آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: ایران میں ایک دن میں سب سے زیادہ اموات، نو صوبے ریڈ زون قرار

دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 19 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 37 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ حکومت نے 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کی مشروط اجازت دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ہارورڈ اور ایم آئی ٹی کا امریکی حکومت پر مقدمہ

    امریکہ کی دو معتبر یونیورسٹیاں امیگریشن کے قانون پر حکومت کے خلاف مقدمہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون بین الاقوامی طالب علموں کو ملک سے نکلنے پر مجبور کرے گا۔

    ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے متعارف کرائے گئے قانون کے تحت اگر غیر ملکی طالب علموں کے کالجوں میں اس خزاں کے موسم میں ’ان پرسن‘ یا بذات خود کلاسیں نہ ہوئیں تو ان کو ملک میں رہنے نہیں دیا جائے گا۔ وبا کے دوران اکثر یونیورسٹی کی تعلیم آن لائن شفٹ ہو رہی ہے۔

    ہارورڈ اور میسیچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے، جو دنیا کی سب بڑی رینکنگ کی یونیورسٹیاں ہیں، اب ایک وفاقی عدالت سے کہا ہے کہ وہ یہ حکمنامہ روک دے۔

    ہارورڈ کے پروفیسر لارنس بیکاؤ نے ہارورڈ برادری کو ایک ای میل میں بتایا کہ ’ہم اس مقدمے کو دل و جاں سے لڑیں گے تاکہ ہمارے بین الاقوامی طالب علم، اور پورے ملک میں بین الاقوامی طالب علم، ملک سے نکالے جانے کے خوف کے بغیر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔‘

  2. کورونا: پی آئی اے کا متحدہ عرب امارات کے لیے دو طرفہ آپریشن بحال

    پی ائی اے کا 9 جولائی سے متحدہ عرب امارات کے لیے دو طرفہ فضائی آپریشن بحال ہو رہا ہے۔

    اس سے پہلے پی آئی اے پہلے متحدہ عرب امارات میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے یک طرفہ پروازیں چلا رہا تھا لیکن اب مسافر پی آئی اے کے ذریعہ پاکستان سے بھی دبئی، شارجہ اور ابوظہبی کےلیے سفر کر سکیں گے۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق تمام مسافروں کو پرواز کی روانگی سے 48 گھنٹے پہلے کورونا ٹیسٹ کروانا لازمی ہوگا اور رپورٹ بورڈنگ کے وقت پیش کرنا ہو گی۔

    مسافروں کے لیے متحدہ عرب امارات پہنچنے سے پہلے ہیلتھ ڈیکلریشن فارم بھی پر کرنا لازمی ہوگا۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز ہوگیا ہے جو پی آئی اے کے دفاتر کے علاوہ ویب سائٹ اور ایجنٹس سے بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

  3. معیشت کی بحالی کے لیے برطانوی وزیرِ خزانہ کا اقتصادی پیکج

    برطانیہ کے وزیرِ خزانہ رشی سوناک نے پارلیمان میں ایک بیان میں کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے اقدامات کے ایک پیکج کا اعلان کیا۔

    انھوں نے خبردار بھی کیا کہ ’آگے مشکلات آئیں گی‘، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ ’کوئی بھی امید کے بغیر نہیں رہے گا۔‘

    ان کے اعلانات کا ایک مختصر جائزہ:

