آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کورونا ٹیسٹ مثبت

پنجاب اور بلوچستان میں کورونا وائرس کے 447 نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں متاثرین کی تعداد 16 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کورونا ٹیسٹ مثبت۔

لائیو کوریج

  1. صدر عارف علوی کی زیر صدارت بلوچستان میں اعلی سطحی اجلاس

    صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی آج ایک روزہ دورہ پر بلوچستان پہنچے ہیں جہاں انھیں ایک اعلی سطحی میٹنگ میں صوبائی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس میں وفاقی اور صوبائی وزرا کے علاوہ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان اور گورنر بلوچستان جسٹس ریٹائرڈ امان اللہ یاسین زئی نے بھی شرکت کی۔

    اس موقع پر صدر عارف علوی نے بلوچستان حکومت کو ہدایت کی کہ وہ وائرس کی روک تھام کے لیے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مربوط لائحہ عمل ترتیب دے۔

    ایک اعلامیے کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی نے بلوچستان حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ غریب شہریوں کی معاونت کے طریقہ کار کو مؤثر بنایا جائے۔

  2. کورونا وائرس کی ویکسین کب تک بن جائے گی؟

  3. کیا کورونا وائرس لاشوں سے بھی پھیل سکتا ہے؟

  4. بریکنگ, گذشتہ 24 گھنٹوں میں سندھ میں 404 نئے مریض، آٹھ ہلاکتیں, مصدقہ متاثرین 15253، اموات 335

    صوبہ سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 404 نئے مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں مزید آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    بدھ کے روز اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعے صوبے میں کورونا وائرس کے تازہ ترین صورتحال کی بابت آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ کا کہنا تھا کہ اب صوبے میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 5659 ہو چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی 100 تک پہنچ چکی ہے۔

    مریضوں کی تعداد میں اس اضافے کے بعد اب ملک میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 15253 ہو چکی ہے جبکہ مجموعی اموات 335 ہیں۔

    سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3729 ٹیسٹ ہوئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر اب تک 1161 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جو کہ کُل تعداد کا 20.5 فیصد ہے۔

    وزیر اعلی سندھ کے مطابق ہر سو افراد کے ٹیسٹ میں 11 افراد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ رہا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ 4426 زیر علاج مریضوں میں سے 477 ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں سے 36 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ 3187 مریض گھروں میں آئسولیٹ ہیں، 762 سرکاری قرنطینہ مراکز میں موجود ہیں۔ صوبے میں 18 مریض وینٹیلیٹرز پر موجود ہیں۔

    کراچی کی صورتحال

    صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 332 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ضلع جنوبی کراچی میں 113، ضلع شرقی میں 100، ضلع وسطی میں 39، کورنگی میں 37، ضلع غربی میں 26 اور ملیر میں 17 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ سندھ کے دیگر شہروں میں نئے کیسز کی تعداد 72 ہے جن میں سکھر میں 14، لاڑکانہ اور خیرپور میں 13، 13 جبکہ شہید بینظیر آباد اور شکارپور میں سات، سات نئے مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    بیرونِ ممالک سے آنے والے پاکستانی

    وزیر اعلی سندھ نے بتایا کہ بیرون ممالک سے دو پروازیں 505 مسافروں کو لے کر کراچی پہنچی ہیں۔

    ان مسافروں میں سے 69 کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جبکہ 39 مسافروں کے ٹیسٹس کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ کراچی واپس پہنچنے والے افراد میں سے 21 فیصد کا تعلق صوبہ سندھ جبکہ 70 فیصد کا دیگر صوبوں سے ہے۔

  5. پاکستان، ایران سرحد بندش: سرحدی اضلاع میں اشیائے خوردونوش کی قلت

    پاکستان کی ایران کے ساتھ سرحد کی بندش کی وجہ سے بلوچستان کے دیگر سرحدی اضلاع کے ساتھ ساتھ ضلع کیچ میں بھی اشیائے خورد و نوش کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

    بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک ایک اعلامیے کے مطابق اس صورتحال کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر کیچ میجر (ر) محمد الیاس کبزہی کی سربراہی میں ایک اجلاس ہوا جس میں مقامی انجمن تاجران کے عہدیداروں نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ رمضان کے مہینے میں مقامی پیدا کردہ فروٹ جس میں تربوز شامل ہے ضلع کیچ سے باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے تاکہ قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے پہلے دنوں میں لوگوں کو دہی اور کھجور نہ ملنے کی وجہ ایران بارڈر کی بندش تھی تاہم اب بارڈر کھول دیا گیا ہے اور اب ڈسٹرکٹ کیچ میں دہی، کھجور اور کھانے پینے کی دوسری اشیا کی ترسیل ایک یا دو دن میں شروع ہو جائے گا۔

