پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کورونا ٹیسٹ مثبت

پنجاب اور بلوچستان میں کورونا وائرس کے 447 نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں متاثرین کی تعداد 16 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کورونا ٹیسٹ مثبت۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان: پہلا سال اقتصادی استحکام میں گزر گیا، اب قوم کو ایک وژن دیں گے

    کورونا، عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTV News

    وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ ان کی حکومت کا پہلا سال اقتصادی استحکام میں گزر گیا لیکن اب حکومت کی کوشش ہوگی کہ قوم کو ایک وژن دیں جو صرف ایک چھوٹے سے طبقے کے لیے نہیں ہوگا بلکہ سب کے لیے ہوگا۔

    عمران خان نے کہا کہ کچی بستیوں پر سب سے زیادہ زور لگانا ہے، انھیں اوپر اٹھانا ہے، تاکہ انھیں غربت سے نکالیں۔

    وزیرِ اعظم نے چین، جہاں گذشتہ کئی سالوں میں کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا گیا ہے، کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے دورہ چین میں اس حوالے سے تفصیلی بریفنگز لی تھیں کہ غربت کا خاتمہ کیسے کیا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ کام طویل مدتی منصوبوں سے ہی ہوگا، مختصر مدتی منصوبہ بندی کچھ نہیں کر سکتی۔

  2. بریکنگ, عمران خان: اشرافیہ نے غریبوں کا سوچے بغیر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا

    عمران خان، کورونا

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا نے یہ دکھایا ہے کہ جو امیر لوگ پہلے کھانسی کا علاج کروانے تک بیرونِ ملک جایا کرتے تھے، وہ اب ملک میں علاج کروانے کے لیے مجبور ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ امیروں نے فیصلہ کیا کہ ملک میں لاک ڈاؤن کر دیں، یہ سوچے بغیر کہ غریبوں کا کیا ہوگا۔

    انھوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ دیہاڑی دار مزدور کیسے گزارا کرے گا اور اشرافیہ نے بلا سوچے سمجھے پورے ملک کے لیے فیصلہ کر لیا۔

    انھوں نے کہا کہ انڈیا میں فوراً پورا ملک بند کر دیا گیا۔ انڈیا میں دو دو سو میل پیدل چل کر اپنے گھر گئے اور کسی نے سوچا نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اگر آپ غریبوں کی بستیوں کا دھیان نہیں رکھیں گے تو اگر کورونا غریبوں کی بستیوں میں پھیلے گا تو وہ امیروں کی بستیوں میں بھی جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ سنگاپور نے لاک ڈاؤن کرتے وقت غریب تارکینِ وطن طبقے کا نہیں سوچا اور جب لاک ڈاؤن کھولا گیا تو وہاں کورونا دوبارہ پھیل گیا۔

    ‘اس لیے ہم بھی جب پاکستان کے فیصلے کریں گے تو ہمیں سوچنا پڑے گا کہ ملک کا غریب طبقہ جو کچی بستیوں میں ہے، جو دیکھتا ہے کہ اس کے بچے گندے پانی سے مر رہے ہیں، ان لوگوں کو ہم کہہ رہے ہیں کہ کورونا آ جائے تو اپنے کمروں میں بند ہوجائیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. زلفی بخاری: ہر ہفتے سات ہزار لوگ واپس آئیں گے تو غصہ اور پریشانی کم ہو گی

  4. بریکنگ, عمران خان: جو ملک نیوکلیئر ہتھیار بنا سکتا ہے، وہ وینٹیلیٹر کیوں نہیں بنا سکتا

    وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جو ملک نیوکلیئر ہتھیار بنا سکتا ہے، وہ وینٹیلیٹرز کیوں نہیں بنا سکتا۔

    انھوں نے یہ بات کومس ٹیک کے اسلام آباد ہیڈکوارٹر میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔

    انھوں نے کہا کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے، 'جب پوری دنیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہوا تو ہمیں معلوم ہوا کہ ہم وینٹیلیٹر درآمد نہیں کر سکتے۔

  5. وزیر اعظم عمران خان: خود پر یقین کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں

    کورونا، عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTV News

    وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ خود پر یقین رکھنے والی قومیں بہت ترقی کرتی ہیں اور اگر ان کو خود پر اعتماد ہو وہ کچھ بھی کر سکتی ہیں۔

    اسلام آباد میں کومس ٹیک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک چھوٹا سا ملک پوری دنیا پر حاوی آ گیا کیونکہ ان کو اپنے آپ پر یقین تھا۔

