آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: ایران میں ایک دن میں سب سے زیادہ اموات، نو صوبے ریڈ زون قرار

دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 19 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 37 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ حکومت نے 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کی مشروط اجازت دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ممبئی میں ہر شہری کو کورونا کا ٹیسٹ کروانے کی اجازت

    انڈیا کا شہر ممبئی کورونا متاثرین کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثرہے اور حکومت نے ممبئی کے ہر شہری کو ٹیسٹ کروانے کی اجازت دے دی ہے۔

    یہ انڈیا کا پہلا شہر ہے جہاں حکومت کی جانب سے تمام شہریوں کو ٹیسٹ کروانے کی اجازت دی گئی ہے۔

    اس سے قبل انڈیا میں صرف ان افراد کو کورونا کا ٹیسٹ کروانے کی اجازت ہے جن میں وائرس کی علامات ظاہر ہوں یا ان میں وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہو اور اس کے لیے انھیں ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے کی ضرورت تھی۔

    ممبئی میں اب تک تقریباً 86 ہزار مصدقہ متاثرین ہیں۔ حکومت کی جانب سے اب شہر کی تمام لیبارٹریوں کو کورونا ٹیسٹ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    انڈیا 740000 متاثرین کے ساتھ دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن چکا ہے۔

  2. بریکنگ, لاہور کے مزید سات علاقوں میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ضلعی انتظامیہ نے کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث مزید سات علاقوں میں لاک ڈاون کا فیصلہ کیا ہے۔

    پنجاب کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جن مزید علاقوں میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں ٹاون شب اے ٹو بلاک، ای ایم ای سوسائٹی، واپڈا ٹاون، جوہر ٹاون سی بلاک، چونگی امر سدھو مین بازار اور ملحقہ آبادی، پنجاب گورنمنٹ سکیم اور گرین سٹی شامل ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضال کے مطابق ان علاقوں میں لاک ڈاؤن بدھ کی رات 12 بجے سے کیا جائے گا۔ ڈی سی لاہور دانش افضال کا کہنا تھا کہ مذکورہ علاقوں میں ایک ہفتے کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جا رہا ہے۔

    ان کے مطابق ان تمام علاقوں میں مجموعی طور پر 877 کورونا کے متاثرین میں تصدیق ہوئی ہے۔جبکہ گذشتہ 14 دنوں میں 376 مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

  3. بریکنگ, ایران میں یومیہ ہلاکتوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

    ایران میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 200 سے زائد افراد کورونا کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں جو کہ ملک میں فروری سے وبا کے آغاز سے لے کر اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    ایران کے نائب وزیر صحت ارج ہراریچی نے ایرانی ٹی وی چینل ون سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کورونا کی وبا سے محفوظ رہنے کے لیے تین باتوں کا خیال کرتے ہوئے انھیں اپنائیں، ایک ماسک کا استعمال کریں، دوسرا بار بار ہاتھ دھوئیں اور تیسرا سماجی فاصلے کا خیال کیا جائے۔

    ایران کے محکمہ صحت کے حکام ملک میں کورونا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے شہریوں سے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں تاکہ ملک میں متاثرین اور وائرس کے باعث ہونے والی اموات میں کمی لائی جا سکے۔

    ریڈیو ایران کے مطابق ایرانی وزیر صحت سعید نماکی کا کہنا تھا کہ ’یہ سوچنا خطرنک ہو گا کہ ملک میں حالات معمول پر آ گئے ہیں اور کورونا وائرس ختم ہو چکا ہے۔‘

    ملک میں تمام نشریاتی میڈیا شہریوں کو عوامی مقامات پر ماسک استعمال کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔

  4. بریکنگ, پنجاب: مزید 30 اموات، 930 نئے مریض

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق مزید 30 مزید اموات کے بعد صوبے میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کی کل تعداد 1929 ہو چکی ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبے میں کورونا وائرس کے930 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مجموعی متاثرین کی تعداد 83,599 ہو گئی ہے۔

    حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق لاہورمیں 485، راولپنڈی میں 100، اٹک میں 52، ملتان میں 26 سرگودھا 35، بہاولپور27، ڈی جی خان 30 اورگوجرانوالہ میں 24 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ترجمان اب تک 555,306 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ صوبے میں کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد 50,916 ہو چکی ہے۔