  6. کیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کورونا کا شکار ہو سکتے ہیں؟

  7. ’ملازمتوں سے برطرف ہونے والے پاکستانیوں کو ترجیحی بنیاد پر واپس بھیجا جائے گا‘

    وفاقی وزارت برائے سمندر پار پاکستانی کے وزیر ذوالفقار بخاری نے مختلف خلیجی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کی راہ ہموار کرنے کے لیے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے سفیروں سے تازہ رابطے کیے ہیں۔

    وزارت کے ترجمان کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے افرادی قوت نصیر بن الثانی کے ساتھ ہونے والے ویڈیو لنک رابطے میں وہاں پھنسے پاکستانیوں کے جلد انخلا پر اتفاق ہوا ہے اور یہ طے پایا ہے کہ ابتدائی طور پر ملازمتوں سے برطرف ہونے والے پاکستانیوں کو ترجیحی بنیاد پر پاکستان واپس بھیجا جائے گا۔

    اس موقع پر ذوالفقار بخاری کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان برادر ممالک ہیں اور مشکل کی اس گھڑی میں ہم سب ساتھ ہیں۔

  8. حکومت بحرانی صورتحال میں پارلیمان کو فعال کرنے میں ناکام: بلاول بھٹو

    پارلیمان کے ایوانِ زیریں کا آئندہ اجلاس بلانے کے حوالے سے آج مختلف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ہے۔

    اجلاس میں قومی اسمبلی کا معمول کا سیشن یا ورچوئل سیشن بلانے پر غور کیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور ورچوئل سیشن کے بجائے براہ راست سیشن بلانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نہ صرف براہ راست اجلاس بلائے بلکہ اس حوالے سے تمام تر حفاظتی اقدامات کو بھی یقینی بنائے۔

    اجلاس کے بعد وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی رہنماؤں کی جانب سے انتہائی اہم تجاویز سامنے آئی ہیں اور ہمیں سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر سوچنا ہو گا اور پارلیمنٹ کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے براہ راست اجلاس بلانے کی اہمیت کے ساتھ ساتھ اراکین پارلیمان کی سیفٹی اور سکیورٹی کو مدنظر رکھنے کی بات کی ہے جو انتہائی مناسب بات ہے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ شیخ رشید نے اچھی تجویز دی کہ پریس گیلری کے علاوہ باقی تمام گیلریوں کو اجلاس کے دوران بند کر دیا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم (تحریک انصاف) پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور ہم تمام پارٹیوں کے پارلیمانی رہنماؤں کی طرف سے سامنے آنے والی مشترکہ تجاویز کو اہمیت دیں گے اور انھیں سپیکر قومی اسمبلی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

    اجلاس کے دوران بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ یہ افسوسناک ہے کہ وفاقی حکومت موجودہ بحرانی صورت حال میں پارلیمان کو فعال کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

    انھوں نے تجویز پیش کی کہ قومی اسمبلی کا براہ راست اجلاس بلائے جانے کی صورت میں طویل مباحثوں کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ بلاول کا مزید کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلائے جانے کی صورت میں کسی طور قانون سازی کے لیے ووٹ دینے کے حق پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

  9. پنجاب: لاہور مصدقہ مریضوں کے ساتھ ساتھ اموات میں بھی سرِفہرست

    صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس سے اب تک 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    صوبے کے دارالحکومت لاہور میں جہاں مصدقہ متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے وہیں 49 ہلاکتوں کے ساتھ یہ شہر اموات میں بھی سرِفرست ہے۔

    راولپنڈی میں اب تک 24، ملتان میں 11 اور فیصل آباد اور گجرات میں تین، تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    گجرانوالہ، بہاولپور اور رحیم یار خان میں دو، دو جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ، اٹک، سرگودھا اور راجن پور میں ایک، ایک مریض ہلاک ہوئے ہیں۔

    ترجمان محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں اب بھی 22 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

  10. پاکستان میں کورونا سے شرح اموات 2.2 فیصد، صحت یابی کی شرح 23 فیصد

    پاکستان میں کووِڈ 19 کے باعث شرح اموات 2.2 فیصد ہے جبکہ اس مرض سے صحت یاب ہونے والے افراد کی شرح 23 فیصد ہے۔