    انھوں نے اسلام کی تاریخ سے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ہجرت کر کے مدینہ آئے اور مشکل سے انھوں نے پہلے پانچ سال گزارے، اور پھر 636 میں مدینہ پہنچنے کے چند سالوں بعد انھوں نے رومی اور فارسی سلطنتوں کو شکست دے ڈالی اور 50 سال کے بعد ہندوستان سے سپین تک پہنچ گئے۔

    عمران خان نے کہا کہ مدینہ کے ماڈل پر ایسی تہذیب وجود میں آئی جس نے 600 سال تک ہر چیز میں دنیا کی قیادت کی کیونکہ 'ان کے اندر سب سے بڑی چیز خود اعتمادی تھی۔'

    انھوں نے کہا کہ جب وہ 18 سال کے تھے اور ٹیسٹ کھیلنے کے لیے انگلینڈ گئے تو ٹیم کے سینیئر کھلاڑیوں کو بھی یقین نہیں ہوتا تھا کہ ہم میچ جیت جائیں گے۔ 'یہی سننے میں آتا تھا کہ اگر ہم عزت سے ہار بھی جائیں تو بڑی بات ہے۔ یہ اس لیے ہے کیونکہ ہمیں یقین ہی نہیں ہوتا تھا۔'

    انھوں نے کہا کہ یہی بات اس وقت بھی کہی گئی جب انھوں نے کینسر ہسپتال قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ طرح طرح کی رکاوٹیں اور مشکلات گنوائی گئیں لیکن اب شوکت خانم ہسپتال علاج کے ساتھ ساتھ ہر سال کینسر پر ہزاروں تحقیقی مقالے شائع کرتا ہے۔

  6. خیبر پختونخوا میں آبادی کے لحاظ سے متاثرین کی زیادہ تعداد، معاملہ کیا ہے؟

  7. اسلام آباد: سیکٹر آئی 10 ون اور فور کے علاقے سیل کرنے کے احکامات جاری

    اسلام آباد انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر آئی 10 ون اور آئی 10 فور میں کورونا وائرس کے مریضوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر مذکورہ علاقوں کو سیل کیا جا رہا ہے۔

    ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ضلعی ہیلتھ آفس کی سفارشات پر اٹھایا گیا ہے، جبکہ اسلام آباد پولیس، رینجرز اور فوج سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ غیر متعلقہ افراد کو ان علاقوں سے دور رکھیں۔

    کورونا، اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہICT Administration

  8. کراچی میں کورونا: لیاری سے لانڈھی تک وائرس کا پھیلاؤ کیسے ہوا؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے لانڈھی اور لیاری انتہائی گنجان آباد ہیں اور یہاں زیادہ تر افراد کا تعلق زیریں متوسط طبقے سے ہے جن کا پیشہ مختلف اقسام کی مزدوریاں ہیں۔ گھروں میں گنجائش کم ہونے کی وجہ سے لوگوں کا محلوں میں میل جول رہتا ہے جس کی وجہ سے سماجی دوری پر عملدرآمد بظاہر نہیں ہو رہا، اور کورونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے۔

    لانڈھی کے ایک سماجی کارکن کے مطابق بخار کے باوجود ایک مقامی شخص محمد عمران ملازمت پر جاتا رہا کیونکہ فیکٹری انتظامیہ نے کہا تھا کہ اگر کسی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تو اسے فارغ کر دیا جائے گا۔

    ان علاقوں میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال اور انتظامیہ کا ردِ عمل تفصیلاً اس مضمون میں پڑھیے۔

  9. بریکنگ, این ڈی ایم اے: سندھ کے ڈاکٹروں، طبی عملے کے لیے مزید حفاظتی سامان ارسال

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آفات سے نمٹنے کے ذمے دار قومی ادارے نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے بتایا ہے کہ آج صوبہ سندھ کے ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لیے ذاتی حفاظی سامان (پی پی ای) کی چوتھی کھیپ ارسال کر دی گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے اے پی پی نے این ڈی ایم اے کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس سامان میں دو لاکھ 90 ہزار 986 سرجیکل ماسک، 12 ہزار این 95 ماسک، 54 ہزار 692 حفاظتی جوڑے، 16 ہزار 800 دستانے، نو ہزار 777 جوتوں کے کوور، 12 ہزار 571 سرجیکل کیپس، چھ ہزار 64 فیس شیلڈ، دو ہزار 387 حفاظتی عینکیں، سینیٹائزر کی 500 ملی لیٹر کی 12 ہزار بوتلیں، اور ڈاکٹروں کے تین ہزار 969 گاؤن شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ ذاتی حفاظتی سامان کی چوتھی کھیپ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان کو پہلے ہی بھیجی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں یہ سامان باقاعدگی سے فراہم کیا جا رہا ہے۔

