کورونا وائرس: کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک طرف رضا کار درکار تو دوسری جانب سرکاری اہلکار غائب

    • مصنف, بی بی سی نامہ نگار ریاض سہیل اور
    • عہدہ, صحافی محمد زبیر
  • وقت اشاعت

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے مقامی طور پر کیا ہوسکتا ہے؟ یہ سوال خیرپور کے گاؤں جانجی برڑا کے نوجوانوں کے بھی ذہن میں آیا ہے اور اس کا جواب بھی انھوں نے خود تلاش کیا اور پورے گاؤں میں اپنی مدد آپ کے تحت جراثیم کش دوا کا سپرے کیا۔

شمالی سندھ کا گاؤں جانجی برڑا سکھر شہر سے تقریباً 35 کلومیٹر دور ہے۔ سکھر میں ان دنوں سندھ کا سب سے بڑا قرنطینہ مرکز ہے جہاں ایران سے آنے والے آٹھ سو کے قریب زائرین کو رکھا گیا ہے جن میں سے بدھ کی صبح تک 143 کیس پازیٹو آ چکے تھے۔

جانجی برڑو گاؤں کے نوجوان آکاش بررڑو نے بی بی سی کو بتایا کہ سکھر میں زائرین آرہے تھے، ان میں پازیٹو کیس بھی سامنے آئے ہیں اور اس صورتحال میں انھوں نے حفاظتی اقدامات کے طور پر سپرے کرنے کا فیصلہ کیا ورنہ ان کے گاؤں میں میں ایسا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’وائرس کی افراتفری مچی ہوئی ہے۔ ہم نے آپس میں مشاورت کی کہ کیا کرنا چاہیے تو تجویز آئی کہ جراثیم کش سپرے کرانا چاہیے۔ ڈاکٹروں اور مقامی ماہرین سے معلوم کیا کہ کیا دوائیں استعمال کریں تو انھوں نے مشورہ دیا کہ ڈیٹول استعمال کریں، اس میں ہم نے مرغی کے فارم میں استعمال کی جانے والی جراثیم کش دوائی بلورین کا بھی استعمال کیا جس سے انسان یا کسی جاندار کو نقصان نہیں پہنچتا۔‘

آکاش برڑو کا ایک بازو بچپن میں مشین کے بیلٹ میں آکر ضائع ہوچکا ہے، ان کی سپرے کے آلات سے تصاویر جب سوشل میڈیا پر آئیں تو انہیں خوب سراہا گیا۔

’ہمارا گاؤں اتنا بڑا نہیں دو سو گھروں پر مشتمل ہے۔ ہم ٹیم میں سات آٹھ بندے تھے ہمیں صرف ڈیڑھ سے دو گھنٹے مشکل سے لگے پورے گاؤں میں سپرے کرلیا۔ ان ادویات کی رقم ہم نے اپنی جیب سے ادا کی تھی ہمیں کسی کی مالی مدد حاصل نہیں۔‘

ادھر حکومت سندھ کے محکمہ قدرتی آفات نے رضاکاروں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کیے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس میں حکومت کے مددگار بنیں۔

صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ جو بھی رضاکار بننے کے خواہشمند ہوں وہ آن لائن اپنی رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔

’ہم نے رضاکاروں کی مہارت کے حساب سے مختلف کیٹگریز بنائی ہوئی ہیں۔ انہیں ذمہ داریاں سونپی جائیں گی جیسے کوئی طب کے شعبے سے تعلق رکھتا ہے کوئی عام معمولات سرانجام دے سکتا ہے تاہم انہیں فرنٹ لائن پر نہیں بھیجا جائے گا دفتر کا کام کاج لیا جائے گا۔‘

محکمہ قدرتی آفات کا کہنا ہے کہ ان رضاکاروں کی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن یا جو متعلقہ محکمہ ہے، ان سے تربیت کرائی جائے گی، اور جن سرکاری یا نجی شعبوں میں کام بند ہو گیا ہے وہاں کے ورکر ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں انہیں ہم اپنے مقصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

’جیسے سکھر میں اتنے لوگ آگئے ہیں کہ انہیں ہینڈل کرنا دشوار ہو رہا ہے۔ ہمارا محدود سٹاف ہوتا ہے اس مقصد کے لیے ہم رضاکار چاہتے ہیں۔ ہم نے سکھر قرنطینہ سینٹر میں قیام کی سہولیات میں حکومت کو مدد فراہم کی تھی، چارپائیوں، بستروں اور پانی کا بندوبست کیا۔‘

نجی تعلیمی ادارے اقرا یونیورسٹی کے چانسلر حنید لاکھانی نے بھی عوام میں شعور اور آگاہی کے لیے آن لائن کورسز کا آغاز کیا ہے، جس میں نہ صرف اقرا یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبات جبکہ دیگر دلچسپی رکھنے والے نوجوان بھی شریک ہوسکتے ہیں۔

