اس صفحے کو مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
پاکستان بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج مسلسل جاری ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 9590 سے بڑھ گئی ہے جبکہ اس وبا میں 201 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کرنے والے سماجی کارکن فیصل ایدھی کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد عمران خان کا بھی کورونا ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاکستان بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج مسلسل جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور جہاں اس سے 200 سے زیادہ ممالک میں 25 لاکھ کے قریب افراد متاثر ہو چکے ہیں وہیں ہلاکتوں کی تعداد بھی ایک لاکھ 69 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔
پاکستان میں بلوچستان حکومت ہزاروں افراد کے رینڈم ٹیسٹ کرانے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ کوئٹہ شہر سمیت کئی علاقوں میں وائرس پھیل رہا ہے۔ جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بھی حال ہی میں فیصل ایدھی سے ملاقات کے بعد اب کورونا کا ٹیسٹ کروائیں گے۔ فیصل ایدھی میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے تو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں 21 اپریل کی شام جاری کیے جانے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 69 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 1345 ہو گئی ہے۔
صوبئی وزیر صحت تیمور خان جھگڑا نے تفصیلات ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ چھ مزید افراد کی ہلاکت کے بعد صوبے میں ہلاکتیں 80 ہو گئی ہیں۔
50 ہلاکتیں صرف پشاور اور مالاکنڈ ڈویژن میں ریکارڈ کی گئیں۔
جبکہ متاثرین میں سے مزید 33 افراد صحت یاب ہو گئے۔ اب تک خیبر پختونخوا میں 335 افراد وائرس سے صحت یاب قرار دیے جا چکے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 21 اپریل2020 کی شام تک سکریننگ کیے گئے لوگوں کی کل تعداد15774 ہو گئی ہے۔ جبکہ 30 نئے مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
اب تک صوبے میں جن لوگوں میں کورونا وائرس مثبت آیا ے ان کی کل تعداد 495 ہو گئی ہے۔
اب بھی صوبے میں مشتبہ مریضوں کی تعداد 7031 ہے۔ 21 اپریل2020 کو 165 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے۔ اب تک کورونا کے کیے گئے مجموعی ٹیسٹ کی تعداد5801 ہے۔
بلوچستان میں کورونا وائرس سے صحت یاب مریضوں کی کل تعداد167 ہے۔ جبکہ کورونا وائرس سے صوبے میں 06 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے شہر لاہور میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے وجہ سے لاگو کیے جانے والے لاک ڈاؤن کے باعث پانی کی کھپت میں 30 سے 40 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ متعلقہ اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا کے دوران ہاتھ دھوتے وقت پانی کو بچانے کی ضرورت کو ذہن میں رکھیں۔
واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی واسا کے مطابق لاہور پہلے ہی سے پینے کے صاف پانی کی قلت کا شکار تھا اور کورونا کی وبا کی وجہ سے اس کے مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ واسا کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور کے رہائشی پینے کے صاف پانی کے لیے زیرِ زمین پانی کے ذخائر پر انحصار کرتے ہیں۔
’کورونا کی وجہ سے گزشتہ چند ہفتے کے دوران زیرِ زمین پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھا ہے۔ لاہور میں پینے کا صاف پانی سالانہ ایک میٹر کے حساب سے کم ہو رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واسا کے مینیجبگ ڈائریکٹر زاہد عزیز نے لاہور کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کورونا سے بچاؤ کی تدبیر کے طور پر20سیکینڈ تک ہاتھ دھونے کے عمل کے دوران پانی کو زیادہ سے زیادہ بچایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہاتھوں کو گیلا کرنے کے بعد نلکے کو بند کر دیا جائے۔
’اس کے بعد آپ20سیکینڈ تک صابن ہاتھوں پر لگا سکتے ہیں اور اچھی طرح ملنے کے بعد آپ نلکے کو دوبارہ کھول کر ہاتھوں کو دھو کر صابن نکال سکتے ہیں۔‘
