آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت

پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں کورونا وائرس ہیلپ لائن نمبرز

    حکومتِ پاکستان نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ہیلپ لائنز متعارف کروائی ہیں۔

    لوگ حکومت کی طرف سے فراہم کردہ نمبر 1166 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    جبکہ دیگر نمبر درج ذیل ہیں:

    وٹس ایپ نمبر: 03349241133

    وفاق: 0511166

    پنجاب: 080099000

    سندھ: 02199206565، 02199204452

    کے پی: 0911700

    بلوچستان: 00819241133، 00819241122

  2. ’اتوار اور پیر کی چھٹی پر گھر پر رہیں‘

    ڈاکٹر ظفر مرزا نے تفتان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تفتان میں حکومتی اقدامات اتنے اچھے تھے کہ وہاں سے فوراً حکومت کو مثبت کیسز کے بارے میں پتا چلا۔

    انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ سنیچر، اتوار اور پیر کی چھٹی پر وہ گھروں پر رہیں تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید بتایا کہ کورونا وائرس کے معاملے پر سماجی دوری حکومت کی پالیسی ہے اور انھوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ دیگر لوگوں سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھیں۔

  3. مرتضیٰ وہاب کراچی میں عوام سے ناخوش

    وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے کراچی میں عوام کی جانب سے تین دن کے لیے گھروں میں رہنے کی اپیل پر مکمل طریقے سے عمل نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    خیال رہے کہ کراچی وہ شہر ہے جہاں اس وائرس کا سب سے زیادہ مقامی سطح پر پھیلاؤ دیکھا گیا ہے اور وہاں 60 سے زیادہ ایسے افراد میں پایا گیا ہے جنھوں نے بیرونِ ملک کا سفر نہیں کیا تھا۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے جمعے کو صوبے کے عوام سے کہا ہے کہ وہ آئندہ تین دن تک کے لیے اپنے طور پر تنہائی اختیار کریں اور کوئی بھی اپنے گھر سے باہر نہ نکلے۔

  4. بریکنگ, بین الاقوامی فضائی آپریشن چار اپریل تک معطل تاہم کورونا ٹیسٹ کی شرط ختم

    پاکستان نے 21 مارچ سے دو ہفتوں کے لیے کسی بھی غیرملکی پرواز کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    وزیراعظم کے مشیر معید یوسف نے سنیچر کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ 21 مارچ کی شام سے عائد ہونے والی یہ پابندی چار اپریل تک نافذ رہے گی۔

    معید یوسف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس پابندی کا اطلاق سفارت کاروں اور کارگو پروازوں پر نہیں ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگلے دو ہفتوں میں پاکستان میں دو لاکھ مسافروں کی آمد متوقع تھی اور دنیا بھر میں پاکستان کے سفارتی مشنز کو پاکستانی مسافروں کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    وزیراعظم کے مشیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت نے بیرونِ ملک سے پاکستان آنے والے افراد کے لیے کورونا ٹیسٹ کی شرط ختم کر دی ہے اور فضائی آپریشن کی بحالی کے بعد آنے والے افراد کو ٹیسٹ کروانا ضروری نہیں۔

  5. بریکنگ, پاکستان میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 534، مشتبہ مریض چار ہزار

    وزیرِ مملکت برائے صحت ظفر مرزا نے سنیچر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں اس وقت چار ہزار سے زیادہ افراد میں کورونا کے وائرس کی موجودگی کا شبہ ہے جبکہ 534 میں اس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جمعے کی شام تین بجے سے اب تک 65 نئے مریض سامنے آ چکے ہیں۔

    ظفر مرزا کے مطابق اس اب تک سندھ میں 259، پنجاب میں 104، بلوچستان میں 103، خیبر پختونخوا میں 27, گلگت بلتستان میں 30 اور اسلام آباد میں کورونا سے 10 افراد متاثر ہوئے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی ایک مریض کی تصدیق کی گئی ہے۔

    ان متاثرین میں سے پانچ صحت یاب ہو چکے جبکہ تین جانبر نہ ہو سکے۔ اس طرح ملک میں زیرعلاج مریضوں کی تعداد 526 ہے۔