    • ایک منصوبے کے تحت فرلو قرار دیے گئے ورکرز کو اکتوبر کے بعد بھی نوکریوں پر رکھا جائے گا۔ اگر مالکان انھیں جنوری 2021 تک نوکریوں پہ رکھتے ہیں تو انھیں 1 ہزار پاؤنڈ فی ورکر بونس دیا جائے گا۔
    • نوجوانوں کے لیے مزید نوکریاں پیدا کرنے کے لیے 2 ارب ڈالر کی ’کک سٹارٹ سکیم‘ شروع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
    • پانچ لاکھ تک کی پہلی پراپرٹی پر عارضی طور پر سٹیمپ ڈیوٹی کی معافی ہو گی۔
    • ہاسپیٹیلیٹی اور سیاحت پر لگے ویٹ پر اگلے چھ مہینے تک عارضی کٹوتی کا اعلان۔
    • اگست میں ریستوران میں کھانا کھانے کے لیے جانے والے افراد کو بل میں سے 50 فیصد چھوٹ دی جائے گی۔ ’ایٹ آؤٹ ہیلپ آؤٹ‘ ڈیل کا مطلب ہے کہ اگر لوگ سوموار اور بدھ کے درمیان باہر کھانا کھائیں تو فی کس 10 پاؤنڈ کی بچت ہو گی۔
    • گھروں کے مالکان اور عوامی عمارتوں میں توانائی بچانے کے لیے 3 ارب پاؤنڈ کے پیکج کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
    • کاروباروں کے لیے رکھے جانے والے اپرنٹسز کے لیے نئی ادائیگیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
  4. کورونا وائرس: اس بیماری کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

    محققین کے مطابق دنیا میں کورونا سے متاثر ہونے والے 80 فیصد افراد میں اس کی معمولی علامات ہی دکھائی دی ہیں اور ایسے لوگ جن میں یہ علامات شدت سے پائی گئیں اقلیت میں ہیں۔

  5. برازیل: بولسونارو کی کابینہ کا کورونا ٹیسٹ

    صدر جائر بولسونارو کے اس اعلان کے بعد کہ ان کو کووڈ۔19 ہے جو وزرا ان سے رابطے میں تھے ان سب کا کورونا وائرس ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔

    بولسونارو نے، جنھیں پہلے تیز درجہ حرارت اور کھانسی کی شکایت تھی، منگل کو کہا تھا کہ وہ اب بہتر محسوس کر رہے ہیں۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں انھیں متنازعہ دوا ہائیڈروکسی کلوروکوین لیتے دکھایا گیا ہے۔ اس اینٹی ملیریئل دوا سے علاج کی تشہیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کرتے رہے ہیں۔

    بولسونارو نے رپورٹروں سے کہا کہ وہ بہت بہتر محسوس کر رہے ہیں اور پھر اپنا ماسک اتار دیا تاکہ ’وہ میرا چہرا دیکھ سکیں۔‘

  6. بریکنگ, پاکستان کے صوبہ سندھ میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے میں کووڈ 19 سے مزید 1736 افراد متاثر ہوئے ہیں جس سے صوبے میں وائرس کے متاثرین کی تعداد 99362 ہو گئی ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوراں مزید 22 مریضوں کی وائرس سے موت بھی ہوئی ہے جس سے صوبے میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 1637 ہو گئی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ابتک 1637 مریض کورونا سے ہلاک ہو چکے ہیں اور شرح اموات 1.6 فیصد ہے۔

    سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ اس وقت 41352 مریض زیر علاج ہیں، ان مریضوں میں سے 39199 گھروں پر ہیں، آئسولیشن سینٹرز میں 352 مریض اور 1801 صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 655 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے اور ان میں سے 75 کو وینٹی لیٹرز پر منتقل کردیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 1697 مریض گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوراں صحت یاب بھی ہو گئے اور معمول کی زندگی میں واپس لوٹ آئے ہیں، جس سے صوبے میں کورونا سے صحت یاب مریضوں کی تعداد 56373 ہو گئی ہے۔

  7. تاریخ میں حج کب کب منسوخ ہوا؟

    بائیس جون کی شب سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ’دنیا کے 180 سے زائد ممالک میں کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر محدود تعداد میں سلطنت میں مقیم مختلف ممالک کے شہریوں کو حج کا موقع دیا جائے گا۔

    یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ حج محفوظ اور صحت مند ماحول میں ہو لیکن حج کے منسوخ یا محدود ہونے کی تاریخ نئی نہیں ہے۔