واسا لاہور کے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر اسلم خان نیازی کے مطابق صرف ہاتھ دھونے کے اس طریقہ کار کو اپنایا جائے تو روزانہ اینکڑوں گیلن پانی بچایا جا سکتا ہے۔
’اگر آپ اس عمل کے ذریعے ایک گیلن پانی بچاتے ہیں اور آپ کے گھر میں دس افراد ہیں تو آپ دس گیلن پانی بچا رہے ہیں اور اگر آپ اور گھر والے دن میں دس مرتبہ ہاتھ دھو رہے ہیں تو سوچیں آپ کتنا زیادہ پانی روزانہ بچا پائیں گے۔‘
واسا حکام کے مطابق عوام میں اس حوالے سے آگہی پھیلانے کے لیے مہم چلائی جا رہی ہے تا کہ ایک ’بحران کے دوران دوسرے بحران کا شکار ہونے سے بچا جا سکے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گلگت بلستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق گلگت بلتستان میں دو افراد میں مزید کورونا وائرس پایا گیا ہے جس کے بعد متاثرین کی تعداد 283 ہو گئی ہے۔
صحافی محمد زبیر خان کے مطابق دونوں متاثرہ افراد کا تعلق گلگت سے ہے اور یہ وائرس کی مقامی منتقلی کے مریض ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ منگل کو تین مزید افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 198 ہوچکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan
سعودی وزیر برائے افرادی قوت عبداللہ بن نصیر کے مطابق ملک میں کام کرنے والی کمپنیوں کو تین ماہ تک پاکستانی محنت کشوں کو برطرف کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
یہ بات انھوں نے پاکستان کے وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری سے ویڈیو لنک پر بات چیت کے دوران بتائی۔
اس بات چیت میں پاکستانی مزدور اور لیبر کمیونٹی کو درپیش مسائل اور ممکنہ حل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ سعودی کمپنیاں آئندہ تین ماہ تک محنت کشوں کو ملازمت سے برطرف نہیں کریں گی جبکہ تمام ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ اب تک برطرف کیے گئے ملازمین سے بھی تعاون کیا جائے گا اور پاکستانی محنت کشوں کو مکمل تنخواہ اور بقایا جات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی۔
زلفی بخاری نے سعودی حکام سے یہ درخواست بھی کی وہاں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
سعودی عرب نے پاکستان کی درخواست پر انٹری اور ایگزٹ ویزے کی مدت بڑھانے کا اعلان کیا ہے جس کی بنا پر دسمبر تک پاکستانی مزدوروں کے ویزوں کی توسیع بالکل مفت ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کو مساجد میں جانے سے زبردستی نہیں روکا جا سکتا لیکن اگر رمضان کے مہینے میں کورونا وائرس پھیلا تو مساجد بند کرنا پڑیں گی۔
منگل کو کورونا وائرس کے حوالے سے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری قوم مساجد میں جانا چاہتی ہے تو کیا ہم ان لوگوں سے زبردستی کہیں کہ آپ مساجد میں نہ جائیں اور کیا پولیس مساجد میں جانے والوں کو جیلوں میں ڈالے۔ ایک آزاد معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ لوگ خود فیصلہ کرتے ہیں کہ ملک کے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں‘۔
عمران خان نے پاکستانی عوام سے درخواست کی کہ وہ اپنے گھروں میں رہ کر ہی عبادت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے باقی مسلمان ممالک میں بھی عوام کو گھروں میں عبادت کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے لیکن اگر عوام نے مسجد میں جانا ہے تو طے شدہ شرائط پر مکمل طریقے سے عمل کرنا ہو گا ورنہ ’اگر رمضان میں وائرس پھیلتا ہے تو ہمیں ایکشن لیتے ہوئے مساجد کو بند کرنا ہو گا‘۔
لاک ڈاؤن کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ وہ ممالک جہاں روزانہ سینکڑوں لوگ مر رہے ہیں وہاں بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کی بات کی جا رہی ہے۔
’ جن ملکوں میں دن میں 500، 600 لوگ مر رہے ہیں، انھوں نے بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے، کئی چیزیں کھول دی ہیں، آسانیاں پیدا کی ہیں تاکہ لوگ باہر نکل سکیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاشرے میں لاک ڈاؤن غیر معینہ مدت تک نہیں چل سکتا کیونکہ کسی کو بھی علم نہیں کہ کورونا کی وبا پر قابو پانے میں کتنا وقت لگے گا۔
