پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کورونا ٹیسٹ مثبت
پنجاب اور بلوچستان میں کورونا وائرس کے 447 نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں متاثرین کی تعداد 16 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کورونا ٹیسٹ مثبت۔
لائیو کوریج
ایران میں گرفتار 24 پاکستانی قرنطینہ سینٹر منتقل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی حکام نے بغیر سفری دستاویزات کے گرفتار ہونے والے مزید 24 پاکستانی شہریوں کو تفتان بارڈر پر لیویز فورس کے حوالے کر دیا ہے-
ان تمام افراد کو ایران کے مختلف شہروں سے گرفتار کیا گیا تھا- سرحد پر حوالگی کے بعد راہداری گیٹ کے مقام پر ان کی سکریننگ کی گئی اور بعد ازاں انھیں قرنطینہ سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ٹائیگر فورس کو سوموار سے پورے ملک میں متحرک کر دیا جائے گا: عمران خان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم عمران خان نے ’ٹائیگر فورس‘ کو ملک گیر سطح پر آپریشنل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے وزیر اعظم کی جانب سے اس فورس کو آپریشنل کرنے کی منظوری معاونین خصوصی عثمان ڈار اور ثانیہ نشتر سے ہونے والی ایک ملاقات کے دوران دی گئی۔
اس ملاقات میں عثمان ڈار نے وزیراعظم کو ٹائیگر فورس کی رجسٹریشن اور ذمہ داریوں پر بریفنگ دی اور حال ہی میں سیالکوٹ میں اس فورس کے کامیاب ٹیسٹ رن اور آپریشنل تیاریوں سے بھی آگاہ کیا۔
وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس فورس کو آئندہ سوموار سے پورے ملک میں متحرک کر دیا جائے گا جبکہ اسی روز وزیر اعظم خود اس رضا کار فورس کے رضاکاروں سے خطاب بھی کریں گے۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کی ہدایات کے بعد معاون خصوصی عثمان ڈار نے چیف سیکریٹری پنجاب اور مختلف اضلاع کے کمشنروں کے ساتھ ویڈیو لنک اجلاس میں اس حوالے سے کی جانے والی تیاریوں کا جائزہ لیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ٹائیگر فورس کے رضاکار اپنے اپنے علاقوں میں کورونا وائرس کے باعث بے روزگار ہونے والے مزدوروں اور روزانہ اجرت کمانے والوں کی نشاندہی بھی کریں گے۔
ٹائیگر فورس ریلیف سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی کی ذمہ داریاں بھی انجام دے گی جبکہ اس فورس کے رضاکاروں سے مساجد، یوٹیلیٹی سٹورز، قرنطینہ مراکز سمیت اہم مقامات پر خدمات لی جائیں گی۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید چھ مریض صحت یاب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی کے مطابق ضلع راولا کوٹ میں مزید چھ مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو روانہ ہو گئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد 43 ہو گی ہے۔
صوبائی وزیر صحت کے مطابق اس وقت ضلع راولا کوٹ میں کوئی مریض زیرِ علاج نہیں ہے۔
یاد رہے ضلع راولاکوٹ میں کل 12 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے اور یہ تمام کیس وائرس کی مقامی منتقلی کے تھے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق اب تک دو ہزار سے زائد افراد کو مختلف قرنطینہ مراکز لایا گیا ہے جس میں سے 200 افراد کے ٹیسٹ کے نتائج موصول ہونا باقی ہیں جبکہ مختلف آئسولیشن وارڈز میں اب 23 مریض زیر علاج ہیں۔
بلوچستان: لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر گذشتہ ایک ماہ میں 2800 دکانیں سیل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پابندی کے باوجود غیر ضروری اشیا کی دکانیں کھولنے پر 75 افراد کو گرفتار کر کے دکانوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔
کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ اب تک لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر گذشتہ ایک ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 2800 دکانیں سیل کی جا چکی ہیں۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ خطرات سے آگاہ ہونے کے باوجود چند شہری کورونا وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔
انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر لوگ سماجی فاصلے اور دیگر احتیاطی تدابیر کا خیال نہیں رکھیں گے تو صوبائی حکومت ڈاکٹرز کے مطالبے کے عین مطابق صوبہ بھر میں مکمل لاک ڈاﺅن نافذ کرنے کی طرف جائیں گے۔
اسلام آباد: 33 مصدقہ متاثرین سامنے آنے کے بعد سیکٹر آئی 10 کے متعدد علاقے سیل
،تصویر کا ذریعہICT ADMIN
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے سیکٹر آئی 10 میں کورونا کے 33 نئے مصدقہ متاثرین سامنے آنے کے بعد سیکٹر I-10/1 اور سیکٹر I-10/4 کے چند علاقوں کو سیل کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کیا جانے والا مکمل لاک ڈاؤن آئندہ ایک ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ 15 روز سے متاثرہ علاقے میں مناسب سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور دیگر حفاظتی تدابیر کے حوالے سے خلاف ورزی کی بہت زیادہ شکایات موصول ہو رہی تھیں۔
،تصویر کا ذریعہICT ADMIN
حمزہ شفقات کے مطابق اب تک متاثرہ گلیوں میں 100 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 37 افراد کے نتائج منفی بھی آئے ہیں، تاہم اب بھی یہاں 40 سے زائد مشتبہ مریض موجود ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس علاقے میں گھر گھر جا کر ٹیسٹنگ کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اندرون ملک فضائی آپریشن کی معطلی میں سات مئی تک توسیع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت پاکستان کے فیصلے کے مطابق اندورن ملک پروازوں کی معطلی میں سات مئی تک توسیع کر دی گئی ہے۔
سول ایوی ایشن ڈویژن سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق اس حوالے سے جاری کیے گئے گذشتہ احکامات میں علاقائی پروازوں کی معطلی کے بقیہ دفعات میں کوئی رد و بدل نہیں کیا گیا ہے۔
پاکستان اتنا متاثر نہیں ہوا جتنا اندازہ لگایا گیا تھا: عمران خان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ اپریل کے اختتام تک ہمارے ہسپتال بھرے ہوں گے اور تیزی سے اموات ہوں گی مگر خدا کا شکر ہے کہ فی الحال صورتحال یہ نہیں ہے اور پاکستان کے حالات دنیا کے دیگر ممالک سے بہتر ہیں۔
کورونا کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میری کل ایران کے صدر حسن روحانی سے بات ہوئی ہے۔ ایران میں ساڑھے پانچ ہزار لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ ایران نے اب فیصلہ کیا ہے کہ وہاں صرف بڑے اجتماعات اور تعلیمی ادارے بند رکھے جائیں گے اور تمام کاروبار کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔‘
پاکستانی حکومت کی طرح ایرانی حکومت کو بھی یہ خوف ہے کہ قوم کو کورونا سے بچاتے بچاتے مزدوروں اور غریب لوگوں کو پہنچنے والا معاشی نقصان کورونا سے بھی زیادہ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ میری مصر کے صدر سے بھی بات ہوئی ہے وہاں بھی بڑے اجتماعات اور تعلیمی اداروں کو بند رکھا گیا ہے اور بڑے پراجیکٹ اور روزگار کھول دیا گیا ہے۔ مصر کے معاشی حالات بھی پاکستان جیسے ہیں اور وہاں کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتیں بھی لگ بھگ پاکستان جتنی ہیں۔