    خیال رہے کہ سندھ حکومت نے سنیچر کی صبح تک 267 افراد میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی تھی جبکہ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے صوبے میں متاثرین کی تعداد 25 بتائی ہے۔

  6. سکھر قرنطینہ مرکز میں کشیدگی

    سکھر میں رضاکاروں کو سامان لے جانے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوئی، پولیس اور رینجرز کی جانب سے رضاکاروں کو گیٹ پر روکا گیا جس کے بعد ایک مذہبی جماعت کے رکن نے وائس میسیج بھیجا جس کے بعد زائرین باہر نکل آئے۔

    نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سکھر لیبر کالونی میں اس وقت ایران سے آنے والے ایک ہزار کے قریب افراد قرنطینہ میں موجود ہیں۔

    امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، مجلس وحدت مسلمیین، جعفریہ ڈزاسٹر مینجمنٹ سیل اور سندھ اسکاؤٹس کے رضاکار یہاں تعینات ہیں، جنھیں کمشنر سکھر کی جانب سے خصوصی پاسز جاری کیے گئے ہیں۔

    کمشنر سکھر شفیق مہیسر سے رابطہ کے لیے بار بار کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ تاہم پولیس حکام نے بتایا ہے کہ رضاکاروں کے کارڈ پر تین متاثرین نے باہر جانے کی کوشش کی تھی جس کے بعد سختی کی گئی ہے۔

    آئی ایس او کے مرکزی جنرل سیکریٹری علی اویس زیدی جو اس وقت وہاں موجود ہیں بتایا کہ رات کو جب کھانا لایا گیا تو پولیس اور رینجرز نے روک دیا جس کے بعد کمشنر سے رابطہ کیا گیا اس کے بعد اندر جانے کی اجازت دی گئی۔

    انھوں نے بتایا کہ متاثرین کے لیے کھانے پینے، شیونگ کے بلیڈ سمیت ہر ضرورت کی اشیا پہنچائی جا رہی ہے تاہم سنیچر کی صبح انتظامیہ نے دوبارہ اندر جانے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد تلخ کلامی ہوئی اور لوگ بھی بطور احتجاج شامل ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ ’جب انتظامیہ نے کارڈ جاری کیے ہیں تو انہیں کیوں قبول نہیں کیا جارہا ہے۔‘

    اویس زیدی کے مطابق رضاکار اس وقت جنگ کے میدان جیسی صورتحال میں ہیں وہ بھی متاثر ہوسکتے ہیں لیکن جذبے کے تحت کام کر رہے ہیں۔

  7. بریکنگ, بلوچستان میں کورونا کے 12 نئے مریض

    بلوچستان میں سنیچر کو کورونا وائرس کے 12 نئے مریض سامنے آ گئے ہیں۔

    نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق چیف سیکریٹری فضیل اصغر کا کہنا ہے کہ صوبے میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 104 تک پہنچ گئی ہے۔

  8. مفت طبی مشورے

  9. بریکنگ, خیبر پختونخوا میں مزید دو مریض، متاثرین کی تعداد 25, پاکستان میں متاثرین 512

    خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے سنیچر کو پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ صوبے میں مزید دو افراد میں کورونا کے وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق نئے مریضوں کا تعلق پشاور اور ضلع خیبر کے علاقے باڑہ سے ہے۔ مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے بتایا کہ ان دونوں نے ملائشیا اور سعودیہ عرب کا سفر کیا تھا۔

    اس طرح خیبر پختونخوا میں اس وائرس کا شکار افراد کی تعداد 25 ہو گئی ہے جن میں سے دو کی ہلاکت ہو چکی ہے جبکہ 23 زیرِ علاج ہیں۔

    اجمل وزیر کے مطابق صوبے میں کل مشتبہ افراد کی تعداد 130 تھی جن میں 59 افراد میں وائرس کی تصدیق نہیں ہو سکی باقی کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں لیکن اب تک ان کے نتائج نہیں آئے۔