    شرح اموات کی تفصیلات پاکستان میں اموات کی شرح ان مریضوں میں سب سے زیادہ ہے جن کی عمریں 60 سے 69 سال کے درمیان ہے۔

    ہلاک ہونے والے 34.12 فیصد مریضوں کی عمریں 60 سے 69 برس کے درمیان ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 23.7 فیصد افراد ایسے ہیں جن کی عمر 50 سے 59 برس کے درمیان ہیں، 18.98 فیصد افراد کی عمریں 70 سے 79 برس کے درمیان اور 11.84 فیصد کی عمریں 40 سے 49 برس کے درمیان ہیں۔

    اسی طرح 80 برس سے بڑی عمر کے افراد 7.58 فیصد، 1.9 فیصد افراد کی عمریں 30 سے 39 برس کے درمیان، 0.95 فیصد کی عمریں 20 سے 29 برس جبکہ 0.47 فیصد کی عمر 10 برس سے کم ہے۔

  11. خواجہ سراؤں میں راشن کی تقسیم

    وفاقی وزارت برائے انسانی حقوق نے لاک ڈاؤن کے باعث مشکلات کا شکار پانچ سو سے زائد خواجہ سراؤں میں راشن تقسیم کیا ہے۔

    اس حوالے سے منعقد ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ انھوں نے ڈیڑھ برس قبل صوبوں کو خطوط ارسال کر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں خواجہ سراؤں کے لیے علیحدہ وارڈز بنانے کا کہا تھا مگر اب تک ایسا نہیں ہو سکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق تمام خواجہ سراؤں کا نام نادرا میں درج کروانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

  12. برطانیہ: ’وبا کا عروج گزر چکا‘، ملک میں کل اموات 26700 سے زیادہ

  13. فیصل ایدھی کا دوسرا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت

    ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کو دوسرا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آ گیا ہے۔

    فیصل ایدھی نے 27 اپریل کو اسلام آباد میں واقع پمز ہسپتال سے کورونا ٹیسٹ کروایا تھا جس کی رپورٹ 28 اپریل کو موصول ہوئی تھی۔

    یاد رہے کہ فیصل ایدھی کا پہلا کورونا ٹیسٹ 21 اپریل کو مثبت آیا تھا۔

    ٹیسٹ مثبت آنے سے چند روز قبل وہ وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملے تھے۔ فیصل ایدھی کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد وزیر اعظم کا کورونا ٹیسٹ بھی کیا گیا تھا جو کہ منفی آیا تھا۔

  14. لیاری سے لانڈھی تک، کورونا وائرس کراچی میں کیسے پھیلا

  15. گذشتہ چھ روز میں پنجاب میں ہوئے کورونا ٹیسٹوں کی تعداد سندھ سے کافی کم

    اگرچہ صوبہ پنجاب آبادی اور کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد کے حوالے سے پاکستان بھر میں سرِفہرست ہے تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں گذشتہ چھ روز کے دوران ہونے والے کورونا ٹیسٹوں کی تعداد صوبہ سندھ سے کافی کم ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ملک بھر میں کورونا وائرس کے 165911 ٹیسٹ ہو چکے ہیں جبکہ گذشتہ چھ روز کے دوران ہونے والے ٹیسٹوں کی مجموعی تعداد 41154 ہے۔

    گذشتہ روز یعنی منگل (28 اپریل) کو مجموعی طور پر ملک میں 8530 نئے ٹیسٹ کیے گئے ہیں، 27 اپریل کو 6396 ٹیسٹ، 26 اپریل کو 6391 ٹیسٹ، 25 اپریل کو 6218 ٹیسٹ، 24 اپریل کو 6780 ٹیسٹ اور 23 اپریل کو 6839 ٹیسٹ ہوئے ہیں۔

    مجموعی طور پر گذشتہ چھ روز (اپریل 23 سے اپریل 28) کے دوران سندھ میں کُل 17715 کورونا ٹیسٹ ہوئے ہیں جبکہ پنجاب میں 11360 ٹیسٹ ہوئے ہیں۔

    اسی دورانیے میں خیبرپختونخوا میں 5712، بلوچستان میں 2372، اسلام آباد میں 2774، گلگت بلتستان میں 831 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 389 کورونا ٹیسٹ ہوئے ہیں۔

  16. کورونا سے ہلاک ہونے والے طبی عملے کے لیے ’شہدا پیکیج‘ کی منظوری

    وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والے طبی عملے کے افراد کے لیے امدادی پیکج کی منظوری دے دی ہے۔

    یہ منظوری کل وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران دی گئی تھی۔