  5. کرفیو کے فیصلے کے باعث سربیا میں پولیس اور عوام میں جھڑپیں

    کرفیو کے نفاذ کے فیصلے کے بعد سربیا میں پولیس اور عوام میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    ہزاروں مظاہرین اس وقت دارالحکومت بلغراد میں سڑکوں پر نکلے اور پولیس سے تصادم کیا جب بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی وجہ سے وہاں ایک ہفتے کے لیے کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا۔

    عوام کی جانب سے ملک کے صدر سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ مستعفی ہوں کیونکہ وہ اس بحران سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔

    جون میں الیکشن کے دوران پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی اور صدر کی جماعت کو کامیابی ملی تھی۔

    سربیا میں منگل کے روز 13 ہلاکتیں ہوئیں جو ایک روز میں سب سے زیادہ ہیں۔

  6. بریکنگ, کورونا: انگلینڈ بمقابلہ ویسٹ انڈیز، ٹیسٹ کرکٹ کا چار ماہ بعد دوبارہ آغاز

    کورونا کے باعث چار ماہ سے معطل کرکٹ کے بین الاقوامی میچوں کا آغاز آج سے انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ساؤتھ تھپمٹن میں کھیلے جانےوالے ٹیسٹ میچ سے ہو رہا ہے۔

    کورونا کےباعث بین الاقوامی کھیلوں کی سرگرمیوں کو معطل کر دیا گیا تھا۔

    کورونا کی وبا کے دوران اس سے قبل آخری بین الاقوامی ٹیسٹ میچ مارچ کے اوائل میں نیوزی لینڈ میں کھیلا گیا تھا۔

    انگلینڈ کا آخری ٹیسٹ میچ رواں برس جنوری میں جبکہ ویسٹ انڈیز نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ گذشتہ برس نومبر میں کھیلا تھا۔

    آج سے شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ تماشائیوں کے بغیر ہوگا جبکہ میچ کے امپائر بھی برطانوی ہوں گے کیونکہ وبا کے پیش نظر غیر ملکی امپائرز کو مدعو نہیں کیا گیا۔

    آج کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کی خاص بات بولروں کو گیند پر تھوک لگانے کی اجازت نہ ہونا ہے۔

    دونوں ممالک کے کھلاڑیوں کو میچ سے قبل انتہائی حفاظتی اقدامات کے تحت محفوظ حالات میں رکھا گیا ہے تاکہ انھیں کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔

    انگلینڈ کے کھلاڑی بین سٹوکس کا کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ آج میدان میں کوئی تماشائی نہیں ہو گا جو ہمارا حوصلہ بڑھائے لیکن ہم اسے کھیل کے لیے ایک عذر کے طور پر پیش نہیں کر سکتے۔‘

  7. بریکنگ, امریکہ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 30 لاکھ سے بڑھ گئی

    نیویارک ٹائمز اور این بی سی کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 30 لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔

    این بی سی کے مطابق منگل کو ملک میں 46500 سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے۔

    دنیا میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ مصدقہ متاثرین امریکہ میں موجود ہیں۔

  8. بریکنگ, میلبورن میں چھ ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ

    آسٹریلیا کے پچاس لاکھ آبادی والے شہر میلبورن میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث بدھ کی شب سے چھ ہفتوں کے لیے دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا جا رہا ہے۔

    شہریوں نے دوسرے لاک ڈاؤن کے نفاذ پر افسوس اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ چھوٹے کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ انھیں خدشہ ہے کہ کیا وہ اس لاک ڈاؤن کے باعث اپنا کاروبار بچا بھی پائیں گے۔

    آسٹریلوی وزیر اعظم کا دوبارہ لاک ڈاؤن کا نفاذ کرنے کے متعلق کہنا تھا کہ ’یہ آپ کا امتحان لے گا لیکن آپ ایک مرتبہ پہلے بھی ایسا کر چکے ہیں اور آپ اس بار بھی اس کو مکمل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔‘

    انھوں نے چھوٹے کاروباری افراد کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’قوم آپ کے ساتھ ہے اور ہم ہر روز آپ کا ساتھ دیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی ریاست وکٹوریا نے دیگر ملک سے خود ’ساختہ تنہائی اختیار‘ کر لی ہے کیونہ وہاں حال ہی میں چند افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    آسٹریلوی ریاست وکٹوریا کے سربراہ کا ڈینیئل اینڈریو نے نئی پابندیوں پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’اس کے علاوہ کوئی حل نہیں تھا۔‘

    انھوں نے ریاست میں 134 نئے متاثرین کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مجموعی طور پر 860 افراد وائرس سے متاثر ہیں۔