    پاکستان میں جمعے کو 16 نئے مریض سامنے آنے کے بعد اس وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد اب 512 ہو گئی ہے۔ نئے مریضوں میں سے 14 کی تشخیص سکھر میں جبکہ دو کی خیبرپختونخوا میں ہوئی ہے۔

  10. پیمرا: تمام چینلز فلمیں، ڈرامے دکھائیں تاکہ لوگ گھروں میں رہیں

    پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا نے تمام میڈیا ہاؤسز کو ہدایت جاری کی ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

    اس ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ:

    • حاضرین کو شو پر بلائے بغیر سماجی دوری کو فروغ دیں
    • ایسے پروگرام، فلمیں، ڈرامے اور ایوارڈ شوز دیکھائیں جن میں لوگوں کی دلچسپی ہو اور جن کی مدد سے لوگ گھروں میں قیام کر سکیں
    • خوف کو فروغ نہ دیں اور ذمہ داری کے ساتھ رپورٹنگ کریں
    • عوامی خدمت کے پیغامات کے ذریعے لوگوں تک آگاہی فراہم کی جائے
    • ٹی وی شوز میں شامل افراد کے درمیان کم از کم ایک میٹر کی دوری برقرار رکھی جائے
  11. ٹیسٹ دوبارہ مثبت آنے پر 12 سالہ بچہ ڈسچارج نہیں ہوسکا

    نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کورونا سے متاثرہ بچے کے ٹیسٹ دوسری بار مثبت آئے ہیں جس کے باعث انھیں ہسپتال سے ڈسچارج نہیں کیا جاسکا۔

    12 سالہ بچے کا تعلق سندھ کے علاقے دادو سے ہے۔ یہ بچہ تھیلیسمیا کا بھی شکار ہے۔ یہ اور اس کے رشتہ دار زیارت پر ایران گئے تھے اور ان کو تفتان سے کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا۔

    اس وقت یہ بچہ کوئٹہ کے فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل ہسپتال کے آئسو لیشن سینٹر میں زیرِعلاج ہے۔

    ہسپتال کے ایک سینیئر ڈاکٹر نے بتایا کہ صحت بہتر ہونے کے باعث بچے کو سنیچر کو ڈسچارج کیا جانا تھا لیکن اس میں دوبارہ کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔

    ڈاکٹر کے مطابق اس صورتحال کی وجہ سے ان کو ڈسچارج نہیں کیا جاسکا اور وہ مزید آسو لیشن سینٹر میں رہیں گے۔

  12. ’اسلام آباد میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سہولیات ناکافی ہیں‘

    گذشتہ روز اسلام آباد میں شہر کے مختلف ہسپتالوں کے نمائندوں جن میں ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف شامل ہیں کی طرف سے کی گئی ایک پریس کانفرنس کا کلپ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وائرل ہوا تھا جس میں ڈاکٹر اسفند یار خان خطاب کرتے ہوئے کورونا وائرس کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کر رہے تھے۔

    اس ویڈیو میں انھوں نے انکشاف کیا اسلام آباد میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سہولیات ناکافی ہیں اور پمز ہسپتال میں صرف 10 بستروں پر محیط آئسولیشن وارڈ ہے جس میں صرف دو وینٹیلیٹرز موجود ہیں اور آئسولیشن وارڈ کے ہسپتال میں ہونے کے باعث وہاں آنے والے دیگر مریضوں کو اس سے خطرہ ہے۔

    ینگ کنسلٹنٹس اسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین اسفند یار خان نے بی بی سی کی سحر بلوچ سے بات کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ویڈیو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ پریس کانفرنس دراصل ایک گھنٹے کی تھی جس میں سے صرف چھ منٹ کا ویڈیو کلپ عام ہوا ہے۔

    ’ہمارا مقصد حکومت پر تنقید کرنا نہیں بلکہ ان کی تصحیح کرنا ہے۔ اگر حکومت چاہے تو ہمیں تفتان بارڈر بھیج دے اور ہم وہاں پر کام کر لیں گے۔‘

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہسپتالوں کی او پی ڈی کو بند کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پمز ہسپتال میں ایک وقت میں 10 ہزار کے قریب مریض آتے ہیں اور ان سب کی سکریننگ نہیں ہوئی جس کے نتیجے میں کورونا وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔

    ’ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ جو دس بستروں پر مشتمل آئسولیشن وارڈ حکومت نے پمز ہسپتال کے اندر بنایا ہے اس کے لیے ایک الگ جگہ مختص کی جا سکتی ہے اور ہسپتال میں آنے والے سٹاف کی تعداد کم کر کے صرف کورونا وائرس کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں تک محدود کر دینا چاہیے۔

    انھوں نے کہا ان تجاویز کا مقصد کسی بھی طرح سے حکومت کے خلاف نہیں بلکہ حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس وقت پمز میں کام کرنے والے ڈاکٹر بغیر کسی حفاظتی سامان کے اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پولن الرجی کے مریض جن کو اس دوران ہسپتال آنا پڑتا ہے ان کے لیے ایک علیحدہ کاؤنٹر تیار کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح چند ڈاکٹرز پر مشتمل ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی ایک الگ کاؤنٹر بنایا جا سکتا ہے۔

  13. پاکستان، افغانستان سرحد ایک روز کے لیے کھول دی گئی

    نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بلوچستان میں چمن کے مقام پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو ایک روز کے لیے یکطرفہ طور پر کھول دیا گیا جس کی وجہ سے ٹرک بڑی تعداد میں افغانستان میں داخل ہوگئے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم کی طرح سرحدی شہر چمن بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑی گزرگاہ ہے۔

    اس علاقے سے افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندہار اور جنوب مغربی علاقوں کے علاوہ وسط ایشیائی ریاستوں کے درمیان لوگوں کے علاوہ مال بردار گاڑیوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔

    کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث سرحد کی بندش کی وجہ سے افغانستان جانے والی مال بردار گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد چمن میں پھنس گئی تھی۔

    افغان حکام کی درخواست پر وزیر اعظم عمران خان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سرحد کو کھول دینے کا حکم دیا تھا۔ اس حکم کے تحت سنیچر کو سرحد کھول دی گئی جس کے بعد چمن میں پھنسی گاڑیوں کو افغانستان میں داخل ہونے دیا گیا۔

  14. بریکنگ, پی آئی اے کی بین الاقوامی پروازیں ایک ہفتے کے لیے معطل

    پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کی ہدایات کے مطابق پی آئی اے نے اپنی تمام بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

    نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق ترجمان عبداللہ خان کا کہنا ہے کہ پابندی کا اطلاق سنیچر 21 مارچ شب آٹھ بجے سے لے 28 مارچ تک ہو گا۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ پروازوں کے منسوخی کا فیصلہ حکومت پاکستان کی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے سدباب کی کوششوں کے تناظر میں کیا گیا

  15. بریکنگ, 34 ٹرینیں 15 رمضان تک کے لیے معطل

    پاکستان میں ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے اقدامات کے تحت ملک میں چلنے والی 142 میں سے 34 ٹرینیں معطل کی جا رہی ہیں۔

    سنیچر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید نے ملک میں چلنے والی 34 ٹرینیں 25 مارچ سے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ مزید آٹھ ٹرینیں یکم اپریل سے معطل کی جا سکتی ہیں

    ان کا کہنا تھا یہ ٹرینیں 15 رمضان تک معطل رہیں گی اور حالات بہتر ہونے پر یہ ٹرینیں بحال کر دی جائیں گی۔

    وزیرِ ریلوے کا کہنا تھا کہ جو ٹرینیں بند کی گئی ان کے ٹکٹوں کے حامل مسافر دیگر ٹرینوں پر سفر کر سکتے ہیں یا پھر ٹکٹ کی پوری رقم واپس حاصل کر سکتے ہیں۔

  16. عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستان کے لیے امداد

  17. پاکستانی فنکار بھی کورونا سے بچاؤ کی آگہی مہم میں شریک

  18. گلگت میں ٹریول ہسٹری چھپانے پر سزائیں

    گلگت بلستان کی حکومت نے شہریوں کی جانب سے بیرون ملک سفر کی تفصیلات چھپانے پر جرمانہ کرنے اور سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    گلگت بلستان حکومت کے وزیر قانون اور کوورونا کے مسئلے پر حکومت کے ترجمان محمد اورنگ زیب ایڈووکیٹ نے صحافی محمد زبیر کو بتایا ہے کہ اس وقت گلگت بلستان میں 30 افراد میں کورونا وائرس موجود ہے جنھیں الگ تھلگ رکھ کر علاج کیا جارہا ہے۔