  10. وزیرِ اعظم عمران خان کو آج پاکستان میں تیار کردہ طبی سامان پر بریفنگ دی جائے گی

    پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان آج او آئی سی کے ذیلی ادارہ برائے سائنسی و ٹیکنالوجیکل تعاون کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کریں گے۔

    کومس ٹیک کے ہیڈکوارٹر میں وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے پاکستان انجینیئرنگ کونسل اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے تیار کی گئی انسدادِ کورونا سامان کی نمائش کی جا رہی ہے۔

    ان مصنوعات میں ہینڈ سینیٹائزر، حفاظتی سامان، وینٹیلیٹرز، ٹیسٹنگ کٹس اور ماسکس شامل ہیں۔

    اس موقع پر وزیرِ اعظم عمران خان کو حکام کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. امریکی محکمہ خارجہ: 'امریکہ پہنچنے کے لیے انگلینڈ کی پی آئی اے پروازیں استعمال کریں'

    کورونا، پی آئی اے، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے محکمہ خارجہ نے آگاہ کیا ہے کہ پاکستان سے برطانیہ کے لیے مئی کے پہلے دو ہفتوں میں محدود تعداد میں پروازیں چلائی جائیں گی، جنھیں امریکہ پہنچنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    ٹوئٹر پیغام میں محکمہ خارجہ نے کہا کہ یہ پروازیں پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے اسلام آباد اور لاہور سے لندن، اور اسلام آباد سے مانچسٹر تک چلائے گی۔

    اس حوالے سے پاکستان میں امریکہ کے سفارتی مشن نے تفصیلاً آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود وہ امریکی شہری جو امریکہ واپس لوٹنا چاہتے ہیں، وہ اپنے اپنے ٹریول ایجنٹس یا پی آئی اے سے رابطہ کریں۔

    سفارت خانے نے آگاہ کیا ہے کہ چونکہ پی آئی اے براہِ راست امریکہ تک پرواز نہیں کرتی، اس لیے ان پروازوں کے بعد امریکہ پہنچنے کے لیے دوسری پروازوں سے مدد لی جا سکتی ہے۔

    سفارتخانے نے امریکی شہریوں پر زور دیا کہ پاکستان سے نکلنے کی خواہش رکھنے والے شہری کمرشل پروازوں کی دستیابی پر مسلسل نظر رکھیں، جبکہ گذشتہ روز تک امریکہ میں پاکستان کے سفارتی مشن کی جانب سے امریکہ تک کے لیے خصوصی چارٹر پروازوں کا انتظام کرنے کا منصوبہ زیرِ غور نہیں ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. 'پولیو ورکرز دورانِ ڈیوٹی کورونا سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاط کریں'

    انسدادِ پولیو پروگرام خیبر پختونخوا کے کوآرڈینیٹر عبدالباسط نے پولیو ورکرز پر زور دیا ہے کہ وہ دورانِ ڈیوٹی خود کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کریں۔

    انھوں نے کہا کہ محکمہ صحت اور حکومت پولیو ورکرز کی کوششوں سے آگاہ ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ مرض چونکہ فوراً ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوجاتا ہے، اس کے لیے ذاتی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

    عبدالباسط نے پولیو ورکرز پر زور دیا کہ وہ سماجی دوری کے ضوابط پر عمل کرتے ہوئے پانچ فٹ کا فاصلہ برقرار رکھیں، اور ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال ضرور کریں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. پشاور میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی، گراں فروشی پر 155 گرفتار

    پشاور، لاک ڈاؤن، کورونا،

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنپشاور کے ایک بازار میں پولیس اہلکار مقررہ وقت ختم ہونے پر دکانیں بند کروا رہے ہیں

    پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے شہر بھر سے گراں فروشی اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر مزید 155 افراد کو گرفتار جن میں پابندی کے باوجود دکانیں کھولنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

    ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اشفاق خان اور اسسٹنٹ کمشنر نعمان علی شاہ کے ہمراہ پشاور کے مختلف علاقوں میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر کارروائیاں کیں جہاں انتظامی افراد نے مختلف بازاروں کا دورہ کیا اور حکومتی ضوابط پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔

    انھوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں جبکہ لاک ڈاؤن اور ضوابط کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  14. 29 اپریل کو پاکستان میں کووِڈ-19 متاثرین کی تعداد میں سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ

    پاکستان میں گذشتہ روز کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں 874 افراد کا اضافہ ہوا جو ایک ہی دن میں رپورٹ ہونے والی سب سے بڑی تعداد ہیں۔

    اس کے علاوہ پاکستان میں گذشتہ روز کووِڈ-19 سے 19 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہCovid.gov.pk

