کورونا: ’جمعرات سے احساس پروگرام کا آغاز، 20 لاکھ خاندانوں کی مالی امداد‘
پاکستان میں کورونا وائرس کے نئے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ جاری ہے اور ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد چار ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ اموات کی تعداد 60 ہے۔
لائیو کوریج
آرمی چیف نے کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا
،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرِ صدارت کور کمانڈر کانفرنس ہوئی جس میں کور کمانڈر نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں کورونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال کا خاص طور پر جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر پاکستانی فوج نے سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے ملک بھر میں اہلکاروں کی تعیناتی کا جائزہ لیا ہے۔
آرمی چیف نے تمام کمانڈر کو یہ حکم جاری کیا ہے کہ اندرون سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ضروری سامان پہنچایا جائے اور وہاں لوگوں کی مدد کی جائے۔
بریکنگ, ’ملک میں 28 افراد کی حالت تشویشناک ہے‘
ڈاکٹر ظفر مرزا اور اسد عمر نے اپنی مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ رواں ماہ تک پاکستان 25 ہزار کورونا ٹیسٹ ایک دن میں کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 28 افراد کی حالت تشویشناک ہے اور 577 نئے مریضوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ 2004 متاثرین پنجاب میں ہیں۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اب تک اموات کی شرح 1.4 فیصد ہے۔
بریکنگ, ڈاکٹر ظفر مرزا: پاکستان میں 18 لیبارٹریاں کورونا ٹیسٹ کر سکتی ہیں
وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا ہے کہ پاکستان بھر میں اس وقت کورونا وائرس کے 1311 مریض مختلف ہسپتالوں میں داخل ہیں جن میں سے 28 افراد کو وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی حالت تشویشناک ہے۔ جبکہ باقی متاثرین کو آئسولیشن وارڈز اور گھروں میں قرنطیہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت 18 لیبارٹریاں کورونا ٹیسٹ کر سکتی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ ان کا نمبر 40 تک لے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک دن میں 3000 کورونا ٹیسٹ کر سکتا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ اسے بڑھایا جا سکے۔
پائلٹس کی نمائندہ تنظیم اور حکومت کے درمیان ’سمجھوتہ‘
،تصویر کا ذریعہBLOOMBERG
محمکہ ایوی ایشن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پاکستان ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) کے ایک تین رکنی وفد نے سکریٹری ایوی ایشن سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں ایوی ایشن ڈیویژن اور قومی ایئر لائن پی آئی اے کے سینیئر اہلکار موجود تھے۔
ملاقات میں پائلٹس کی نمائندہ تنظیم کے وفد نے کووڈ 19 کی عالمی وبا کے دوران پائلٹس اور جہاز کے عملے کے حوالے سے حفاظتی اقدامات پر زور دیا۔
اس پر سکریٹری ایوی ایشن نے کہا کہ حکومت تمام ہدایات پر عمل یقینی بنائے گی۔
پالپا کا کہنا تھا کہ وہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے میں بھرپور تعاون کریں گے۔
اس سے بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ پائلٹس کی نمائندہ تنظیم اور حکومت کے درمیان ’سمجھوتہ‘ ہوگیا ہے۔
اس سے قبل پالپا نے کورونا وائرس کے پیش نظر خدشات کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے پائلٹس کو پروازیں آپریٹ کرنے سے روک دیا تھا۔
’لاک ڈائون بڑھایا نہ گیا تو مریض بڑھ جائیں گے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کے نجی ہسپتالوں کے مالکان اور سی ای اوز سے ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے دوران نجی ہسپتالوں کے مالکان اور سی ای اوز نے مراد علی شاہ کو لاک ڈائون مزید بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے۔
اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’لاک ڈائون بڑھایا نہ گیا تو کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔‘
اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ وہ تجویز پر مشاورت کریں گے۔
مراد علی شاہ نے ملاقات کے حوالے سے کہا کہ وہ سب کو آن بورڈ لینا چاہتے ہیں۔
’مجھے اس جنگ میں آپ سب ماہرین کی رہنمائی اور مدد چاہیے۔ یہ اتنی بڑی جنگ ہے اس میں ہماری حکومت کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے ہسپتالوں میں کورونا وائرس متاثرین کے لیے آئی سی یوز اور سی سی یوز بھی قائم کیے ہیں۔
’تمام سرکاری ہسپتالوں میں اور الگ بھی آئسولیشن مراکز بنائے ہیں۔ نجی ہسپتالوں میں کووڈ 19 کے الگ بیڈز اور آئی سی یو ہونے چاہیے۔‘
انھوں نے بتایا کہ کٹس کم ہونے کی وجہ سے زیادہ ٹیسٹ نہیں ہو پا رہے۔
ِخیبر پختون خوا کے وہ تین اضلاع جہاں کورونا وائرس کا ایک بھی ٹیسٹ نہیں ہوا, عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبہ خیبر پختونخوا میں تین اضلاع ایسے ہیں جہاں اب تک کورونا وائرس کا ایک بھی مریض سامنے نہیں آیا ہے اور دو اضلاع ایسے ہیں جہاں کل 500 میں سے 200 مریض سامنے آئے ہیں۔
صوبےکےکُل 34 اضلاع میں سے تین اضلاع، اپرکوہستان ، لوئر کوہستان ، اور کولائی پاس میں اب تک کورونا وائرس کا ایک بھی مریض سامنے نہیں آیا ہے۔
سرکاری سطح پر فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان اضلاع میں ابھی تک ایک بھی ٹیسٹ نہیں کیا گیا ہے۔
ان تین اضلاع کے علاوہ دو ایسے ضلعے (چترال اور ٹانک) بھی ہیں جہاں ایک یا دو مریض پر وائرس کا شبہ ظاہر کیا گیا لیکن ان کے ٹیسسٹ نیگیٹو آئے ہیں۔ چترال ضلع میں پانچ ٹیسٹ جبکہ ٹانک میں دو ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
صوبائئ حکومت کے مطابق ان اضلاع میں جہاں آبادی کم ہے یا وہاں زیادہ ہجوم نہیں ہوتے وہاں اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
صوبے میں ان پانچ اضلاع کے علاوہ باقی تمام اضلاع میں ایک سے لے کر 105 تک مریض سامنے آچکے ہیں۔
صوبائی دارالحکومت پشاور میں کل 105 مریض سامنے آئے ہیں جبکہ مردان شہر میں 100 کے قریب مریضوں میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ملک میں کورونا وائرس سے ہونے والی پہلی ہلاکت بھی مردان کے رہائشی کی تھی۔
چھ اپریل تک کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں اب تک کُل ملا کر 2600 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جس کا مطلب ہے خیبر پختون خوا میں ٹیسٹنگ کا تناسب 81 ٹیسٹ فی دس لاکھ کی آبادی ہے، جو کہ پورے پاکستان میں سب سے کم ہے۔
،تصویر کا ذریعہGovt of Khyber Pakhtunkhwa
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت, 39 سالہ خاتون گذشتہ 24 روز سے وینٹی لیٹر پر تھیں
،تصویر کا ذریعہAFP
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گذشتہ روز کورونا وائرس کی وجہ سے پہلی ہلاکت ہوئی۔
پمز پمز اسپتال میں زیر علاج خاتون 12 مارچ کو برطانیہ سے پاکستان لوٹی تھیں اور اگلے ہی روز انھیں ہستپال منتقل کر دیا گیا جہاں وہ گذشتہ 24 روز سے وینٹی لیٹر پر تھیں۔
ہسپتال کی انتظامیہ نے بتایا کہ 39 سالہ خاتون اسلام آباد میں کورونا کی پہلی مریضہ تھیں اور ان کے علاوہ ان کے شوہر اور ایک رشتہ دار میں بھی کورونا کی تشخیص ہوئی مگر وہ دونوں صحتیاب ہو چکے ہیں۔
اسلام آباد میں اب تک 83 متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے جس میں سے تین لوگ صحتیاب ہو چکے ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کووڈ کا ایک اور مریض, ملک بھر میں مجموعی تعداد 4005 تک پہنچ گئی ہے
،تصویر کا ذریعہbbc
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ضلع راولاکوٹ کے علاقے ترنوٹی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 19 ہوگئی ہے.