    ان کے مطابق اس میں 29 وہ لوگ ہیں جن ایران اور سعودی عرب سے واپس آئے ہیں جبکہ مقامی طور پر ضلع نگر سے صرف ایک شخص میں پایا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مقامی انتظامیہ ایسے لوگوں کو تلاش کررہی ہے جن کی کوئی بھی حالیہ سفری تاریخ ہے جس کے لیے وفاق سے بھی مدد طلب کی گئی ہے۔ ان کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے کہ انتظامیہ سے سفری تاریخ چھپانے پر سزائیں اور جرمانے کیے جائیں گے کیونکہ جس شخص نے بیرون ملک سفر کیا ہے اور اپنی سکریننگ نہیں کروا رہا ہے وہ اس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

    گلگت بلتستان میں لوگوں کے آپس میں رابطے کم سے کم کرنے کے بین الاضلاعی پبلک ٹرانسپورٹ کو سنیچر کی شام سے بند کیا جارہا ہے جبکہ صرف دو بڑے شہروں گلگت اور سکردو کو اتوار سے بند کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کے آپس میں رابطے کم سے کم ہوں اور وائرس کم سے کم پھیل سکے۔

    محمد اورنگ زیب ایڈووکیٹ کیے مطابق ایران سے آنے والے مزید زائرین کو لانے کے لیے گلگت بلتستان ٹرانسپورٹ کمپنی کی بسیں بھجوا دی گئی ہیں جن کے گلگت پہنچنے پر ان کی سکریننگ کی جائے گی۔

  19. قیدیوں کی رہائی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر

    پشاور ہائی کورٹ میں دائر کردہ ایک درخواست میں قیدیوں کی رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔

    نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق درخواست میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں میں کورونا وائرس پھیلنے کا زیادہ خدشہ ہے جبکہ قیدیوں کے لیے جیلوں میں کوئی حفاظتی اقدامات نہیں ہیں۔

    ’موجودہ صورتحال میں قیدیوں کو جیل میں رکھنا بینادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملک کے جیلوں میں 55 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ اس وقت جیلوں میں77 ہزار افراد قید ہیں۔

    درخواست میں صوبائی حکومت، سیکرٹری ہیلتھ و قانون اور آئی جی جیل خانہ جات کو فریق بنایا گیا ہے۔

  20. وزیراعظم عمران خان سے ملک میں لاک ڈاٰؤن کا مطالبہ

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ زور پکڑتا دکھائی دے رہا ہے کہ ملک میں کورونا کا پھیلاؤ محدود کرنے کے لیے لاک ڈاؤن کر دیا جائے۔ ٹوئٹر پر سنیچر کی صبح #lockdownpakistan ٹاپ ٹرینڈ ہے اور ملک میں سماجی کارکنوں سے لے کر شوبز کی شخصیات تک سب اس بارے میں بات کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے جمعے کو اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ملک لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں خطرہ ہے کہ معاشرے میں افراتفری پھیلے گی، کمزور طبقہ مشکل کا شکار ہو گا۔ دوسرا خطرہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن سے ہسپتالوں میں طبی عملہ بھی متاثر ہو گا، ادویات کی فراہمی میں مشکل ہو گی۔ ہمیں سماجی دوری کا خیال رکھنا چاہیے اور عوام خود سے اس پر عمل کریں۔'

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مکمل طور پر لاک ڈاؤن کرنے کا مطلب ہے کہ ملک میں کرفیو نافذ کر دینا۔ اس وقت یہ کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس کے وسائل پاکستان کے پاس نہیں۔

    تاہم انھوں نے یہ بھی کہنا تھا کہ ’ضرورت پڑنے پر ہم لوگوں کو کلسٹر میں لاک ڈاؤن کریں گے۔'