آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت

پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔

لائیو کوریج

  1. کراچی: آغا خان ہسپتال کی جانب سے سکریننگ عارضی طور پر بند

    آغا خان ہسپتال کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ کراچی میں سی ایچ سی (کمیونٹی ہیلتھ سینٹر) میں نئے مریضوں کے لیے کووڈ 19 کی تشخیص اور سکریننگ کو عارضی طور پر بند کر رہے ہیں۔

    نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق کراچی میں جمعے کو آغا خان ہسپتال میں کئی لوگوں نے سکریننگ کی درخواست کی تھی۔

    آغا خان کے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سنیچر کو ایمرجنسی اور دوسری سہولیات دستیاب رہیں گی تاہم کووڈ 19 کی تشخیص کا عمل روک دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کرفیو کا مطالبہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ آئسولیشن وارڈ میں صرف 10 بستر اور دو وینٹی لیٹرز موجود ہیں جن سے مریضوں کی بڑھتی تعداد کا علاج ممکن نہیں۔

    انھوں نے حفاظتی سامان میسر کرنے کا بھی مطالبہ کر رکھا ہے۔

  2. بریکنگ, پاکستان میں کورونا کے 510 متاثرین

    سنیچر کو سکھر میں کورونا کے 15 نئے مریضوں کے سامنے آنے سے پاکستان میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 510 ہو گئی ہے۔

    ان میں سے پانچ صحت یاب جبکہ تین ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک شدگان میں سے دو کا تعلق خیبرپختونخوا جبکہ ایک کا کراچی سے ہے۔

    وفاقی اور صوبائی اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں 267، پنجاب میں 96، بلوچستان میں 92، خیبر پختونخوا میں 23 اور دارالحکومت اسلام آباد میں 10 افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے۔

    اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں 21 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی ایک مریض کی تصدیق کی گئی ہے۔

  3. سکھر میں 14 نئے مریض

    سندھ کے محکمۂ صحت کے مطابق سکھر میں قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین میں سے مزید 14 افراد میں کوورنا کے وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

    سنیچر کی صبح محکمۂ صحت کے بیان کے مطابق ان 14 مریضوں کے اضافے کے بعد سکھر میں کوورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 166 تک پہنچ گئی ہے جبکہ صوبے میں اس وائرس کے کل متاثرین 267 ہو گئے ہیں۔

    ان متاثرین میں سے 263 کا علاج جاری ہے، تین صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ ایک شخص اس وائرس سے ہلاک ہوا ہے۔

    سکھر کے بعد صوبے میں سب سے متاثرہ علاقہ کراچی ہے جہاں اب تک 101 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جن میں سے 60 ایسے ہیں جن میں یہ وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سکھر میں آنے والے زائرین میں سے اب تک 559 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 242 منفی اور 166 مثبت آئے ہیں۔

  4. وینٹیلیٹر کی نوبت کب آتی ہے، پاکستان میں کتنے ہیں؟

    کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے زیادہ تر افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ بغیر کسی پیچیدگی کے ان کی صحت بحال ہو جاتی ہے۔ تاہم متاثرہ افراد کی ایک مخصوص شرح میں طبی پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں۔

    تاحال سامنے آنے والے مشاہدات کے مطابق ان میں وہ افراد زیادہ شامل ہیں جو 60 سال سے زیادہ عمر کے ہیں یا وہ جن میں پہلے سے کوئی مرض پایا جاتا ہے۔ اس صورت میں ان متاثرہ افراد کو طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔

    کووِڈ-19 کے بارے میں تاحال زیادہ معلومات میسر نہیں تاہم اس کی ایسی علامات جن کو خطرناک قرار دیا جا رہا ہے ان میں سانس کی روانی میں تعطل کی شکایات اور نظام تنفس میں انفیکشن شامل ہیں۔

    مگر کیا ایسے تمام افراد کو وینٹیلیٹر یا مصنوعی نظامِ تنفس کی بھی ضرورت ہو گی اور کیا کورونا کی صورتحال میں پاکستان خصوصاً صوبہ پنجاب میں یہ موزوں تعداد میں دستیاب ہیں بھی یا نہیں؟

    لاہور کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق 'کوئی بھی شخص جس میں بیماری شدت اختیار کر جائے اور مریض سانس ہی نہ لے سکے تو اسے وینٹیلیٹر پر ڈالنے کی ضرورت پڑتی ہے۔'

    کووِڈ-19 کے مریض میں یہ صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن وینٹیلیٹر پہلے ہی پاکستان میں ضروت سے انتہائی کم تعداد میں میسر ہیں۔ وینٹیلیٹر پاکستان میں مقامی طور پر تیار نہیں ہوتے اور درآمد کرنے پڑتے ہیں اس لیے یہ مہنگے ہیں۔

