کورونا وائرس: ایران میں ایک دن میں سب سے زیادہ اموات، نو صوبے ریڈ زون قرار

دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 19 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 37 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ حکومت نے 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کی مشروط اجازت دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. جرمن عدالت نے گوشت کی فیکٹری کے نزدیک لاک ڈاؤن ختم کردیا

    جرمنی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جرمنی کی ایک عدالت نے ایک ایسی جگہ لاک ڈاؤن ختم کر دیا ہے جو کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوبارہ پھیلاؤ کے پیش نظر لگایا گیا تھا۔ یہ مقام گوشت کی ایک فیکٹری کے نزدیک ہے جہاں اچانک کووڈ 19 کے نئے متاثرین کی نشاندہی ہوئی تھی۔

    جون میں فیکٹری کے 1500 سے زیادہ ملازمین میں کورونا کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔

    بدھ کو لاک ڈاؤن ختم ہونا تھا اور اس میں ایک مرتبہ پھر توسیع ہوسکتی تھی۔

    لیکن عدالت نے پیر کو فیصلہ کیا کہ یہ مناست اقدام نہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ حکام کو مزید وقت دینا چاہیے تاکہ لاک ڈاؤن کے حوالے سے بہتر اقدامات کیے جاسکیں۔

  2. سویڈن نے پبز اور ریستورانوں میں سماجی فاصلے کی ہدایات سخت کر دیں, میڈی سیویج، بی بی سی نیوز

    سویڈن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سویڈن میں پبز، بارز اور ریستورانوں میں سختی سے کم از کم ایک میٹر کے سماجی فاصلے کی ہدایات نافذ کر دی گئی ہیں۔ گاہکوں کے مختلف گروہوں کے لیے اب لازم ہوگا کہ وہ آپس میں دوری اختیار کریں۔

    اس سے قبل محکمہ صحت نے کوئی خاص پیمائش کا ذکر نہیں کیا تھا۔ تاہم عوامی مقامات پر لوگوں کو سماجی فاصلہ اختیار کرنے اور بھیڑ سے بچنے کا کہا گیا تھا۔

    مارچ سے دیگر ہدایات اب بھی موجود ہیں۔ ان میں جگہوں پر ہاتھ دھونے کی سہولت یقینی بنانا شامل ہے۔

    سویڈن میں حکام پر تنقید کر گئی ہے کہ انھوں نے ماضی میں سماجی فاصلے کے حوالے سے سختی نہیں کی۔ کچھ مقامات پر دو میٹر دوری کی مہم چلائی گئی جبکہ بعض لوگوں پر الزام لگایا گیا کہ وہ گاہکوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔

    منگل سے حکام ان مقامات کو بند کرسکیں گے جو ایک میٹر کی دوری کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

  3. عالمی وبا کے دوران ہماری ذہنی صحت کیسے متاثر ہوتی ہے؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    سماجی تنہائی، بیروزگاری، اور کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خوف۔ وہ چند وجوہات ہیں جو عالمی وبا کے دنوں میں ہماری ذہنی صحت کو متاثر کر رہی ہیں۔

  4. جانوروں کو یوں ہی مارتے رہے تو امراض میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، اقوام متحدہ کی تنبیہہ

    جانور

    اقوام متحدہ کے ایک ماحولیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ اگر انسانوں نے جنگی حیات کو مارنا بند نہ کیا اور اس کا استحصال جاری رکھا تو اسے کورونا وائرس جیسے مزید امراض کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یو این اینوائیرمنٹ پروگرام اینڈ انٹرنیشنل لائوسٹاک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس جیسی خطرناک وبا کے لیے ماحول کو مسلسل پہچنے والا نقصان، قدرتی ذرائع کا شدید استحصال، ماحولیاتی تبدیلی اور جنگلی جانواروں کے استحصال جیسی وجوہات ذمہ دار ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ماہرین کا خیال ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں جانوروں اور پرندوں سے انسانوں میں پہنچنے والے امراض میں اضافہ ہوا ہے۔ سائنس کی زبان میں ایسے مرض کو ’زونوٹک ڈزیز‘ کہتے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پروٹین کی بڑھتی مانگ کے سبب زیادہ جانوروں کو مارا جا رہا ہے اور آخرکار اس کا نقصان انسان کو ہی اٹھانا پڑ رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جانوروں سے انسانوں کو لگنے والے مختلف امراض کی وجہ سے ہر برس عالمی سطح پر تقریباً 20 لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