نامہ نگار ایم اے جرال کے مطابق مقامی محکمہ صحت میں کورونا وائرس کے فوکل پرسن ڈاکٹر ندیم نے بتایا کہ سامنے آنے والا نیا مریض مقامی منتقلی کا شکار ہوا ہے جس کی تین دن قبل ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی تھی جو کورونا وائرس کا مریض تھا۔
وہ مریض لاہور سے آیا تھا اور ٹیسٹ مثبت آنے پر اس کے ملاقاتیوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا اور آج اس مذکورہ شخص کا ٹیسٹ مثبت آیا۔
74 فیصد پاکستانیوں کے مطابق جون تک حالات معمول پر لوٹ جائیں گے: گیلپ سروے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سروے کرنے والے ادارے گیلپ پاکستان نے کورونا وائرس کے بعد ملک میں شہریوں سے مختلف نوعیت کے سروے کیے جس کے مطابق واضح اکثریت (74 فیصد) کو لگتا ہے کہ جون تک حالات معمول پر لوٹ جائیں گے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں 20 مارچ کے بعد سے مکمل اور جزوی لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو اب تک جاری ہے۔
گیلپ سروے کے مطابق سندھ میں جواب دینے والوں میں سے 82 فیصد کو لگتا ہے کہ حالات میں بہتری آئے گی۔
اسی سروے کے ایک اور سوال میں 69 فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ وہ کووڈ 19 کی خطرے کو ہلکا نہیں لے رہے اور اس سے مقابلے کے لیے ضروری اقدامات اٹھا رہے ہیں۔
سروے کے مطابق خیبر پختون خوا میں (86 فیصد) لوگ کووڈ 19 کے خطرے کو سب سے زیادہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
پاکستانی فوج کی جانب سے کوئٹہ میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کے لیے ضروری سازو سامان کی ترسیل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا گیا ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر فوج کی جانب سے طبی سازو سامان اور حفاظتی لباس فوری طور پر کوئٹہ بھجوایا جا رہا ہے تاکہ وہاں ڈاکٹرز کی کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں مدد ہو سکے۔
فوج کے سربراہ نے کہا کہ ’ڈاکٹرز اور طبی عملہ اس جنگ میں ہمارے ہر اول دستہ ہیں۔‘
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو اس جنگ میں کافی مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت پاکستان بھی اپنے طور پر پوری کوشش کر رہی ہے کہ مطلوبہ سازو سامان پہنچایا جائے۔
’اس مشکل وقت میں ہمیں صبر اور استقامات سے کام لینا ہوگا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پنجاب کے بعد سندھ میں بھی مصدقہ کورونا متاثرین میں اضافہ، ملک بھر میں مجموعی تعداد 4000 سے بڑھ گئی
پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد چار ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
منگل کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں سندھ میں 54 متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ 16 افراد صحتیاب اور ایک ہلاکت ہوئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’ڈاکٹروں پر تشدد کرنے والوں نے معافی نہیں مانگی تو تھانوں سے نہیں جائیں گے‘, بلوچستان میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق اب تک 18 ڈاکٹروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے
،تصویر کا ذریعہAFP
صوبائی حکومت کی جانب سے رہائی کے احکامات کے باوجود ینگ ڈاکٹرز اور ان کے ساتھ گرفتار ہونے والے طبی عملے نے رات تھانوں میں گزاری۔
گذشتہ شب حکومتی وزرا پر مشتمل وفد نے ڈاکٹروں سے مذاکرات بھی کیے لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنا احتجاج ختم نہیں کیا۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر رحیم بابر نے فون پر بی بی سی کو بتایا جب تک مطالبات تسلیم نہیں ہوتے ڈاکٹرز تھانوں میں ہی رہیں گے۔
حکام پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے مطالبہ کیا کہ کمیٹی کو پہلے تحقیقات کرنی چاہئیے کہ ضلعی انتظامیہ نے ڈاکٹرز پر کیوں تشدد کیا۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کوئٹہ کے ترجمان ڈاکٹر رحیم بابر نے بی بی سی کی شمائلہ جعفری کو بتایا کہ جب تک ڈاکٹروں پر تشدد کے ذمے دار معافی نہیں مانگتے یا انھیں معطل نہیں کیا جاتا حراست میں لیے گئے ڈاکٹر تھانوں سے باہر نہیں جائیں گے۔
ڈاکٹر رحیم بابر کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم نے اچانک سڑکوں پر آنے کا فیصلہ نہیں بلکہ وہ کئی روز سے ڈاکٹروں کے پاس حفاظتی لباس اور ساز و سامان نہ ہونے کی شکایت کرتے رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ وزیراعلیٰ جام کمال سے ان کی ملاقات بھی ہوئی جس میں انھوں نے تین دن کے اندر اس شکایت کو دور کرنے کی یقین دہانی کروائی لیکن اس کے باوجود ڈاکٹروں کے تحفظات دور نہیں ہوسکے۔
ڈاکٹر بابر رحیم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اب تک 18 ڈاکٹروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے جبکہ 30 ڈاکٹر کورونا وائرس کے شبہے کے باعث قرنطینہ میں ہیں۔
ڈاکٹر رحیم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کے پاس مناسب حفاظتی آلات نہ ہونے کے باعث ان کے خاندانوں کو بھی خطرہ ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت کہ جب دنیا بھر میں ڈاکٹروں کو ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے، کوئٹہ میں ڈاکٹروں پر لاٹھیاں برسائی گئیں جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
بریکنگ, پنجاب میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 2000 سے بڑھ گئی
صوبہ پنجاب میں 86 مزید متاثرین کی تصدیق کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد 2004 ہو گئی ہے۔
پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرکی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق متاثرین کو چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے مطابق:
عام شہری: 690
عام شہروں میں سب سے زیادہ لاہور میں کورونا وائرس کے 297 کنفرم مریض ہیں۔
ننکانہ 13، قصور 9، شیخوپورہ 1، راولپنڈی 61، جہلم 30، اٹک 1، گوجرانوالہ 39، سیالکوٹ 17، ناروال 6، گجرات میں 93 شہریوں میں تصدیق۔
حافظ آباد 6، منڈی بہاوالدین 14، ملتان 4، وہاڑی 13، فیصل آباد 21، چینیوٹ 6، رحیم یار خان 3، سرگودھا میں 6 شہریوں میں تصدیق۔ میانوالی 3، خوشاب 1، بہاولنگر 18، بہاولپور 3، لودھراں 3، ڈی جی خان 18، لیہ اور اوکاڑہ میں ایک ایک کنفرم مریض ہے۔
تبلیغی جماعت کے اراکین: 539
رائے ونڈ مرکز میں 404، منڈی بہاوالدین میں 3، سرگودھا 16، وہاڑی 14، راولپنڈی میں 6، جہلم میں 10تبلیغی ارکان میں تصدیق۔
ننکانہ میں 2، گجرات 9، رحیم یار خان 15، بھکر 1، خوشاب 4، راجن پور 1، حافظ آباد میں 31، سیالکوٹ 6، لیہ میں 13 تبلیغی ارکان میں کورونا کی تصدیق
زائرین سینٹرز: 726
ڈی جی خان میں 251 زائرین، ملتان میں 457 زائرین، فیصل آباد میں 18زائرین میں کورونا وائرس کی تصدیق۔
جیل میں قیدی: 49
ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ تمام تصدیق شدہ مریض آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں۔
بلوچستان حکومت کا صوبائی ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کا فیصلہ, کورونا وائرس کے باعث معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات، ٹیکس چھوٹ سے صوبائی آمدنی میں 1.4 ارب روپے کی کمی متوقع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان حکومت نے کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں پر مرتب ہونے والے اثرات کے باعث مختلف صوبائی ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری اعلامیہ کے مطابق 30 جون 2020 تک تعمیرات ، ٹرانسپورٹ اور ہوٹل کے شعبوں پر بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز کی چھوٹ دی گئی ہے۔
بلوچستان انفرا سٹریکچر ڈویلپمنٹ سیس ،بلوچستان الیکٹریسٹی ڈیوٹی اوربلوچستان موٹر وہیکل ٹیکس کی وصولی کو معطل کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق معدنی پیداوار پر رائیلٹی ،رینٹ اور فیس میں اضافے کے نوٹیفیکیشن کی معطلی کی بھی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکسوں کی چھوٹ اور معطلی سے بلوچستان حکومت کی آمدنی میں 1.4 ارب روپے کی کمی ہوگی۔
وفاقی کابینہ کا آج اجلاس، کورونا کی وجہ سے معیشت پر پڑنے والے اثرات پر مشاورت کا امکان
،تصویر کا ذریعہgett
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا
اجلاس ہوگا جہاں کورونا وائرس پر لیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کی
وجہ سے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کے سد باب کے لیے مشاورت کی جائے گی۔
پنجاب حکومت کی عوام سے اپیل، ’پانی کے استعمال میں احتیاط کریں‘
،تصویر کا ذریعہGovt of Punjab
حکومتِ پنجاب نے کورونا وائرس کے بعد صوبے میں پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ایک اعلان جاری کیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں۔
اعلان کے مطابق صوبہ میں پانی کے استعمال میں 30 سے 40 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔
پاکستان میں پارلیمان کے آن لائن اجلاس کیوں نہیں ہو سکتے
بریکنگ, کورونا وائرس: پاکستان کی تازہ ترین صورتحال, مریضوں کی کل تعداد 3864، مجموعی اموات 54 ہو گئیں
قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے پاکستان بھر سے کورونا وائرس کے تازہ ترین اعداوشمار جاری کر دیئے ہیں جس کے مطابق ملک میں اب تک 3864 افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے 54 کی موت ہو چکی ہے جبکہ 429 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔
صرف گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 577 متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ چار اموات ہوئی ہیں۔
اب تک ملک بھر میں 39 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ وہ ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کر رہے ہیں۔
بیرونِ ملک پاکستانیوں کو نکالنے والے پائلٹس ’حفاظتی انتظامات‘ سے ناخوش کیوں؟
سابق کرکٹر ثلقین مشتاق کا ’دلچسپ انداز‘ میں گھر رہنے کا مشورہ
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