  9. کیا امریکہ میں اموات دس گنا کم ہوئی ہیں؟

    امریکی صر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ میں اموات دس گنا کمی ہوئی ہے۔

    کیسز میں اضافے کے باوجود بلاشبہ امریکہ میں اموات کی شرج کم ہوئی ہے۔

    امریکہ میں کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا روزانہ کی بنیاد پر ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔

    اگر اوسط تعداد دیکھی جائے تو 21 اپریل کو عروج دیکھا گیا۔ ورلڈ میٹرز کے مطابق اس وقت 2255 اموات ہوئیں اور ابھی 556 ہوئی ہیں۔ یہ 75 فیصد کمی ہے لیکن 10 گنا نہیں۔

    اگر روزانہ کے اعداد کو دیکھا جائے تو وہ دس گنا کمی کے قریب ہیں۔

    روزانہ کی اموات میں سب سے زیادہ تعداد 21 اپریل کو سامنے آئی۔ پھر چار اور پانچ جولائی کو بالترتیب 265 اور 262 اموات ہوئیں جو 90 فیصد کم ہیں۔

    لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ اعداد و شمار اس لیے کم معلوم ہو سکے ہوں کیونکہ وہاں اس وقت ہفتے کا اختتام تھا۔ منگل کو امریکہ میں مجموعی طور پر 1000 اموات ریکارڈ ہوئیں۔

  10. امریکی ریاست کیلی فورنیا اور ٹیکساس میں متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

    امریکی ریاست کیلی فورنیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 10201 نئے متاثرین میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد ریاست میں متاثرین کی کل تعداد 284000 ہو گئی ہے۔

    جبکہ امریکی ریاست ٹیکساس میں بھی منگل کو 10028 نئے متاثرین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق کیلی فورنیا میں ابتک تقریباً 6500 افراد کورونا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ٹیکساس میں ہلاکتوں کی تعداد 3000 کے قریب ہے۔

    امریکی ریاست کیلی فورنیا میں کورونا وائرس کے باعث اموات کی شرح میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران کمی آئی ہے جبکہ ٹیکساس میں اس شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہاں یومیہ 47 ہلاکتوں کی اوسط ہے۔

    امریکہ میں اب تک مجموعی طور پر 30 لاکھ سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ 31 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہے۔ امریکہ دنیا میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔

  11. کورونا وائرس: دنیا میں کہاں کووڈ 19 کا مرض پھیل رہا ہے اور کہاں کم ہو رہا ہے؟

    جون کی 28 تاریخ کو دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ گئی جس کے بعد عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ وائرس سے مقابلے کا اب ایک نیا اور خطرناک مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔

    مغربی یورپ اور ایشیا کے کئی ممالک میں وائرس کے پھیلاؤ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے لیکن دوسری جانب دنیا کے دیگر کئی علاقوں میں یہ وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔

  12. بریکنگ, پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 2980 نئے متاثرین، مزید 83 ہلاکتیں

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2980 نئے متاثرین میں کورونا وائرس کی تشخیص کی گئی ہے۔ جبکہ اس وائرس کے باعث مزید 83 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پاکستان کے کورونا سے متعلق نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھرمیں گذشتہ روز 21951 ٹیسٹ کیے گئے جن میں 2980 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    جس کے بعد ملک میں کورونا متاثرین کی کل تعداد 237489 ہو گئی ہے۔

    سات جولائی کو ملک میں ہونے والی 83 اموات میں سے 75 مریض مختلف ہسپتالوں میں انتقال کر گئے جبکہ آٹھ کا انتقال گھر میں ہوا۔ جس کے بعد پاکستان میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 4922 ہو گئی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول کے مطابق ملک میں اب تک کیے جانے والے مجموعی ٹیسٹوں کی تعداد 1,467,104ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق ملک میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 140,965 ہے جبکہ اس وقت ملک میں کورونا کے ایکٹیو کیسز کی تعداد 91,602 ہے۔

    صوبہ سندھ میں مزید 39، پنجاب میں 27، خیبر پختونخوا میں چھ اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزید تین مریض ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں دارالحکومت اسلام آباد، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے مخلتف ہسپتالوں میں 422 مریض وینٹیلیرپر ہیں۔

  13. امریکہ نے اقوامِ متحدہ، کانگریس کو عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری کا نوٹس دے دیا