’کسی کو بھی نہیں پتا کہ ایک یا دو مہینے کے بعد کیا ہو گا اور یہ بھی نہیں پتا کہ اگر بالفرض آج یہ کیس کم بھی ہو گئے تو ان کے ایک مہینے بعد دوبارہ بڑھنے کا بھی اندیشہ ہے، اس لیے دنیا کی تمام اقوام لاک ڈاؤن کر کے عوام کو بچانے کے ساتھ ساتھ ملک چلانے کے بارے میں بھی سوچ رہی ہیں‘۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں منگل کو مزید چار مریضوں کی ہلاکت کے بعد ملک میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 201 ہو گئی ہے۔
منگل کو پنجاب میں 60 نئے مریض بھی سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں متاثرین کی کل تعداد 9586 تک پہنچ گئی ہے۔
منگل کو جن علاقوں میں نئے مریض سامنے آئے ہیں ان میں پنجاب کے علاوہ سندھ، اسلام آباد، بلوچستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا علاقہ بھی شامل ہے

،تصویر کا ذریعہM A JARRAL
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ضلع پلندری کے ڈپٹی کمشنر راجہ ندیم جنجوعہ کے مطابق ضلعے میں مزید ایک خاتون میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 51 ہوگی ہے۔
صحافی ایم سے جرال کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے بتایا مذکورہ خاتون کے خاندان کے افراد پہلے سے کورونا سے متاثر تھے جس بنا پر خاتون قرنطینہ سنٹر میں موجود تھیں جہاں ان کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
دوسری جانب میرپور ڈویژن کے کمشنر محمد رقیب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو ایک خاتون سمیت سات مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں جن میں پانچ کا تعلق بھمبر جبکہ دو کا تعلق میرپور سے ہے۔
اس کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 23 ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق اب تک 1410 افراد کو قرنطینہ سنٹر لایا گیا ہے جس میں سے 75 افراد کے ٹیسٹ کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں۔
پنجاب میں کورونا وائرس کی نگرانی کرنے والے دفتر کے مطابق منگل کو صوبے میں کورونا وائرس کے مزید 60 مریض سامنے آنے کے بعد کل تعداد 4255 ہو گئی ہے۔
ان متاثرین میں سے 1545 عام شہری ہیں جبکہ اس کے علاوہ 742 زائرین، تبلیغی جماعت کے 1857 ارکان اور 97 قیدی شامل ہیں۔
ترجمان کے مطابق کورونا وائرس سے اب تک کل 49 اموات ہوئی ہیں جبکہ 14 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
اب تک 724 افراد علاج کے بعد صحت یاب ہوئے ہیں جبکہ 61174 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
قیدیوں میں وائرس
تفصیلات کے مطابق کیمپ جیل لاہور 59، سیالکوٹ 14، گوجرانوالہ 7، ڈی جی خان میں 9،جہلم میں 3، بھکر میں 2، فیصل آباد، قصور اور بھکر میں ایک ایک قیدی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
ڈی جی خان 221 زائرین، ملتان 457، فیصل آباد 23 اور گوجرانوالہ میں 42 کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔
تبلیغی ارکان
رائے ونڈ جانے والے جن تبلیغی ارکان میں وائرس کی تصدیق ہوئی ان میں رائے ونڈ مرکز میں 577، شیخوپورہ 12، منڈی بہاوالدین 17، سرگودھا 145، میانوالی 7، وہاڑی 37، راولپنڈی 30، اٹک 6، جہلم میں 41 تبلیغی ارکان شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ننکانہ 26، گجرات 10، گوجرانوالہ 21، رحیم یار خان 45، بھکر 63، خوشاب 23، راجن پور 9، حافظ آباد 35، سیالکوٹ 22، لیہ 38، مظفر گڑھ 61، ناروال 26، بہاولنگر 13، فیصل آباد میں 18 تبلیغی ارکان میں کورونا کی تصدیق ہوئی۔ جبکہ خانیوال 6، ملتان میں 118، ساہیوال 8، اوکاڑہ 2، بہاولپور میں 39 اور لودھراں میں 76 تبلیغی ارکان میں کورونا وائرس کی تصدیق۔
عام شہری
ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق عام شہریوں میں 60 نئے کیس، تمام کی تفصیل عام شہروں میں سب سے ذیادہ لاہور میں کورونا وائرس کے 658 کنفرم مریض ہیں۔
ننکانہ 1، قصور 16، شیخوپورہ 18، راولپنڈی 176، جہلم 33، اٹک 11،چکوال 4، گوجرانوالہ 69، سیالکوٹ 56، ناروال 5، گجرات میں 164 شہریوں میں تصدیق ہوئی۔
جبکہ حافظ آباد 11، منڈی بہاوالدین 12، ملتان 33، خانیوال 1، وہاڑی 35، فیصل آباد 51، چینیوٹ 11، ٹوبہ 7، جھنگ 33، رحیم یار خان 61، سرگودھا میں 25 شہریوں میں وائرس پایا گیا۔
