ابھینو شرما کے چچا کو جب نئی دہلی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تو انھیں بہت تیز بخار کے ساتھ سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔
ان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی اور ڈاکٹرز نے ان کے خاندان والوں کو ریمڈیسیور لانے کا کہا۔ یہ ایک ایسی اینٹی وائرل دوا ہے جس کی انڈیا میں کلینکل ٹرائل کی اجازت ہے اور اسے ایمرجنسی جیسی صورتحال میں مریضوں کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے یعنی ڈاکٹرز مریض کو مخصوص حالات میں یہ دوا علاج کے طور پر دے سکتے ہیں۔
اس دوا سے اس مرض کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے لیکن اب انڈیا میں اس دوا کا حصول ایک ناممکن کام بن کر رہ گیا ہے اور ریمڈیسیور اب آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔
ابھینو شرما کا کہنا ہے کہ درجنوں فون کالز کے بعد یہ دوا سات گنا زیادہ قیمت پر ملی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تو ہر قیمت پر یہ دوا خریدنا چاہتے تھے مگر ان لوگوں کا کیا ہوتا ہو گا جن کے پاس پیسے نہیں ہیں کہ وہ بلیک مارکیٹ میں اسے خرید سکیں۔
دلی میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد ایک لاکھ تک بنتی ہے اور ایسے بہت سے خاندان ہیں جو اب اپنے پیاروں کے لیے اس دوا کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پرانی دلی کی مارکیٹ سے جا کر اس دوا کو مہنگے داموں خریدتے ہیں۔
انڈیا میں اس دوا کی سپلائی میں کمی کی وجہ سے دستیابی ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔
بی بی سی ایسے لوگوں سے رابطہ کرنے میں کامیاب رہا جو یہ کہتے ہیں کہ وہ اس دوا کا انتظام کر لیں گے مگر پیسے اپنی مرضی کے لیں گے۔
میڈیسن مارکیٹ میں کام کرنے کا دعویٰ کرنے والے ایک شخص نے کہا کہ وہ اس دوائی کی تین بوتلیں دے گا مگر ہر بوتل کی قیمت 30 ہزار روپے ہو گی اور اس کے لیے آپ کو ایک مخصوص جگہ پر آنا ہو گا۔
سرکاری طور پر ہر بوتل کی قیمت 5400 روپے ہےاور عام طور پر ایک مریض کو پانچ سے چھ بوتلیں چاہیے ہوتی ہیں۔ ایک اور شخص نے بی بی سی کو اس دوا کی قیمت 38000 بتائی ہے۔
بی بی سی کو کچھ ایسے خاندانوں سے بھی رابطہ ہوا جو اپنی زندگی کی جمع پونجی اس دوائی کے حصول کے لیے خرچ کرنے پر تیار تھے۔