پاکستان میں مصدقہ متاثرین 3,157، مجموعی ہلاکتیں 47
پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 3,157 ہو گئی ہے جبکہ اموات کی تعداد 47 ہے۔ آج پنجاب میں متاثرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا، پنجاب میں متاثرین کی مجموعی تعداد 1380 ہو چکی ہے۔
لائیو کوریج
پاکستان، افغانستان سرحد چار دن کے لیے کھولنے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہAFP
ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستان نے پیر سے چار دن کے لیے افغانستان کے ساتھ طورخم اور چمن سرحدیں کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کورونا وائرس سے بچاؤ سے متعلق اقدامات کے سلسلے میں اسے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کا مقصد پاکستان میں موجود افغان تارکین وطن کو اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دینا ہے۔
ایک بیان میں دفترخارجہ نے کہا ہے کہ حکومت نے یہ اقدام افغانستان کی خصوصی درخواست اور انسانی بنیادوں پر کیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بطور ہمسایہ ملک اور برادرانہ دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں پاکستان نے افغانستان کے عوام کے ساتھ خصوصا عالمی وبا کے تناظر میں یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
کورونا اور تعلیمی سال
’پاکستان کے سخی اور مخیر عوام کورونا کے خلاف متحد‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اپنی ضروریات کی خریداری کے بعد جلد از جلد گھر جانے کے بعد کئی پاکستانی شہری سڑکوں اور گلیوں میں کھڑے اُن لوگوں کی مدد میں مصروف نظر آ رہے ہیں جو ضرورت مند ہیں اور ان کے پاس نہ کھانے کو کچھ ہے نہ پناہ لینے کے لیے کوئی جگہ۔
مکمل خبر پڑھیے: ’پاکستان کے سخی اور مخیر عوام کورونا کے خلاف متحد‘
تھری ڈی وینٹی لیٹرز کی پاکستان میں تیاری کتنی کامیاب؟
ملک میں کورونا کی وبا کے پھیلتے ہی ڈاکٹرز، انجینیئرز اور ملک کے پیشہ ور افراد صحت عامہ کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایسے میں پاکستانی انجینئیر عبداللہ اور ان کی ٹیم نے الیگزینڈر کلارک کی تحقیق کی مدد سے صرف چند ہی دنوں میں نہ صرف وینٹی لیٹر کے ایک آلے کو تیار کر لیا بلکہ اس کا شوکت خانم ہسپتال میں آزمائشی تجربہ بھی کیا۔
مکمل خبر پڑھیے: تھری ڈی وینٹی لیٹرز کی پاکستان میں تیاری کتنی کامیاب؟
کرونا وائرس: پانچ ایسے وبائی امراض جنہوں نے تاریخ بدلنے میں مدد کی
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد دنیا بھر کے لاکھوں افراد اپنی زندگی بسر کرنے کے انداز کو ڈرامائی انداز میں بدل رہے ہیں۔ ان میں سے بہت ساری تبدیلیاں عارضی ہوں گی۔ لیکن تاریخ میں بیماریوں کے بڑے طویل مدتی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
کورونا وائرس: پنجاب میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 1133 ہو گئی
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے پنجاب کے وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزادار نے آگاہ کیا ہے کہ صوبے میں تبلیغی جماعت کے 10623 اراکین کو قرنطینہ کیا گیا ہے اور اب تک 296 تبلیغی جماعت کے ممبران کے کورونا ٹیسٹ نتائج مثبت آئے ہیں۔
اس کے علاوہ 213 زائرین کے نتائج مثبت آئے ہیں جبکہ باقی 525 متاثرہ عام افراد صوبے کے مختلف اضلاع میں موجود ہیں۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
وزیر اعلیٰ پنجاب کے مطابق کورونا کے 220 متاثرین لاہور میں ہیں جبکہ ننکانہ صاحب میں 11، قصور میں 8، راولپنڈی میں 56، جہلم میں 29، شیخوپورہ میں ایک، گجرانوالہ میں 22، اٹک میں ایک، سیالکوٹ میں سات، ناروال میں تین، گجرات میں 93، حافظ آباد میں چھ، منڈی بہاؤ الدین میں 14، ملتان میں چار، وہاڑی میں نو، فیصل آباد میں نو، چنیوٹ میں پانچ، رحیم یار خان میں تین، سرگودھا میں پانچ، میانوالی میں تین، خوشاب میں ایک، بہاولپور میں تین، لودھراں میں تین، ڈی جی خان میں پانچ جبکہ لیہ میں ایک مصدقہ مریض موجود ہے۔