ادھر میانوالی 12، خوشاب 4، بہاولنگر 8، بہاولپور 11، لودھراں 3، ڈی جی خان 21، لیہ 2، اوکاڑہ 1 اور پاکپتن میں 3 کنفرم مریض ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیصل ایدھی کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان نے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیرِ اعظم کے فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے یہ فیصلہ کیا ہے۔
فیصل ایدھی اس وقت اسلام آباد میں ہیں اور اس سے پہلے وزیرِ اعظم عمران خان سے ان کی ملاقات ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ فیصل ایدھی 15 اپریل کو وزیر اعظم سے ملے تھے اور انہیں کورونا ریلیف فنڈ کے لیے رقم عطیہ کی تھی۔
بلوچستان میں کورونا کے مزید 21 مریض سامنے آنے کے بعد ان کی مجموعی تعداد 486 ہو گئی ہے۔
کوئٹہ میں منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ مقامی منتقلی کے سب سے زیادہ معاملے کوئٹہ سے رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 268 ہے۔
ان کا کہنا تھا بلوچستان میں لاک ڈاﺅن کو ایک مہینہ ہونے کو ہے جس میں کچھ نرمی بھی کی گئی لیکن مقامی منتقلی کے کیسز میں اضافے کی وجہ سے لاک ڈاون میں 5 مئی تک توسیع کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں جن دکانوں کو چھوٹ دی گئی تھی وہ فیصلہ برقرار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان میں فوری طور پر 50 ہزار افراد کا ٹیسٹ کرنا چاہتی ہے جس کے بعد ہی لاک ڈاﺅن کو بڑھانے یا ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا منہ کو ڈھانپے کو ضروری قرار دیا گیا ہے خلاف ورزی کرنے والوں کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اگر عوام تعاون نہیں کرے گی تو لاک ڈاون کو مزید سخت کردیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کوئٹہ شہر میں کورونا وائرس کی منتقلی کے کیسز میں تیزی سے اضافے کے باعث اس کے مختلف علاقوں میں پانچ ہزار رینڈم ٹیسٹ کی تیاری مکمل کی گئی ہے جس کا آغاز دو یوم کے اندر کیا جائے گا۔
یہ بات وزیر اعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی اجلاس کو بتائی گئی۔ اجلاس میں فاطمہ جناح ہسپتال میں آئی سی یو بیڈز کی تعداد میں اضافے کے لیے فوری اقدامات اور مطلوبہ فنڈز کے اجراءکی منظوری دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کورونا وائرس ٹیسٹ کے لیے ایک مزید پی سی آر مشین اور ٹیسٹنگ کٹس کوئیٹہ پہچنے سے ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
اسلام آباد سے لیبارٹری تربیت مکمل کر کے واپس پہنچنے والے ٹیکنیشنز کو فاطمہ جناح اسپتال کی لیبارٹری میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کو کورونا وائرس ایمرجنسی کے تحت ملنے والے 20 کروڑ روپے سے طبی آلات کی خریداری کی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پی ڈی ایم اے کے تحت طبی سامان کی 80 فیصد خریداری مکمل کی گئی ہے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کورونا وائرس کا ایمرجنسی فیز گزر گیا اب موجودہ صورتحال کے مطابق بروقت فیصلوں کی اہمیت ہے۔
انھوں نے کورونا وائرس کے مقامی سطح پر پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کے مطابق تیاری کرنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے میں 289 نئے کیسز کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ پانچ مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
منگل کو ڈی سی آفس لاڑکانہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم نے وفاقی حکومت سے مالی اعانت کی درخواست نہیں کی ہے کیونکہ وہ بھی انتہائی مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے۔‘
کورونا وائرس کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مزید 2764 ٹیسٹ کیے گئے جن میں 289 نئے کیس مثبت قرار پائے جبکہ اب تک مجموعی طور پر 28249 ٹیسٹ کرائے گئے ہیں جس کے نتیجے میں 3053 کیسز سامنے آئے۔
