آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: ایران میں ایک دن میں سب سے زیادہ اموات، نو صوبے ریڈ زون قرار

دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 19 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 37 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ حکومت نے 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کی مشروط اجازت دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع میرپور میں سمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ضلع کوٹلی کے بعد ضلع میرپور میں بھی کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں مسلسل اضافے کے باعث 10 روز کے لیے سمارٹ لاک ڈاون لگا دیا ہے جس کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ہوگا۔

    ڈپٹی کمشنر میرپور راجہ طاہر ممتاز کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق لاک ڈاون کے دوران ضلع میرپور کے داخلی و خارجی راستے آمدروفت کے لیے بند رہیں گے البتہ صرف اشیائے خوردنوش، ادویات کے لیے منگلا اود دھان گلی انٹری پوائنٹس سے آمدروفعت کی اجازت ہوگی۔

    سمارٹ لاک ڈاون کے دروان تمام پبلک ٹرانسپورٹ و پرائیویٹ ٹرانسپورٹ مکمل بند رہے گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق انڈسٹری ایریا کے اندر کام کرنے والے جملہ ورکرز مروجہ SOP کے مطابق انڈسٹری کے اندر ہی اپنی رہائش و طعام کا انتظام کریں گے جبکہ میرپور شہر کے جن ورکرز کی رہائش انڈسٹری کے اندر نہ ہو وہ کام پر نہیں جا سکیں گے۔ ان ورکرز کو ان ایام کی تنخواہ انڈسٹری مالکان دینے کے پابند ہوں گے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق تمام مالیاتی ادارہ جات کے ملازمین جو بیرون شہر سے میرپور آتے جاتے ہیں وہ اپنی رہائش میرپور کے اندر رکھنے کے پابند ہوں گے۔

    ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران سبزی، فروٹ، گروسری، میڈیکل سٹورز، بیکری، دودھ دہی، گیس ڈسٹری بیوٹرز پہلے سے نوٹیفائیڈ اوقات کار کے مطابق کھلی رہیں گی جبکہ ریسٹورنٹ، فاسٹ فوڈ کے کاروبار سے منسلک لوگوں کو صرف ہوم ڈلیوری کی حد تک اجازت ہو گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق شہر کے اندر موجود دفاتر جو کہ ضروری سروس مہیا کرتے ہیں جن میں عدلیہ، محکمہ مال، پولیس، بلدیہ،محکمہ صحت، برقیات، پبلک ہیلتھ،، وکلا اور نامزد NGOs شامل ہیں ان کے ملازمین کو سمارٹ لاک ڈاؤن ایریا میں نقل وحمل کی اس شرط پراجازت ہو گی کہ ان کے پاس ان کے محکمہ جات کا سروس کارڈ لازمی ہو گا۔

    اس کے علاوہ جملہ محکمہ جات کے ملازمین آن کال ہوں گے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہر دو تھانہ جات کے رہائشی اشیائے ضروریہ کی خرید وفروخت اپنے اپنے تھانہ کی حدود میں موجود دکانوں سے کرنے کے پابند ہوں گے۔

    تھانہ تھوتھال کے رہائشی تھانہ سٹی کی حدود میں بغیر کسی جواز کے داخل نہیں ہو سکیں گے اور اسی طرح تھانہ سٹی کے رہائشی تھانہ تھوتھال کی حدود میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔

    سب ڈویژن میرپور ڈڈیال کے رہائشیوں کو صرف میڈیکل گراؤنڈ پر چیک اپ کے لیے بیرون میرپور جانے کی اجازت ہو گی جس کا باقاعدہ اجازت نامہ سب ڈویژنل مجسٹریٹ جاری کریں گے جبکہ بیرون ملک آنے جانے والے مسافروں کو SOP کے مطابق سفر کی اجازت ہو گی۔

    .یاد رہے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دس اضلاع میں سے تین میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے باعث سمارٹ لاک ڈاون نافذ ہے۔

  2. ترقی پزیر ممالک کے ساتھ سفری امتیاز نہ برتا جائے: عمران خان

    پاکستان کے وزیراعظم نے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانم سے کہا کہ تمام ملکوں کے لیے سفری قواعد و ضوابط وضع کیے جائیں۔

