کورونا: ’جمعرات سے احساس پروگرام کا آغاز، 20 لاکھ خاندانوں کی مالی امداد‘

پاکستان میں کورونا وائرس کے نئے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ جاری ہے اور ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد چار ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ اموات کی تعداد 60 ہے۔

لائیو کوریج

  1. گنگا رام ہسپتال کووڈ-19 سے متاثرہ حاملہ خواتین کے لیے مخصوص

    پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ لاہور میں گنگا رام ہسپتال کو کورونا کی ایسی مریض خواتین کے لیے مخصوص کیا گیا ہے جو حاملہ ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. پنجاب میں مرغی کے گوشت کی دکانیں شام 8 بجے تک کھلی رہیں گی

    پنجاب میں مرغی کے گوشت کی دکانیں شام 8 بجے تک کھلی رہیں گی

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Punjab

    محکمہ داخلہ پنجاب نے پولٹری شاپس کے اوقات سے متعلق ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔

    اس نوٹیفیکیشن میں وضاحت کی گئی ہے کہ مرغی کے گوشت کی دکانیں صبح 9 بجے سے شام 8 بجے تک کھلی رہیں گی۔

    صوبے میں پیر سے بڑی صعنتیں حفاظتی تدابیر کے ساتھ کھلولنے کی اجازت دی گئی تھی۔

  3. بریکنگ, ’شب برات کے موقع پر کراچی کے شہری مساجد اور قبرستان کا رخ نہ کریں‘

    کراچی کے ایڈیشنل آئی جی پولیس نے شہر کے عوام سے کہا ہے کہ وہ شبِ برات کے موقع پر اپنے گھروں میں رہ کر عبادت کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہری اس موقع پر مساجد کا رخ کرنے سے گریز کریں جبکہ عوام کو قبرستانوں میں جمع ہونے کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے جاری لاک ڈاؤن کے سلسلے میں واضح احکامات موجود ہیں جن پرعمل درآمد کروایا جائے گا۔

  4. پاکستان میں 4035 متاثرین، 55 ہلاکتیں, پنجاب میں متاثرین کی تعداد مجموعی تعداد کے نصف کے قریب

    پاکستان میں منگل کی شب 12 بجے تک کورونا کے کل متاثرین کی تعداد 4035 تک پہنچ گئی ہے

    پنجاب ملک کا سب سے متاثرہ صوبہ ہے جہاں اب تک 2030 متاثرین سامنے آ چکے ہیں۔

    سندھ میں بھی متاثرین کی تعداد ایک ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے اور وہاں اس وقت تک 986 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں 500 ، بلوچستان میں 206، گلگت بلتستان میں 211 ، اسلام آباد میں 83 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 19 متاثرین موجود ہیں۔

    ملک میں اس وبا کے آغاز کے بعد سے اب تک 55 افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 457 ہے۔

  5. بریکنگ, ’ملک ریاض کے 26 ملازمین میں کورونا وائرس کی تصدیق‘, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو، لاہور

    ملک ریاض کے 26 ملازمین میں کورونا وائرس کی تصدیق

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے 26 ملازمین میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد بحریہ ٹاؤن کے چند علاقوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔

    لاہور کے ڈپٹی کمشنر دانش افضل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جن افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ان میں ملک ریاض کے ذاتی ملازمین شامل ہیں جو بحریہ ٹاؤن میں ان کی رہائش گاہ میں کام کرتے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر دانش افضل کا کہنا تھا کہ 40 افراد کو شک کی بنا پر ٹیسٹ کیا گیا تھا جن میں تاحال 20 سے زیادہ افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان افراد میں بحریہ ٹاؤن کے مالک کی رہائش گاہ پر کام کرنے والے سکیورٹی گارڈ، مالی، ڈرائیور اور دیگر گھریلو ملازمین شامل تھے۔

    صوبائی محکمہ صحت کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ بحریہ ٹاؤن میں سامنے آنے والے ان افراد کے نمونے محکمہ صحت نے ہی لیے تھے، جنھیں ٹیسٹ کے لیے شوکت خانم لیبارٹری بھجوایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان متاثرہ افراد کی کل تعداد 26 ہے۔

    ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضل نے بتایا کہ تمام متاثرہ افراد کو ایکسپو سنٹر لاہور میں قائم فیلڈ ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جبکہ ان افراد کے رابطے میں آنے والے افراد کو بحریہ ٹاؤن کے اندر ہی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ ایسے مصدقہ مریض سامنے آنے کے بعد اس علاقے کو پولیس کی نفری تعینات کر کے سیل کر دیا جاتا ہے تاکہ وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکے۔

