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ یہ اب ملک چھوڑ کر نہیں بھاگ سکتے۔

    ’میں کب سے یہ بات کر رہا تھا۔ انتقام، جھوٹ اور فریب کا انجام کبھی بھی اچھا نہیں ہوتا۔‘

  9. پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی عمران خان کے لیے مظاہرہ

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں بھی عمران خان کے حق میں مظاہرہ کیا گیا ہے۔

    مظاہرے کے شرکا نے ہاتھوں میں ’امپورٹڈ حکومت نامنظور‘ کے پتلے اٹھا رکھے تھے۔

  10. عمران خان کا قوم کے نام شکریہ کا پیغام

    سابق وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے، جنھوں نے آج تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے خلاف احتجاج یا مظاہرے میں شرکت کی۔

    انھوں نے لکھا: ’یکجہتی کےاظہار اور امریکی حمایت سے مقامی میر جعفروں کے بل پر حکومت بدلنے اور ضمانتوں پر رہا ڈاکوؤں کے ٹولے کو اقتدار دلوانے کے خلاف جذبات سے بھرپور احتجاج کے لیے بڑی تعداد میں نکلنے پر میں اہلِ پاکستان کا مشکور ہوں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک و بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے اسے پوری شدت سے مسترد کر دیا ہے۔‘

  11. کوئٹہ میں بھی عمران خان کے حق میں مظاہرہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں بھی سابق وزیراعظم عمران خان کے حق میں مظاہرہ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب عمران خان کی حکومت کے خاتمے کی خوشی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ڈھول کی تھاپ پر روایتی رقص کیا اور مٹھائیاں بھی تقسیم کیں۔

  12. باجوڑ میں پی ٹی آئی کے حق میں مظاہرہ

    بلال یاسر نے ہمیں ضلع باجوڑ خیبر پختونخوا سے وہاں ہونے والے پی ٹی آئی مظاہرے کی تصاویر بھیجی ہیں۔

    عمران خان کی اپیل پر پاکستان کے مختلف شہروں میں مظاہرے جاری ہیں۔

  13. تیاری کر لو، اس مہینے نقشہ بدلے گا: شیخ رشید

    لال حویلی پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ تیاری کر لو، اس مہینے نقشہ بدلے گا۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے عمران خان سے کہا ہے کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

    اُنھوں نے کہا کہ وہ جلد ہی لال حویلی سے ہر روز جیل بھرو تحریک شروع کریں گے۔

    شیخ رشید نے کہا کہ وہ جنرل باجوہ سے مطالبہ کرنا چاہتے ہیں کہ اس ملک میں خانہ جنگی کے حالات پیدا ہو چکے ہیں، اس طرح ملک نہیں چل سکتا، فوری طور پر انتخابات کروائے جائیں۔

    شیخ رشید نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر عدالت میں کہتے ہیں کہ سات ماہ تک الیکشن نہیں ہو سکتے، سات ماہ تک ملک کے حالات ایسے ہیں کہ ملک کے وزیرِ داخلہ کی حیثیت سے الزام لگا رہا ہوں، کہ آج بیوروکریٹس مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے کیسز کی فائلیں بدلتے رہے ہیں، اور دہشتگردی کے خدشات ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ اگر اس ملک کو بچانا ہے تو رات کی تاریکی میں فیصلہ نہیں بلکہ دن کی روشنی میں کرنا چاہیے۔

  14. عمران خان کی حمایت میں تحریکِ انصاف کے مظاہرے, ترہب اصغر، نامہ نگار بی بی سی، لاہور

    عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد منظور ہونے کے بعد اُن کے حامیوں کی جانب سے لاہور میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے سات اپریل کے عدالتی فیصلے کے بعد قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ عوام اتوار 10 اپریل سے بعد نمازِ عشا اپنے اپنے شہروں میں مظاہرے کریں۔