  15. پنجاب میں کورونا وائرس کے ٹیسٹوں میں کمی کی وجہ کیا ہے؟, پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا بی بی سی کے ساتھ خصوصی انٹرویو

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  16. صدر عارف علوی: 'عوام حکومتی ضوابط، احتیاطی تدابیر پر عمل کریں'

    کورونا، عارف علوی، بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان مرکز، صوبوں اور متعلقہ اداروں کی ہم آہنگ کوششوں کی مدد سے کورونا وائرس سے مؤثر طور پر لڑ رہا ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے کوئٹہ میں بلوچستان حکومت کے کورونا کے خلاف کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی جس کے بعد انھوں نے میڈیا سے گفتگو کی۔

    صدر نے کہا کہ احساس سوشل ویلفیئر پروگرام کے ذریعے غریب افراد کو مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ اس مشکل وقت سے نمٹ سکیں۔

    انھوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ حکومت کے تجویز کردہ ضوابط اور احتیاطی تدابیر کی پابندی کو یقینی بنائیں۔

  17. بریکنگ, کورونا: پنجاب میں متاثرین کی تعداد چھ ہزار سے تجاوز کر گئی، ملک میں متاثرین 16 ہزار کے قریب, پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران 19 ہلاکتیں

    کورونا

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں متاثرین کی کُل تعداد چھ ہزار 61 ہوگئی ہے جس کے بعد ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد 15 ہزار 759 ہوگئی ہے۔

    اس کے علاوہ پنجاب میں مزید تین ہلاکتوں کی اطلاع بھی دی گئی ہے جس کے بعد وہاں ہلاکتوں کی کُل تعداد 103 ہوگئی ہے۔

    اب تک پاکستان میں اس مرض سے 346 افراد ہلاک اور چار ہزار 52 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    پاکستان میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد خیبر پختونخوا میں ہے جہاں 122 افراد اس کے سبب ہلاک ہوئے ہیں۔ البتہ متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے صوبہ پنجاب سب سے زیادہ متاثر صوبہ ہے۔

    اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ اب تک ملک بھر میں ایک لاکھ 74 ہزار 160 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے آٹھ ہزار 429 ٹیسٹ گذشتہ روز 29 اپریل کو کیے گئے۔

    اس کے علاوہ مرض کی مقامی طور پر منتقلی کی شرح 84 فیصد جبکہ غیر ملکی مسافروں کے ذریعے 16 فیصد ہے۔

    ملک بھر کے 717 ہسپتالوں میں کووِڈ-19 سے نمٹنے کے لیے سہولیات موجود ہیں جن میں تین ہزار 560 مریض داخل ہیں۔

    ان مریضوں میں سے 153 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

  18. اسلام آباد: گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 51 افراد میں کورونا کی تصدیق

    اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر محمد حمزہ شفقات نے بتایا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں گذشتہ 48 گھنٹوں کے اندر 51 نئے متاثرین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سب سے بڑی تعداد سیکٹر آئی-10 سے سامنے آئی ہے۔

    ٹوئٹر پر ان کے پوسٹ کیے گئے ڈیٹا کے مطابق ان متاثرین میں سب سے بڑی تعداد خواتینِ خانہ کی ہے۔

    انھوں نے عندیہ دیا کہ انتظامیہ کو سیکٹر آئی-10 کے کچھ حصوں میں لاک ڈاؤن میں سختی کرنی پڑ سکتی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. سعودی عرب سے مزید پاکستانیوں کو واپس لانے پر غور

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہMOPHRD

    وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے بیرونِ ملک پاکستانی زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ حکومت سعودی عرب میں موجود پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے مزید پروازیں چلانے پر غور کر رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جا سکے۔

    ٹیلی کانفرنس کے ذریعے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان فی الحال ہر ہفتے دو سے تین پروازوں کے ذریعے پاکستانیوں کی وطن واپسی یقینی بنا رہا ہے تاہم آئندہ ہفتوں میں اس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اگلے مرحلے میں خصوصی پروازوں کی تعداد کو بڑھا کر پانچ کر دیا جائے۔

    اس سے قبل زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ حکومت نے پاکستانیوں کی وطن واپسی کو دو ہزار سے بڑھا کر آٹھ ہزار کر دیا ہے جبکہ اگلے مرحلے میں اسے آٹھ ہزار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں 15500 کے قریب پاکستانیوں سے درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے چھ ہزار ایسے ملازمین تھے جن کی ملازمتیں ختم ہو گئی تھیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا بیرونِ ملک ہونے والے پاکستانیوں کی لاشیں وطن واپس لانے کے حوالے سے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

  20. کورونا وائرس: اسلام آباد میں متاثرین کہاں کہاں ہیں؟

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام