یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج مسلسل جاری ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 23 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 535 ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں پہلی مرتبہ تقریباً 10 ہزار کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں جبکہ ایک ہی دن میں 40 کے ساتھ سب سے زیادہ اموات واقع ہوئی ہیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج مسلسل جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں کل 9077 افراد کووڈ 19 سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 175 ہو گئی ہے۔
صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 3180 ہے۔ پنجاب میں 3338 متاثرین کے ساتھ لاہور سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
حکومتِ پنجاب کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر کورونا وائرس فیلڈ ہسپتال ایکسپو سینٹر میں صفائی، پانی، واش روم و دیگر مسائل حل کر دیے گئے ہیں۔
یاد رہے چند دن قبل لاہور کے ایکسپو سنٹر میں رکھے گئے 400 سے زائد کورونا کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد کی طرف سے سوشل میڈیا پر شکایات سامنے آئیں تھیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہHIGH COURT OF BALOCHISTAN
بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک سرکلر کے مطابق کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر چیف جسٹس بلوچستان کے احکامات کے مطابق تمام ڈسٹرکٹ ججز کو ہدایت کی گئی ہے کہ سول اور کریمنل نوعیت کے کیسز 6 مئی 2020 سے 19 مئی تک ملتوی کیے جائیں اور صرف ضروری نوعیت کی درخواستوں اور مقدمات کی سماعت کی جائے۔
تمام ڈسٹرکٹ اور سیشن ججز کو کہا گیا ہے کہ صرف ضروری نوعیت کی درخو استوں کی پیروی کرنے کے لیے ایسا میکنز م بنائیں جس کے تحت کم سے کم افسران اور عملہ کو روٹیشن کی بنیاد پرحاضر کیا جا سکے۔
تمام فیملی ججز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خاندانی نوعیت کے مقدمات اور میٹنگ آف مائنرز کو 19 مئی 2020 تک ملتوی کریں۔
سرکلر کے مطابق ملتوی شدہ مقدمات کی اگلی سماعت کی تاریخ وکلا اور ان کے موکلوں کو ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی درخواست گزار یا ایڈوکیٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے ایڈورس آرڈرز جاری نہ کیے جائیں۔

،تصویر کا ذریعہHigh Court of Balochistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کے مطابق صوبے میں مزید 168 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ جس کے بعد متاثرین کی کل تعداد 1663 ہوگئی ہے۔
لیاقت شاہوانی کے مطابق آج 793 ٹیسٹ رپورٹس موصول ہوئیں جن میں سے 168 مثبت اور 625 منفی نتائج سامنے آئے۔
ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد میں سے 153 کا تعلق کوئٹہ، 7 چمن، 4 پشین اور 4 کا تعلق لسبیلہ سے ہے۔
محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں کووڈ 19 کے 213 نئے کیسوں کی تصدیق ہوگئی ہے جس کے بعد متاثرین کی کل تعداد 3712 ہوگئی ہے۔
صوبے میں مزید 9 اموات کی بھی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے چھ اموات کا تعلق پشاور اور باقی تین کا تعلق مردان، صوابی اور مالاکنڈ سے ہے۔ اس طرح اب تک صوبے میں اموات کی کل تعداد 203 ہوگئی ہے۔
صوبے میں 64 نئے مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس سے کل تعداد 939 ہوگئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب کی طبی تنظیموں کے نمائندگان کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی۔
بلاول ہاؤس کراچی میں ہونے والے ویڈیو لنک اجلاس میں پی ایم اے کے صدرڈاکٹر اشرف نظامی، جنرل سیکریٹری ڈاکٹراظہراحمد چوہدری اورپروفیسرشاہد ملک شریک ہوئے۔
ویڈیو لنک اجلاس میں وائے ڈی اے کے صدر ڈاکٹر سلمان حسیب، چیئرمین ڈاکٹر خضر، ڈاکٹر ماروف، ڈاکٹر شعیب تارڑ بھی موجود تھے۔ اجلاس میں نرسوں کی نمائندگی روزینہ منظور جبکہ پیرامیڈیکل اسٹاف کی نمائندگی ارشد بٹ نے کی۔
پنجاب کی طبی تنظیموں کے نمائندگان نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو کورونا وائرس و دیگر مسائل کے حوالے سے صوبے کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور خدشات سے آگاہ کیا۔
اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ہیلتھ کا نجی نظام کورونا بحران میں کھل کر سامنے آ گیا ہے اور اب اس بحران سے سیکھ کر آئندہ کے ہیلتھ انفراسٹرکچر کو بنانا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ شعبہ صحت منافع کے حصول کے لیے نہیں بلکہ مفت علاج کے لیے ہونا چاہئیے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ابتدائی طور پر نافذ ہونے والے بہترین لاک ڈاؤن کو وفاقی حکومت نے سبوتاژ کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہلاک ہونے والے طبی عملے کے افراد کے لیے پیکج کا اعلان کرے اور ہلاک ہونے والے طبی عملے کے افراد کے اہل خانہ کو نوکریاں بھی دے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا اس وقت ڈاکٹروں کو ایسی سہولیات اور اعزازات دینے کی ضرورت ہے جو جنگ لڑنے والوں کو دیے جاتے ہیں۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت پنجاب کی صوبائی حکومت کی ہر ممکن مدد کرے اور پنجاب حکومت کے روکے ہوئے فنڈز جاری کرے اور عالمی مالیاتی اداروں کی امداد کا حصہ بھی فراہم کرے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پنجاب میں ڈاکٹروں کو دیہاڑی پر رکھا جانا افسوس ناک ہے، انھیں فوری مستقل کیا جائے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پنجاب میں سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف اٹھائے جانے والے انتقامی اقدامات کو واپس لیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ وفاقی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بحران کے موقع پر تمام صوبوں کی مدد کرے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبرپختونخوا حکومت نے لاک ڈاون میں نرمی کرتے ہوئے ریستورانوں اور ہوٹلوں کو 4 بجے کے بعد بھی ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی اجازت دیدی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGovt of KPK

،تصویر کا ذریعہPPP
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پارٹی کی کورونا ریلیف کمیٹی کا ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی ریلیف کے کاموں کا دائرہ کار اضلاع کی سطح پر پھیلانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے، حکومتوں کے ساتھ ساتھ سب نے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انھوں نے کمیٹی کے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ اضلاع کی سطح پر کورونا کے بارے میں عوامی آگاہی مہم بھی شروع کریں، اس وقت دیہی علاقے کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ آگاہی کی ضرورت ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آگاہی مہم کیلے پمفلٹس کی تقسیم اور سوشل میڈیا کا استعمال کیا جائے جبکہ لوگوں کوضروری حفاظتی سامان بھی مہیا کیا جائے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سستی روٹی پروگرام کے اچھے نتائج ملے ہیں، اس کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، رمضان کے مہینے میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینا ہمارا اخلاقی اور مذہبی فریضہ بھی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم ہر سطح پر عوام کے ساتھ ہیں اور مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے مطابق شاہ اللہ دتہ میں لیے گئے تمام مشتبہ افراد کے کے کووڈ 19 ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔
حمزہ شفقات کے مطابق علاقے میں کورونا کیسسز سامنے آنے پر 140مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے تھے اور علاقے کو سیل کر دیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج 16 دن کے لاک ڈاؤن کے بعد شاہ اللہ دتہ کو ڈی سیل کیا جا رہا ہے جس کا نوٹیفکیشن ایک گھنٹے تک جاری ہو جائے گا۔
ڈی سی اسلام آباد نے تمام لوگوں سے درخواست کی ہے کہ انتظامیہ کے دیے گئے ایس پی ایز پر عمل جاری رکھیں۔
کورونا وائرس کی وجہ سے اب دنیا بھر میں اربوں لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں۔ معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کروڑوں افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔مگر کیا یہ وبا کبھی ختم ہوگی اور اگر ہاں تو اس میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے، دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