    وزیراعظم کی ڈبلیو ایچ او کے سربراہ سے ویڈیو کانفرنس پر گفتگو ہوئی۔

    پاکستان کے وزیراعظم نے انھیں صحت کے شعبے میں سہولیات کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔

    انھوں نے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ سے کہا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کی جانب سے پاکستان اور دیگر یافتہ ممالک پر عائد سفری پابندیاں ختم کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور غیر امتیازی سفری قوانین کے نظام پر کام کیا جائے۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانم نے عمران خان کو بتایا کہ اس سلسلے میں ان کا ادارہ کام کر رہا ہے جس سے عالمی برادری کو اس ضمن میں فیصلے کرنے میں مدد مل سکے گی۔

  3. لبنان کا ابھرنے کی قوت کا مظاہرہ, مارٹن پیشنس، بی بی سی نیوز

    جدید تاریخ کے سب سے برے اقتصادی بحران اور کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باوجود، لبنان نے گذشتہ رات بالبیک کے رومی کھنڈرات میں ایک زبردست شو کا انعقاد کیا۔

    150 موسیقاروں اور سنگرز پر مبنی کنسرٹ ہوا تو ضرور لیکن کووڈ۔19 کی وجہ سے اس میں حاضرین بالکل نہیں تھے۔ منتظمین نے کنسرٹ کو لبنان کے ’ثقافتی طور پر ابھرنے کی قوت کا ایک ایکٹ‘ کہا۔

    اس کنسرٹ میں بیتھوون اور وردی کے کلاسیکی میوزک کے علاوہ نامور لبنانی کمپوزرز کا بھی میوزک شامل کیا گیا تھا۔ ایک گانا ملک کی ہر دل عزیز سنگر فیروز کا بھی تھا۔

    ٹوئٹر پر ایک مداح نے لکھا کہ ’کیا ماسٹر پیس تھا: ’یہ دیکھ کے بہت دکھ ہوتا ہے کہ ایک چھوٹا سا ملک جس میں اتنی زیادہ صلاحیت ہے، کتنی تیزی سے ڈوب رہا ہے۔‘

  4. ماسک کا تنازع: حملے کے بعد فرانسیسی بس ڈرائیور دماغی طور پر مردہ

    ایک فرانسیسی بس ڈرائیور پر اس وقت حملہ ہوا جب انھوں نے چند مسافروں کو جنھوں نے ماسک نہیں پہنا ہوا تھا، بس میں بٹھانے سے انکار کر دیا۔ حملے کے بعد ڈرائیور کے دماغ نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔

    اتوار کو بینون کے علاقے میں چار افراد نے جن میں سے کسی کے پاس ٹکٹ تھا اور نہ ہی انھوں نے ماسک پہنے ہوئے تھے، متعدد مرتبہ 59 سال بس ڈرائیور کو مکے مارنے شروع کر دیے۔

    پورے فرانس میں پبلک ٹرانسپورٹ پر ماسک پہنا لازمی ہے۔

    ایک پولیس اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آووروں میں سے ایک کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    بہت سے ڈرائیوروں نے اپنے ساتھی پر حملے کے بعد احتجاج کرتے ہوئے کام بند کر دیا ہے جس سے علاقائی بس سروس بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

  5. پاکستان میں دیسی ساختہ وینٹیلیٹرز کی پہلی مرتبہ پیداواری سہولت کا افتتاح

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پیر کو نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن ہری پور میں مقامی طورپر تیار کردہ وینٹی لیٹرز کے پہلے پیداواری پلانٹ کا افتتاح کیا۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معیشت کو فعال رکھنے کیلئے ہماری سمارٹ لاک ڈائون کی حکمت عملی کی بڑے پیمانے پر پذیرائی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ اب ہماری توجہ کا محور صحت کے شعبے میں جامع اصلاحات ہوں گی۔

  6. کورونا وائرس: ہم ویکسین بنانے کے کتنے قریب ہیں؟

    جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا جا چکا ہے کہ ایک انڈین میڈیکل کونسل نے امید ظاہر کی ہے وہ اگست کے وسط تک ویکسین تیار ہو جائے گی، لیکن دوسری طرف انڈین سائنسدانوں کے ایک گروہ نے اس دعوے کو غیر حقیقی کہہ کر رد کر دیا ہے۔

