آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: ایران میں ایک دن میں سب سے زیادہ اموات، نو صوبے ریڈ زون قرار

دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 19 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 37 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ حکومت نے 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کی مشروط اجازت دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, دلی میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد ایک لاکھ کے قریب

    انڈیا کے دارالحکومت دلی میں کورونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس وقت شہر میں اس وائرس کے متاثرین کی تعداد 99،444 بنتی ہے۔ اب ایسا واضح دکھائی دے رہا ہے کہ متاثرین کی یہ تعداد جلد ایک لاکھ سے زیادہ ہو جائے گی۔

    تاہم ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اس وائرس کا شکار ہونے والوں کی تقریباً تین چوتھائی تعداد اس سے صحت یاب ہو چکی ہے اور اس سے مرنے والوں کی تعداد محض 3000 سے زائد بنتی ہے۔ .

    جون میں دلی میں یہ وبا اپنے زوروں پر تھی تاہم گذشتہ ہفتے سے ایسا لگتا ہے کہ اب صورتحال آہستہ آہستہ قابو میں آ چکی ہے۔

    پیر کو انڈیا متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے روس سے بھی آگے نکل گیا اور اس وائرس کے زیادہ متاثرین رکھنے والا تیسرا ملک بن گیا۔ اس وقت انڈیا میں کل متاثرین کی تعداد 719,664 بنتی ہے۔ گذشتہ کچھ دنوں سے انڈیا میں یہ وائرس بڑی تیزی سے پھیلا اور یومیہ 20 ہزار سے زائد متاثرین سامنے آنا شروع ہوئے۔

    امریکی یونیورسٹی جان ہاپکنز کے مطابق اگرچہ انڈیا متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر ہے لیکن اس وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں یہ آٹھویں نمبر پر ہے۔

  2. کورونا: آسٹریلوی ریاست وکٹوریا میں چار ہفتوں کا لاک ڈاؤن نافذ کرنے پر غور

    دا آسٹریلین اخبار کے مطابق ملک کی دوسرے بڑی گنجان آباد ریاست وکٹوریا میں ایک دن میں ریکارڈ نئے کیس سامنے آنے کے بعد چار ہفتوں کا لاک ڈاؤن نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    وکٹوریہ میں حالیہ دنوں میں کووڈ 19 کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں حکام 30 سے ​​زائد مضافاتی علاقوں میں سخت سماجی فاصلے کے احکامات نافذ کرنے اور نو پبلک ہاؤسنگ ٹاورز میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    دا آسٹریلین اخبار کے مطابق سٹیٹ پریمئیر ڈینیل اینڈریوس 191 نئے کیس سامنے آنے کے بعد اب چار ہفتوں کے لاک ڈاؤن پر غور کر رہے ہیں۔

  3. بریکنگ, کورونا: پاکستان میں متاثرین 234509، اموات کی تعداد 4839 ہو گئی

    پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 234509 جبکہ اس سے ہونے والی اموات کی تعداد 4839 ہو گئی ہے۔

    متاثرین کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ ہے جہاں اب تک 96236 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

    کورونا وائرس سے سب سے اموات پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 1899 افراد اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ملک میں اب تک 134957 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

  4. جرمنی میں کورونا متاثرین کی تعداد 196944 ہو گئی

    جرمنی میں وبائی امراض کے ادارے رابرٹ کوچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق کورونا وائرس کے 390 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں وئرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 196944 ہو گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کے روز مزید آٹھ اموات کے بعد کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد 9024 ہو گئی ہے۔

  5. کورونا کے خلاف جنگ میں صف اول پر پاکستان کی چار اہم خواتین

    پاکستان میں حالات چاہے جیسے بھی ہوں خواتین ہمیشہ سے اپنا کردار ادا کرنے میں پیش پیش رہیں ہے۔

    کورونا وائرس پھیلنے کے بعد بھی حکومتی اداروں میں کام کرنے والی خواتین صفِ اول میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں مگر یہ خواتین صرف آج سے ہی نہیں بلکہ بہت عرصے سے مختلف شعبہ جات زندگی میں اپنا لوہا منوا چکی ہے۔

    ان کی زندگی کے اتار چڑھاو کے بارے میں مزید دیکھیے ہمارے نمائندے موسیٰ یاوری کی اس ویڈیو میں۔۔۔

  6. چین میں کورونا کے آٹھ نئے کیس

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین میں 6 جولائی کو کورونا وائرس کے آٹھ نئے کیس سامنے آئے ہیں۔