چینی اور آٹا بحران رپورٹ: اہم حکومتی اور سیاسی شخصیات ذمہ دار قرار
ڈاکٹروں کا بلوچستان حکومت سے حفاظتی کٹس مہیا کرنے کا مطالبہ
پاکستان کے ڈاکٹروں کی ملک گیر تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے جنرل سیکریٹری نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو خط میں ڈاکٹروں سمیت نرسوںباقی طبی عملے کو حفاظتی کٹس فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خط میں حکومتِ بلوچستان سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبے بھر میں ٹیسٹنگ کٹس فراہم کی جائیں جبکہ ان ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ارکان کو بھی حفاظتی کٹس فراہم کی جائیں جو معمول کے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں کیونکہ اکثر اوقات متاثرہ شخص کورونا وائرس کا حامل ہوتا ہے لیکن علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔
خط میں انھوں نے حکومتِ بلوچستان کو اپنے مکمل تعاون کا بھی یقین دلایا ہے۔

'تفتان میں ڈیوٹی سے انکار کرنے پر 44 ڈاکٹر معطل'

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
بلوچستان حکومت نے ان 44 ڈاکٹروں کو معطل کر دیا ہے جنھوں نے تفتان میں ڈیوٹی پر جانے سے انکار کیا تھا۔
صوبائی حکومت کے فوکل پرسن برائے انسدادِ کورونا وائرس میر عمیر محمد حسنی نے دالبندین میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ یہ اقدام کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی طبی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
کورونا وائرس: اسلام آباد میں 20 جراثیم کُش واک تھرو گیٹ لگائے جائیں گے
اسلام آباد میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 20 جراثیم کش واک تھرو گیٹ لگانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
چیف کمشنر اسلام آباد عامر علی احمد نے بتایا ہے کہ گیٹ لگانے کا کام سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ مشترکہ طورپر کریں گے۔
حکام کے مطابق ابتدائی طورپر سیکٹر جی نائن کے یوٹیلٹی اسٹور کے باہر واک تھرو گیٹ نصب کیا گیا ہے اور ترلائی پناہ گاہ کے باہر ایک جراثیم کش واک تھرو گیٹ مخیر افراد کے تعاون سے نصب کیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بتدریج پاک سیکرٹریٹ اور آبپارہ یوٹیلٹی اسٹور کے باہر جراثیم کش واک تھرو گیٹ نصب کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں پانچ واک تھرو گیٹ جبکہ ہفتہ وار بازاروں میں بھی گیٹ نصب کیے جائیں گے۔
اسلام آباد کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی ایسے واک تھرو گیٹ کی تنصیب کا کام جاری ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریں, 1X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ایسے ہی واک تھرو گیٹ صوبہ خیبر پختونخوا کی سول سیکریٹریٹ پشاور کے باہر بھی ایک واک تھرو گیٹ نصب کیا گیا ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریں, 2X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
بریکنگ, پاکستان میں کورونا وائرس متاثرین کی کُل تعداد 2820 تک پہنچ گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں کووِڈ-19 کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 2820 ہوگئی ہے۔
سب سے زیادہ متاثرین صوبہ پنجاب میں ہیں جہاں 1131 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے بعد صوبہ سندھ ہے جہاں 839 افراد اس مرض سے متاثر ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 383، گلگت بلتستان میں 195، بلوچستان میں 185، وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں 75، جبکہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 12 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
