اسلام آباد کے نواح میں بھارہ کہو کے علاقے کوٹ ہتھیال میں تبلیغی جماعت کے مزید پانچ ارکان میں کورونا کی تصدیق کے بعد علاقے کو ’لاک ڈاؤن‘ کر دیا گیا ہے۔
نامہ نگار حمیرا کنول کے مطابق یونین کونسل کوٹ ہتھیال کو پیر کی سہ پہر لاک ڈاؤن کیا گیا. بھارہ کہو تھانے کے 50 اہلکاروں کو اس علاقے میں تعینات کیا گیا ہے جو رہائشیوں کے علاوہ کسی کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سے دو کلومیٹر کے علاقے کو سِیل کیا گیا ہے اور پولیس کے علاوہ محکمہ صحت کی ٹیمیں علاقے میں سکریننگ کر رہی ہیں۔
علاقے کے ایک مکین زاہد محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ تبلیغی جماعت کے اراکین بدھ کو مسجد بلال میں آ کر رکے تہے جن میں وسط ایشائی ملک کے باشندے بھی شامل تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ’یہ لوگ دیگر لوگوں سے بھی ملے اور ہم نے جمعے کی نماز ان کے ساتھ پڑھی تھی۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز اسلام آبآد کے ڈپٹی کمشنر نے ایک ٹویٹ میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ بھارہ کہو کی ایک مسجد میں تبلیغی جماعت اور خطیب نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جبکہ انھیںں معلوم تھا کہ ایک شخص میں کورونا وائرس کی علامات ہیں. ڈپٹی کمشنر کی جانب سے شائع کی جانے والی تصویر میں مسجد میں جراثیم کش سپرے کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا تھا۔
اے ایس پی بھارہ کہو حمزہ امان اللہ کا کہنا ہے کہ کوٹ ہتھیال میں چھ غیرملکیوں سمیت 13 افراد کی جماعت تبلیغ پر تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلے کرغزستان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد پولیس نے مقامی مسجد کو سیل کر کے تبلیغی جماعت کے 11 افراد کو بھارہ کہو سے حاجی کیمپ منتقل کر دیا تھا۔
حکام کے مطابق اس کے بعد جماعت میں شامل مزید پانچ افراد کا ٹیسٹ کیا گیا جو مثبت آیا۔ ان پانچ افراد میں سے دو غیر ملکی جبکہ تین پاکستانی ہیں۔
پولیس افسر کے مطابق یہ ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد جہاں اس تبلیغی جماعت میں شریک باقی افراد کے بھی ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں وہیں کوٹ ہتھیال کے خارجی و داخلی راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ جبکہ علاقے میں دودھ، کریانہ اور بیکری کے علاوہ باقی دکانیں بند کروا دی گئی ہیں۔
حمزہ امان اللہ کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے احکامات کے بعد بھارہ کہو کے مرکزی بازار کو بھی بند کروایا جائے گا۔
ان کے مطابق تمام علاقے کو قرنطینہ میں بدل دیا گیا ہے اور ضلعی انتظامیہ اہل علاقہ کے بھی ٹیسٹ کروائے گی۔