    امریکہ نے اقوامِ متحدہ اور کانگریس کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے دستبرداری کا نوٹس دے دیا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہاں کورونا وائرس سے 29 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد متاثر جبکہ ایک لاکھ 31 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اس سے قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی میں اس حوالے سے اپنے ارادوں کا واضح طور پر اظہار کر چکے تھے۔

    انھوں نے کہا تھا کہ عالمی ادارہ صحت ’چین کے زیرِ اثر‘ ہے۔

    یورپی یونین اور دیگر رہنماؤں اور اداروں کی جانب سے اس فیصلے پر نظرِثانی کے مطالبوں کے باوجود انھوں نے کہا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے اس ذیلی ادارے سے اپنے ملک کو نکال لیں گے اور اس کو دیے جانے والے فنڈز دوسری جگہوں پر خرچ کریں گے۔

    اب انھوں نے کانگریس اور اقوامِ متحدہ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے تاہم اس مرحلے کی تکمیل میں ایک سال تک لگ سکتا ہے۔

    اس حوالے سے مزید تفصیلات یہاں ملاحظہ کیجیے۔

  14. عالمی ادارہ صحت: ہوا کے ذریعے وائرس کی منتقلی خارج از امکان نہیں

    عالمی ادارہ صحت نے ایسے ثبوت سامنے آنے کا اعتراف کیا ہے کہ کورونا وائرس ہوا میں تیرتے ننھے ذرات کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔

    ایک عہدیدار کے مطابق پرہجوم، بند یا گھٹن زدہ مقامات پر ہوا کے ذریعے وائرس کی منتقلی کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔

    اگر ان ثبوتوں کی تصدیق ہوجائے تو اس سے بند کمروں میں کورونا سے بچنے کے لیے دی گئی ہدایات کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

    اس سے قبل 200 سے زیادہ سائنسدانوں نے عالمی ادارہ صحت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ وائرس کی ہوا کے ذریعے منتقلی کے خطرے کو کم کر کے پیش کر رہا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے اب تک یہ کہا ہے کہ وائرس لوگوں کے کھانسنے اور چھینکنے سے نکلنے والے قطروں کے ذریعے پھیلتا ہے۔

    اس خط پر دستخط کرنے والے افراد میں سے ایک یونیورسٹی آف کولوراڈو کے ماہرِ کیمیا ہوزے جیمینیز نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ وہ ثبوتوں کو قبول کریں۔ یہ عالمی ادارہ صحت پر حملہ نہیں ہے بلکہ ایک سائسنسی بحث ہے۔ تاہم ہمیں یہ بات عوامی سطح پر اس لیے کرنی پڑی کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ ان سے کئی مرتبہ بات چیت کے بعد بھی وہ ثبوتوں کو سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔‘

    عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ یہ ثبوت ابھی ابتدائی ہیں اور ان پر مزید جائزے کی ضرورت ہے۔

    امراض کی منتقلی روکنے اور ان پر قابو پانے کے ذمہ دار شعبے کی عہدیدار بینیڈیٹا ایلیگرانزی نے کہا کہ کورونا وائرس کی ’پر ہجوم، بند، اور گھٹن زدہ مقامات پر‘ ہوا کے ذریعے منتقلی کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔

  15. ٹیکساس کی جیلیں وائرس کے نشانے پر، 84 قیدی، نو گارڈز ہلاک

    امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے ڈیپارٹمنٹ آف کریمنل جسٹس کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے کم از کم 84 قیدی اور نو جیلوں کے گارڈز ہلاک ہو چکے ہیں۔

    تازہ ترین ہلاکت 4 جولائی کو ہوئی جو 60 سالہ کوریکشنل آفیسر وی کینیتھ ہاربن کی تھی۔

    ٹیکساس کے حکام کی طرف سے جاری کیے جانے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق آٹھ ہزار 811 قیدیوں اور 1556 ملازمین کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    وبا کے آغاز کے دنوں میں امریکہ میں جیل وبا کے مراکز سمجھے جا رہے تھے۔ قیدیوں میں صلاحیت نہیں کہ وہ سماجی دوری کر سکیں اور کئی مرتبہ انھیں صحتِ عامہ کی بنیادی سہولتیں مثلاً صابن اور گرم پانی وغیرہ بھی میسر نہیں۔

    کیلیفورنیا میں سان کوینٹن جیل خطرناک وبا کا شکار اس وقت ہوئی جب یہاں کسی دوسری جیل سے ایک متاثرہ قیدی لایا گیا۔