پاکستان میں اب تک 41 افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 151 افراد اب تک صحتیاب ہو چکے ہیں۔
صحتیاب ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد صوبہ سندھ سے تعلق رکھتی ہے جہاں 86 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔
بلوچستان: مزید ایک شخص میں وائرس کی تصدیق
صوبہ بلوچستان میں ایک مزید شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی کُل تعداد 185 تک پہنچ گئی ہے۔
محکمہ صحت بلوچستان کے ایک اعلامیے کے مطابق صوبے میں اب تک 2872 لوگوں کی سکریننگ کی گئی ہے جن میں سے 2206 افراد کے نتیجے منفی آئے ہیں۔
آج کے روز بلوچستان سے 10 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق صوبے میں صحتیاب ہونے والے متاثرین کی تعداد 17 ہے۔
سندھ میں مزید 12 افراد صحت یاب ہوگئے
سندھ حکومت کے ترجمان سینیٹر مرتضیٰ وہاب نے بتایا ہے کہ سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ مزید 12 افراد صحتیاب ہو گئے ہیں اور ان کے ٹیسٹ کے نتائج منفی آئے ہیں۔
چنانچہ اب سندھ میں وائرس سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 86 ہوگئی ہے۔
صوبے میں مجموعی طور پر متاثرین کی تعداد 839 ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 14 ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
مختلف شہروں میں پولیس کی جانب سے راشن کی تقسیم
پاکستان کے مختلف شہروں میں جہاں مخیر افراد لاک ڈاؤن سے اقتصادی طور پر متاثر ہونے والے افراد کی مدد میں پیش پیش ہیں، تو وہیں پولیس اہلکار بھی اس کام میں کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتے۔
راولپنڈی پولیس کی جاری کردہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار مبینہ طور پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر بند کیے گئے رکشوں اور ٹیکسیوں کو نہ صرف جانے دے رہے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ انھیں راشن کے پیکٹ بھی فراہم کر رہے ہیں۔
X پوسٹ نظرانداز کریں, 1X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
بات کی جائے دارالحکومت اسلام آباد کی تو وہاں بھی پولیس نے ٹیکسیوں والوں کو راشن فراہم کیا اور ان سے لاک ڈاؤن کی پاسداری کرتے ہوئے گھر پر رہنے کے لیے کہا۔
X پوسٹ نظرانداز کریں, 2X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
X پوسٹ نظرانداز کریں, 3X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
اسی طرح سے لاہور کی پولیس نے بھی راشن کے 6000 تھیلے تیار کیے ہیں جنھیں صوبائی دار الحکومت کے مستحق افراد میں تقسیم کیا جانا ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریں, 4X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
وزیرِ اعلیٰ سندھ سے صنعتکاروں کی ملاقات، حکومتی اقدامات اور صنعتیں کھولنے پر گفتگو
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آج سندھ کے بڑے صنعتکاروں کے ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں تاجروں اور صنعتکاروں کے نمائندے، صوبائی وزرا اور اعلیٰ افسران موجود تھے۔
اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ انھوں نے موجودہ صورتحال میں تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے ہیں، اور ان کی حکومت کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ ہر صورت وائرس کو کم کریں۔
‘وائرس کو ختم تب کرسکتے ہیں جب اس کے خاتمے کی کوئی دوائی بن جائے، ابھی اس کا پھیلاؤ روکنے کی پالیسی کے تحت ہم نے سخت اقدامات کیے ہیں۔’
انھوں نے کہا کہ ابھی تک کچی آبادیوں سے کوئی متاثرین سامنے نہیں آئے ہیں۔
انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر وائرس کچی آبادیوں میں پھیل گیا تو اس کو روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ان کی حکومت کے 45 ارب روپے تنخواہوں کی مد میں جاتے ہیں۔ ‘رواں مالی سال کے اخراجات کا آخری مہینہ ہے اس میں ہمیں 60 سے 70 ارب روپے آنے چاہییں، رواں مہینے صرف 33 ارب روپے آئے ہیں۔‘
