وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں قومی، علاقائی اور عالمی معیشت پر کورونا وائرس کی وجہ سے ممکنہ اثرات پر اظہارِ خیال کیا گیا۔
اس ملاقات میں ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)، برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈی ایف آئی ڈی) اور اقوام متحدہ کے نمائندے بھی شامل تھے۔
اس موقع پر پاکستان کی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق تمام شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کووڈ 19 کے اثرات کی پیشگوئی کرنا فی الحال قبل از وقت ہوگا۔ لیکن اگر بحران جاری رہا تو مینوفیکچرنگ اور سروسز کے شعبے متاثر ہوں گے جبکہ سال 2020 کی برآمدات معاشی بحران کی وجہ سے شدید متاثر ہوسکتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ذراعت کے شعبے کی حالت برقرار رہنے کے امکان ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق شرکا نے پیشگوئی کی ہے کہ معاشی بحران جاری رہنے کی صورت میں مالیاتی خسارہ ملک کی مجموعی پیداوار یا جی ڈی پی کے اعتبار سے 9.6 فیصد بڑھ جائے گا۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار بند رہنے اور معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ کی وجہ سے غربت کے اعداد و شمار پر بھی مزید اثر پڑ سکتا ہے۔
بیان کے مطابق بدترین حالات میں پیداوار کی شرح جی ڈی پی کے اعتبار سے منفی 1.57 رہنے کے امکان موجود ہیں۔
ملاقات کے دوران یہ کہا گیا کہ کووڈ 19 کے بحران کی وجہ سے عالمی معیشت کافی حد تک متاثر ہوئی ہے اور تین فیصد تک گِر چکی ہے۔
یہ کہا گیا ہے کہ 2020 کے دوران مجموعی طور پر پیداوار منفی رہ سکتی ہے اور اس سے بحالی 2021 کے اواخر میں رونما ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ بحران سے نمٹنے کے لیے واضح، شفاف اور متحد منصوبہ بنانا ہوگا جسے آئینی حمایت حاصل ہوگی۔
ملاقات میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے خلاف متنبہ کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ صحت کے نظام پر پہلے سے کافی بوجھ ہے اور کورونا وائرس کی وجہ سے صحت کی دیگر سہولیات کی فراہمی متاثر ہوئی ہیں۔
اس میں تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان کو اپنی معیشت ’دوبارہ ترتیب دے کر چلانے کی ضرورت ہے‘ تاکہ خطرے کی لکیر سے اوپر رہا جاسکے۔
ملاقات میں تجویز دی گئی ہے کہ لاک ڈاؤن اور کاروبار کی بندش کے بعد دوسری امدادی سکیم کی ضرورت ہوگی تاکہ عوام کو ریلیف دیا جاسکے۔
اے ڈی پی نے شرکا کو بتایا کہ وہ بحران سے متاثرہ چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کو مقامی کرنسی میں قرضے دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ملاقات میں شرکا نے کہا کہ پاکستان نے 75 ارب روپے ضرورت مند آبادی میں تیزی اور شفاف طریقے سے تقسیم کیے ہیں جو ملک کے ماضی اور پورے خطے میں ناقابل تصور عمل ہوا کرتا تھا۔