انھوں نے بتایا کہ مزید پانچ ہلاکتوں کے بعد صوبے میں انفیکشن سے مرنے والوں کی تعداد 66 ہو گئی ہے جو کل مریضوں کا 2.1 فیصد ہے۔ مرنے والے پانچ مریضوں کا تعلق کراچی سے تھا جن میں دو ضلع وسطی ، ایک شرقی ، ایک جنوبی کے رہائشی تھے۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ منگل کو مزید 30 مریض صحت یاب ہوکر اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح وائرس سے چھٹکارا پانے والے مریضوں کی تعداد 665 ہے جو کل مریضوں کا 22 فیصد ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے 289 نئے کیسز کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں 201 نئے مریضوں کا پتا چلا ہے جن میں سے 19 ضلع وسطی ، 13 شرقی ، 3 کورنگی ، 46 ملیر ، 87 ضلع جنوبی اور 15 ضلع غربی میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ صوبے کے دیگر شہروں میں خیرپور میں 25، حیدرآبادر میں 12، لاڑکانہ میں 11، بدین سے چھ ، شہید بینظیر آباد اور سجاول میں دو، دو جبکہ سکھر سے ایک کیس کی تشخیص ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2322 زیر علاج مریضوں میں سے 1412 گھروں پر آئسولیٹ ہیں، 597 قرنطینہ مراکز میں اور 313 صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں ہیں۔‘
تبلیغی جماعت کے لوگوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کی تعداد 4978 تھی اور ان سب کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں اب تک 4179 منفی اور 720 مثبت قرار پائے ہیں جبکہ 74 مشتبہ افراد کا نتیجہ زیر التوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبہ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے ایپیڈیمک کنٹرول اینڈ ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس جاری کردیا ہے۔
افغانستان سے آج طورخم بارڈر کے راستے 520 پاکستانی داخل ہوئے اور ان تمام افراد کو ڈگری کالج لنڈی کوتل اور شاہ کس میں قرنطینہ کیا گیا ہے۔
مشیر اطلاعات کا کہنا تھا خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 35 مریض صحتیاب ہوئے اور مجموعی تعداد 302 ہو گئی۔
انھوں نے بتایا کہ صوبے میں گذ شتہ 24 گھنٹوں میں 39 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد 1276 ہوگئی۔ جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 7 اموات ریکارڈ کی گئی۔ صوبے میں اب تک کل 74 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
صوبائ مشیر نے کہا کہ ’عوام سے اپیل کرتا ہوں گھروں تک محدود رہیں۔ یہ وائرس کبھی آپ کے پیچھے نہیں آئے گا جب تک آپ اس کو لینے نہیں جاتے۔ یاد رکھیں یہ بیماری گھر میں اگر بندے کو بھی لگ جائے، پورا کا پورا خاندان اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔‘
جمل وزیر کا کہنا تھا کہ صوبے میں کیسز اور حالات ابھی بھی کنٹرول میں ہیں مگر عوام کی لاپرواہی اور غفلت سے حالات خراب ہوسکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اجمل وزیر آرڈیننس کے تحت اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جا سکے گا۔
قانون کی خلاف ورزی پر 3 سال قید اور ذخیرہ شدہ مال کے 50 فیصد کے برابر جرمانے کی سزا دی جاے گی۔
اجمل وزیر کے مطابق ضبط شدہ اشیا کو نیلام کیا جا سکے گا۔
صوبائی مشیر اطلاعات کا نیوز بریفنگ مںی کہن تھا کہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر مصدقہ اطلاع پر کسی بھی ایسی جگہ پر جہاں پر ذخیرہ شدہ مال موجود ہوگا بغیر اجازت داخل ہوکر ذخیرہ شدہ مال کو تلاش کر سکیں گے۔
ذخیرہ اندوزی کی اطلاع دینے والے کو ذخیرہ شدہ مال کا 10 فیصد بطور انعام دیا جائےگا۔

،تصویر کا ذریعہEdhi Foundation
سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے اور ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں لوگ کورورنا وائرس کے خلاف جنگ میں بہادری سے کردار ادا کر رہے ہیں۔ اور انہیں بھی اسی جنگ کے دوران کورونا کے مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں بھی ان خدمات کے انجام دہی کے دوران کورونا لاحق ہو گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ پر امید ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گے۔
انھوں نے لوگوں کو پیغام دیا کہ کورونا سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بیشتر لوگوں میں اس کی علامات تک ظاہر نہیں ہوتیں اور زیادہ تر لوگ صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
انھوں نے ایدھی ورکرز سے بھی کہا کہ ’میرے کورونا پازیٹو ہونے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارا کام رکنا نہیں چاہیے۔ جیسے ہی میرے ٹیسٹ نیگیٹو آیے میں پھر سے اس جنگ میں آپ کے ساتھ ہوں گا۔‘