    سوموار تک سان کوینٹن جیل کے چھ قیدی ہلاک ہو چکے تھے اور 1387 قیدیوں کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ حکام کہتے ہیں کہ وہ فوری طور پر کوشش کر رہے ہیں کہ جیلوں کی آبادی کو تین ہزار سے نیچے لایا جائے۔

  16. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 36 نئے مریض، چار مزید ہلاکتیں, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے چار مریض مختلف ہسپتالوں میں انتقال کر گئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 40 ہوگئی ہے۔

    حکام کے مطابق کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد میں سے دو کا تعلق مظفرآباد، ایک کا کوٹلی اور ایک کا بھمبر سے ہے جو ایک دن میں کورونا وائرس سے وفات پانے والوں میں اب تک سب سے بڑی تعداد ہے۔

    دوسری جانب حکام کے مطابق مزید 10 خواتین سمیت 36 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 1419 ہوگی ہے۔

    حکام کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں ایک ڈاکٹر بھی شامل ہے.

    ضلع مظفرآباد کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سعید کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں سے 5 خواتین سمیت 17 افراد کا تعلق مظفرآباد سے ہے۔

    میرپور ڈویژن کے کمشنر محمد رقیب خان کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی دو خواتین کا تعلق میرپور، ایک خاتون سمیت نو افراد کا تعلق بھمبر، دو خواتین سمیت 8 کا تعلق کوٹلی سے ہے۔

    حکام کے مطابق اس خطے میں مزید 47 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد یہاں صحتیاب مریضوں کی کُل تعداد 788 ہوگئی ہے۔

    حکام کے مطابق اب تک 18 ہزار 16 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ لیے گئے ہیں۔

  17. گلگت بلتستان میں آٹھ متاثرین کی تصدیق, محمد زبیر خان، صحافی

    محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق یہاں کورونا کے آٹھ مزید متاثرین کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ کل متاثرین کی تعداد 1595 ہوگئی ہے۔ مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 30 ہے۔

    آٹھ مزید مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 1232 ہوچکی ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان میں 333 مریض زیر علاج ہیں۔

  18. ڈبلیو ایچ او: بولسونارو کی انفیکشن سے پتہ چلتا ہے کہ ہم سب غیر محفوظ ہیں

    عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایمرجنسیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیک ریان نے برازیل کے صدر جائر بولسونارو کو نیک خواہشات کا پیغام بھیجتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انفیکشن دوسروں کے لیے ایک مثال ہونی چاہیئے۔

    انھوں نے منگل کو کہا کہ ’ہم ان کی تیز اور مکمل بحالی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ میرے خیال میں ہم سب کے لیے پیغام ہے کہ ہم سب اس وائرس سے غیر محفوظ ہیں۔‘

    ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر کیریسا ایٹین نے واشنگٹن ڈی سی میں پین امیریکن ہیلتھ آرگینائزیشن (پی اے ایچ او) کے ڈائریکٹرز کے ساتھ خطاب میں اسی بات کو دہرایا۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ وبا حیرت انگیز تناسب والی ہے اور ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ ہم اس پر قابو پانے میں اپنی ساری طاقت لگا دیں۔‘

    پی اے ایچ او ڈائریکٹر فار کمیونیکیبل ڈیزیز (قابلِ ترسیل بیماریاں) نے کہا: ’پیغام یہ ہے کہ یہ وائرس غیر متوقع ہے اور نسل، کلاس یا برسرِ اقتدار لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا، چاہے کسی صدر کے گرد کتنی ہی سکیورٹی ہو۔‘

  19. بریکنگ, بلوچستان میں کورونا کے 78 نئے متاثرین، مجموعی تعداد 10,919

    بلوچستان میں کورونا کے 78 نئے متاثرین کے اضافے کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 10919 ہوگئی ہے۔ کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 124 ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 7 جولائی 2020 کو کورونا کے 505 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 78 مثبت آئے۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر51709 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 40790 کے نتائج منفی آئے۔

    بلوچستان میں مجموعی طور پر110950 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ کورونا وائرس سے اب تک 6432 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  20. اسلام آباد میں کورونا کے متاثرین کی علاقائی تفصیل

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس کے متاثرین کی علاقائی تفصیل ضلعی انتظامیہ نے جاری کی ہے۔

    اس کے مطابق سب سے زیادہ متاثرین اب تک لوہی بھیر، آئی 8 اور جی 8 میں موجود ہیں۔