    سو پھر ہم اس ویکسین کی عالمی تلاش میں کہاں تک پہنچے ہیں؟

    عام طور پر ویکسین کے بننے میں دہائیاں نہیں تو کئی سال ضرور لگ جاتے ہیں، لیکن اس مرتبہ پوری دنیا میں سائنسدان رات دن اس کی تیاری میں جتے ہوئے ہیں۔

    اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 120 ویکسین پروگرام کام کر رہے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی اور امپیریئل کالج نے ویکسین کے انسانی ٹرائل پر کام بھی شروع کر دیا ہے۔

    اور اس سوال کا جواب کہ ہمیں ویکسین کب مل سکتی ہے، یہ ہے کہ کچھ صحت کے اہلکاروں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سال کے آخر تک یا 2021 کے آغاز میں ویکسین تیار ہو جائے گی۔ کچھ دیگر کا خیال ہے کہ اس کی تیاری کے 2021 کے آخر تک زیادہ امکانات ہیں۔

    دریں اثنا اتوار کو امریکہ کے ادویات کی نگرانی کرنے والوں نے کہا ہے کہ اس سال تک اس کی دستیابی مشکل ہے۔

    امریکہ کے متعددی بیماریوں کے اعلیٰ ماہر نے کہا ہے کہ موسم سرما کے آغاز تک ویکسین کے موثر ہونے کا پتہ لگ جائے گا۔

  7. اداکار نِک کارڈرو کورونا کا شکار ہونے کے بعد چل بسے

    اداکار نِک کارڈرو جو کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد طویل عرصے سے انتہائی نگہداشت میں تھے کی اہلیہ نے ان کی وفات کی تصدیق کی ہے۔

    ان کی عمر 41 برس تھی اور وہ کینیڈین نژاد تھے۔

  8. کویت میں آٹھ لاکھ انڈین شہریوں کی ملازمت خطرے میں، پاکستانی بھی متاثر ہوں گے

    کورونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر کی معیشتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان میں ایسے ممالک کی معیشت بھی شامل ہیں جن کا انحصار تیل پر ہے۔ دنیا بھر میں تیل کی طلب میں نمایاں کمی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں بھی مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔

    ایسی صورتحال میں بہت سے ممالک نے اپنی معاشی پالیسیاں تبدیل کی ہیں۔ کویت بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔

    کویت ایک ایسی قانون سازی کرنے جا رہا ہے جس کے بعد غیر ملکی ورکرز کی تعداد میں کمی کی جا سکے گی تاکہ کویتی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع کم نہ پڑ جائیں۔

    کویت ٹائمز کے مطابق قومی اسمبلی کی قانون ساز کمیٹی نے ایک بل کے مسودے کی منظوری دی ہے جس میں غیر ملکی ورکرز کے لیے ایک متعین کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ مسودہ پانچ ارکان اسمبلی نے تیار کیا ہے۔ کویت ٹائمز کے مطابق اب یہ بل متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا جائے گا۔

    کمیٹی اس بل کا جائزہ لینے کے بعد اس پر اپنی رائے دے گی۔ اس بل کے مندرجات کے مطابق کویت میں سب سے زیادہ غیر ملکی ورکرز انڈیا سے آئے ہوئے ہیں۔ اگر یہ بل منظوری کے بعد نافذ کر دیا جاتا ہے تو پھر کویت کی کل آبادی کے 15 فیصد آبادی سے زیادہ انڈین باشندوں کو کویت میں رہنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

    اس وقت کویت میں 14 لاکھ سے زائد انڈین رہ رہے ہیں۔ اگر یہ نیا بل منظور ہو جاتا ہے تو پھر آٹھ لاکھ انڈین باشندوں کویت سے کام چھوڑ کر واپس انڈیا جانا ہوگا۔

