اسلام
آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے دو مشیروں شہزاد اکبر اور شہباز گل
کے نام پرویشنل نیشنل آڈینٹیفکیشن (پی این
آئی ایل) لسٹ میں شامل کرنے کا آرڈر معطل کر دیا ہے۔
عدالت
نے اس ضمن میں سیکرٹری داخلہ اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو نوٹس جاری کر دیے
ہیں۔
عدالت نے اپنے حکم میں
کہا ہے کہ مذکورہ افراد مجاز افسران مقرر کریں جو عدالت میں وضاحت کریں کہ کس کے
کہنے پر شہزاد اکبر اور شہباز گل کے نام واچ لسٹ شامل کیے گئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ
کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے منگل کے روز ان درخواستوں کی سماعت کی تو درخواست
گزاروں کے وکیل کا کہنا تھا کہ معاملہ یہ
ہے کہ عجیب حالات میںان کے موکل سمیت
پانچ افراد کے نام پی این آئی ایل میں شامل کیے گئے۔
انھوں نے کہا کہ دلچسپ
بات یہ ہے کہ جب ان کے موکلین کے نام سٹاپ لسٹ میںشامل کیے گئے اس وقت کوئی حکومت نہیں تھی۔
انھوں نے عدالت سے
استدعا کی کہ ڈی جی ایف آئی اے سے پوچھا جائے کہ ان کے موکلین کا نام سٹاپ لسٹ میں
ڈالنے کی درخواست کس شخصیت یا ادارے کی طرف سے آئی تھی۔
چیف
جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت بلیک لسٹ کے بارے میں پہلے سے ہی کہہ چکی
ہے کہ یہ غیر قانونی ہے۔
بینچ کے سربراہ نے شہزاد اکبر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتساب کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر ہونے کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے کے معاملات کو بھی دیکھتے تھے تو آپ نے اسے ختم کیوں نہیں کروایا جس پر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ وہ ایف آئی اے کے انچارج نہیں بلکہ صرف وزیر اعظم کے مشیر تھے۔
عمران خان کے سابق مشیروں کے وکلا کا کہنا تھا کہ ان کے علاوہ دیگرتین افراد کے نام اس لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں وہ سرکاری ملازم ہیں جو ویسے بھی این او سی کے بغیر باہر نہیں جا سکتے۔
انھوں نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے نام سٹاپ لسٹ میں شامل کیے جاتے ہیں۔
عدالت نے شہزاد اکبر اور شہباز گل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کل تک تو کہیں نہیں جا رہے؟ تاکہ متعقلہ حکام کو طلب کر کے ان سے اس بارے میں وضاحت لی جائے۔ انھیں بلا کر پوچھ لیتے ہیں۔‘
عدالت نے اس درخواست کی سماعت 13 اپریل تک ملتوی کر دی۔