    اس پیکیج کے تحت اگر طبی عملے کا کوئی فرد دورانِ ڈیوٹی کورونا وائرس کا شکار بننے کے بعد ہلاک ہوا تو اس کے خاندان کو وہی امدادی پیکیج دیا جائے گا جو ’شہدا پیکیج‘ کے تحت ایسے سرکاری ملازمین کو دیا جاتا ہے جو سکیورٹی سے متعلقہ فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوتے ہیں۔

    یہ فیصلہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نافذ العمل ہو گا جبکہ صوبے اس حوالے سے اپنا فیصلہ خود لیں گے۔

  17. چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کورونا ٹیسٹ منفی

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔

    سینیٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چیئرمین سینیٹ سمیت سینیٹ میں کام کرنے والے اہلکاروں کے کورونا ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ سینیٹر مرزا محمد آفریدی کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد کیا گیا تھا۔

    چیئرمین سینیٹ سمیت سینیٹ کے کسی بھی اہلکار کا ٹیسٹ مثبت نہیں آیا ہے۔ یہ تمام ٹیسٹ حفاظتی تدابیر کے تحت کروائے گئے تھے۔

  18. حفاظتی طبی سامان کی چوتھی کھیپ بلوچستان اور گلگت بلتستان روانہ

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے صوبہ بلوچستان اور گلگت بلتستان کے مختلف ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لیے حفاظتی سامان کی چوتھی کھیپ روانہ کر دی ہے۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان کو 29 ہزار سے زائد سرجیکل ماسک اور 1200 کے لگ بھگ این95 ماسک ارسال کیے گئے ہیں جبکہ بلوچستان کو 38 ہزار سے زائد سرجیکل ماسک اور 1600 این95 ماسک ارسال کیے گئے ہیں۔

    گلگت بلتستان اور بلوچستان بھیجے جانے والے سامان میں حفاظتی سوٹ، دستانے، جوتے، سرجیکل ٹوپیاں، فیس شیلڈز، حفاظتی عینکیں، گاؤنز اور سینیٹائزرز بھی شامل ہیں۔

  19. بریکنگ, پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں ریکارڈ ہلاکتیں اور نئے مریض

    پاکستان میں گذشتہ روز (منگل) کورونا وائرس کے حوالے سے انتہائی تشویشناک ثابت ہوا کیونکہ منگل کے روز ملک میں کسی بھی ایک دن میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد میں سب سے بڑے اضافے کے ساتھ ساتھ ریکارڈ 26 نئی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

    منگل کو سامنے آنے والے نئے مصدقہ متاثرین کی تعداد 806 ہے۔ اس سے قبل متاثرین کی تعداد میں ایک دن میں سب سے بڑا اضافہ 20 اپریل کو دیکھنے میں آیا تھا جب 796 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی تھی۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق اس وقت پاکستان میں کورونا وائرس کے 14885 مصدقہ متاثرین موجود ہیں جبکہ ملک بھر میں اموات کی مجموعی تعداد 327 ہو چکی ہے۔

    کُل 3425 افراد اب تک صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

    پنجاب 5827 متاثرین کے ساتھ بدستور سرِفہرست ہے جبکہ سندھ میں 5291، خیبرپختونخوا میں 2160، بلوچستان میں 915، گلگت بلتستان میں 330، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 297 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 65 ہے۔

    اگر ہلاکتوں کی بات کی جائے تو خیبرپختونخوا میں اب تک 114، پنجاب میں 100، سندھ میں 92، بلوچستان میں 14، اسلام آباد میں چار جبکہ گلگت بلتستان میں تین افراد کورونا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ہسپتالوں میں موجود 129 مریضوں کی ہلاکت تشویشناک ہے۔ ملک میں اب تک کورونا وائرس کے 165911 ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔ منگل کو 8530 نئے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

  20. اسلام آباد: متاثرین کی سب سے بڑی تعداد 31 سے 45 برس کے درمیان، بارہ کہو، ترلائی، آئی 10 سب سے زیادہ متاثر

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک شہر میں سب سے زیادہ متاثرہ یونین کونسل بارہ کہو ہے جہاں اب تک 32 مصدقہ متاثرین موجود ہیں۔

    اس کے بعد ترلائی اور آئی 10 میں مریضوں کی تعداد بالاترتیب 31 اور 30 ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق اب تک شہر میں مرد اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور کل متاثرین میں سے 71 اعشار 84 فیصد مرد جبکہ 28 اعشاریہ 16 فیصد خواتین ہیں۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد میں اب تک 297 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ چار اموات سامنے آئی ہیں۔

    اب تک 36 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