’ہمارا لاک ڈاؤن مصر سے سخت تھا اور اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ مصر کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے۔‘
’یہ صورتحال چھ ماہ چلے گی یا ایک سال کسی کو نہیں پتا۔ ہمیں احساس تھا کہ لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ متاثر غریب اور دیہاڑی دار طبقہ ہو گا۔‘
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں کی نسبت صوبہ سندھ کو احساس پروگرام کے تحت سب سے زیادہ پیسے دیے گئے ہیں۔ ’اب تک مجموعی طور پر 66 لاکھ خاندانوں تک 81 ارب روپے پہنچائے جا چکے ہیں۔‘
عمران خان کا کہنا ہے کہ ’ ہم چاہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم ریلیف فنڈ کے ذریعے اکھٹا ہونے والے فنڈز کو صرف ان افراد کو دیا جائے جو کورونا کی وجہ سے بے روزگار ہوئے ہیں۔
’اس فنڈ میں دیے جانے والے ہر ایک روپے کے عوامی عطیے کے بدلے حکومت چار روپے دے گی۔
ٹائیگر فورس جا کر ہر ہر یونین کونسل میں جا کر دیکھیں کہ کون لوگ ہیں جو لاک ڈاؤن سے متاثر ہوئے ہیں۔‘
وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہفتے کے روز میں کورونا سے بے روزگار ہونے والے لوگوں کے لیے نئے پروگرام کا اعلان کروں گا جس کی رجسٹریشن رواں ہفتے سے شروع ہو جائے گی۔ پوری قوم اس مشکل وقت کو جھیل کر باہر نکلے گی۔ ہمیں آہستہ آہستہ پورے ملک کو کھولنا ہے مگر اس کی کامیابی صرف اس وقت ہو گی جبکہ قوم یہ ذمہ داری لے کہ ہم ڈسپلن میں رہیں گے۔‘
’ایک ذمہ دار اور آزاد قوم خود ذمہ داری لیتی ہے۔ حکومت یقین دلاتی ہے کہ ہم سارا وقت یہ سوچتے رہتے ہیں کہ آگے کیسے جانا ہے۔ ہم وہ ملک ہوں گے جو لاک ڈاؤن سے بہتر انداز میں نکلے گا۔‘
لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب طبقہ بہت مشکل میں آ چکا ہے، ہمیں ان کا پتا ہے اور حکومت ان ہی کے حوالے سے سوچ رہی ہے۔
خیبرپختونخوا: صوبے بھر میں عام تعطیلات میں 15 مئی تک توسیع, لاک ڈاؤن پابندیاں تاحکم ثانی جاری رہیں گی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ نے صوبے میں لاک ڈاؤن میں توسیع کی منظوری دیتے ہوئے عوامی سطح پر دی جانے والی چھٹیوں میں 15 مئی تک توسیع کر دی ہے۔
صوبائی کابینہ کی میٹنگ کے بعد مشیر اطلاعات اجمل خان وزیر نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا ہے کہ تمام ہوٹل، ریسٹورنٹس اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس تاحکم ثانی بند رہیں گے جبکہ جیلوں میں قیدیوں سے ملاقات پر بھی پابندی عائد رہے گی جبکہ سیاحتی مقامات بھی بند رہیں گے۔
صوبائی کابینہ نے کورونا سے ہلاک ہونے والے ہر فرنٹ لائن ورکرز کے لیے 70 لاکھ روپے پیکج کی منظوری دے دی ہے۔
مشیر اطلاعات کے مطابق بین الاضلاعی اور ضلع کے اندر ٹریفک کی نقل و حرکت پر بھی تاحکم ثانی پابندی رہے گی۔
اجمل وزیر کے مطابق صوبے میں مویشی منڈیاں کھولنے پر اصولی اتفاق ہوا ہے تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد سے قبل قواعد و ضوابط بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔
صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا وبائی امراض کنٹرول اینڈ ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس کے نفاذ کی منظوری بھی دے دی ہے جس کے تحت متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھنے، وبا کی صورت میں اجتماعات پر پابندی، سکریننگ کے فرائض سرانجام دینے، خیبر پختونخوا کے اندر یا باہر سفر پر پابندی کے اختیارات، بیماری کی صورت میں خاندان کے سربراہ، ہیلتھ ورکر، تعلیمی ادارے کے سربراہ، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورینٹس، ہوٹلز کے انچارج کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے زیر کفالت افراد کے متاثر ہونے کی صورت میں اطلاع دینے کے پابند ہونے جیسے امور کو اس آرڈیننس کے ذریعے قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