  5. کورونا: ’پاکستان ممکنہ تباہی کے راستے پر‘

    ماہرِ اقتصادیات عاطف میاں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے بارے میں جو اندازے سامنے آ رہے ہیں وہ تباہ کن ہیں اور اس سلسلے میں فوری، جراتمندانہ اور واضح حکمتِ عملی کے ساتھ اقدامات ضروری ہیں تاکہ عوام اور معیشت دونوں کو بچایا جا سکے

  6. ضروری طبی سامان، مشینوں کی درآمد پر ٹیکس کی چھوٹ

    پاکستان میں فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر طبی سامان اور مشینوں کی درآمد پر ٹیکٹس معاف کر دیا ہے۔

    ادارے کے ترجمان کے مطابق تین ایس آر او جاری ہوئے ہیں۔

    ان کے تحت کرونا وائرس کے علاج کے پیش نظر متعلقہ ضروری طبی سامان اور مشینوں کی درآمد پر عائد سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی و ریگولیٹری ڈیوٹی کی ادائیگی میں تین ماہ کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔

  7. خیبر پختونخوا میں 13 مشتبہ کیسز

    صوبائی وزیرِ صحت تیمور جھگڑا نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے کسی نئے کیس کی تشخیص نہیں ہوئی جبکہ 13 مشتبہ کیسز اب بھی موجود ہیں۔

    انھوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ عالمی سطح پر کورونا وائرس سے متعلق کیسز کے حوالے سے آگاہی حاصل کریں۔

    تیمور جھگڑا نے کہا ہے کہ وائرس سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے سماجی دوری اختیار کریں۔

    خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے 20 سے زیادہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔

  8. بلوچستان میں تین ہفتوں کے لیے جزوی لاک ڈاؤن

    کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے حکومتِ بلوچستان نے تمام شاپنگ مالز اور دیگر عوامی مقامات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ اس فیصلے پر فوری طور پر عملدرآمد ہوگا۔

    نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ریستورانوں میں لوگوں کے بھیٹنے پر پابندی ہوگی۔ ریستوران لوگوں کو گھروں یا اپنے رہائشی مقامات پر کھانا ’ہوم ڈیلیوری‘ کے ذریعے فراہم کرسکیں گے۔

    تین ہفتوں کے لیے تمام مسافر گاڑیوں کی بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندی کے علاوہ شہروں کے اندر مقامی بسوں کی آمد و رفت پر بھی پابندی عائد ہوگی۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا وائرس کے 92 کیسز سامنے آچکے ہیں۔

  9. کراچی کے عوام سے تین دن سیلف آئسولیشن کی اپیل

    پاکستان میں کراچی وہ شہر ہے جہاں اس وائرس کا سب سے زیادہ مقامی سطح پر پھیلاؤ دیکھا گیا ہے اور وہاں 60 سے زیادہ ایسے افراد میں پایا گیا ہے جنھوں نے بیرونِ ملک کا سفر نہیں کیا تھا۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے جمعے کو صوبے کے عوام سے کہا ہے کہ وہ آئندہ تین دن تک کے لیے اپنے طور پر تنہائی اختیار کریں اور کوئی بھی اپنے گھر سے باہر نہ نکلے۔

  10. خیبر پختونخوا میں، چار نئے مریض اور دو ہلاکتیں

    پشاور میں محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق صوبے میں جمعرات کو مزید چار افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد زیرِعلاج مریضوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے جبکہ دو مریض وفات پا چکے ہیں۔

    صوبائی محکمۂ صحت کے مطابق نئے مریضوں میں سے دو بیرونِ ملک سے واپس آئے ہیں جبکہ ایک مریض پہلے سے موجود ایک مریض کا رشتہ دار ہے تاہم چوتھا مریض نہ تو بیرونِ ملک سے آیا اور نہ ہی کسی ایسے فرد سے رابطے میں رہا جو اس مرض کا شکار ہو۔

    نامہ نگار کے مطابق وزیرِ صحت کے مطابق اب صوبے میں جو مصدقہ مریض ہیں ان میں سے اکثریت کا تعلق زائرین کے اس گروپ سے ہے جو ایران سے واپس آیا ہے اور انھیں تفتان سے ڈیرہ اسماعیل خان لایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک مریض کا تعلق بونیر اور ایک کا مانسہرہ سے ہے اور مانسہرہ والے مریض بھی حال ہی میں برطانیہ سے پاکستان آئے تھے۔

    جمعے کو بھی تفتان سے تقریباً 400 زائرین کا ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا ہے۔ ان میں سے لگ بھگ 200 افراد کا تعلق گلگت بلتستان سے بتایا گیا ہے جبکہ باقی صوبے کے مختلف شہروں سے ہیں۔