،تصویر کا ذریعہ@CMPakhtunkhwa
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا دورہ کیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے ہسپتال میں کورونا وائرس کے مریضوں کی علاج معالجے کے لیے کیے گئے انتطامات کا جائزہ لیا۔
وزیر اعلیٰ نے ہسپتال میں کورونا ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کے لیے پی سی آر مشین کی فراہمی کا اعلان بھی کیا۔
محمود خان نے ہسپتال کے فرنٹ لائن عملے کی عارضی رہائش کے لیے مناسب جگہ کا فوری بندوبست کرنے کے لیے حکام کو ہدایت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’کورونا سمیت ہر ایمرجنسی میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا کردار قابل تعریف رہا ہے۔ صوبے کے عوام کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے میں اس ادارے کا کردار سب سے نمایاں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’لیڈی ریڈنگ سمیت تمام تدریسی ہسپتالوں کی ضروریات ترجیحی بنیادوں پر پوری کی جائیں گی، ضرورت پڑنے پر ہم ترقیاتی فنڈز بھی ہسپتالوں پر خرچ کریں گے۔‘
لیڈی ریڈنگ ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے وزیر اعلی کو ہسپتال میں کورونا انتظامات کے بارے بریفنگ دی گئی۔ ہسپتال میں کورونا مریضوں کے لیے ایک الگ کمپلکس قائم کیا گیا ہے۔ ہسپتال میں چھ آئی سی یوز، چھ ایچ ڈیبنڈنسی یونٹس اور 25 وینٹیلیٹرز صرف کورونا مریضوں کے لیے مختص ہیں۔
ہسپتال میں کورونا کے مریضوں کے لیے 80 سے زائد بستروں میں مشتمل آئسولیشن یونٹ بھی قائم ہے اور ہسپتال کا 300 سے زائد عملہ صرف کورونا مریضوں کے علاج معالجے پر مامور ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں قائم قرنطینہ مرکز سے دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے چار سو سے زائد شہریوں کو ان کے متعلقہ صوبوں کو بھیج دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت قلعہ عبد اللہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ سرحد کھلنے کے بعد یہ لوگ افغانستان سے داخل ہوئے تھے۔
اہلکار کے مطابق پاکستانی شہریوں کو داخلے کی اجازت ملنے کے بعد سے اب تک افغانستان سے 480 کے قریب پاکستانی شہری چمن کے راستے آئے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد 450 سے زائد تھی جن کے ٹیسٹ کے نتائج آنے کے بعد ان کو ان کے متعلقہ صوبوں کو بھیج دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ چمن میں قائم قرنطینہ مرکز میں اب بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 25 افراد قیام پذیر ہیں۔
چمن کے علاوہ بلوچستان میں ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان میں بھی ایک بڑا قرنطینہ مرکز قائم ہے ۔

،تصویر کا ذریعہ@InsafPK
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے منگل کے روز ویڈیو لنک کے ذریعے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں ملک بھر میں لاک ڈاﺅن میں نرمی کے حوالے سے مختلف تجاویز اور اُمور پر مشاورت کی گئی۔
وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں چاروں صوبوں سمیت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر، گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ نے بھی شرکت کی ۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے لاک ڈاﺅن میں نرمی کے حوالے سے صوبائی حکومت کی طرف سے تجاویز اور سفارشات پیش کی۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام وفاقی اکائیوں کی سفارشات اور تجاویز کی روشنی میں لاک ڈاﺅن میں نرمی کرنے کا حتمی فیصلہ نیشنل کورآرڈنیشن کمیٹی کے اگلے اجلاس میں کیا جائے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بڑھتے خدشات اور روک تھام کے لیے حکومتِ پنجاب نے ہسپتال میں آنے والے تمام افراد کے لیے ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا ہے۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیرکیپٹن (ر) محمدعثمان کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق ہسپتال میں داخلے کے وقت مریض اور لواحقین ماسک کا استعمال لازمی کریں۔