    گزشتہ چند برسوں میں جانوروں سے انسانوں تک پہنچنے والے زونوٹک امراض میں اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر ابولا، برڈ فلو اور سارس اسی زمرے میں آتے ہیں۔

    یو این اینوائیرمنٹ پروگرام کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے کہا کہ گزشتہ 100 برسوں میں انسان مختلف نئے وارسز کی وجہ سے کم از کم چھہ قسم کے خطرات کا سامنا کر چکا ہے۔ پہلے یہ امراض جانوروں اور پرندوں میں ہوتے ہیں پھر ان کے ذریعے انسانوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زونوٹک امراض میں اضافے کی وجہ خود انسان کے فیصلے ہیں۔

  5. کورونا وائرس سے جڑی اصطلاحات کے معنی کیا ہیں؟

    کورونا وائرس کی عالمی وبا نے ہماری روزمرہ کی زندگی میں کئی نئے الفاظ اور اصطلاحات متعارف کرائی ہیں لیکن آخر ان سب اصطلاحات کا مطلب کیا ہے؟

    کورونا
  6. کسٹمرز کے کورونا ٹیسٹ مثبت، انگلینڈ کے کم از کم تین شراب خانے بند

    اپنے کسٹمرز کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انگلینڈ کے کم از کم تین شراب خانوں نے اپنے دروازے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ویک اینڈ پر انگلینڈ میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے تفریح کے ہزاروں مقامات دوبارہ کھول دیے گئے تھے۔

    مشرقی یارک شائر کے علاقے بیٹلی کے ایک شراب خانے دا فاکس اینڈ ہاؤنڈس نے کہا ہے کہ ایک کسٹمر نے انھیں فون کر کے خود بتایا کہ ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    شراب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  7. برطانیہ: تین چوتھائی افراد میں وائرس کی تشخیص کے وقت علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے دفتر برائے قومی شماریات کے مطابق تین چوتھائی یعنی 78 فیصد لوگوں میں جب کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تو ان میں اس وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔

    برطانیہ میں 36 ہزار ایسے لوگوں کے ڈیٹا کو دیکھا گیا کہ جب ان میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی تو ان میں اس وبا کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔

    دفتر برائے قومی شماریات نے برطانیہ میں اپنی ہفتہ وار اموات کے اعدادوشمار جاری کیے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلسل دوسرے ہفتے میں ہونے والی اموات پانچ سال کی اوسط سے کم ہیں۔

    برطانیہ میں 26 جون تک والے ہفتے میں 10،267 ہلاکتیں ہوئی ہیں جو پانچ سال کی اوسط سے کم ہیں۔

    اسی ہفتے میں ہونے والی 651 اموات کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر موت کی وجہ کووڈ 19 درج تھی، جو اس وقت کی 607 ہلاکتوں سے زیادہ ہیں جب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 23 مارچ کو لاک ڈاؤن کا اطلاق کیا گیا تھا۔

  8. کیا کورونا وائرس کی دوسری لہر آ سکتی ہے؟

    جہاں دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے عائد پابندیوں میں نرمی ہو رہی ہے وہیں اس امر پر بھی توجہ مرکوز ہے کہ اس وبا کی دوسری لہر سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  9. این سی او سی اجلاس: ملک بھر کے ہسپتالوں میں 1227 بیڈز زفراہم کر دیے گئے

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) کو بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں ملک بھر کے ہسپتالوں میں 1227 آکسیجنیڈڈ بیڈز فراہم کر دیے گئے ہیں۔

    اجلاس میں چیف سیکرٹریز کی جانب سے سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال، ذاتی تحفظ کے آلات(پی پی ایز)، کورونا وبا کے پھیلاؤ کی صورتحال اور ہسپتالوں میں ’ریمپ اپ پلان‘ کا جائزہ لیا گیا۔

    این سی او سی کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے بہتر علاج معالجے کے لیے وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر اب تک ملک بھر کے مختلف ہسپتالوں میں مزید 1227 بیڈز شامل کر دیے گئے ہیں۔

    بیڈز

    آزاد جموں و کشمیر میں 80 آکسیجنیڈڈ بیڈز فراہم کیے گئے ہیں جن میں عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (اے آئی یم ایس) کے 20 بیڈ، ڈی ایچ کیو کوٹلی کے 20 بیڈ، ڈی ایچ کیو بھمبرکے 20 بیڈ اور سی ایم ایچ مظفرآباد کے 20 بیڈ شامل ہیں۔

    بلوچستان میں فاطمہ جناح ہسپتال میں 100 آکسیجن بیڈز دیے گئے ہیں جبکہ گلگت بلستان کے ہیلتھ کیئر سسٹم میں مزید 100 آکسیجن بیڈز شامل کیے گئے ہیں۔

    خیبرپختونخوا کو 320 بیڈز فراہم کیے گئے ہیں جن میں پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) کے 250 بیڈ اور چارسدہ ہسپتال کے 70 بیڈز شامل ہیں۔

    پنجاب کو 330 آکسیجنیڈڈ بیڈز فراہم کیے گئے ہیں جس میں ایکسپو سنٹر لاہورکے 280 بیڈز اورسوشل سکیورٹی ہسپتال لاہور میں 70 بیڈز شامل ہیں۔

    سندھ کو مزید 70 آکسیجنیڈڈ بیڈز فراہم کیے گئے ہیں جس میں عباسی شہید ہسپتال کے مزید 70 بیڈ شامل ہیں۔

    اسی طرح اسلام آباد کو 227 آکسیجنیڈڈ بیڈز فراہم کیے گئے ہیں جس میں پولی کلینک ہسپتال کے 13 بیڈ، پمز کے 152 بیڈ اور سی ڈی اے ہسپتال کے 59 بیڈ شامل ہیں۔

  10. کورونا وائرس: جنوبی افریقہ میں متاثرین دو لاکھ سے زیادہ

    جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

    وزیر صحت زویلی میخزے نے کہا ہے کہ چار صوبوں میں متاثرین میں اضافے کا خطرہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان صوبوں میں لاک ڈاؤن کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ جنوبی افریقہ میں روزانہ کی بنیاد پر متاثرین کی تعداد میں ہزاروں کا اضافہ ہو رہا ہے تاہم وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں لاک ڈاؤن نافذ نہ کیا جاتا تو اس میں اور بھی اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

    جنوبی افریقہ میں مرحلے وار لاک ڈاؤن میں نرمی کا عمل جاری ہے اور اس ہفتے مزید طلبا کے لیے سکول دوبارہ کھولے جا رہے ہیں۔

    یہ ملک آکسفرڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ کووڈ 19 ویکسین کی انسانی آزمائش میں بھی شامل ہے۔

    جنوبی افریقہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  11. پنجاب میں کورونا وائرس کے706 نئے کیس، متاثرین کی تعداد82,669 ہو گئی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 706 نئے کیس سامنے آنے کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 82,669 ہو گئی ہے۔

    صوبے میں وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 1899 ہے۔

    نئے متاثرین میں سے لاہور سے 342، قصور سے دو، شیخوپورہ سے چھ، راولپنڈی سے 83، جہلم سے دو، اٹک سے آٹھ، چکوال سے 26 اورگوجرانوالہ سے 18کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    سیالکوٹ سے 15، نارووال سے چھ، گجرات سے 72، حافظ آباد سے 18، منڈی بہاؤالدین سے ایک، ملتان سے 33، وہاڑی سے تین، فیصل آباد سے 10، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ایک اور رحیم یار خان سے دو کیس سامنے آئے پیں۔

    ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق سرگودھا سے دو، میانوالی سے دو، خوشاب سے ایک، بہاولنگر سے دو، بہاولپورآٹھ، لودھراں ایک، ڈی جی خان سے 11، اوکاڑہ سے نو، جھنگ سے ایک، خانیوال سے ایک، بھکر سے 16 اورساہیوال میں چھ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    پنجاب

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  12. سپین میں کی گئی تحقیق نے اجتماعی مدافعت کی تکنیک پر سوالات اٹھا دیے

    سپین

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    کورونا وائرس کو شکست دینے سے متعلق ایک امید نام نہاد اجتماعی مدافعت (ہرڈ امیونٹی) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی ملک میں زیادہ لوگ اس وائرس سے متاثر ہوں گے اور پھر وہ صحت یاب ہو جائیں گے تو پھر ان میں اینٹی باڈیز پیدا ہو جائیں گی جس سے ان کا مدافعتی نظام مضبوط ہو جائے گا اور پھر وائرس مزید نہیں پھیلے گا۔

    لیکن سپین میں ہونے والی ایک تحقیق نے اس پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جس کے بعد یہ شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ کیا اب یہ تصور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا سبب بن سکتا ہے۔

    میڈیکل جریدے دی لینسیٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جب اس مقصد کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اس وائرس سے صحت یاب ہونے والے 60 ہزار لوگوں کا مطالعہ کیا گیا تو ان میں سے صرف پانچ فیصد لوگوں میں اینٹی باڈیز پیدا ہو سکیں۔

    ابھی بھی یہ خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً 70 سے 90 فیصد لوگوں میں قوت مدافعت پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان سے دوسروں کو یہ وائرس منتقل نہ ہو سکے۔

    تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سماجی فاصلے کے اصول اور نئے متاثرین کو آئسولیشن میں رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس کے پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔

  13. ریمڈیسیور: دلی میں زندگی بچانے والی دوا کی بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت

    ریمڈیسیور

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ابھینو شرما کے چچا کو جب نئی دہلی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تو انھیں بہت تیز بخار کے ساتھ سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔

    ان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی اور ڈاکٹرز نے ان کے خاندان والوں کو ریمڈیسیور لانے کا کہا۔ یہ ایک ایسی اینٹی وائرل دوا ہے جس کی انڈیا میں کلینکل ٹرائل کی اجازت ہے اور اسے ایمرجنسی جیسی صورتحال میں مریضوں کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے یعنی ڈاکٹرز مریض کو مخصوص حالات میں یہ دوا علاج کے طور پر دے سکتے ہیں۔

    اس دوا سے اس مرض کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے لیکن اب انڈیا میں اس دوا کا حصول ایک ناممکن کام بن کر رہ گیا ہے اور ریمڈیسیور اب آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔

    ابھینو شرما کا کہنا ہے کہ درجنوں فون کالز کے بعد یہ دوا سات گنا زیادہ قیمت پر ملی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تو ہر قیمت پر یہ دوا خریدنا چاہتے تھے مگر ان لوگوں کا کیا ہوتا ہو گا جن کے پاس پیسے نہیں ہیں کہ وہ بلیک مارکیٹ میں اسے خرید سکیں۔

    دلی میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد ایک لاکھ تک بنتی ہے اور ایسے بہت سے خاندان ہیں جو اب اپنے پیاروں کے لیے اس دوا کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پرانی دلی کی مارکیٹ سے جا کر اس دوا کو مہنگے داموں خریدتے ہیں۔

    انڈیا میں اس دوا کی سپلائی میں کمی کی وجہ سے دستیابی ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔

    بی بی سی ایسے لوگوں سے رابطہ کرنے میں کامیاب رہا جو یہ کہتے ہیں کہ وہ اس دوا کا انتظام کر لیں گے مگر پیسے اپنی مرضی کے لیں گے۔