    گذشتہ ماہ کویت کے وزیر اعظم شیخ صباالخالد الصبا نے کہا تھا کہ وہ غیرملکیوں کی تعداد کو 30 فیصد تک بڑھائیں گے جو ابھی 70 فیصد بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ کم از کم 35 لاکھ غیر ملکیوں کو کویت چھوڑنا پڑے گا۔

  9. کورونا کی وجہ سے سماجی دوری، یہ دو میٹر ہوتا کتنا ہے؟

    تین آسٹریلوی کوالا ہوں یا ایک مائیکل جورڈن یا پھر نصف واکس ویگن بیٹل، یہ وہ فاصلہ ہے جتنا آپ کو کسی بھی فرد سے کورونا کی وبا کے دوران سماجی دوری اختیار کرتے ہوئے رہنا چاہیے اور اگر بات سمجھ نہیں آئی تو یہ ویڈیو دیکھ کر سمجھ لیں۔

  10. سعودی عرب: ویزوں اور رہائشی اجازت ناموں کی معیاد میں بغیر کسی فیس کے تین ماہ کی توسیع

    سعودی عرب نے بغیر کسی فیس کے تارکین وطن کے لیے ویزوں اور رہائشی اجازت ناموں میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔

    وزارت داخلہ نے اتوار کے روز اپنے بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے یہ فیصلہ ان افراد، تاجروں اور نجی شعبے پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے مقصد سے لیا گیا ہے۔

    تارکین وطن کے لیے ویزوں، کورونا کے دوران مدت ختم ہونے والے رہائشی اجازت ناموں، وطن واپسی کے لیے ویزوں ، ملک سے باہر موجود تارکینِ وطن افراد کے ویزوں اور سفری پابندیوں کے باعث ختم ہونے والے ویزوں اور سعودی عرب وزٹ ویزا پر آنے والوں کے رہائشی اجازت ناموں کی معیاد میں تین ماہ کی توسیع کر دی ہے۔

    سعودی پریس ایجنسی نے بتایا کہ ان قواعد پر نظرثانی کی جائے گی اور ضرورت کے مطابق تبدیلیاں کی جائیں گی۔

    گذشتہ جمعرات کو سعودی سلطان سلمان بن عبد العزیز نے نجی شعبے پر وبا کے اثرات کم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے متعدد سرکاری سکیموں میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔

  11. ماہرین: انڈیا کا یوم آزادی تک ویکسین تیار کرنے کا ہدف غیر حقیقی ہے

    انڈیا کے سائنسدانوں کے ایک گروپ نے حکومت کو اس وائرس کی ایک ویکسین کے بارے میں غیر حقیقی اہداف مقرر کرنے پر متنبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 'ویکسین ڈیڈلائن طے کر کے نہیں تیار کی جا سکتی‘۔

    ان سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ویکسین کے لیے جو 15 اگست کی ڈیڈلائن مقرر کی ہے وہ غیر حقیقی اور ناقابل عمل ہے۔

    انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کا کہنا ہے کہ وہ اس وائرس کی ویکسین کو 15 اگست تک لانچ کرنے کے بارے میں سوچا ہے۔ خیال رہے کہ 15 اگست انڈیا میں یوم آزادی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

    تاہم انڈیا انڈین اکیڈمی آف سائنسز نے کسی بھی عجلت سے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سائنس کا ایک بہت محنت طلب اور معیاری کام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    اس کے بعد آئی سی ایم آر نے کہا ہے کہ جو تاریخ لانچ کے لیے بتائی گئی ہے وہ ڈیڈ لائن نہیں ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ویکسین کی تیاری میں اگر دہائیاں نہیں بھی تو کئی برس لگ جاتے ہیں۔ تاہم دنیا بھر میں محققین اس کام کو چند ماہ میں مکمل کرنے کی امید پر کام کر رہے ہیں۔

  12. بلوچستان کے افغانستان سے متصل شہر چمن میں سرحدیں کھولنے کے لیے احتجاج, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں مقامی تاجروں اور مزدوری کرنے والے افراد نے احساس پروگرام کے تحت حکومتی امداد کی پیش کش کو مسترد کر دی ہے۔ انھوں نے مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ احتجاج کورونا کے حوالے سے ان پابندیوں کے خلاف کی جارہی ہے، جن کے تحت مقامی تاجروں اور محنت کشوں کو روزانہ کی بنیاد پر افغانستان آمدورفت کی اجازت نہیں ہے۔ احتجاج کرنے والے افراد نے دونوں ممالک کے درمیان شاہراہ کو بھی بند کیا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ افراد ایک ماہ سے زائد عرصے سے احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ چمن شہر افغانستان سے متصل ہے اور یہاں لوگوں کا دونوں اطراف کاروبار ہے۔

