وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ اپریل کے اختتام تک ہمارے ہسپتال بھرے ہوں گے اور تیزی سے اموات ہوں گی مگر خدا کا شکر ہے کہ فی الحال صورتحال یہ نہیں ہے اور پاکستان کے حالات دنیا کے دیگر ممالک سے بہتر ہیں۔
کورونا کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میری کل ایران کے صدر حسن روحانی سے بات ہوئی ہے۔ ایران میں ساڑھے پانچ ہزار لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ ایران نے اب فیصلہ کیا ہے کہ وہاں صرف بڑے اجتماعات اور تعلیمی ادارے بند رکھے جائیں گے اور تمام کاروبار کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔‘
پاکستانی حکومت کی طرح ایرانی حکومت کو بھی یہ خوف ہے کہ قوم کو کورونا سے بچاتے بچاتے مزدوروں اور غریب لوگوں کو پہنچنے والا معاشی نقصان کورونا سے بھی زیادہ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ میری مصر کے صدر سے بھی بات ہوئی ہے وہاں بھی بڑے اجتماعات اور تعلیمی اداروں کو بند رکھا گیا ہے اور بڑے پراجیکٹ اور روزگار کھول دیا گیا ہے۔ مصر کے معاشی حالات بھی پاکستان جیسے ہیں اور وہاں کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتیں بھی لگ بھگ پاکستان جتنی ہیں۔
’ہمارا لاک ڈاؤن مصر سے سخت تھا اور اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ مصر کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے۔‘
’یہ صورتحال چھ ماہ چلے گی یا ایک سال کسی کو نہیں پتا۔ ہمیں احساس تھا کہ لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ متاثر غریب اور دیہاڑی دار طبقہ ہو گا۔‘
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں کی نسبت صوبہ سندھ کو احساس پروگرام کے تحت سب سے زیادہ پیسے دیے گئے ہیں۔ ’اب تک مجموعی طور پر 66 لاکھ خاندانوں تک 81 ارب روپے پہنچائے جا چکے ہیں۔‘
عمران خان کا کہنا ہے کہ ’ ہم چاہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم ریلیف فنڈ کے ذریعے اکھٹا ہونے والے فنڈز کو صرف ان افراد کو دیا جائے جو کورونا کی وجہ سے بے روزگار ہوئے ہیں۔
’اس فنڈ میں دیے جانے والے ہر ایک روپے کے عوامی عطیے کے بدلے حکومت چار روپے دے گی۔
ٹائیگر فورس جا کر ہر ہر یونین کونسل میں جا کر دیکھیں کہ کون لوگ ہیں جو لاک ڈاؤن سے متاثر ہوئے ہیں۔‘
وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہفتے کے روز میں کورونا سے بے روزگار ہونے والے لوگوں کے لیے نئے پروگرام کا اعلان کروں گا جس کی رجسٹریشن رواں ہفتے سے شروع ہو جائے گی۔ پوری قوم اس مشکل وقت کو جھیل کر باہر نکلے گی۔ ہمیں آہستہ آہستہ پورے ملک کو کھولنا ہے مگر اس کی کامیابی صرف اس وقت ہو گی جبکہ قوم یہ ذمہ داری لے کہ ہم ڈسپلن میں رہیں گے۔‘
’ایک ذمہ دار اور آزاد قوم خود ذمہ داری لیتی ہے۔ حکومت یقین دلاتی ہے کہ ہم سارا وقت یہ سوچتے رہتے ہیں کہ آگے کیسے جانا ہے۔ ہم وہ ملک ہوں گے جو لاک ڈاؤن سے بہتر انداز میں نکلے گا۔‘
لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب طبقہ بہت مشکل میں آ چکا ہے، ہمیں ان کا پتا ہے اور حکومت ان ہی کے حوالے سے سوچ رہی ہے۔