  11. پنجاب میں کورونا کے مریضوں میں اضافہ، نقل و حرکت پر پابندیاں

    پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی ایران سے آنے والے زائرین کے پہنچنے کے بعد کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق جمعہ کو مزید 16 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد متاثرین کی کل تعداد 96 ہو گئی ہے۔

    پنجاب کے وزارت صحت کے مطابق ان میں سے 71 زائرین، 15 کا تعلق لاہور سے، تین کا گجرات، تین کا مظفر گڑھ، دو کا ملتان سے ہے جبکہ ایک مریض راولپنڈی میں اور ایک جہلم میں سامنے آیا ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت صوبے میں 119 افراد زیرِعلاج ہیں جن میں سے 96 مصدقہ مریض ہیں جبکہ 23 کے بارے میں شبہ ہے کہ ان میں کورونا وائرس ہو سکتا ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب تک صوبے میں 528 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے 409 منفی رہے جبکہ 23 کے نتائج کا انتظار ہے۔

    بدھ کو صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مصدقہ مریضوں میں سے 60 وہ زائرین ہیں جو تفتان کے قرنطینہ میں وقت گزارنے کے بعد پنجاب لائے گئے تھے۔

    پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے بدھ کو بتایا تھا کہ حکام اب ڈیرہ غازی خان میں قرنطینہ میں رکھے گئے تمام زائرین کا ٹیسٹ کر رہے ہیں جبکہ وہاں تفتان سے آنے والے مزید 1276 زائرین کا بھی ٹیسٹ کیا جائے گا۔

  12. سندھ میں پہلی ہلاکت، کراچی میں 93 مریضوں میں وائرس کی مقامی منتقلی

    پاکستان میں صوبہ سندھ بدستور اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے جہاں جمعے کو 11 نئے مریضوں میں وائرس کی تشخیص اور پہلے مریض کی ہلاکت کی تصدیق بھی کر دی گئی ہے۔

    سندھ کی وزیرِ صحت عذرا پیچوہو نے کراچی سے تعلق رکھنے والے 77 سالہ مریض کی کورونا سے ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق یہ شخص کینسر اور ذیابیطس کا بھی مریض تھا اور شہر کے ایک نجی ہسپتال میں داخل تھا۔

    اس مریض کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ مقامی منتقلی کا کیس تھا کیونکہ اس کے حالیہ بیرونِ ملک سفر کی کوئی معلومات موجود نہیں تھیں۔

    نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق وزیرِ صحت نے کراچی میں کورونا وائرس کی عام آبادی میں موجودگی کی بھی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پہلے تو جو لوگ بیرون ممالک سے آ رہے تھے ان میں وائرس کی موجودگی تھی اس کے بعد جو ان کے قریب تھے ان میں منتقل ہوا اور اب ایسے متاثرین آرہے ہیں جن میں کسی متاثرہ فرد سے رابطے کی ہسٹری نہیں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا مطلب یہ کہ آبادی میں وائرس کی گردش ہو رہی ہے اس وجہ سے لوگوں کو نہایت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔‘

  13. سندھ میں ایک طرف رضا کار درکار تو دوسری جانب سرکاری اہلکار غائب

    • کورونا وائرس پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج
    • کورونا: دنیا میں کیا ہو رہا ہے، لائیو
    • کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟
    • کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟
    • کورونا وائرس: ایبوپروفن اور پیراسیٹامول خطرناک یا کارآمد؟
  14. وہ جعلی مشورے جنھیں آپ کو نظر انداز کرنا چاہیے

  15. کورونا کے مریض کی علامات کیا ہیں؟

  16. آپ وائرس سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

  17. کورونا کے مریض دنیا میں کہاں کہاں ہیں؟

    دنیا بھر میں کووڈ-19 نامی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے اسے عالمی وبا قرار دیا گیا ہے اور جہاں اب چین میں اس کے نئے متاثرین کی تعداد کم ہوئی ہے وہیں یورپ اس کا نیا مرکز بن چکا ہے۔

    اب تک یہ مرض دنیا کے 170 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

  18. سماجی دوری یا خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

    جب ہمیں کسی عالمی وبا کا سامنا ہو تو عام آدمی کے لیے اس سے متعلق معلومات کا حصول اہم ہوتا ہے۔

    ان معلومات میں اپنے تحفظ کی معلومات سب سے اہم ہوتی ہیں لیکن اکثر یہ معلومات لوگوں کو الجھن میں بھی مبتلا کر دیتی ہیں کیونکہ وہ ان اصطلاحات کا مطلب سمجھ نہیں پاتے جنھیں اختیار کرنے کا مشورہ انھیں دیا جا رہا ہوتا ہے۔

    کورونا وائرس کے عالمی پھیلاؤ کے بعد ’سوشل ڈسٹینسنگ‘ یا ’سیلف آئسولیشن‘ جیسی اصطلاحات بھی کچھ ایسے ہی الفاظ ہیں۔