’چین، ایران اور اٹلی میں دیکھا گیا ہے کہ ڈاکٹر، پیرا میڈیکس، نرسز اور ٹیکنینشنز کی قلت ہوجاتی ہے کیونکہ وہ خود بیمار پڑ جاتے ہیں یا تھک جاتے ہیں۔ ہم نے ایک ہزار لوگوں کا تربیتی پروگرام شروع کیا ہے جس کے بعد ہمارے پاس کافی تعداد میں رضاکار دستیاب ہوں گے، جو ایک ہفتے کا کریش کورس کر کے ہسپتال میں جا کر کام کر سکیں گے۔‘

سرکاری اہلکاروں کو شوکاز نوٹس

صوبہ سندھ کی جانب سے سکھر میں قائم کیمپ میں لائے گے زائرین کی تعداد 1060 ہوچکی ہے۔

ڈپٹی کمشنر سکھر رانا عدیل کے مطابق بدھ کے روز مزید 757 افراد کو قرنطینہ سینٹر میں لایا گیا ہے۔ ان زائرین کو بلوچستان سے جیکب آباد اور شکارپور کے راستے سے سخت سیکورٹی میں کیمپ میں منتقل کیا گیا تھا۔

سکھر کیمپ میں جہاں پر زیر نگرانی رکھے جانے والے زائرین کی تعداد بڑھنے کے ساتھ مسائل میں اضافہ ہورہا ہے وہیں سکھر کے 27 محکمہ صحت کے اہلکاروں کو فرائض کی عدم انجام دہی پر شوکارز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔

سکھر کے ڈسڑکٹ ہیلتھ آفسیرڈاکٹر منیر احمد کی جانب سے 27 اہلکاروں کو جاری کردہ شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو سکھر کی لیبر کالونی میں قرنطینہ کیمپ میں فرائض انجام دینے کی ہدایت کی گئی تھی مگر ابھی تک آپ لوگ وہاں پر حاضر نہیں ہوئے ہیں جس پر سندھ سول سروسز رول 1973 کے تحت آپ لوگوں کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔ شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ غیر حاضر اہلکار ڈیوٹی پر حاضر ہوں اور یہ وضاحت کرئیں کہ وہ کیوں ڈیوٹی پر کیوں نہیں آئے۔

محکمہ صحت سکھر کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صورتحال یہ ہے کہ مذکورہ اہلکاروں کی جانب سے فرائض کی عدم ادائیگی کی وجہ کورونا وائرس کا خوف ہے۔

ڈبیلو ایچ او پاکستان کے مطابق سکھر کیمپ میں موجود کورونا مریضوں کی تعداد 151 تک پہنچ چکی ہے۔

ضلع سکھر کی انتظامیہ سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق سکھر میں قائم کردہ کیمپ میں ہر شخص کے لیے علیحدہ کمرہ قائم کیا گیا تھا جس میں بارہ سو کمرے تیار کروائے گئے تھے جو اب تقریباً مکمل طور پر بھر چکے ہیں۔

تاہم ڈپٹی کمشننر سکھر عدیل رانا کے مطابق اگر حکومت ان سے مزید زائرین کو ٹھرانے کا انتظام کرنے کو کہے گئی تو وہ ایسا کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کیمپ کے انتظامات میں انتظامیہ کو مختلف شعیہ تنطیموں کے رضاکاروں کی بھی مدد بھی حاصل ہے جبکہ ان کے اہلکار بھی کام کر رہے ہیں۔

کیمپ میں موجود سہولتیں اور مسائل

کیمپ میں رضاکارانہ طور پر سرگرم تنظیم وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری چوہدری اظہر کا کہنا ہے کہ کیمپ میں حکومت کی جانب سے دو وقت کھانا اور ایک وقت کا ناشتا فراہم کیا جارہا ہے۔ تاہم شروع میں کھانا تاخیر سے آتا تھا مگر اب کھانا وقت پر پہنچ جاتا ہے جس کی تقسیم وہ اور ان کے رضا کار کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی ایک لوگ پرہیزی کھانا استعمال کرتے ہیں جس کے لیے جب انتظامیہ سے کہا گیا تو اب پرہیزے کھانا بھی دستیاب ہوتا ہے۔ اسی طرح میڈیکل کیمپ بھی موجود ہے جہاں پر نزلہ، زکام، بخار، کھانسی وغیرہ کی ادوایات موجود ہیں جو کہ عموماً اُن مریضوں پر استعمال ہورہی ہیں جن کورونا کے مریض ہوتے ہیں۔ اسی طرح ماسک اور ٹوپیاں وغیرہ بھی موجود ہیں۔

مگر اس کے علاوہ دیگر امراض کی ادوایات میں مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی ایک دیگر امراض کا شکار لوگ بھی موجود ہیں جو ان کی ادوایات خود لاتے ہیں بعض اوقات سرکاری طور پر بھی فراہم کردی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی وغیرہ کے مسائل حل ہوچکے ہیں۔

عدیل رانا کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کورونا کے ٹیسٹ اور ادوایات کے حوالے سے مکمل تیاری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’چھوٹے موٹے مسائل کو حل کررہے ہیں جو کہ امید ہے کہ ایک دو دن میں حل ہوجائیں گے۔‘