گذشتہ روز اسلام آباد میں شہر کے مختلف ہسپتالوں کے نمائندوں جن میں ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف شامل ہیں کی طرف سے کی گئی ایک پریس کانفرنس کا کلپ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وائرل ہوا تھا جس میں ڈاکٹر اسفند یار خان خطاب کرتے ہوئے کورونا وائرس کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کر رہے تھے۔
اس ویڈیو میں انھوں نے انکشاف کیا اسلام آباد میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سہولیات ناکافی ہیں اور پمز ہسپتال میں صرف 10 بستروں پر محیط آئسولیشن وارڈ ہے جس میں صرف دو وینٹیلیٹرز موجود ہیں اور آئسولیشن وارڈ کے ہسپتال میں ہونے کے باعث وہاں آنے والے دیگر مریضوں کو اس سے خطرہ ہے۔
ینگ کنسلٹنٹس اسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین اسفند یار خان نے بی بی سی کی سحر بلوچ سے بات کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ویڈیو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ پریس کانفرنس دراصل ایک گھنٹے کی تھی جس میں سے صرف چھ منٹ کا ویڈیو کلپ عام ہوا ہے۔
’ہمارا مقصد حکومت پر تنقید کرنا نہیں بلکہ ان کی تصحیح کرنا ہے۔ اگر حکومت چاہے تو ہمیں تفتان بارڈر بھیج دے اور ہم وہاں پر کام کر لیں گے۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہسپتالوں کی او پی ڈی کو بند کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پمز ہسپتال میں ایک وقت میں 10 ہزار کے قریب مریض آتے ہیں اور ان سب کی سکریننگ نہیں ہوئی جس کے نتیجے میں کورونا وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔
’ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ جو دس بستروں پر مشتمل آئسولیشن وارڈ حکومت نے پمز ہسپتال کے اندر بنایا ہے اس کے لیے ایک الگ جگہ مختص کی جا سکتی ہے اور ہسپتال میں آنے والے سٹاف کی تعداد کم کر کے صرف کورونا وائرس کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں تک محدود کر دینا چاہیے۔
انھوں نے کہا ان تجاویز کا مقصد کسی بھی طرح سے حکومت کے خلاف نہیں بلکہ حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس وقت پمز میں کام کرنے والے ڈاکٹر بغیر کسی حفاظتی سامان کے اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پولن الرجی کے مریض جن کو اس دوران ہسپتال آنا پڑتا ہے ان کے لیے ایک علیحدہ کاؤنٹر تیار کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح چند ڈاکٹرز پر مشتمل ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی ایک الگ کاؤنٹر بنایا جا سکتا ہے۔