    میڈیسن مارکیٹ میں کام کرنے کا دعویٰ کرنے والے ایک شخص نے کہا کہ وہ اس دوائی کی تین بوتلیں دے گا مگر ہر بوتل کی قیمت 30 ہزار روپے ہو گی اور اس کے لیے آپ کو ایک مخصوص جگہ پر آنا ہو گا۔

    سرکاری طور پر ہر بوتل کی قیمت 5400 روپے ہےاور عام طور پر ایک مریض کو پانچ سے چھ بوتلیں چاہیے ہوتی ہیں۔ ایک اور شخص نے بی بی سی کو اس دوا کی قیمت 38000 بتائی ہے۔

    بی بی سی کو کچھ ایسے خاندانوں سے بھی رابطہ ہوا جو اپنی زندگی کی جمع پونجی اس دوائی کے حصول کے لیے خرچ کرنے پر تیار تھے۔

  14. نیوزی لینڈ اپنے شہریوں کی ملک واپسی پر پابندی لگا سکتا ہے

    نیوزی لینڈ کے شہریوں کی دوسرے ممالک سے واپسی پر 14 دن قرنطینہ میں گزارنا لازمی شرط تھی مگر اب حکومت کو یہ ڈر ہے کہ جگہ کم پڑ رہی ہے۔

    ملک کی فضائی سروس ایئر نیوزی لینڈ نے مزید بکنگ کا عمل روک دیا ہے تاہم جن لوگوں کی پہلے سے بکنگ ہے ان کو اس شرط پر ملک آنے دیا جائے کہ اگر ان کے لیے قرنطینہ میں رہنے کی جگہ دستیاب ہو۔

    ایئرکموڈور ڈیرن ویب کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں 28 آئسولیشن سنٹرز میں چھ ہزار لوگ موجود ہیں اور ہم ایسے افرا کے لیے مزید جگہ کا بھی انتظام کر رہے ہیں مگر ہمیں یہ سب محفوظ طریقے سے کرنے کی ضرورت ہے۔ .

    ایئرلائن کے چیف کمرشل اور کسٹمر آفیسر کیم ویلاس کا کہنا ہے کہ انھوں نے تین ہفتوں کے لیے بکنگ روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لیے نیوزی لینڈ کو ایک کامیاب مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

    نیوزی لینڈ میں اس وائرس کے متاثرین کی تعداد 1500 تھی اور 22 افراد کی اس وائرس سے ہلاکت ہوئی۔ گذشتہ ہفتے کورونا وائرس سے متعلقہ تمام پاپندیاں ختم کر دی گئی تھیں اور ملک کو وائرس سے پاک قرار دیا گیا تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. کورونا وائرس: دنیا میں کہاں کووڈ 19 کا مرض پھیل رہا ہے اور کہاں کم ہو رہا ہے؟

    مغربی یورپ اور ایشیا کے کئی ممالک میں وائرس کے پھیلاؤ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے لیکن دوسری جانب دنیا کے دیگر کئی علاقوں میں یہ وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    جون کی 28 تاریخ کو دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ گئی جس کے بعد عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ وائرس سے مقابلے کا اب ایک نیا اور خطرناک مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔

    جاپان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  16. ووہان: کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق سوالات اب بھی جواب طلب

    ووہان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    زیادہ تر سائنسدانوں کا یہ خیال یہ ہے کہ کورونا وائرس کی وبا جانوروں سے انسانوں میں منتقل میں ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیال میں کہ یہ وبا چین کی لیبارٹری سے باہر نکلی ہے جبکہ ان کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ اس بات کے اہم ثبوت موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ یہ وائرس چین کے شہر ووہان کی ایک لیب سے باہر نکلا۔

    یہ وبا ووہان میں پھوٹی جو چین کا ایک بڑا شہر ہے جہاں وبائی امراض پر تحقیق کرنے والا ایک ادارہ (وائرالوجی انسٹی ٹیوٹ) ہے جو چمگادڑوں سے پھیلنے والے وائرس اور دیگر موضوعات پر تحقیق کرتا ہے۔