    ان تاجروں اور مزدوروں نے اپنے مطالبات کے حق میں پیر کے روز شہر میں احتجاجی ریلی نکالنے کے علاوہ بعض سرکاری دفاتر کے باہر دھرنا بھی دیا۔

    احتجاج کرنے والے افراد سے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو کی سربراہی میں ایک حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے اتوار کوملاقات کی۔ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق مذاکراتی کمیٹی نے پاک افغان بارڈر پر ایک ماہ سے جاری دھرنے کے لیے کمیٹی سے تجاویز لیں اور چمن بارڈر کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال اور مستقل بنیادوں پر حل سے متعلق امور پر بات کی۔

    حکومتی نمائندوں کی جانب سے دھرنے کے شرکا کے لیے احساس پروگرام کے تحت ماہانہ 20 ہزار روپے دینے کی آفر کی گئی۔

    اس موقع پرصوبائی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں روزگار کے بہت مسائل ہیں۔ کچھ باتیں عوامی جبکہ بعض مسائل سرکار اور سیکیورٹی فورسسز نے مل کر حل کرنے ہوتے ہیں۔

    فون پر رابطہ کرنے پر تاجر رہنما صادق اچکزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ احتجاج کرنے والے تاجروں نے احساس پروگرام کے تحت پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کمیٹی کی درخواست پر مسئلے کا حل نکالنے تک احتجاج ختم کرنے کی درخواست کو بھی تسلیم نہیں کیا۔

    تاجر رہنما نے کہا کہ احتجاج کرنے والے افراد کا یہ موقف ہے کہ ان کے معاش اور روزگار کا انحصار افغانستان کی سرحدی منڈیوں سے وابستہ ہے اس لیے کورونا کے حوالے سے پابندیوں سے قبل جس طرح ان کو روزانہ کی بنیاد پر افغانستان آمدورفت کی اجازت تھی اسی طرح ایس او پیز کے تحت انہیں روازنہ آمد ورفت کی اجازت دی جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس مطالبے کے تسلیم ہونے تک تاجروں اور محنت کشوں کے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

  13. لاک ڈاؤن میں پاکستانی نوجوانوں کے فلمسازی کے تجربے

    کورونا کی وبا نے جہاں دنیا کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو نشانہ بنایا ہے وہیں تخلیقی ذہن رکھنے والے افراد بھی اِس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔

    یہی وجہ ہے کہ کراچی کے چند نوجوان فلمسازوں نے کورونا لاک ڈاؤن کے دوران اپنے تجربات کو مختصر دورانیے کہ فلموں کی شکل دے کر آن لائن ریلیز کیا ہے۔ مزید تفصیلات کریم الاسلام کی اس ویڈیو میں

  14. برطانیہ کی 13 یونیورسٹیوں کو دیوالیہ ہونے کا خطرہ

    کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے برطانیہ میں کئی یونیورسٹیوں کی مالی حالت ابتر ہو گئی ہے۔

    ایک نئی تحقیق کے مطابق اگر حکومت نے مالی مدد فراہم نہ کی تو 13 یونیورسٹیوں کو نادہندہ ہونے جیسے حقیقی خطرات لاحق ہیں۔

    انسٹی ٹیوٹ فار فسکل سٹڈیز کے مطابق ان اعلی درجات کی یونیورسٹیوں جہاں دیگر ممالک کے طلبا بھی زیر تعلیم ہیں کی آمدن میں فوری طور پر کمی واقع ہوئی ہے۔

    تحقیق میں خبراد کیا گیا ہے کہ کم درجات یا کم شہرت رکھنے والی یونیورسٹیوں پر بھی خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے شعبے کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یعنی اس شعبے کی تقریباً آدھی سالانہ کمائی کم ہو سکتی ہے۔