    دانش افضل کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کے ساتھ رابطے میں آنے والے افراد اور ان کے ساتھ انٹرویوز کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اتنے لوگ ایک ساتھ کیسے متاثر ہوئے اور ان تک وائرس کس طرح پہنچا۔

    انھوں نے بتایا ہے کہ علاقے میں مزید متاثرہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

    پاکستان میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب میں اب تک 2004 متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 15 اموات اور 25 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

  6. ’1000 متاثرین ہونے میں 29 دن لگے، 4000 ہونے میں صرف تین دن‘

    سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مریض تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

    انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں اس طرف اشارہ کیا کہ ملک میں کورونا کا ہزارواں مریض ملک میں وبا پھیلنے کے 29 دن بعد سامنے آیا تھا جبکہ دو ہزارواں اگلے سات دن میں، تین ہزارواں اس کے پانچ دن بعد اور چار ہزارواں مریض اگلے تین دن بعد سامنے آ چکا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. سپریم کورٹ کا رہا کیے گئے قیدیوں کی دوبارہ گرفتاری کا حکم

  8. ’شب برات پر لوگ گھروں میں انفرادی عبادات کریں‘

    ’شب برات پر لوگ گھروں میں انفرادی عبادات کریں‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شب برات کے حوالے سے محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب نے ہدایت جاری کی ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر لوگ اپنے گھروں میں رہ کر انفرادی عبادات کریں اور روایتی اجتماعات سے گریز کریں۔

    ہدایت میں کہا گیا ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب یعنی 15 شعبان کو لوگ ’انفرادی عبادات کریں اور اس موذی مرض کے تدارک کے لیے انفرادی طورپر دعاؤں کا اہتمام بھی کریں۔‘

    ہدایت نامہ

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Punjab

    محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ قدم حکومت پنجاب اور طبی ماہرین کی ہدایات کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔

    ہر سال ملک بھر میں شبِ برات کے موقع پر مساجد میں چراغاں اور خصوصی اجتماعی عبادات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

  9. ڈاکٹر ظفر مرزا: ہمیں ٹیسٹنگ بڑھانے کی ضرورت ہے

    zafar mirza

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/@MoIBOfficial

    ایک نجی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ہی ملک میں لاک ڈاؤن کرنا ہوگا۔

    انھوں نے وضاحت کی کہ پاکستان میں ایک دن میں تین سے ساڑھے تین ہزار کورونا ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں ٹیسٹنگ زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

  10. بریکنگ, مراد علی شاہ: جو فیصلہ کرنا ہے جلد کریں

    مراد علی شاہ: جو فیصلہ کرنا ہے جلد کریں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گذشتہ ایک روز میں کورونا ٹیسٹ کم ہوئی ہے اور اب تک ٹیسٹنگ کم ہونے کی وجہ سے متاثرین کی تعداد کم ہے۔

    نجی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ وہ اکیلے نہیں کرتے بلکہ سب مل کر یہ فیصلہ کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ آئندہ اجلاس کے دوران وفاقی حکومت سے اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔

    انھوں نے زور دیا کہ پوری دنیا میں اس بات پر غور کیا گیا ہے کہ عالمی وبا کے دوران ’جو بھی فیصلہ کرنا ہے وہ جلد کریں۔‘

    مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ ان سے ’بہت سے لوگوں نے کہا لاک ڈاون بڑھائیں۔ میں نے کہا یہ صرف میرے بس کی بات نہیں ہے۔‘

  11. عمران خان کی ترکی کے صدر طیب اردوغان سے فون پر بات چیت

    عمران خان کی ترکی کے صدر طیب اردوغان سے فون پر بات چیت

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    وزیراعظم عمران خان نے باہمی امور پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور دنیا بھر میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    عمران خان نے بات چیت کے دوران ترکی میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں پر اظہار افسوس کیا۔

    انھوں نے پاکستان کی جانب سے ترکی کے ساتھ مکمل تعاون اور اظہار یکجہتی کا اظہار کیا اور فضائی آپریشنز بند ہونے کے بعد ترک حکام کی جانب سے پھنسے پاکستانیوں کی مدد پر شکریہ ادا کیا۔

  12. ’ابتدائی سات روز والا لاک ڈاؤن چاہیے‘

    سندھ، مراد علی شاہ

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے بعد اب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی لاک ڈاؤن میں سختی کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    مقامی ذرائع کے مطابق ایک اجلاس کے دوران انھوں نے کہا کہ انھیں ’ابتدائی سات روز والا لاک ڈاؤن چاہیے۔‘

    اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں سڑکوں اور دکانوں پر لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    منگل کو مراد علی شاہ سے نجی ہسپتالوں کے مالکان نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ لاک ڈاؤن میں سختی لائی جائے اور اس میں توسیع کی جائے۔

    یاد رہے کہ سندھ پولیس کے مطابق صوبے میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر 4000 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    صوبے میں اب تک کورونا وائرس کے 986 متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے۔

  13. بریکنگ, بلوچستان میں چار نئے مریض، متاثرین کی کل تعداد 206 ہوگئی

    بلوچستان میں چار نئے مریض، متاثرین کی کل تعداد 206 ہوگئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان میں صوبائی محکمہ صحت کے مطابق مزید چار افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں مصدقہ متاثرین کی کل تعداد 206 ہوگئی ہے۔

    دوسری طرف کورونا کے مریضوں میں سے مزید 12 افراد صحتیاب ہوگئے ہیں۔ اب تک بلوچستان میں کل 75 افراد کورونا کی تشخیص کے بعد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    صوبے میں اس عالمی وبا سے اب تک ایک ہلاکت ہوئی ہے۔

  14. محمد حنیف کا ولاگ: سیٹھ کی تجوری کبھی نہیں بھرتی

  15. سندھ: تمام سکولوں کو دو ماہ کی فیسوں میں 20 فیصد رعایت کی ہدایت

    سندھ: تمام سکولوں کو دو ماہ کی فیسوں میں 20 فیصد رعایت کی ہدایت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کی ہدایات پر محکمہ تعلیم کے ڈائیریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز نے تمام نجی سکولوں کو اپریل اور مئی کی فیسوں میں 20 فیصد رعایت کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

    صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا ہے کہ یہ رعایت کورونا وائرس کے باعث صوبے میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے عوام کی سہولت کے پیش نظر دی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ روز قبل ہم نے تمام نجی سکولز کو والدین کو رعایت کی ہدایات دی تھی تاہم اب تمام طلبہ کو 20 فیصد فیسوں میں دو ماہ تک رعایت دینے کی ہدایات دی گئی ہیں۔‘

    نوٹیفیکیشن کے مطابق صوبے بھر کے تمام نجی تعلیمی ادارے اپنے تمام طلبہ کی فیس میں 20 فیصد لازمی رعایت دیں گے۔ یہ رعایت اپریل اور مئی کے مہینوں کی فیسوں میں طلبہ کو دی جائے گی۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سکول کسی بھی تدریسی یا غیر تدریسی عملے کو اس دوران ملازمت سے نہیں نکالے گا۔ ’اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو اس دوران مکمل تنخواہ کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ ایسا نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔‘

    نوٹیفیکیشن کے مطابق اس سلسلے میں اگر اساتذہ کو اپنی شکایات کا اندراج کرانا ہے تو وہ ڈائیریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹیٹیوشن سندھ کو کرسکے گا۔

  16. کورونا وائرس کے سرکاری اعدادوشمار: خیبرپختونخوا کے کچھ اضلاع میں کوئی مریض بھی سامنے نہیں آیا

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خیبر پختونخوا میں چھ اضلاع ایسے ہیں جہاں اب تک کورونا وائرس کا ایک بھی مریض سامنے نہیں آیا اور دو اضلاع ایسے ہیں جہاں کل 500 میں سے 200 مریض سامنے آئے ہیں۔

    صوبے میں کل 34 اضلاع میں سے چھ اضلاع ایسے ہیں جہاں کورونا سے متاثرہ کوئی بھی مریض سامنے نہیں آیا ہے۔ ان میں اپرکوہستان، لوئر کوہستان، کولائی پاس، بٹگرام، چترال اور ٹانک کے اضلاع شامل ہیں۔

    صوبے کے چھ اضلاع ایسے ہیں جہاں صرف ایک ایک مریض کی ہی تشخیص ہوئی ہے۔ ایسے اضلاع میں مالا کنڈ، مہمند، اورکزئی، ٹانک، جنوبی وزیرستان اور تورغر (کالا ڈھاکہ) شامل ہیں۔

    نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ ان اضلاع میں جہاں آبادی کم ہے یا وہاں زیادہ ہجوم نہیں ہوتا تو وہاں اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔

    ذیادہ متاترہ اضلاع کون سے ہیں؟

    صوبائی دارالحکومت پشاور میں کل 105 مریض سامنے آئے ہیں جبکہ مردان شہر میں 100 کے قریب مریضوں میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    کوہاٹ میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 35، سوات میں 24، ایبٹ آباد میں 18، لوئر دیر میں 15 جبکہ اپر دیر میں 22 بنتی ہے۔ ضلع نوشہرہ میں 13 جبکہ مانسہرہ میں ایسے مریضوں کی تعداد 12 تک بنتی ہے۔

    صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس جب شروع ہو رہا تھا اس کے بعد سے بڑی تعداد میں لوگ باہر ممالک سے آئے اور ان میں بیشتر میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔ تاہم ان کے دعوے کے مطابق صوبائی حکومت بڑی حد تک اس وبا پرقابو پانے میں کامیاب رہی ہے۔

  17. پنجاب میں دفعہ 144 پر سختی سے عملدرآمد کا حکم

    عثمان بزدار، پنجاب میں دفعہ 144 پر سختی سے عملدر آمد کا حکم

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Punjab

    منگل کو وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرِ صدارت کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے قائم کابینہ کمیٹی کا ویڈیو لنک پر اجلاس ہوا۔

    اجلاس کے دوران کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال، روک تھام کے اقدامات، مریضوں کے علاج کی سہولیات اور ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیے حفاظتی لباس کی فراہمی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

    حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 پر سختی سے عملدر آمد کا حکم دیا۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں مجموعی طورپرتقریباً 19ہزار کورونا ٹیسٹنگ کٹس موجود ہیں اور ایک دن میں 3100 افراد کی ٹیسٹ ہوسکتی ہے۔

    پاکستان میں صوبہ پنجاب کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں متاثرین کی تعداد 2004 ہے جبکہ اس بیماری سے 15 اموات اور 25 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

  18. پشاور: 14 دن قرنطینہ میں رہنے کے بعد 130 زائرین گھروں کو روانہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    پشاور میں ایسے 130 زائرین جو ایران سے تفتان آئے تھے انھیں 14 دن تک قرنطینہ مرکز میں رہنے کے بعد حکومت کی جانب سے گھروں کو روانہ کر دیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق ان میں سے کسی بھی شخص میں کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  19. اسد قیصر: کورونا کو کسی مذہب یا مسلک سے جوڑنا مناسب نہیں

    اسد قیصر: کورونا کو کسی مذہب یا مسلک سے جوڑنا مناسب نہیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ایک عالمی وبا ہے اور اسے ’کسی مذہب یا مسلک سے جوڑنا غیر مناسب ہوگا اور اس وبا سے نمٹنے کے لیے ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے۔‘

    ایک اجلاس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں اس وقت قوم میں تقسیم کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے۔‘

    سپیکر قومی اسمبلی نے تمام زائرین کے مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی شہریار آفریدی کریں گے اور زائرین سے متعلق کام اور بیرون ملک پھنسے زائرین اور ان کی آمد کے بعد کی صورتحال کو سنبھالیں گے۔

    اسد قیصر نے کہا ہے کہ وہ وطن واپس لوٹنے والے زائرین سے ملاقات کریں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. خیبر پختونخوا میں حجام کی دکانیں 14 اپریل تک بند رکھنے کا حکم

    خیبر پختونخوا میں حجام کی دکانیں 14 اپریل تک بند رکھنے کا حکم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے جاری کردی ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کے دوران بیوٹی پارلر اور حجام کی دکانیں 14 اپریل تک بند رہیں گی۔

    تاہم یہ کہا گیا ہے کہ گھر کے ضروری سامان کی دکانیں، تندور، ملک شاپس، پھل و سبزی کی دکانیں اور دوا خانے 24 گھنٹے کھلے رکھے جائیں گے۔

    رقم کی منتقلی کے مراکز بھی حفاظتی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے کھولے جا سکتے ہیں۔

    خیبر پختونخوا: حجام کی دکانیں 14 اپریل تک بند رہیں گی

    ،تصویر کا ذریعہGovt of KP

    خیبر پختونخوا میں اب تک کورونا وائرس کے 500 متاثرین کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    صوبے بھر میں اس بیماری سے 17 اموات اور 69 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