آرڈیننس کی خلاف ورزی کی صورت میں کچھ سزائیں اور جرمانے بھی تجویز کیے گئے ہیں جبکہ وبا کی صورت میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کو بھی قانونی تحفظ دیا گیا ہے۔
کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ چھ ہزار سے زائد فیس وصول کرنے والے تعلیمی ادارے فیسوں میں 20 فیصد رعایت دیں گے جبکہ چھ ہزارسے کم فیسیں وصول کرنے والے ادارے 10 فیصد رعایت دیں گے۔
کوئی مالک اپنے کرایہ دار کو کرایہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں تین ماہ تک کے لیے بیدخل نہیں کر سکے گا اور ایمرجنسی جاری رہنے کی صورت میں اس میں توسیع بھی ہو سکتی ہے۔
کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی شرح خدشات سے کم: عمران خان
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
لیڈی ریڈنگ ہسپتال: کورونا سے متاثرہ طبی عملے کے اراکین کی تعداد 24 ہو گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں کورونا سے متاثرہ طبی عملے کے اراکین کی تعداد 24 ہو گئی ہے۔
ہسپتال کے ایک ترجمان کے مطابق متاثر ہونے والوں میں 14 ڈاکٹر,چھ نرسیں, ایک پیرا میڈیکل سٹاف, ایک وارڈ کلرک اور دو کلاس فور عملے کے ممبران شامل ہیں۔
ہسپتال انتظامیہ نے تمام سٹاف کی سکریننگ کا فیصلہ کیا ہے۔
ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ مشکل وقت سے گزر رہی ہے اور کورونا کے مریضوں کو بچانے کے ساتھ ساتھ ہسپتال عملے کی حفاظت بھی ترجیح ہے۔
انھوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کے قواعد و ضوابط کے مطابق پورے گائنی وارڈ کو سپرے کے ذریعے جراثیموں سے پاک کیا گیا ہے۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں اس وقت کورونا کے کُل 45 مشتبہ مریض داخل ہیں جن میں سے 25 افراد کورونا کے مصدقہ متاثرین ہیں۔
آئی ایم ایف کی جانب سے افغانستان، پاکستان کے لیے کتنی امداد منظور کی گئی ہے؟
،تصویر کا ذریعہIMF
،تصویر کا کیپشنآئی ایم ایف کے تحت رنگین نقشوں والے ممالک کو کورونا وائرس کے اقتصادی اثرات سے نمٹنے کے لیے امداد دی جا رہی ہے
بین الاقوامی
مالیاتی فنڈ نے کووِڈ-19 کے اقتصادی اثرات سے نمٹنے کے لیے مالی امداد اور قرض میں
نرمی جیسی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ
جنوبی ایشیائی خطے میں صرف افغانستان اور پاکستان وہ ممالک ہیں جنھیں آئی ایم ایف
کی جانب سے امداد دی جا رہی ہے۔
یہ امداد تقریباً
13 ارب 89 کروڑ امریکی ڈالر سے زائد ہے جس میں سے افغانستان کو 22 کروڑ امریکی
ڈالر اور پاکستان کو ایک ارب 38 کروڑ 60 لاکھ ڈالر دیے جائیں گے۔
افغانستان کو یہ
امداد ریپڈ کریڈٹ فیسیلیٹی (آر سی ایف) جبکہ پاکستان کو یہ امداد ریپڈ فنانسنگ
انسٹرومنٹ (آر ایف آئی) کے طور پر دی جائے گی۔
ریپڈ کریڈٹ
فیسیلیٹی آئی ایم ایف کی وہ سہولت ہے جس کے تحت کم آمدنی والے ممالک کو رعایتی
شرائط پر فوراً مالی امداد دی جاتی ہے جبکہ ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ تمام ممالک کے
لیے ہے جنھیں ادائیگیوں کے توازن میں مدد کی ضرورت ہو۔
'مجھ سے یہ فرمائش کی گئی کہ کورونا وارڈ کے اندر سے لائیو کر دیں'
بلوچستان میں کورونا کے 51 نئے متاثرین، مجموعی تعداد 1031 ہوگئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان میں کورونا وائرس کے 51 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد یہاں متاثرین کی کُل تعداد 1031 ہوگئی ہے۔
کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ جمعرات کو 275 ٹیسٹس کے نتائج آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان میں 51 مثبت آئے جن میں سے 2 کا تعلق تفتان سے ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب تک بلوچستان میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 1031 ہوگئی ہے۔
بریکنگ, پنجاب میں 396 نئے متاثرین، تین مزید ہلاکتیں, کُل متاثرین: 6220، ہلاکتیں: 106، صحتیاب: 1850
پنجاب میں کورونا وائرس
کے 396 سامنے آ گئے جس کے بعد یہاں متاثرین کی کُل تعداد 6220 ہوگئی ہے۔
محکمہ صحت کے اعلامیے کے
مطابق اب تک 768 زائرین، 1926 تبلیغی ارکان، 86 قیدیوں، اور 3441 عام شہریوں میں
وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
محکمے نے بتایا ہے کہ صوبے میں اب تک کورونا
وائرس سے 106 افراد ہلاک اور 1850 صحتیاب ہوئے ہیں، جبکہ 27 مریض تشویشناک حالت
میں ہیں۔
،تصویر کا ذریعہHealth Department Punjab
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر: جامعہ کشمیر میں آن لائن کلاسز کے لیے تیاری شروع
،تصویر کا ذریعہMA Jarral
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قائم یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر نے کورونا وائرس کی وبا کے باعث طلبا و طلبات کے تعلیمی سال اور وقت کو بچانے کے لیے آن لائن کلاسز کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جامعہ کشمیر کے ترجمان طاہر عظیم راٹھور نے صحافی ایم اے جرال کو بتایا کہ آن لائن کلاسز کے حوالے سے اساتذہ کی ٹریننگ جاری ہے اور جلد ہی ایل ایم ایس اور مائیکرو سافٹ ٹیمز کے ذریعے آن لائن کلاسز شروع ہو جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ جو امتحانات کورونا کے وجہ سے منعقد نہیں ہو سکے تھے انھیں حالات بہتر ہونے تک جون کے آغاز تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ آن لائن کے پڑھائے جانے والے نئے سمسٹر کا دورانیہ کم کر کے مارچ 2021 تک تعلیمی سرگرمیوں کا کلینڈر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
تاہم جمعرات کو وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹروں کی تنخواہوں سے کٹوتی نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
وزیراعلی کے دفتر سے جاری ہونے والی ایک بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ طبی عملے سمیت فرنٹ لائن ورکرز کو یکم اپریل سے (جب تک ڈیوٹی جاری رہے گی) ڈبل تنخواہ ملتی رہے گی اور فرنٹ لائن ورکرز کی ہلاکت کی صورت میں ان کے خاندان کو 40 لاکھ سے 80 لاکھ تک کا لائف انشورنس بھی ملے گا۔
بریکنگ, مراد علی شاہ: 'سندھ میں ایک دن میں 12 ہلاکتیں، 358 نئے متاثرین', یہ سندھ میں اب تک ہلاکتوں کی سب سے بڑی یومیہ تعداد ہے
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بتایا ہے
کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے باعث 12 اموات ہوئی ہیں، جو کورونا کی ہنگامی صورتحال شروع ہونے سے لے کر
اب تک سب سے بڑی یومیہ تعداد ہے۔
چنانچہ سندھ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 112 ہوگئی
ہے۔
انھوں نے بتایا کہ آج کورونا وائرس کے 358 نئے متاثرین
سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی کُل تعداد چھ ہزار 53 ہوگئی ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کورونا کے مزید 53
مریض صحتیاب ہوئے ہیں مگر صحتیاب ہونے والے مریضوں کے برعکس 358 نئے کیسز آنا پریشان
کن ہے۔
،تصویر کا کیپشنآج دوپہر 2 بجے تک پاکستان بھر سے کورونا وائرس کے متاثرین کے مجموعی اعداد و شمار
کتنے ٹیسٹ کیے گئے ہیں؟
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 2578 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جبکہ اب تک 54 ہزار 377 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
مراد علی شاہ نے مزید بتایا کہ اب تک مجموعی طور پر صوبے میں کورونا وائرس کے 1222 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جو کُل تعداد کا 20.2 فیصد ہیں۔
سندھ میں مریضوں کی صورتحال
مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ میں کورونا کے 4721 مریض زیرِ علاج ہیں جبکہ 3473 مریض گھروں میں تنہائی میں موجود ہیں۔
اس کے علاوہ انھوں نے بتایا کہ 741 مریض آئسولیشن مراکز اور 505 افراد مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
ان کے مطابق 50 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور 17 مریض وینٹیلیٹر پر ہیں۔
یونیسیف: کورونا سے واضح ہوگیا کہ ویکسین کی عدم موجودگی کتنی خطرناک ہوسکتی ہے
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف نے
کہا ہے کہ عالمی وبا کووِڈ-19 سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ کسی بیماری کی ویکسین موجود
نہ ہو تو وہ کتنی نقصاندہ ہو سکتی ہے۔
اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں ادارے نے کہا کہ
کورونا وائرس کی ویکسین ابھی دستیاب نہیں ہے لیکن خسرہ اور پولیو جیسے مرض کی
ویکسین دستیاب ہے۔
یاد رہے کہ پولیو کی ویکسین 1950 کی دہائی میں
جوناس سالک نے تیار کی تھی۔ دنیا بھر میں لاکھوں افرادکو متاثر
کرنے والا یہ مرض اب صرف پاکستان اور افغانستان میں ہی باقی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
1988 سے لے کر اب تک پولیو کے متاثرین میں اب تک زبردست کمی ہوئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 1988 میں اندازاً ساڑھے تین لاکھ افراد اس سے متاثر ہوئے تھے جبکہ 2018 تک یہ تعداد صرف 33 رہ گئی تھی۔
ویکسین کیا ہوتی ہے، دنیا کی سب سے پہلی ویکسین کب اور کیسے تیار کی گئی، اس بارے میں ہماری یہ ڈیجیٹل ویڈیو دیکھیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
فواد چوہدری: چین میں حفاظتی سامان کی قلت کی وجہ سے خود انحصاری کی جانب گئے
،تصویر کا ذریعہPTV News
وزیرِ
سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ہم نے سب سے پہلے ہینڈ سینیٹائزرز،
سپرے اور واک تھرو گیٹس پر کام شروع کیا۔ پھر ساتھ ہی چونکہ صرف چین ہی پی پی ای
بنا رہا تھا، ان ساری چیزوں کی قلت ہوگئی۔
وہ جمعرات کو کومس ٹیک میں خطاب کر رہے تھے۔
انھوں
نے کہا کہ حفاظتی سامان کی قلت پر صرف پاکستان میں ہی ڈاکٹرز احتجاج نہیں کر رہے تھے بلکہ پوری دنیا میں
ڈاکٹروں نے احتجاج کیا۔
انھوں
نے کہا کہ اس کے بعد پوری دنیا کو خود انحصاری کی ضرورت محسوس ہوئی اور ہم نے بھی
ان خطوط پر سوچنا شروع کیا۔
فواد
چوہدری نے ایچ آئی وی سے کورونا کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ایچ آئی وی کی ٹیسٹنگ
کٹ بنانے میں تقریباً چار سال کا عرصہ لگا تھا لیکن کورونا کی ٹیسٹنگ کٹ صرف چند
ہفتوں میں ہی تیار کر لی گئی۔
‘اس پر ہم نے بھی یہاں کام شروع کیا اور نسٹ نے
سب سے پہلے اس کام کو شروع کیا اور ہم نے یہاں اپنی ٹیسٹنگ کٹ بنانے کی کوشش شروع
کی۔’
انھوں
نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستانی یونیورسٹیوں کی ٹیمیں دنیا کے بڑے سائنسی
گروہوں کے ساتھ کورونا وائرس پر تحقیق میں تعاون کر رہی ہیں۔