پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کورونا ٹیسٹ مثبت
پنجاب اور بلوچستان میں کورونا وائرس کے 447 نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں متاثرین کی تعداد 16 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کورونا ٹیسٹ مثبت۔
لائیو کوریج
’فوج کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں انتظامیہ کی مدد کر رہی ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی بری فوج مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ملک بھر میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوشان ہے۔
پاکستان کی افواج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق اب تک بری فوج کی جاب سے تنخواہوں کی مد میں دی گئی امداد سے ساڑھے لاکھ کے قریب راشن پیک متاثرہ علاقوں میں دہاڑی دار، مزدور، بیواؤں اور ضرورت مند افراد میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
پاکستان کی تازہ ترین صورتحال, پاکستان میں کل متاثرین: 14885 | اموات: 327 | صحتیاب: 3378
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا کے مزید 36 مریضوں کے بعد پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد 14885 ہو گئی ہے۔
اب تک اس وائرس سے ملک میں 327 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 3378 صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
آفات کی روک تھام کے صوبائی منتظم ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق منگل کو پنجاب میں کورونا وائرس سے مزید پانچ اموات کے بعد ہلاکتوں کی کل تعداد 100 ہوگئی ہے۔
صوبے میں اب تک کووڈ 19 کے 5827 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔
منگل کو دوپہر دو بجے کے بعد سے اب تک 96 نئے متاثرین سامنے چکے ہیں۔
سندھ میں انفیشکن ریٹ کم ہونے سے متعلق بیان پر شہباز گل کا اعتراض
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاق میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کے رہنما شہباز گِل نے سندھ میں کورونا وائرس کا انفیکشن ریٹ کم ہونے سے متعلق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے بیان پر اعتراض اٹھایا ہے۔
انھوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ: ’وزیراعلی سندھ سے گزارش ہے کہ کل ٹیسٹڈ لوگوں میں سے مثبت آنے والوں کی شرح کم از کم چند ہفتے کے اعداد و شمار پر جانچی جاتی ہے۔‘
’چار دن کے ڈیٹا پر کہہ دینا کہ یہ شرح 12 سے کم ہو کر سات پر آ گئی ہے، درست نہیں ہے۔ ویسے پورے ملک میں یہ پہلے ہی آٹھ تھی۔ دوسرے ملکوں میں یہ 10 ہے۔‘
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنے منگل کے بیان میں کہا تھا کہ ’سندھ میں کورونا انفیکشن ریٹ 11 اور 12 سے کم ہو کر 8.15 فیصد ہوگیا ہے جو اچھی بات ہے۔‘
انفیکشن ریٹ کی شرح کا تعین کسی علاقے میں آبادی کے لحاظ سے کیا جاتا ہے اور اس کی مدد سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک وبا کس حد تک پھیل چکی ہے۔
پاکستان میں تیار کیا گیا وینٹیلیٹر
کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار کے دوران پاکستان میں مقامی طور پر وینٹیلیٹر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
کراچی کے این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے انجینیئرز نے وینٹیلیٹر کا ایک نمونہ تیار کر لیا ہے جسے جانچ پڑتال کے ابتدائی مراحل سے گزارا جا چکا ہے اور جلد وہ کلینیکل ٹرائلز کی لیے دستیاب ہو گا۔
کیا یہ وینٹیلیٹر عالمی معیار کے مطابق ہے، جانتے ہیں نامہ نگار عمردراز اور محمد نبیل کی اس رپورٹ میں
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
’پاکستانی معیشت دوبارہ ترتیب دے کر چلانی پڑے گی‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں قومی، علاقائی اور عالمی معیشت پر کورونا وائرس کی وجہ سے ممکنہ اثرات پر اظہارِ خیال کیا گیا۔
اس ملاقات میں ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)، برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈی ایف آئی ڈی) اور اقوام متحدہ کے نمائندے بھی شامل تھے۔
اس موقع پر پاکستان کی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق تمام شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کووڈ 19 کے اثرات کی پیشگوئی کرنا فی الحال قبل از وقت ہوگا۔ لیکن اگر بحران جاری رہا تو مینوفیکچرنگ اور سروسز کے شعبے متاثر ہوں گے جبکہ سال 2020 کی برآمدات معاشی بحران کی وجہ سے شدید متاثر ہوسکتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ذراعت کے شعبے کی حالت برقرار رہنے کے امکان ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق شرکا نے پیشگوئی کی ہے کہ معاشی بحران جاری رہنے کی صورت میں مالیاتی خسارہ ملک کی مجموعی پیداوار یا جی ڈی پی کے اعتبار سے 9.6 فیصد بڑھ جائے گا۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار بند رہنے اور معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ کی وجہ سے غربت کے اعداد و شمار پر بھی مزید اثر پڑ سکتا ہے۔
بیان کے مطابق بدترین حالات میں پیداوار کی شرح جی ڈی پی کے اعتبار سے منفی 1.57 رہنے کے امکان موجود ہیں۔
ملاقات کے دوران یہ کہا گیا کہ کووڈ 19 کے بحران کی وجہ سے عالمی معیشت کافی حد تک متاثر ہوئی ہے اور تین فیصد تک گِر چکی ہے۔
یہ کہا گیا ہے کہ 2020 کے دوران مجموعی طور پر پیداوار منفی رہ سکتی ہے اور اس سے بحالی 2021 کے اواخر میں رونما ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ بحران سے نمٹنے کے لیے واضح، شفاف اور متحد منصوبہ بنانا ہوگا جسے آئینی حمایت حاصل ہوگی۔
ملاقات میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے خلاف متنبہ کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ صحت کے نظام پر پہلے سے کافی بوجھ ہے اور کورونا وائرس کی وجہ سے صحت کی دیگر سہولیات کی فراہمی متاثر ہوئی ہیں۔
اس میں تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان کو اپنی معیشت ’دوبارہ ترتیب دے کر چلانے کی ضرورت ہے‘ تاکہ خطرے کی لکیر سے اوپر رہا جاسکے۔
ملاقات میں تجویز دی گئی ہے کہ لاک ڈاؤن اور کاروبار کی بندش کے بعد دوسری امدادی سکیم کی ضرورت ہوگی تاکہ عوام کو ریلیف دیا جاسکے۔
اے ڈی پی نے شرکا کو بتایا کہ وہ بحران سے متاثرہ چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کو مقامی کرنسی میں قرضے دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ملاقات میں شرکا نے کہا کہ پاکستان نے 75 ارب روپے ضرورت مند آبادی میں تیزی اور شفاف طریقے سے تقسیم کیے ہیں جو ملک کے ماضی اور پورے خطے میں ناقابل تصور عمل ہوا کرتا تھا۔
بی بی سی کی لائیو کوریج میں خوش آمدید
پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