    اس سے پہلے بھی ایسا کئی بار ہو چکا ہے اور کب کب ایسا ہوتا رہا ہے، یہ جانیے عارف شمیم کی اس تحریر میں جیسے پییش کر رہی ہیں ہدیٰ اکرام بی بی سی اردو کی اس پوڈ کاسٹ میں۔

  8. سکاٹ لینڈ: ایشیائی برادری کی کووڈ۔19 سے جڑی اموات سفید فام گروہ سے دو گنی

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 5 جولائی تک کل 4 ہزار 173 اموات کو کووڈ۔19 سے جوڑا گیا ہے۔

    نیشنل ریکارڈ آف سکاٹ لینڈ (این آر ایس) کے اعداد و شمار سے یہ سامنے آیا ہے کہ یہ گذشتہ ہفتے سے 17 اموات زیادہ ہیں۔

    29 جون سے 5 جولائی تک کسی بھی وجہ سے 40 سے کم اموات کا سال کے ان مہینوں کی اوسط سے موازنہ کیا گیا۔

    14 جون تک رجسٹرڈ اموات کے نئے تجزیے سے یہ سامنے آیا ہے کہ جنوبی ایشیائی برادری میں کووڈ۔19 سے جڑی اموات کی اوسط سفید فام نسلی گروہ سے تقریباً دو گنا تھی۔ اس میں عمر، جنس، علاقے اور شہری/دیہی آبادی کو سامنے رکھا گیا۔

    این آر ایس کے ہفتہ وار اعداد و شمار نکولا سٹروجن کے اعلان کردہ اعداد و شمار سے زیادہ ہیں کیونکہ ان میں ان تمام کیسز کو شامل کیا جاتا ہے جہاں موت کے سرٹیفیکیٹ پر کووڈ۔19 کا ذکر ہے، چاہے مریض کا ٹیسٹ بھی نہ کیا گیا ہو۔

  9. خیبر پختونخوا میں کورونا سے مرنے والے ڈاکٹروں کی تعداد 17 ہو گئی

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے ایک اور ڈاکٹر ہلاک ہو گیا ہے جس کے بعد صوبے میں وائرس سے مرنے والے ڈاکٹروں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔

    پروینشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت تاحال ڈاکٹرز کے لیے پیکیج اور رسک الاؤنس دینے کے وعدے کو عملی جامعہ پہنانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

  10. اسلام آباد: جی سیکٹر کے وہ علاقے جو آج کھول دیے جائیں گے

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جی سیکٹر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر سیل کیے گئے علاقوں کو آج کھول دیا جائے گا۔

    ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد کی جانب سے جاری نوٹیفیکشن کے مطابق بدھ کی شام سات بجے G-6/2, G-6/1, G-10/4 اور G-7/2 کے رہائشی علاقوں کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

  11. بریکنگ, امریکہ میں ریکارڈ یومیہ 60 ہزارمتاثرین

    امریکہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 60 ہزار سے زائد متاثرین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    جان ہاپکنز کے مطابق امریکہ میں اس سے قبل دو جولائی کو ایک دن میں سب سے زیادہ متاثرین کی تعداد 55220 تھی۔

    امریکی ریاست ٹیکساس اور کیلی فورنیا میں ایک دن میں دس دس ہزار سے زائد متاثرین کی تصدیق کی گئی ہے۔

    جبکہ اس سے قبل منگل کو امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ میں وبا کی صورتحال پہلے سے بہتر ہے۔

  12. انڈیا میں لاک ڈاؤن سے غریب طبقے کو بہت نقصان پہنچا، عمران خان

    وزیر اعظم عمران خان نے انڈیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا نے وبا کے باعث لاک ڈاؤن اور کرفیو لگایا جس کے باعث ملک میں دہاڑی دار مزدوروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہوا اور غربت بڑھی۔

    جبکہ پاکستان نے احساس پروگرام کے تحت لوگوں کو رجسٹرڈ کیا اور ان کی جانچ پڑتال کی اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنے کم وقت میں اتنے لوگوں میں رقوم کی فراہمی یقینی بنائی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اسی حکمت عملی نے ہمیں لاک ڈاؤن کے باعث سامنے آنے والی بدترین صورتحال سے محفوظ رکھا۔

  13. بریکنگ, مزدور طبقے کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے، عمران خان

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا آئی ایل او کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ وبا کے باعث مستقبل اب بھی غیر یقینی ہے اور اسی وجہ سے اس اجلاس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔

    دنیا کو معاشی بحران کا سامنا ہے اور ہمیں اس صورتحال میں مزدور طبقے کو بچانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان نے وبا کے پش نظر لاک ڈاؤن کیا تو ابتدائی 2 سے 3 ہفتوں میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ لوگ بھوک کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار تھے۔ تاہم پھر حکومت نے احساس پروگرام کے ذریعے لوگوں کو راشن اور امدادی رقم پہنچائی۔

  14. بریکنگ, کورونا وائرس کے باعث مزدور طبقہ زیادہ متاثر ہوا، وزیراعظم عمران خان

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا تاہم کورونا وائرس کی وبا کے دوران مزدور طبقہ زیادہ متاثر ہوا۔

    انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے تحت عالمی کانفرنس سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے کچھ ممالک میں یہ کم ہو کردوبارہ تیزی سے پھیل رہا ہے جبکہ کچھ میں یہ عروج پر ہی موجود ہے، لہٰذا ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ معاشرے کے ایک اہم طبقے مزدوروں کے حالات کو دیکھا جاسکے۔‘

    پاکستان کی جانب سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’ایک طرف ہم نے لاک ڈاؤن نافذ کیا اور یکسوئی سے اس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کی کیونکہ ہم جانتے تھے کہ اگر یہ وائرس اچانک پھیلا تو ہمارا نظام صحت جواب دے جائے گا اور ہم نے اس طرح وائرس کی رفتار کو کم کیا۔‘

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف مسئلہ یہ تھا کہ معیشت سے جڑا ایک بڑا حصہ خود سے کمانے والا تھا اور ہمارا مزدور طبقہ رجسٹرڈ نہیں تھا جبکہ جب ہم نے لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا تو اچانک ان لوگوں کی بڑی تعداد بیروزگار ہوگئی۔

  15. کولمبیا نے دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی

    کولمبیا نے ملک میں کورونا کے بڑھتے متاثرین کے باعث ملک گیر لاک ڈاؤن میںدو ہفتوں کی توسیع کر دی ہے۔

    کولمبیا میں مارچ میں لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا اور اسے 15 جولائی کو اٹھایا جانا تھا تاہم اس میں یکم اگست تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    کولمبیا کے صدر نے ٹی وی پر خطاب کے دوران کہا کہ ’ملک کے مختلف شہروں میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر اور ملک میں ہونے والی اموات کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں احتیاطی تنہائی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    کولمبیا میں اب تک 120000 سے زائد متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 4452 اموات ہوئی ہیں۔

  16. بریکنگ, فرانسیسی وزیراعظم نے دوسرے قومی سطح کے لاک ڈاؤن کو مسترد کر دیا

    فرانس کے نئے وزیر اعظم ژان کیسٹیکس نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں کورونا کی وبا کے دوبارہ زور پکڑنے سے ناتلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوگا۔

    ایک ٹی وی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’فرانس میں کورونا کی وبا کی ممکنہ دوسری لہر کے لیے ہمیں تیار رہنا ہے اور مجھے میری ذمہ داریوں کا احساس ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا کی وبا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات یہ مدنظر رکھ کر بنائے جائیں گے کہ ان کا معیشت پر اثر نہ پڑے اور فرانس کی عوام اس کے متحمل ہو سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں وبا کی دوسری لہر کے لیے تیار رہنا چاہیے لیکن ہم مارچ کی طرح کا لاک ڈاؤن ملک میں نافذ نہیں کریں گے کیونکہ سماجی اور معاشی اعتبار سے ہم ایک مکمل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘

  17. عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری پر چین کی امریکہ پر تنقید

    چین نے امریکہ کے عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ اس فیصلے کے ترقی پذیر ممالک پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ادارے کی مدد کے لیے آگے آئے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا کی وبا کو نمٹنے پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ اسے چین کے زیر اثر ہونے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے چین پر عالمی ادارہ صحت پر دباؤ ڈالنے اور عالمی ادارہ صحت کو ’دنیا کو گمراہ کرنے‘ کے الزامات عائد کیے تھے۔

    امریکی صدر ٹرمپ کے صدارتی حریف جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ اگر وہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات جیت جاتے ہیں تو فوراً امریکہ کو عالمی ادارہ صحت میں واپس شامل کریں گے۔

  18. کورونا: یورپ کی تازہ ترین صورتحال

    • سربیا میں کورونا کےباعث کرفیو کا نفاذ کرنے کے خلاف بلغراد میں پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔
    • جرمن چانسلر اینگلا مرکل کے وبا کے بعد سے پہلے غیر ملکی دورے میں وہ برسلز پہنچ رہی ہیں جہاں وہ یورپی یونین کی جانب سے اس وائرس کے بعد پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی پر مذاکرات کریں گی۔
    • یورپی یونین نے پہلے ہی اس وبا کے پیش نظر 750 بلین یوروز کے امدادی پیکج کا اعلان کر رکھا ہے تاہم نیدرلینڈز سمیت دیگر چند یورپی ممالک نے اس امدادی پیکج کی مخالفت کی ہے۔
    • فرانس کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل جیروم سالومون نے مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم وبا کی دوسری لہر کے لیے تیار رہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہر شخص حفاظتی اقدامات کا احترام کرتے ہوئے صفائی، سماجی دوری اور ماسک پہننے پر عمل کرے۔‘
    • کیٹالونیا میں فیس ماسک کے استعمال کو بدھ سے لازمی قرار دیا جانا متوقع ہے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم عوام کی جانب سے حفاظتی ضابطہ کار پر عملدرآمد میں نرمی دیکھ رہے ہیں لیکن اب ماسک کو لازمی قرار دیا جائے گا اور اس کے عملدرآمد پر کوئی نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘
    • ڈنمارک میں پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے تاحال سو افراد کے کسی جگہ اجتماع پر پابندی عائد ہے۔
  19. امریکہ کی دستبرداری ’انتہائی افسوس ناک‘ ہے: عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت کے کوویڈ -19 پر خصوصی نمائندے ڈاکٹر ڈیوڈ نابارو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اس ’انتہائی افسوس ناک‘ قرار دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا کو اس وقت صحت کے سنگین بحران کا سامنا ہے گذشتہ چھ ماہ انتہائی نقصان دہ رہے ہیں اور مجھے خطرہ ہے کہ اگلے چھ ماہ میں حالات اس سے بھی زیادہ خراب ہوں گے۔‘

    انھوں نے ٹوڈے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اب بھی ہمیں اس وائرس کے متعلق بہت کچھ جاننے کی ضرورت ہے اور اس سے نمٹنے کے حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور ایسے وقت میں عالمی ادارہ صحت کے بجٹ کے اعتبار سے سب سے اہم ملک کا دستبردار ہونے کا فیصلہ بہت افسوس ناک ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ ’بیشتر امریکی شہری اس وبا کے خلاف عالمی ردعمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور وہ اس فیصلے پر پریشان ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔‘

    ’تمام دنیا کے رہنماؤں اور اقوام کو اس وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا اس وقت میں امریکہ کی جانب سے دستبرداری نہیں چاہتی۔‘

    واضح رہے کہ امریکہ نے اقوامِ متحدہ اور کانگریس کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے دستبرداری کا نوٹس دے دیا ہے۔امریکہ کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہاں کورونا وائرس سے 29 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد متاثر جبکہ ایک لاکھ 31 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