    تمام نئے کیسز کا تعلق بیرون ملک سے آنے والے مسافروں سے ہے تاہم دارالحکومت بیجنگ میں کورونا کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔ نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق وائرس سے کوئی نئے ہلاکت سامنے نہیں آئی ہے۔

    واضح رہے کہ چین میں اب تک کورونا وائرس کے 83565 کیس سامنے آ چکے ہیں جبکہ وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 4634 ہے۔

  7. کیلیفورنیا: دو ہفتوں میں ہسپتال داخلوں میں 50 فیصد اضافہ

    امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے حکام نے کہا ہے کہ امریکہ کے قومی دن چار جولائی کی ہفتے کے اختتام پر آنے والی تعطیل کے دوران کورونا کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے چند ہسپتالوں کے نظام دباؤ کے شکار ہوئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ریاست کے گورنر گیوین نیوسوم نے ایک ن یوز بریفنگ کو بتایا کہ گذشتہ دو ہفتوں میں ہسپتالوں میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب یہ تعداد 5800 ہوگئی ہے۔

    ریاستی اور مقامی ریکارڈز کے مطابق ایک تہائی متاثرین لاس اینجلس میں ہیں جہاں 630 مصدقہ اور مشتبہ کورونا متاثرین کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

    طبی حکام کے مطابق جولائی میں ہسپتال داخل ہونے والے 25 فیصد افراد 18 سے 40 سال کی عمر کے تھے۔

    ان کے مطابق نئے متاثرین میں سے زیادہ تر نوجوان ہیں جو حالیہ ہفتوں میں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے کافی غیر سنجیدہ رہے ہیں۔

  8. برطانیہ: لاکھوں کورونا وائرس ٹیسٹ ریکارڈ ہی نہیں ہوئے

    برطانوی حکومت کے نئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں لاکھوں کورونا وائرس ٹیسٹ ریکارڈ ہی نہیں کیے جا رہے ہیں۔

    ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر (ڈی ایچ ایس سی) کے مطابق جب سے ٹیسٹنگ شروع ہوئی ہے ایک کروڑ 50 لاکھ کے قریب ٹیسٹ کیے گئے ہیں، لیکن ان میں سے 80 لاکھ کے قریب ہی ’پراسیس‘ کیے جا سکے ہیں۔

    20 لاکھ سے زیادہ یا پانچ میں سے ایک ٹیسٹ، یا تو لیبارٹری میں بھیجے ہی نہیں گئے یا پھر غلط قرار دیا گیا ہے۔

    وزیرِ اعظم کے ترجمان نے رپورٹرز کو بتایا کہ ’کچھ لوگ ٹیسٹ کے لیے کہیں گے اور پھر کسی بھی وجہ سے ٹیسٹ واپس نہیں بھیجیں گے۔‘

    جب ڈی ایچ ایس سی کے اعداد و شمار ان کے سامنے رکھے گئے تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس کے متعلق مصدقہ نمبر نہیں دیکھے۔

    یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب ڈاؤنننگ سٹریٹ نے لوگوں کی ٹیسٹنگ کے روزانہ کے اعداد و شمار کو شائع نہ کرنے کا دفاع کیا ہے۔ اس کے برعکس وہ اس کی حمایت کرتی ہے کہ یہ شائع کیا جائے کہ کتنے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    وزیرِ اعظم کے ترجمان نے کہا کہ ’ڈی ایچ ایس سی اب یہ شائع نہیں کرے گی کہ کتنے لوگوں کو ٹیسٹ کیا جا رہا ہے بلکہ وہ شائع کرے گی کہ روزانہ کتنے ٹیسٹ پراسیس کیے گئے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ٹیسٹنگ کا ڈیٹا صرف یہ بتاتا ہے کہ کتنے نئے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ مثلاً اگر کسی کو فروری میں ٹیسٹ کیا گیا اور پھر دوبارہ اس ماہ ٹیسٹ کیا گیا تو اسے صرف ایک ہی تصور کیا جائے گا۔

  9. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 41 مزید افراد میں کورونا کی تصدیق, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 41 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 1383 ہوگئی ہے۔

    حکام کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں ایک ڈاکٹر، ایک سٹاف نرس اور طبی عملے کے پانچ رکن بھی شامل ہیں۔

    حکام کے مطابق مزید 51 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہو کر صحتیاب ہونے والے افراد کی تعدد 741 ہوگئی ہے۔

    حکام کے مطابق اب تک اس خطے میں 17 ہزار 723 ٹیسٹ لیے جا چکے ہیں۔

  10. کورونا وائرس: بلوچستان میں 27 نئے متاثرین سامنے آ گئے

    بلوچستان میں کورونا کے 27 نئے متاثرین کے اضافے کے بعد مجموعی متاثرین کی تعداد 10 ہزار 841 ہوگئی ہے۔

    محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا سے مزید ایک مریض کی ہلاکت ہوئی ہے جس کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 124 ہوگئی ہے۔

    چھ جولائی 2020 کو کورونا کے 188 ٹیسٹ کیے گئے جبکہ بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 51 ہزار 204 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 40 ہزار 363 کے نتائج منفی آئے۔ بلوچستان میں مجموعی طوپر پر ایک لاکھ نو ہزار 464 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔

    صوبے میں اب تک کورونا وائرس سے 6131 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔

  11. ہارورڈ یونیورسٹی: فرسٹ ایئر کے طالبہ کو کیمپس میں واپس لانے کا منصوبہ

    امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی نے کہا ہے کہ وہ موسمِ خزاں میں کچھ طالب علموں کو کیمپس میں واپس آنے کی اجازت دے دے گی۔

    یونیورسٹی کا منصوبہ ہے کہ وہ اپنے کیمبرج، ماسیچوسیٹس کیمپس کے 40 فیصد، اور فرسٹ ایئر کے تمام طلبہ کو واپس بلائے۔ تاہم تمام کورسز پھر بھی آن لائن ہی ہوں گے۔

    ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں سب سے اعلیٰ یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے اور اس کی ایک سال کی فیس تقریباً 46 ہزار امریکی ڈالر ہے۔

    دوسری طرف آن لائن کورسز کی وجہ سے یہ سوال ضرور اٹھ رہا ہے کہ جب کورسز آن لائن ہی ہونے ہیں تو طلبہ کیوں اتنی زیادہ فیس ادا کریں۔

    امریکہ میں پہلے ہی کئی والدین نے یونیورسٹی کے خلاف مقدمات کر دیے ہیں، جو وبا کی وجہ سے مارچ میں بند ہو گئی تھیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کو وہ تعلیم نہیں دی جا رہی جس کے انھوں نے پیسے ادا کیے ہیں۔

  12. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکومتی ترجمان مصطفی بشیر کورونا وائرس میں مبتلا, ایم اے جرال

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے ترجمان اور وزیر برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی کورونا وائرس سے متاثر ہوگے ہیں۔ ڈاکٹر مصطفی بشیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ کئی روز سے ان کی طبعیت ناسَاز تھی اور وہ گھر کے ایک کمرے میں خود ساختہ تنہائی میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق علامات ظاہر ہونے پر آج کورونا کا ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا ہے۔

  13. کورونا وائرس: امریکہ میں اموات کی تعداد 130,000 سے تجاوز کر گئی

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کووڈ۔19 سے ہونے والی اموات کی تعداد اب 1 لاکھ 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    ان پریشان کن اعداد و شمار کا مطلب ہے کہ اب امریکہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد برازیل میں ہلاک ہونے والوں سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔

    امریکہ میں کل آبادی 32 کروڑ 80 لاکھ ہے جبکہ اس کے برعکس برازیل میں یہ تعداد 21 کروڑ ہے۔

    امریکہ میں تقریباً 29 لاکھ کے قریب کورونا وائرس کے متاثرین پائے جاتے ہیں۔

    امریکہ میں ریاست نیویارک میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں جو کہ 32 ہزار ہیں، لیکن اب جنوبی ریاستوں میں بھی تصدیق شدہ متاثرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

  14. بریکنگ, گلگت بلتستان میں مزید دو ہلاکتیں، مریضوں کی صحت یابی کی شرح 77 فیصد, محمد زبیر خان، صحافی

    محکمہ صحت گلگت بلستان کے مطابق گلگت بلستان میں 26 نئے مریضوں کے ساتھ کل کورونا متاثرین کی تعداد 1576 ہوگئی ہے۔

    پیر کے روز دو مزید ہلاکتوں کے بعد اموات کی کل تعداد 30 تک پہنچ چکی ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ 21 افراد صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 1224 ہوگئی ہے۔

    محکمہ گلگت بلستان کے مطابق کل 12466 ٹیسٹ ہوئے ہیں۔ جس میں سے اس وقت 236 کے نتائج کا انتظار ہے۔ مریضوں کے صحت یاب ہونے کی شرح تقریبا 77 فیصد ہے۔

  15. بریکنگ, صوبہ خیبر پختونخوا میں مزید 10 ہلاکتیں اور 120 نئے مریض

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پیر کے روز کورونا وائرس کے مزید دس مریضوں کی ہلاکت کے بعد صوبے میں اموات کی کل تعداد 1038 ہو گئی ہے۔

    حکام کی جانب سے جاری تحریری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 24 گھنٹوں میں سامنے آنے والے نئے متاثرین کی تعداد 120 ہے جب صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 121 ہے۔

  16. زیادہ تر کینیڈین چاہتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ سرحد بند رہے

    ایک سروے کے مطابق ہر 10 میں سے 8 سے زیادہ کینیڈین شہری چاہتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ سرحد غیر ضروری سفر کے لیے اس وقت تک بند رہنی چاہیے، جب تک ان کے ہمسایہ ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین بڑھ رہے ہیں۔

    یہ سروے اوٹوا میں قائم نینوز ریسرچ نے گلوب اینڈ میل اخبار کے لیے کیا ہے۔

    امریکہ اور کینیڈا (اور میکسیکو اور امریکہ) کے درمیان سفر21 مارچ کو روک دیا گیا تھا۔ سروے سے پتہ چلا ہے کہ 81 فیصد کینیڈینز چاہتے ہیں کہ سرحد مستقل طور پر بند رہے جبکہ 14 فیصد چاہتے ہیں کہ اسے دوبارہ کھلنا چاہیئے، لیکن وہ بھی ان مقامات پر جہاں انفیکشن کم ہے۔

    اتوار تک کینیڈا میں کورونا وائرس کے 1 لاکھ 5 ہزار متاثرین ریکارڈ کیے گئے تھے، جبکہ امریکہ میں ان کی تعداد 28 لاکھ ہے۔

  17. سینیٹر مرتضیٰ وہاب کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب

    سندھ حکومت کے ترجمان سینیٹر مرتضیٰ وہاب کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب ہو گئے ہیں۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مرتضیٰ وہاب نے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آنے کے بارے میں بتایا۔

    انھوں نے عوام کے نام پیغام میں کہا کہ وہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور ماسک کا استعمال کریں۔

  18. کورونا وائرس: لاطینی اور سیاہ فام امریکیوں میں انفیکشن کے امکانات تین گنا زیادہ

    امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کی طرف سے جاری کیے گئے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق لاطینی اور افریقی امریکیوں کو سفید فام امریکیوں کے مقابلے میں کورونا وائرس کا انفیکشن لگنے کے امکانات تین گنا زیادہ ہوتے ہیں۔

    ان اعداد و شمار کو اکٹھا کرنے کے لیے 1000 کاؤنٹیز میں سے 6 لاکھ 40 ہزار انفیکشنز ٹریک کی گئیں۔ اخبار نیو یارک ٹائمز نے یہ ڈیٹا معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت امریکی حکومت سے اکٹھا کیا۔

    سیاہ فام اور لاطینو امریکیوں میں اس وائرس سے مرنے کی شرح دو گنا زیادہ ہے۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق اس وقت امریکہ میں کووڈ۔19 کے متاثرین کی تعداد 28 لاکھ ہے۔

  19. بھیڑ سے بچنے کے لیے اجتماعی قربانی کریں: پاکستانی صدر کا پیغام

    پاکستان کے صدر عارف علوی نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں عوام کے نام پیغام میں کہا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے تدابیر سادہ ہیں۔

    انھوں نے بھیڑ سے بچنے کے لیے اجتماعی قربانی اور مویشی منڈیاں شہر سے دور بنانے پر زور دیا۔

  20. ’کورونا وائرس کی سازش‘، ویڈیو لاکھوں بار دیکھا گیا, جیک گڈمین، بی بی سی ریئلٹی چیک

    ایک ویڈیو کو جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کووڈ۔19 ایک ’سیاسی دھوکے بازی‘ ہے، جسے امریکہ کی ’ڈیپ سٹیٹ‘ نے تیار کیا ہے، 50 لاکھ لوگوں نے دیکھا ہے اور ایک لاکھ لوگوں نے اسے فیس بک پہ شیئر کیا ہے۔

    اس فلم کو ’کیو اینون‘ کے ایک مشہور فالوور نے اپ لوڈ کیا، جو ایک وسیع پیمانے پر غیر مصدقہ سازش کی تھیوری سمجھی جاتی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ ’ڈیپ سٹیٹ‘ اور عالمی اشرافیہ سے جنگ کر رہے ہیں جو کہ بدعنوانی اور بچوں کے ساتھ زیادتی میں ملوث ہے۔

    اس ویڈیو میں بہت سے غیر مصدقہ دعوے کیے گئے ہیں جس میں ڈیموکریٹس پر الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے انتخابات کے سال میں وبا پیدا کی ہے۔

    اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ میں کورونا وائرس کے متعلق غلط معلومات کس تیزی سے پھیلتی ہیں۔