    تاہم بی بی سی کے جان سٹڈورتھ کے مطابق ووہان سے ان سوالات کے جوابات حاصل کرنا اتنا آسان کام نہیں۔

    ان کے مطابق ہم نے جو انٹرویو کے لیے ایک خاتون کو تیار کیا تو اس کے تعاقب میں سادہ کپڑوں میں پولیس بھی آ گئی۔ جب وہ خاتون ہماری گاڑی میں داخل ہوئی تو انھوں نے ہمارا راستہ بلاک کر دیا۔

    ووہان کی ایسٹ لیک کے ایک کنارے پر ہم اندھیرے میں ایک اور شخص سے ملے۔ اس نے ہمیں بتایا کہ جب اس نے اپنے والد کی موت سے متعلق بات کی تو پولیس دو بار ان کے گھر آئی۔

    متاثرین اور صحافیوں کے لیے یہ پوچھنا ایک جتنا ہی مشکل ہے کہ ووہان میں یہ وبا کیسے شروع ہوئی اور کیا اس پر قابو پایا جا سکتا تھا۔

    تاہم اس عالمی بحران کے دوران اب یہ سوالات پوچھنا ایک ضرورت بن چکی ہے، یہ محض ایک چوائس نہیں ہے۔

  17. آسٹریلیا: میلبورن میں پھر لاک ڈاؤن ہو گا

    آسٹریلیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا میں میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریاست کے حکمران ڈینیئل اینڈریوس کا کہنا ہے کہ جمعرات سے میلبورن اور وکٹوریا کے کچھ علاقوں میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا جائے گا۔

    ان کے مطابق یہ لاک ڈاؤن چھ ہفتوں کے لیے ہو گا۔

    آسٹریلیا کی دوسرے بڑے شہر میلبورن میں گذشتہ کچھ ہفتوں سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ منگل کو اس شہر میں 191 افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

  18. جاپان میں گھریلو اخراجات میں ریکارڈ کمی، کساد بازاری میں اضافہ

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احیتاطی تدابیر کے طور پر لوگ گھروں تک محدود ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے جاپان میں گھریلو اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ سال کے مقابلے میں مئی میں گھریلو اخراجات میں 16 اعشاریہ دو فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

    سفری اخراجات اور باہر ہوٹل سے کھانوں سے نجات سے بھی اخراجات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم گوشت، الکوحل اور فیس ماسک جیسی اشیا کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    سرکاری اعداوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان کی حکومت اور مرکزی بینک کو اس وقت شدید کساد بازاری کا سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے۔

    جاپان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  19. کورونا کے دنوں میں ورچوئل شادی

    کورونا وائرس کے باعث شادی کی بڑی تقاریب اور اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس وجہ سے کئی جوڑوں کے شادی کرنے کے منصوبے اب ملتوی ہو گئے ہیں لیکن حسان غزالی اور ان کی منگیتر لورنا رسل نے ایک منفرد انداز میں اپنی شادی کا اہتمام کیا۔

    انھوں نے اپنی شادی میں مہمانوں کو ورچوئل دعوت دی اور شادی کی پوری تقریب فیس بک پر نشر کی۔ ان کی کہانی مزید جانیے وقاص انور کی اس ویڈیو میں۔۔۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  20. بریکنگ, کورونا: دنیا بھر میں متاثرین 11,620,096، اموات کی تعداد 538,058 ہو گئی

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 11,620,096جبکہ اس سے ہونے والی اموات کی تعداد 538,058 ہو گئی ہے۔

    وائرس سے سب سے متاثرہ ملک امریکہ ہے جہاں متاثرین کی تعداد 2,936,077 جبکہ اس سے ہونے والی اموات کی تعداد 130,285 ہے۔

    اس کے بعد سب سے زیادہ متاثرین برازیل میں ہیں، جہاں یہ تعداد 1,623,284 ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 65,487 ہے۔

    اس فہرست میں تیسرے نمبر پر انڈیا ہے جہاں متاثرین کی تعداد 719,664 جبکہ یہاں ہونے والی اموات 20,159 ہیں۔