صنعتوں کے حوالے سے انھوں نے کہا وہ اپنی ٹیم سے مشاورت کریں گے اور دیکھیں گے کہ کون سی صنعتیں کس معیاری طریقہ کار کے تحت کھولی جا سکتی ہیں۔
انھوں نے تاجروں کو یقین دہانی کروائی کہ وہ جائزہ لیں گے کہ تاجروں کی سندھ ریوینیو بورڈ کے ٹیکسوں کی مد میں کیا مدد کی جا سکتی ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
وزیرِ اعظم عمران خان کی وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات
وزیر اعظم عمران خان نے آج لاہور میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات کی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے وزیر اعظم کو کورونا وائرس کی روک تھام اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
اس سے قبل وزیرِ اعظم عمران خان نے ایکسپو سینٹر لاہور میں قائم کیے گئے 1000 بستروں پر مشتمل عارضی ہسپتال کا بھی دورہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPunjab Government
ہسپتال کے دورے کے موقع پر ان کے ساتھ وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور دیگر صوبائی اور وفاقی وزرا بھی تھے۔
وہاں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت روزانہ کی بنیاد پر سوچتی ہے کہ کیا کریں کہ معیشت چلتی رہے، روزگار چلتا رہے اور کورونا بھی نہ پھیلے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کورونا وائرس بھی نہ پھیلے اور غریب طبقے کا خیال بھی رہے۔ 'ہر قسم کا عوامی اجتماع بند ہے مگر کچھ اس طرح کے شعبے کھلے رکھنے ہوں گے جس سے لوگوں کا روزگار چلتا رہے۔`
’دیہاتوں میں تو زرعی شعبہ چل رہا ہے اور اب شہروں میں شعبہ تعمیرات کو کھولا جا رہا ہے تاکہ شہروں میں موجود دیہاڑی دار مزدورں کو روزگار حاصل ہو۔‘
لازمی صنعتیں بتدریج کھولی جائیں گی، فردوس عاشق اعوان

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت لازمی صنعتوں کو بتدریج کھولے گی تاکہ ملک میں خوراک کی رسد متاثر نہ ہو۔
سنیچر کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت نے سامان کی نقل و حمل سے پابندی اٹھا لی ہے تاکہ خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکموت نے 82 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کے لیے 280 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کو پیکج دینے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ کورونا وائرس کی وبا سے جو مزدور بے روزگار ہوئے ہیں، انھیں کام مل سکے۔
بلوچستان: ژوب سے ڈیرہ اسماعیل خان تک قومی شاہراہ چھ مقامات سے بند
صوبہ بلوچستان کی ڈزازسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے مطلع کیا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی انتظامیہ نے ژوب سے ڈیرہ اسماعیل خان تک قومی شاہراہ کو چھ مقامات سے بند کر دیا ہے۔
یہ بندشیں شیرانی کے علاقے سے مغل کوٹ علاقے تک لگائی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ اقدام کووِڈ-19 کی وبا کے باعث لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
کورونا وائرس سے ملک کو نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے، ڈاکٹر ظفر مرزا

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
معاونِ خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کے ساتھ اسلام آباد میں ایک پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا کووِڈ-19 سے جنم لینے والی صورتحال سے نمٹنے میں اہم کردار ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت عوام اور وائرس کے خلاف مصروفِ عمل طبی کارکنوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیاریوں میں مصروف ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید کہا کورونا کے مریضوں کے علاج معالجے میں مصروف تمام طبی عملے کو حفاظتی سامان مہیا کیا جائے گا۔