    ریسرچرز کے اندازے میں 11 بلین پاؤنڈز کے خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو ان یونیورسٹیوں کی سالانہ آمدن کا ایک چوتھائی حصہ بنتا ہے۔

    تعلیم کے محکمے کا کہنا ہے کہ مئی میں یونیورسٹیوں کے لیے حکومت نے مالی مدد کا اعلان کیا تھا جس سے یونیورسٹیوں کو مدد ملے گی اور ملازمتوں کو بھی خطرہ نہیں رہے گا۔ پیسے کا مسئلہ حل کرنے کے لیے تعلیم کا شعبہ دو اعشاریہ چھ بلین پاؤنڈ کی ٹیوشن فیس سے بھی مسائل پر قابو پانے کی کوشش کرے گا۔

  15. بلوچستان میں متاثرین کی تعداد میں کمی، صحت یاب افراد کی تعداد متاثرین سے بھی زیادہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان میں کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد متاثر ہونے والے افراد کی تعداد سے بڑھ گئی ہے۔

    اگرچہ سرکاری حکام کی جانب سے اس کی وجہ کورونا متاثرین کی تعداد میں کمی بتائی جارہی ہے لیکن بلوچستان میں دو ڈھائی ہفتوں میں ٹیسٹ کی تعداد میں بہت زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    اس وقت صوبے میں ٹیسٹ کی شرح مجموعی آبادی کا 0.40 فیصد کے قریب بنتی ہے۔

    محکمہ صحت کی 5 جولائی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں کورونا کے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 10814 جبکہ ان میں سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 5885 ہے۔

    ٹیسٹ میں کتنی کمی واقع ہوئی ہے؟

    رپورٹس کے مطابق 5 جولائی کو صرف 295 ٹیسٹ کیے گئے۔چار جولائی کو ٹیسٹ کی تعداد 242، تین جون کو 325 اوردو جون کو یہ تعداد 459 تھی۔

    ٹیسٹ کی تعداد میں کمی کے ساتھ ساتھ گذشتہ دو ڈھائی ہفتے سے کورونا متاثرین کی تعداد بھی کم رپورٹ ہورہی ہے۔

    سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں روزانہ 15سو ٹیسٹ کی صلاحیت ہے لیکن گذشتہ ساڑھے تین ماہ کے دوران آٹھ سے دس دنوں کے سوا باقی دنوں میں ان کی تعداد روزانہ ہزار تک نہیں پہنچ پائی۔

    ٹیسٹ کی تعداد میں کمی کی وجہ سے مجموعی طور پر ساڑھے تین ماہ سے زائد کے دوران بلوچستان میں بمشکل 51016 ٹیسٹ کیے جا سکے ہیں، جو کہ بلوچستان کی مجموعی آبادی کے مقا بلے میں 0.40 فیصد کے لگ بھگ ہے۔

    بلوچستان کے 33 اضلاع میں سے اب تک 51 ہزار سے جو زائد ٹیسٹ ہوئے ہیں وہ زیادہ ترکوئٹہ شہر میں کیے گئے ہیں جبکہ دیگر اضلاع میں سے خضدار کے سوا کسی اورمیں ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں ہے۔

    بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ متاثرین کی تعداد میں کمی خوش آئند ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے کی عوام نے ضابطہ اخلاق پر ٹھیک عمل کیا ہے جس کے باعث متاثرین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ایک رحجان یہ سامنے آیا ہے کہ لوگوں نے کورونا کے ٹیسٹ کے لیے سیمپل دینا کم کر دیے ہے حالانکہ اوسطاً ہر روز آٹھ سو ٹیسٹ ہوتے رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ 'ماہرین کی یہ رائے ہے کہ شاید کورونا کے پھیلاؤ میں کمی ہوئی ہے جس کے باعث لوگوں کی ٹیسٹ کے لیے سیمپل دینے کی تعداد میں کمی آئی ہے یا ان میں ہرڈ امیونٹی پیدا ہو چکی ہے یا پھر لوگ اپنے طور پر صحت یاب ہونے والے رشتہ داروں یا دوستوں وغیرہ کے نسخوں کا استعمال کررہے ہیں۔

  16. چین میں کورونا وائرس کے چار نئے مریض

    چین میں کورونا وائرس کے چار نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے تین باہر کے ممالک سے آئے جبکہ دارالحکومت بیجنگ میں اس شخص میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    چین میں یومیہ آٹھ متاثرین سے یہ تعداد کم ہو کر چار تک آ گئی ہے۔ چین نے بیجنگ میں وائرس کی نئی لہر کو قابو کرنے کے لے لیے کچھ علاقوں میں مقامی طور پر لاک ڈاؤن نافذ کیا۔

    کورونا وائرس کی وبا چین سے پھوٹی اور اس سے 80 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ چار ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں۔

  17. تاج محل بند رہے گا، انڈیا میں متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ

    آگرہ اور ملک کے دیگر حصوں میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے انڈیا کا تاج محل، جسے پیر سے سیاحوں کے لیے دوبارہ کھولا جانا تھا، اب غیر معینہ مدت تک بند رہے گا۔

    آگرہ شہر میں آگرہ کا قلعہ اور اکبر کا مقبرہ بھی سیاحوں کے لیے بند رہیں گے۔ حکام نے ان مقامات کو دوبارہ کھولنے سے متعلق کوئی نئی تاریخ نہیں دی ہے۔

    انڈیا میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 24 ہزار سے زائد متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔

    اس وقت 697,000 مصدقہ متاثرین کے ساتھ انڈیا اس وقت متاثرین کی تعداد میں روس کو پیچھے چھوڑ کر اس وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آچکا ہے۔

  18. برطانیہ میں کینسر کے علاج میں تاخیر سے 35 ہزار اضافی اموات کا خدشہ

    ایک تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے کینسر کے مریضوں کی تشخیص اور علاج میں تاخیر سے برطانیہ میں ایک سال میں اس مرض سے 35 ہزار سے زائد اضافی اموات کا خدشہ ہے۔

    کورونا وائرس کی وجہ سے برطانیہ میں امکان ہے کہ معمول کے 20 لاکھ سے زائد مختلف اقسام کے کینسر کے مریضوں کی سکریننگ نہ کی جا سکے۔

    برطانیہ میں فوری نوعیت کے کینسر کے مریضوں کے علاج میں بھی تاخیر برتی گئی ہے۔

    سائنسدانوں نے آٹھ مختلف ہسپتالوں کے ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد اس کی تفصیلات خصوصی طور پر بی بی سی پینوراما کے ساتھ شییر کی ہیں۔

  19. پنجاب میں کورونا وائرس کے 646 نئے مریض، 13 ہلاکتیں

    پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کورونا وائرس کے 646 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ صوبے میں کل متاثرین کی تعداد 81,963 ہو گئی ہے۔ پنجاب میں اس وائرس سے مزید 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    مختلف شہروں میں متاثرین کی تعداد

    پنجاب حکومت کے ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق لاہورمیں 334، راولپنڈی 40 اورگوجرانوالہ میں 19 مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے۔

    اس کے علاوہ جن شہروں میں ان متاثرین کی تعدا دس سے زیادہ ہے ان میں سیالکوٹ میں 17، گجرات میں 13، ملتان میں 32، فیصل آباد میں37 اور رحیم یار خان میں 34 افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    بہاولنگر میں 25 اور ڈی جی خان میں 16 افراد اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔

    صوبائی ترجمان کے مطابق کورونا وائرس سے 13 مزید اموات ہوئی ہیں، جس سے صوبے میں اموات کی کل تعداد 1884 ہو چکی ہے۔

    پنجاب میں اب تک 540,365 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 45,122 ہو چکی ہے۔

  20. بریکنگ, ایران میں ایک دن میں کورونا وائرس سے 163 ہلاکتیں

    ایران کی حکومت نے لوگوں پر یہ لازمی کر دیا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر ماسک پہنیں۔

    حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ رضامندانہ طور پر سماجی فاصلہ اختیار کرنے سے متعلق حکومتی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

    ایران کی وزارت صحت کی طرف سے جاری کیے جانے والے نئے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 163 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