سیکرٹری پرائمری صحت کا کہنا تھا علامات والے مریض یا لواحقین جنھیں بیماری کا علم نہ ہو ان سے ہسپتال میں وائرس پھیل سکتا ہے۔ لہذا ماسک کے استعمال سے ہسپتالوں میں پھیلاؤ کو کسی حد تک کم کیا جا سکے گا۔
سیکرٹری صحت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں پہلےسے زیرِ علاج بیمار لوگ کورونا وائرس سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
انھوں نے عوام سے گزارش کی ہے مریض کے ساتھ کم سے کم افراد ہسپتال جائیں۔ اور ہستپال کے اندر ماسک سے منہ ڈھانپنے کے ساتھ سماجی فاصلہ، ہاتھوں کو دھونا سمیت تمام احتیاطی تدابیر اپنائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے اعلان کردہ سمارٹ لاک ڈاون کے حوالے سے صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بتایا ہے کہ تیار کیے گئے ایس او پیز کے مطابق پیر، منگل، بدھ اور جمعرات کے دنوں میں پہلے سے اجازت شدہ کاروبار زندگی جاری رہیں گے۔
اس کے ساتھ اب ورکشاپس کھولنے کی بھی باقاعدہ طور پر اجازت دیدی گئی ہے۔
ان 4 دنوں میں کاروبار کے اوقات کار صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک رہیں گے۔ جبکہ جمعے کو دن 2 بجے سے شام 6 بجے تک ہوں گے۔
فیض اللہ فراق کے مطابق جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے دن کپڑے، جوتے، موبائل کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ ان 3 دنوں میں باقی تمام کاروبار بند رہیں گے ماسوائے سبزی اور کریانہ کے علاوہ کسی کو اجازت نہیں دی گئی ہے۔
ریستوران اور ہوٹلز بند رہیں گے لیکن کوئی بھی ریستوران اور ہوٹل ٹیک اوے کی سہولت فراہم کرسکے گا۔
پبلک ٹرانسپورٹ بند رہے گئی ماسوائے اس ٹرانسپورٹ کے جو پاکستان کے دیگر علاقوں سے گلگت بلستان کے رہائشیوں کو لے کر آئے اور انھوں نے خصوصی این او سی حاصل کیا ہو۔
کھانے پینے کی اشیا لانے لیجانے والی ٹرانسپورٹ بھی چلتی رہے گئی۔ اور سیاحوں کے داخلے پر پابندی جاری رہے گئی۔
فیض اللہ فراق کے مطابق اس وقت گلگت بلستان میں چیری اور پھلوں کا سیزن شروع ہے۔ ان پر بھی لمبے عرصے تک پابندی عائد نہیں کی جاسکتی ہے۔ مگر اس کے لیے ایس او پیز کی تیاری کا کام حتمی مراحل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کی مرکزی انجمن تاجران نے 10 مئی سے کاروباری مراکز کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
ایک آڈیو پیغام میں انجمن کے مرکزی صدر رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ 7 مئی کو کوئٹہ شہر میں تمام یونٹوں کا اجلاس ہوگا جس میں کاروباری مراکز کھولنے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ تاجروں نے ڈیڑھ مہینے سے زائد لاک ڈاﺅن میں حکومت کے ساتھ تعاون کیا لیکن اب وہ مزید نقصان کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ انھوں نے شکایت کی کہ حکومت سے بھرپور تعاون کے باوجود تاجروں کو گرفتار بھی کیا گیا۔
دوسری جانب حکومت بلوچستان نے لاک ڈاﺅن میں 19 مئی تک توسیع کی ہے۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے حکومت کو لاک ڈاﺅن کا کوئی شوق نہیں ہے لیکن یہ قدم لوگوں کے مفاد میں اٹھایا گیا ہے کیونکہ بلوچستان میں کورونا کے مقامی منتقلی کے کیسز میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاﺅن کا انحصار لوگوں کے تعاون پر ہے اگر لوگ تعاون کریں گے تو کورونا کے پھیلاﺅ میں کمی آئے گی جس کے نتیجے میں لاک ڈاﺅن میں نرمی کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سندھ کے چیف ٹیکنیکل آفیسر ڈاکٹر سکندر میمن کے مطابق ان کے علم میں آیا ہے کہ کووڈ 19 ٹیسٹ مثبت آنے والے مریضوں کو زبردستی ہسپتالوں یا آئسولیشن کے لیے فیلڈ مراکز میں منتقل کیا جارہا ہے۔
لہذا مریضوں اور ان کے لواحقین کی تکلیف کو مدِنظر رکھتے ہوئے انھوں نے محکمہِ صحت کے کارکنان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔
ایڈوائزی کے مطابق:

،تصویر کا ذریعہGovt of Sindh
کورونا وائرس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اپنی فٹنس کی فکر ہے۔ بی بی سی نے اس حوالے سے کنگ فو کی ایک قسم ’ووشو‘ کے ماسٹر شہاب لودھی سے بات کی جو گزشتہ دس سال سے ووشو کوچنگ کر رہے ہیں۔
شہاب ہمیں بتا رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران ہم کیسے آسان ایکسرسائیز کر کے فٹ رہ سکتے ہیں.