ہارورڈ اور ایم آئی ٹی کا امریکی حکومت پر مقدمہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی دو معتبر یونیورسٹیاں امیگریشن کے قانون پر حکومت کے خلاف مقدمہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون بین الاقوامی طالب علموں کو ملک سے نکلنے پر مجبور کرے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے متعارف کرائے گئے قانون کے تحت اگر غیر ملکی طالب علموں کے کالجوں میں اس خزاں کے موسم میں ’ان پرسن‘ یا بذات خود کلاسیں نہ ہوئیں تو ان کو ملک میں رہنے نہیں دیا جائے گا۔ وبا کے دوران اکثر یونیورسٹی کی تعلیم آن لائن شفٹ ہو رہی ہے۔
ہارورڈ اور میسیچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے، جو دنیا کی سب بڑی رینکنگ کی یونیورسٹیاں ہیں، اب ایک وفاقی عدالت سے کہا ہے کہ وہ یہ حکمنامہ روک دے۔
ہارورڈ کے پروفیسر لارنس بیکاؤ نے ہارورڈ برادری کو ایک ای میل میں بتایا کہ ’ہم اس مقدمے کو دل و جاں سے لڑیں گے تاکہ ہمارے بین الاقوامی طالب علم، اور پورے ملک میں بین الاقوامی طالب علم، ملک سے نکالے جانے کے خوف کے بغیر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔‘














