پاکستان میں مصدقہ متاثرین 3,157، مجموعی ہلاکتیں 47
پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 3,157 ہو گئی ہے جبکہ اموات کی تعداد 47 ہے۔ آج پنجاب میں متاثرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا، پنجاب میں متاثرین کی مجموعی تعداد 1380 ہو چکی ہے۔
لائیو کوریج
کشمیر: برطانیہ سے آئی خاتون میں وائرس کی تشخیص، کل متاثرین 12, ایم اے جرال، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے زیر انتظام کشمیرمیں ایک عمر رسیدہ خاتون میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد خطے میں متاثرین کی کل تعداد 12 ہوگئی ہے۔
ضلع بھمبر کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر چوہدری محمد اقبال کے مطابق خاتون میں کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہ رواں ماہ برطانیہ سے پاکستان آئی تھیں اور کورونا ٹیسٹ میں نتائج مثبت آنے کے بعد انھیں آئیسولیشن وارڈ میں داخل کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بھمبر ہے جہاں چھ افراد کورونا میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی ہیں.
حکام کے مطابق یہ متاثرین بیرون ملک سے پاکستان آئے یا ان میں یہ وائرس برطانیہ اور سپین سے آنے والوں سے منتقل ہوا۔
کمشنر میرپور محمد رقیب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا پہلا شخص اب صحتیاب ہوگیا ہے اور ضروری چیک اپ کے بعد اسے گھر روانہ کیا جائے گا.
عمران خان: ایک ماہ بعد نہ چاہتے ہوئے بھی لاک ڈاؤن ختم کرنا پڑ جائے گا
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایک ماہ بعد اگر لاک ڈاؤن ایسے ہی جاری رہا تو حالات اتنے خراب ہوجائیں گے کہ ’ہم چاہیں یا نہ چاہیں لاک ڈاؤن کھولنا پڑ جائے گا۔‘
ٹوئٹر پر جاری ایک ویڈیو میں عمران خان نے کہا کہ ایسے حالات میں ایک طرف کورونا وائرس کے متاثرین بڑھ رہے ہوں تو دوسری طرف بھوک کی وجہ سے عوام سڑکوں پر ہوگی۔
انھوں نے انڈیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بغیر سوچے سمجھے لاک ڈاؤن کر دیا گیا جس کے بعد انھیں مشکلات پیش آئیں۔
عمران خان نے کہا کہ ملک میں ’ایک طرف چیلینج بھوک اور دوسری طرف کورونا کا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت مشاورت کے بعد فیصلے کرتی ہے اور 14 اپریل کو ملکی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد لاک ڈاؤن سے متعلق اعلان کیا جائے گا۔
تعمیرات کی صنعت کے لیے مراعاتی پیکج
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم عمران خان نے تعمیرات کی صنعت کے لیے ایک مراعاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے تاکہ کورونا وائرس کی مشکل گھڑی میں اس صنعت میں وابستہ افراد کی مدد کی جاسکے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں پیکج کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ان کے ذرائع آمدن کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے میں فکس ٹیکس متعارف کرایا جائے گا اوراگرسرمایہ کار نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کے تحت تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو ان سے 90 فیصد فکس ٹیکس ختم کر دیا جائے۔ اورانھیں صرف 10 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ سٹیل اور سیمنٹ کے علاوہ تمام شعبوں سے ودہولڈنگ ٹیکس ختم کردیا جائے گا۔
فواد چوہدری: پاکستان میں تیار وینٹی لیٹرز کو آزمایا جا رہا ہے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں تیار کردہ وینٹی لیٹرز کی طبی آزمائش جاری ہے۔
انھوں نے بتایا ہے کہ وینٹی لیٹرز کے دو ڈیزائن پاکستان انجینئرنگ کونسل نے منظور کیے ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان: 114 زائرین نے 14 دن کا قرنطینہ مکمل کر لیا
،تصویر کا ذریعہKP Govt
ایران سے پہلے پاکستان کے سرحدی علاقے تفتان اور اس کے بعد خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں آئے 114 زائرین نے 14 دن کا قرنطینہ مکمل کرنے کے بعد خوشی کا اظہار کیا ہے۔
ان افراد میں میں کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی ہے۔
حکام نے لوگوں سے ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
،تصویر کا ذریعہKP Govt
پاکستان میں کل متاثرین 2691، اموات کی تعداد 39
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں کورونا وائرس کی اس عالمی وبا سے متاثرین کی تعداد 2691 ہوچکی ہے جبکہ 39 ہلاکتوں کو اس سے منسلک کیا گیا ہے۔
اب تک اس وائرس سے 126 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
متاثرین
پنجاب 1069
سندھ 830
خیبرپختونخوا 343
بلوچستان 175
گلگت بلتستان 195
اسلام آباد 68
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر: 11
ہلاکتیں
پنجاب 11
سندھ 14
خیبر پختونخوا 10
گلگت بلتستان 3
بلوچستان 1
سندھ: کل ہلاکتیں 14 ہو گئیں، متاثرین کی تعداد 830
،تصویر کا ذریعہSINDH GOVERNMENT
صوبائی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے سندھ میں 47 نئے کورونا متاثرین کی تصدیق کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رپورٹ ہونے والے تمام کیسز رابطہ کیسز کے طور پر سامنے آئے ہیں یوں صوبے بھر میں رابطہ کیسز یعنی مقامی طور پر وائرس کی منتقلی کے کیسز کی تعداد 438 تک جا پہنچی ہے۔
ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ نئے کیسز میں حیدرآباد اور بدین سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔
محکمہ صحت سندھ کراچی کے اعدادو شمار کے مطابق ٹنڈو محمد خان میں 5 اور جامشورو میں 2 کیسز سامنے آئے ہیں۔
حکام کے مطابق صوبہ سندھ میں اب تک کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور جامشورو کے علاوہ ٹنڈو محمد خان، گھوٹکی، دادو، بدین، شھید بینظیر آباد اور جیکب آباد سے بھی متاثرین سامنے آئے ہیں۔
سندھ میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 830 ہو گئی جبکہ 751 مریض زیر اعلاج ہیں
کراچی میں 329، حیدرآباد میں 149 اور سکھر قرنطینہ میں 248 مریض زیر اعلاج ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سندھ میں 7 ہزار 992 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جمعے کو ہونے والی 3 اموات کے ساتھ سندھ میں کووڈ 19 سے اموات کی کل تعداد 14 ہوگئی ہے۔
سوا پانچ لاکھ کورونا ریلیف ٹائیگر فورس
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کی تعداد سوا پانچ لاکھ تک پہنچ گئی۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہPM OFFICE
،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان میں کورونا کے پھیلاؤ کی تازہ ترین صورتحال, 2644 مصدقہ متاثرین، 38 ہلاکتیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 250 سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد اب ملک میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 2691 ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 38 ہو چکی ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ 149 نئے متاثرین پنجاب میں جبکہ سب سے زیادہ تین ہلاکتیں صوبہ سندھ میں ہوئی ہیں۔ پنجاب پاکستان میں صوبہ پنجاب کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔
پنجاب
صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ 149 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبے میں اب مصدقہ متاثرین کی تعداد 1069 ہو گئی ہے جبکہ اموات کی تعداد 11 ہے۔
ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب کے مطابق صوبے میں قائم قرنطینہ سینٹرز میں 563 متاثرہ زائرین موجود ہیں جبکہ 506 عام شہریوں میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ صوبے میں اب تک چھ افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
لاہور میں 210، گجرات میں 95، راولپنڈی میں 55، جہلم میں 29، گوجرانوالہ میں 15، وہاڑی میں 19، منڈی بہاؤالدین میں 14، سرگودھا میں 10، ننکانہ صاحب میں 13، فیصل آباد میں نو، ڈی جی خان میں پانچ، حافظ آباد میں پانچ، میانوالی میں تین، بہاولنگر میں تین، ناروال، بہاولپور، لودھراں اور ملتان میں دو، دو، جبکہ قصور، شیخوپورہ، اٹک، خوشاب اور چنیوٹ ایک، ایک مریض موجود ہیں۔
اس کے علاوہ ڈی جی خان میں 213 زائرین، ملتان میں 91 زائرین جبکہ رائے ونڈ اور فیصل آباد کے قرنطینہ سینٹرز میں 256 متاثرہ افراد موجود ہیں۔ لاہور کی کیمپ جیل میں بھی تین قیدیوں میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
سندھ
سندھ کی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے باعث تین نئی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 13 ہو گئی ہے۔
سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 47 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد یہاں مصدقہ متاثرین کی تعداد 830 ہو چکی ہے۔
خیبرپختونخوا
خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور خان جھگڑا نے گذشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے میں کورونا کے 32 نئے متاثرین کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں اب مصدقہ مریضوں کی تعداد 343 ہو گئی ہے۔
آج میں سوات میں دس، ہنگو میں آٹھ، ایبٹ آباد میں چھ جبکہ پشاور میں چار نئے مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان متاثرین میں پشاور اور ڈی آئی خان کے قرنطینہ مراکز میں رکھے گئے زائرین بھی شامل ہیں۔
صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 11 ہے۔
گلگت بلتستان
گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق صوبے میں جمعہ کی شام تک کورونا وائرس کے تین نئے مصدقہ کیسز سامنے آنے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 195 ہو گئی ہے۔
گلگت بلتستان میں وبا کے باعث تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فیض اللہ فراق نے صحافی زبیر احمد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاون سے گلگت بلستان میں صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے۔ ’پہلے ہم 50 ٹیسٹ کرتے تھے تو ان میں سے نصف مثبت آتے تھے۔ لاک ڈاؤن کے بعد اب یہ شرح کم ہو کر تین سے چار تک آ گئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر عوام نے لاک ڈاؤن کی اسی طرح پابندی کی تو صورتحال مزید بہتر ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ گلگت بلستان میں نگر اور بلستان کے علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا تھا جس کے تحت یہاں نہ صرف شہری علاقوں بلکہ دیہاتوں تک میں سختی کی گئی ہے۔
فیض اللہ فراق کے مطابق فی الحال گلگت بلستان میں باہر کے لوگوں کو آنے کی اجازت نہیں ہے اور یہاں واپس آنے والے مقامی افراد کی مکمل سکریننگ کی جا رہی ہے۔
بلوچستان
بلوچستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے پانچ نئے کیسز کے بعد یہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 175 ہو گئی ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق بلوچستان میں متاثر ہونے والے افراد میں سے 141 زائرین ہیں جبکہ 34 کیسز مقامی منتقلی کے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثر ہونے والوں میں پی ڈی ایم کے دو ملازمین بھی شامل ہیں جو کہ تفتان میں زائرین سے متاثر ہوئے جبکہ متاثرہ افراد میں نو ڈاکٹر اور آٹھ سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ کورونا سے اب تک بلوچستان میں صرف ایک ہلاکت ہوئی ہے جبکہ صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 17 ہے۔
رپورٹ کے مطابق 230 افراد کے ٹیسٹ کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت قرنطینہ مراکز میں مجموعی طور پر 273 افراد ہیں جن میں 60 سرحدی شہر تفتان اور 17 گوادر میں ہیں جبکہ باقی کوئٹہ کے دو مراکز پی سی ایس آر اور آر ڈی اے میں ہیں۔
پاکستان کا زیر انتظام کشمیر
پاکستان میں ایک پانچ سالہ بچی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد وہ ملک میں کووِڈ 19 کی سب سے کم عمر مصدقہ مریضہ بن گئی ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی نے صحافی ایم اے جرال سے بات کرتے ہوئے ایک پانچ برس کی بچی میں وائرس کی تصدیق کی ہے۔ ڈاکٹر نجیب نقی نے بتایا کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونی والی نوعمر لڑکی کا تعلق بھمبر ہے جس کی والدہ اور ایک بہن پہلے ہی سے کورونا سے متاثر ہیں اور انھیں آئسولیشن وارڈ بھمبر میں رکھا گیا ہے۔
ان کے مطابق متاثرہ بچی قرنطینہ سنٹر بھمبر میں تھی اور اب اس کو آئسولیشن وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ وزیر صحت کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مصدقہ متاثرین کی تعداد اب بڑھ کر 11 ہو چکی ہے۔
اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 68 ہے۔ اب تک تین افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
مظفر آباد میں آئسولیشن ہسپتال کا افتتاح
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں قائم آئسولیشن ہسپتال کا آج افتتاح کیا گیا ہے۔
اس ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو خصوصی ٹریننگ دی گئی ہے۔
آئسولیشن ہسپتال میں کیا سہولیات موجود ہیں، دیکھتے ہیں ایم اے جرال کی اس ویڈیو میں۔۔۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
کراچی میں نمازیوں کا پولیس پر تشدد
،کراچی میں گذشتہ جمعہ کے مقابلے میں اس جمعہ پر نماز کے اجتماعات پر پابندی کا فیصلہ موثر رہا تاہم کراچی میں نا خوشگوار واقعہ پیش آیا۔ محمد نبیل کی رپورٹ
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید
پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج مسلسل جاری ہے۔
جمعرات کو پاکستان میں کیا ہوا جاننے کے لیے کلک کریں