اسلام
آباد ہائی کورٹ نے میبنہ دھمکی آمیز خط کے معاملے اور سابق وزیر اعظم عمران خان، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی اور دیگر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر تحقیقات کرنے کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اسے ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے مولوی اقبال حیدر کی درخواست کو مسترد کیا اور درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔
واضح رہے کہ اس
مقدمے میں درخواستگزار مولوی اقبال حیدر نے دائر درخواست میں سابق وزیر اعظم
عمران خان سمیت فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی اور دیگر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے
کی استدعا بھی کر رکھی ہے۔
فیصلے میں عدالت کا کہنا تھا کہ یہ طے شدہ قانون ہے
کہ ملک کے خارجہ امور سے متعلق معاملات انتہائی حساس ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت
غیر معمولی دائرہ اختیار استعمال کر کے سماعت نہیں کی جا سکتی۔
عدالت کا کہنا ہے کہ درخواست میں دعوی مبہم ہے جبکہ
تائید میں دستاویز بھی پیش نہیں کی گئی کہ
سفارتی کیبل کے موضوع پر کیس کا جواز پیش کیا جا سکے۔
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار متعلقہ ممالک کے پاکستانی
سفارتکاروں کی طرف سے بھیجے گئے سفارتی کیبل کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہے۔ سفارتی کیبلز
بہت اہمیت کی حامل ہیں اور ان تک رسائی محدود ہوتی ہے۔ سفارت کاروں کو اس بات کی یقین
دہانی ہوتی ہے کہ ان کا تجزیے کو سنسنی خیز یا سیاسی نہیں بنایا جائے گا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ سفارت کاروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے
جائزے، تجزیے اور نتائج کو ان ممالک سے شیئر کریں جن کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔
اسلام
آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پیر کو اس مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے
درخواست گزار سے استسفار کیا کہ آپ اس معاملے کو سیاسی کیوں بنا رہے ہیں؟ یہ ریاست
کی ذمہ داری ہے، آپ کیوں عدالت آئے اور آپ کی عدالت سے کیا استدعا ہے؟
جس پر
درخواستگزار مولوی اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے سابق وزیر اعظم کے
خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جس پر عمران خان پہلے خاموش رہے اور پھر ایک خط دکھا
کر یہ دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کی خلاف سازش کی گئی۔
ان کا
کہنا تھا کہ میری عدالت سے استدعا ہے کہ اس خط کی تحقیقات کی جائیں کیونکہ اس
سفارتی مراسلے کی امریکی حکام نے تردید کی ہے۔
انھوں
نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ پابند ہیں کہ وہ عمران خان کی حکومت گرانے کے لیے مبینہ دھمکی
آمیز خط کی تحقیقات کرائیں۔ وفاق کی ذمہ داری تھی کہ وہ معاملے کی تحقیقات کراتے اور
معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے کر جاتے۔
درخواست گزار کا عدالت میں کہنا تھا کہ سابق وزیر
اعظم کے الزامات سے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ لہذا معاملے کی تحقیقات تک سابق
وزیر اعظم عمران خان سمیت فواد چودھری، شاہ محمود قریشی کا نام
ای سی ایل میں شامل کیا جائے جبکہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری اور امریکہ میں
پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید کے نام بھی ای سی ایل میں شامل کیے جائیں۔