    پی ٹی آئی کارکنان کے لبرٹی مارکیٹ میں جاری احتجاج کے باعث ٹریفک کو مختلف مقامات سے موڑا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سے لاہور سینٹر سے سینٹر پوائنٹ کی جانب ڈائیورشن لگا دی گئی ہے اور ٹریفک کو ایم ایم عالم روڈ اور سینٹر پوائنٹ سے جانب فردوس مارکیٹ بھجوایا جا رہا ہے۔

  15. عمران خان کو وزیرِ اعظم کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا

    کابینہ ڈویژن نے قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد اُن کی وزارتِ عظمیٰ کے خاتمے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

  16. پنجاب میں حکومت سازی کا محاذ، متحدہ اپوزیشن کی مشاورت

    متحدہ اپوزیشن کے ارکان پنجاب اسمبلی کی رائل سوئس ہوٹل میں افطار پر مشاورتی ملاقات ہوئی ہے۔

    حمزہ شہباز نے متحدہ اپوزیشن کے ارکان اسمبلی کے اعزاز میں افطار ڈنر دیا۔ مسلم لیگ ن، ترین گروپ، اسد کھرکھر گروپ، علیم خان گروپ کے ارکان اسمبلی اس افطار میں شریک ہوئے۔

    اس دوران وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔

    لاہور ہائیکورٹ میں کل سے زیر سماعت آنے والی پٹیشن پر بھی بات چیت ہوئی۔

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ ’حکومت کے تاخیری حربے ناکام رہیں گے اور متحدہ اپوزیشن کی 202 سے زائد ارکان اسمبلی کی پارلیمانی طاقت متحد ہے۔ ‘

    متحدہ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ’وفاق میں حکومت کو شکست فاش ہوئی جبکہ پنجاب میں بھی ان کا یہی مقدر ہے۔‘

  17. ’لیڈر کا صرف ایماندار ہونا کافی نہیں‘

  18. استعفے آئیں گے تو پھر دیکھا جائے گا کیا کرنا ہے، ایاز صادق

    پی ٹی آئی کی طرف سے استعفوں پر ایاز صادق نے کہا ہے کہ ارکانِ قومی اسمبلی کے استعفوں کا ایک طریقہ کار ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ یہ طریقہ کار سپریم کورٹ میں بھی رکھا گیا تھا اور میں نے بطور سپیکر پی ٹی آئی کے استعفوں کے حوالے سے جو رولنگ دی تھی اس میں دیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہوتا کہ استعفی دے دیا اور مان لیا بلکہ جب سارے استعفے دیں گے تو پھر دیکھیں گے۔

    پیر کے اجلاس کے حوالے سے اُنھوں نے کہا کہ کل اجلاس کی صدارت کون کرے گا اس کا کل ہی پتا چلے گا۔

  19. شاہ محمود قریشی اور شہباز شریف کے کاغذات منظور

    وزارتِ عظمیٰ کے لیے شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی دونوں کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہو گئے ہیں۔

  20. فواد چوہدری: پی ٹی آئی اسمبلیوں سے مستعفی ہو گی

    شیخ رشید احمد، حماد اظہر، فواد چوہدری اور فرّخ حبیب نے اب سے کچھ دیر قبل میڈیا سے گفتگو کی۔

    شیخ رشید نے کہا کہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ جن لوگوں پر کل (11 اپریل) کو فردِ جرم عائد ہونی تھی ان کے ساتھ اسمبلیوں میں نہیں بیٹھیں گے اور استعفے دیں گے۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آج پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ ہو گا کہ آیا پاکستان تحریکِ انصاف اپنی اسمبلی نشستوں سے استعفیٰ دے رہی ہے یا نہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ وزارتِ عظمیٰ کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ شہباز شریف کے کاغذات چیلنج کیے جا سکیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ کور کمیٹی نے عمران خان کو تجویز دی ہے کہ ہمیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔ ہم قومی اسمبلی سے شروع کر رہے ہیں۔ اگر شہباز شریف کے کاغذات پر ہمارے اعتراضات کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو ہم کل ہی استعفے دینے شروع کر دیں گے۔