’ہم روزانہ صرف 25 نمونے پشاور بھجوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘, محمد زبیر خان، صحافی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے مشہور سیاحتی مقام چترال کے دو اضلاع چترال بالا اور چترال زیریں کے محکمہ صحت کے ڈسڑکٹ ہیلتھ آفسیر ڈاکٹر حیدر الملک کا کہنا تھا کہ علاقے میں کورونا کی تشخیص کے لیے مقامی سطح پر ہی ٹیسٹنگ سہولت کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت چترال سے روزانہ کی بنیاد پر نمونے پشاور بھیجے جاتے ہیں۔
’ ہم روزانہ صرف 25 نمونے پشاور بھجوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔نمونے پشاور بھجوانے کے لیے بھی ہمیں محکمہ صحت کا ایک اہلکار مختص کرنا پڑتا ہے۔ نمونے پشاور پہچانے اور پھر نتائج میں جہاں پر کافی وقت لگتا ہے وہاں پر اس پر بہت زیادہ اخراجات بھی ہورہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر چترال میں ہی ٹیسٹنگ لیب کی سہولت فراہم ہو جائے تو اس سے کافی سہولت ہوگئی اور محکمہ صحت چترال اس کے لیے جگہ کی سہولت فراہم کرسکتا ہے۔
ڈاکٹر حیدر الملک کا کہنا تھا کہ چترال زیریں میں اس وقت 25 اور چترال بالا میں 5 افراد مںی کووڈ 19 کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 228 افراد کے نتائج کا انتظار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام متاثر ہونے والے افراد دوسرے شہروں سے واپس چترال آئے تھے۔
ڈاکٹر حیدر الملک کا کہنا تھا کہ چترال کے تمام داخلی راستوں پر محکمہ صحت کے اہلکار اور پولیس فرائض انجام دے رہے ہیں اور علاقے میں آنے والے ہر شخص کو قرنطنیہ میں رکھا جارہا ہے۔ اس وقت چترال آنے والوں کو سخت شرائط پورا کرنی پڑتی ہے اور یہ وہ ہی شرائط ہیں جو غیر ممالک سے آنے والے پوری کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’چترال میں ویلج کونسل کی سطح پر قرنطینہ سنٹر قائم کر دیئے ہیں۔ جہاں ان افراد کو رکھا جارہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ بھرپور اقدامات کی بدولت اس کا پھیلاؤ روک سکیں گے۔‘












